Contact Us

Advertisment!

Your Advertisment!

Sunday, October 9, 2011

روایت حدیث کے طریقے روایت حدیث کے طریقے

روای حدیث روایت کے وقت جو الفاظ بولتا ہے ان کو طرق تحمل حدیث کہتے ہیں ۔ ان کو آٹھ حصوں میں تقسیم کی گیا ہے ۔

۱۔ سماع و تحدیث : ۔ راوی سنے اور شیخ اپنے حافظہ یا کتاب سے حدیث بیان کرے تو ایسی احادیث کو روایت کرتے وقت راوی مندرجہ ذیل الفاظ ادا کرتا ہے ۔
سمعت حدثنی یہ اس وقت جب کہ بوقت سماع راوی تنہا تھا ۔
سمعنا حدثنا یہ اس وقت جب کہ بوقت سماع راوی کے ساتھ دوسرے ساتھی بھی تھے ۔
تمام کلمات ادا میں ’سمعت ‘ کا مقام سب پر فائق ہے ۔

۲۔ اخبار و قرات : ۔ راوی پڑ ھے اور یشخ سنتا رہے اس وقت یہ الفاظ بولے جاتے ہیں ۔
قرات علیہ اخبرنی اس وقت جبکہ راوی تنہا ہو
قرانا علیہ اخبرنا اس وقت جب کہ راوی کے ساتھ دوسرے بھی ہوں ۔
اس صورت میں راوی قری علیہ و انا اسمع بھی کبھی استعمال کرتا ہے ۔

۳۔ انباء :۔ متقدمین کے یہاں یہ لفظ بمعنی اخبار بولا جاتا تھا لیکن متاخرین ا سکو اجازت کے معنی میں استعمال کرتے ہیں ۔
لہذا شیخ اپنی سند سے روایت کرنے کی اجازت دیدے خواہ راوی نے اس سے وہ حدیث سنی ہو یا نہیں ۔ لہذا راوی کہتا ہے ۔
xانبانی xاجازنی

۴۔ اجازت : ۔ شیخ اپنی سند سے روایت کرنے کی اجازت دیدے اس کی چند صورتیں ہیں ۔
مشافہہ : ۔ شیخ اپنی زبان سے روایت کرنے کی اجازت دے ۔
مکاتبہ: ۔ شیخ اپنی تحریر سے اجازت دے ۔
مناولہ : ۔ شیخ اپنی کتاب اصل خواہ نقل شاگرد کو دے یا شاگر د خود نقل کر کے استاذ کے سامنے پیش کر دے ، پھر شیخ کہے میں اس کتاب کو فلاں سے روایت کرتا ہوں ، یہ سب سے اعلیٰ صورت ہے ۔

۵۔ وجادت: ۔ کسی کی کتاب سے استفادہ کرنا اور ا سکی تحریر و دستخط وغیرہ کی شناخت سے اس کتاب کی روایت کرنا جبکہ یہ مجاز ہو ۔ اجازت نہ ہونے کی صورت میں ’’ وجدت بخط فلان‘‘ وغیرہ الفاظ کے ذریعہ ہی روایت درست ہو گی ۔

۶۔ وصیت:۔ شیخ اپنی وفات یا سفر سے قبل اپنی کسی کتاب یا چند کتابوں سے روایت کرنے کا حق دوسروں کو منتقل کر دے ۔ اس صورت میں ’’وصانی۔ اخبرنی وصیۃ‘‘ کے الفاظ ادا کئے جاتے ہیں ۔

۷۔ اعلام :۔ شیخ اپنے کسی تلمیذ کو بتادے کہ میں فلاں کتاب کو فلاں سے روایت کرتا ہوں ، اس صورت میں روایت اسی وقت جائز جبکہ شیخ کی طرف سے یہ تلمیذ اجازت یافتہ ہو ۔

۸ ۔ عنعنہ : ۔ لفظ ’’عن‘‘ سے روایت کی جائے ، اسی صورت میں یہ الفاظ بھی ہیں۔ xقال xذکر xروی
لفظ ’’عن‘‘ سے جو روایت کی جاتی ہے ا سکو معنعن کہتے ہیں اور اس فعل کو عنعنہ ۔
یہ دو شرطوں کے ساتھ سماع پر محمول ہوتا ہے ۔
۱۔ راوی اور مروی عنہ میں میں معاصرت ہو ۔
۲۔ راوی مدلس نہ ہو
پھر تیسری شرط کے بارے میں اختلاف ہے ۔
امام بخاری لقاء کو شرط قرار دیتے ہیں اور امام مسلم اس کے سخت مخالف ہیں ۔

مراتب ارباب حدیث

طالب ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ حدیث کا متعلم
شیخ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حدیث کا معلم ، ا س کو محدث بھی کہتے ہیں
حافظ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جس شیخ کو ایک لاکھ احادیث متناًو سنداً مع احوال رواۃ یاد ہوں
حجت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جس شخص کو تین لاکھ احادیث متنا ًو سنداً مع جرح و تعدیل محفوظ ہوں
حاکم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جس شخص کو تمام احادیث مرویہ متنا ً و سنداً جرحاً و تعدیلاً محفوظ ہوں

طبقات کتب حدیث 

کتب حدیث کی صحت ، شہر ت اور مقبولیت کے اعتبار سے شاہ عبد لعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عجالہ نافعہ میں چار طبقات ذکر کئے ہیں ۔ ان کی تلخیص و اختصار اس طرح ہے ۔

طبقۂ اولیٰ :۔ وہ کتابیں جو شہرت مقبولیت اور صحت تینوں اوصاف میں سب پر فائق ہوں ، یہ تین کتابیں ہیں ،
xصحیح بخاری xصحیح مسلم xموطا مالک

طبقۂ ثانیہ : ۔ وہ کتابیں جو مذکورہ تینوں اوصاف میں مندرجہ بالا کتب کے ہم پلہ تو نہیں
البتہ ان سے قریب ترہیں ۔ یہ بھی تین کتابیں ہیں
xجامع ترمذی xسنن ابی داؤد xسنن نسائی

طبقۂ ثالثہ : ۔ وہ کتابیں جوصحاح ستہ مذکورہ کے مصنفین سے مقدم یا معاصر یا بعد میں ہوئے ، فن حدیث میں امامت کے درجہ پر فائز تھے لیکن اپنی تصانیف میں صحت کا پورا اہتمام نہیں رکھا اور ضعیف روایت بکثرت آ گئیں ۔ جیسے :۔
xمسند شافعی x سنن دارمی xسنن ابن ماجہ x مصنف عبد الرزاق
xسنن بیہقی xتصانیف طبرانی xسنن دار قطنی

طبقۂ رابعہ: ۔ وہ کتابیں جو متاخرین علماء نے تصنیف کیں اور ان کی روایت کردہ احادیث کا قرون اولیٰ میں ثبوت نہیں ملتا ۔ اس کی دو وجہیں ہو سکتی ہیں۔یا تو ان کو ان احادیث کی اصل نہیں ملی ، اور یا ان روایات میں کوئی علت خفیہ دیکھ کر ان کو ترک کر دیا ۔ جیسے :۔
دیلمی ، ابو نعیم اور ابن عسا کر کی تصانیف۔

کتب احادیث کے طبقات کی یہ ایک اجمالی فہرست ہے ، ان کے درمیان دوسرے طبقات بھی ہو سکتے ہیں ، جیسے بعض کتب میں احادیث صحیحہ تو وافر ہیں لیکن ان کو عام شہرت و مقبولیت حاصل نہ ہو سکی ۔ جیسے صحیح ابن خزیمہ ، صحیح ابن حبان۔ وغیرہا۔

اسی لئے شاہ محدث دہلوی نے اپنی دوسری کتاب ’’ ما یجب حفظہ للناظر ‘‘ میں پانچ طبقات بیان کئے ہیں ۔ غرض کہ تمام کتابوں کا ا ستیعاب و احاطہ مقصود نہیں اور نہ یہ مطلب کہ ان کے علاوہ تمام کتابیں غیر معتبر ہیں

 


 


No comments:

Post a Comment

 
Powered by Blogger | 6SENSE Technologies