خبر
تعریف :۔اس سلسلہ میں تین اقوال ہیں ۔
۱۔ یہ حدیث کے مرادف وہم معنی ہے ۔ عام علمائے فن کے نزدیک یہ قول ہی زیادہ پسندیدہ ہے ۔
۲۔ حدیث کا مقابل ۔ یعنی اس سے وہ امور مراد ہوتے ہیں جو حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے علاوہ کسی دوسرے سے منقول ہوں ۔
۳۔ حدیث سے عام ۔ یعنی ہر منقول چیز خواہ حضور سے منقول ہو یا غیر سے ۔
بعض نے اس طرح بھی فرق بیان کیا ہے کہ جو حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور صحابہ و تابعین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے مروی ہو ا سکو حدیث کہتے ہیں ، اور ملوک و سلاطین اور ایام گزشتہ کی حکایات کو خبر کہا جاتا ہے ۔ لہذا جو سنت کے ساتھ مشغلہ رکھتا ہے ا سکو محدث کہتے ہیں ، اور جسکا مشغلہ تاریخ ہو ا سکو اخباری کہتے ہیں ۔
خبر میں اصولاً دو طرح کی تقسیم جاری ہوتی ہے :۔
۱۔ باعتبار مصدر ومدار ۔ یعنی اس ذات کے اعتبار سے جس سے وہ منقول ہے ۔
۲۔ باعتبار نقل ۔یعنی اس اعتبار سے کہ نقل درنقل ہم تک کس طرح پہونچی ۔
اقسام خبر باعتبار مدارو مصدر
اس اعتبار سے خبر کی چار اقسام ہیں ۔
xحدیث قدسی ۔ xمرفوع ۔ xموقوف ۔ x مقطوع۔
پہلی تین اقسام کی باعتبار سند دو دو قسمیں ہیں ۔
متصل ۔ منقطع ۔
مقطوع کو علی الاطلاق متصل نہیں کہتے بلکہ قید کے ساتھ یوں کہا جاتا ہے ۔
ہذا متصل الی سعید بن المسیب ، او الی الزہری ، او الی مالک۔
حدیث قدسی:۔
وہ حدیث جسکے راوی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہوں اور نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو۔
حدیث قدسی اور قرآن کریم میں متعدد وجوہ سے فرق ہے ۔
۱۔ قرآن کریم کے الفاظ و معانی دونوں من جا نب اللہ ہوتے ہیں ، بر خلاف حدیث قدسی کہ اس میں معانی اللہ عزوجل کی جانب سے اور الفاظ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف سے ۔
۲۔ قرآن کریم کے لئے تواتر شرط ہے حدیث قدسی کیلئے نہیں ۔
۳۔ قرآن کریم کلام معجز ہے کہ کوئی مخلوق ا سکی نظیر پیش نہیں کر سکتا ۔
۴۔ قرآن کریم کا منکر کافر ہے ، حدیث قدسی کا نہیں جب تک تواتر سے ثابت نہ ہو۔
مثال:۔ ان اللہ تعالیٰ یقول :ان الصوم لی و انا اجزی بہ ۔ ( المسند لا حمد بن حنبل ۳/۵)
بیشک اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : بیشک روزہ میرے لئے ہے ، اور میں اس کی جزا دوں گا۔
مرفوع:۔
وہ حدیث ہے جو حضور سید عالم صل اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو، خواہ قول ہو یا فعل ، تقریر ہو یا حال۔
کسی حدیث کا رفع ثابت کر نے کیلئے سند مذکور ہو یا غیر مذکور، ناقص ہو یا کامل، صحابی ہوں یا تابعی، وغیرہ کوئی بھی بیان کریں بہر حال وہ حدیث مرفوع ہی رہے گی۔
یہ اور مسند ہم معنی ہیں ، لہذا ان دونوں کا اطلاق متصل ، منقطع اور مرسل وغیرہا سب پر ہوتا ہے ، بعض حضرات کا کہنا کہ مسند کا اطلاق صرف متصل پر ہی ہوتا ہے ، ہاں جن محدثین نے مرفوع کو مرسل کامقابل قرار دیا ہے وہ مرفوع متصل ہی مراد لیتے ہیں ۔(مقدمہ ابن صلاح۲۲)
مرفوع کی اصولی طور پر دو قسمیں ہے :۔
xحقیقی x حکمی
مرفوع حقیقی:۔
وہ حدیث جو صراحۃ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو۔
ا سکی چار قسمیں ہیں :۔
xقولی x فعلی x تقریری xوصفی
قولی:۔
وہ حدیث جو بذریعہ قول بیان کی جائے ، یونہی وہ حدیث جو قول کے بجائے ان الفاظ
سے بیان کی جائے جو ا سکا مفہوم ادا کریں ۔
جیسے :۔ امر، نھی، قضی، حکم، وغیرہا۔
فعلی:۔
فعل یا عمل کے ذریعہ بیان کردہ وہ حدیث، یونہی ان الفاظ سے جو مختلف افعال و اعمال
کی طرف مشیر ہوں ۔
جیسے :۔ توضأ ، صلی، صام، حج، اعتکف، وغیرہا۔
تقریری:۔
حضور کی مجلس میں کوئی کام کسی مسلمان سے صادر ہوا اور آپ نے انکار نہ فرمایا۔
وصفی۔:۔
حضور کے اوصاف و حالات کا ذکر جن احادیث سے ثابت ہو۔
مرفوع حکمی:۔
جو حدیث بظاہر حضور کی طرف منسوب نہ ہو لیکن کسی خاص وجہ کے سبب اس پر
حکم رفع لگایا جا ئے ۔ وجوہ رفع میں بعض یہ ہیں :۔
۱۔ کوئی صحابی جو صاحب اسرائیلیات نہ ہوں ان کا ایسا قول جس میں اجتہاد وقیاس کو دخل نہ ہو، نہ لغت کابیان مقصود ہو اورنہ کسی لفظ کی شرح ہو ، بلکہ جیسے گزشتہ( ابتدائے آفرینش) اور آئندہ ( احوال قیامت) کی خبر یاکسی مخصوص جزا ء و سزا کا بیان ہو۔
۲۔ کسی صحابی کا ایسا فعل جس میں اجتہاد کی گنجائش نہ ہو۔
جیسے حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کا نماز کسوف میں دو سے زائد رکوع کرنا۔
۳۔حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس کی طرف کسی کام کی نسبت کرنا، جیسے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا فرمان:۔
کنا نعزل علی عہد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔ ان دونوں صورتوں میں ظاہر یہ ہی ہے کہ سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس فعل پر مطلع تھے اور اس فعل کے جواز پر وحی آ چکی تھی۔
۴۔ فعل مجہول کے ذریعہ کسی چیز کو بیان کرنا۔
جیسے :۔ امرنا بکذا۔ و نہنینا بکذا۔
۵۔ یا راوی یوں کہے ، ’’ من السنۃ کذا‘‘ کہ اس سے بھی بظاہر سنت نبوی مفہوم ہوتی ہے ، اگر چہ احتمال یہ بھی ہے کہ خلفائے راشدین کی سنت یا دیگر صحابہ کا طریقہ مراد ہو۔
۶۔ کوئی صحابی کسی آیت کاشان نزول بیان کرے ۔(تدریب الراوی للسیوطی ۱/۱۸۵)
موقوف :۔
وہ حدیث جو صحابی کی طرف منسوب ہو خواہ قول و فعل ہو یا تقریر۔ بیان کرنے
والے صحابی ہوں یا غیر صحابی، سند مذکور ہو یا نہیں ۔
اگر سند مذکور اور صحابی تک متصل ہو تو ا سکو موقوف موصولی یا متصل کہتے ہیں ، اور کبھی غیر صحابی کی حدیث کو بھی موقوف کہا جاتا ہے ۔ لیکن ا سکا استعمال قید کے ساتھ ہو گا۔ مثلا یوں کہیں گے :۔
حدیث کذاوکذاو قفۃ فلان علی عطاء او علی طاؤس او نحوہذا۔
فقہاء خراسان کی اصطلاح میں موقوف کو اثر اور مرفوع کو خبر کہا جا تا ہے ۔ (مقدمہ ابن صلاح۲۲)
ا س کی تین قسمیں ہیں :۔
xقولی xفعلی x تقریری
قولی:۔
جیسے ۔قال علی بن ابی طالب کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم:حدثوا الناس
بما یعرفون۔(۱)
لوگوں سے وہ چیزیں بیان کرو جسکے وہ متحمل ہو سکیں ۔
فعلی :۔
جیسے ۔ ام ابن عباس وہو متیمم۔ (الجامع الصحیح للبخاری کتاب التیمم ۱/۸۲)
حضرت ابن عباس نے حالت تیمم میں امامت فرمائی۔
تقریری:۔
صحابی کے سامنے کوئی کام کسی مسلمان نے کیا اور انہوں نے سکوت فرمایا۔
حکم:۔
یہ کبھی مقبول ہوتی ہے اور کبھی غیر مقبول ۔ اگر یہ حکما مرفوع ہے تو قابل احتجاج ہو گی،
اور محض موقوف تو احادیث ضعیفہ میں تقویت کا کام دے گی اور غیر اختلافی امور میں حجت بھی قرار دی جائے گی۔ ہاں اختلافی امور میں بایں معنی اعتبار ہو گا کہ علاوہ اور مقابل کسی رائے اور قیاس کو دخل نہیں دیا جائے گا۔
مقطوع:۔ جو قول و فعل کسی تابعی کی طرف منسوب ہو۔
ا سکی دو قسمیں ہیں :۔
٭قولی ٭ فعلی
قولی:۔
جیسے حضرت امام حسن بصری تابعی کا قول:۔
صل و علیہ بدعتہ، ( الجامع الصحیح للبخاری کتاب التیمم۱۵۷/۱)
نماز پڑ ھ لیا کرو ا سکی بدعت اسی پر پڑ ے گی۔
فعلی:۔
جیسے ابراہیم بن محمد بن منتشر کا بیان:۔
کان مسروق یرخی الستربینہ و بین اہلہ و یقبل علی صلاوۃ و یخلیہم و دنیاہم، ( حلیۃ الاولیاء لا بی نعیم ۲/۹۶)
حضرت امام مسروق اپنے اہل و عیال کے درمیان پردہ ڈال کر نماز میں مشغول ہو جاتے اور انکو انکی دنیا میں مشغول چھوڑ دیتے ۔
حکم:۔
کسی سند سے مرفوع ثابت ہوئی تو مرفوع مرسل کے حکم میں ہو گی، اور موقوف کا درجہ
حاصل کرنے کے لئے بعض احناف نے فرمایا کہ تابعی عہد صحابہ میں انکی نگرانی میں افتاء کا کام کرتا رہا ہو اور ان کا معتمد ہو تو ا سکو موقوف کی حیثیت حاصل ہو گی، ا سکو منقطع بھی کہا جاتا ہے ۔( تدریب الراوی للسیوطی ۱/۱۹۴)
متصل :۔
وہ حدیث مرفوع یا موقوف جسکے تمام رواۃ مذکور ہوں ۔
مرفوع متصل :۔
مالک عن ابن شہاب عن سعید بن المسیب عن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نعی النجاشی للناس فی الیوم الذی مات فیہ وخرج بہم الی المصلی فصف بہم و کبر اربع تکبیرات۔ (المؤطا لمالک۷۸)
حضور ا کرم سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے شاہ حبشہ حضرت نجاشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے انتقال کی خبر صحابہ کرام کو سنائی اور ایک میدان میں جا کر انکی نماز ادا کی۔
اس حدیث کی سند متصل ہے اور حدیث مرفوع۔
موقوف متصل:۔
مالک عن نافع ان عبد اللہ بن عمر قال :یصلی علی الجنازۃ بعد العصر و بعد الصبح اذا صلیتما لوقتہا۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: نماز جنازہ نماز عصر و فجر کے بعد بھی پڑ ھی جا سکتی ہے ۔ اس حدیث کی سند متصل اور حدیث موقوف۔
منقطع:۔
وہ حدیث مرفوع یا موقوف جسکے بعض رواۃ سند سے ساقط ہوں ، واضح رہے کہ منقطع تین معنی پر بولا جا تا ہے ۔
۱۔ حدیث مقطوع جو کسی تابعی کا قول و فعل ہو۔ کما مر
۲۔ متصل مقطوع کا مقابل کہ سند سے کوئی راوی ساقط ہو ایک خواہ زیادہ، مسلسل یا متفرق۔
۳۔ دوسرے معنی پر بولا جانے والا منقطع مقسم ہے اور یہ ا سکی ایک قسم ۔
اقسا م خبر با عتبار نقل
سلسلۂ سند کے اعتبار سے ہم تک پہونچنے والی احادیث کی دو قسمیں ہیں ۔
xمتواتر x غیر متواتر
تعریف:۔ جس حدیث کے راوی ہر طبقہ میں اتنے ہوں کہ ان کا جھوٹ پر اتفاق کر لینا محال
عقلی بھی ہو اور عادی بھی ، نیز مضمون حدیث حسیات سے متعلق ہو عقلی قیاسی نہ ہو۔ ا سکو متواتراسنادی بھی کہتے ہیں ۔( تدریب الراوی للسیوطی ۲/۱۷۶)
٭ الفاظ متحد ہوں تو متواتر لفظی بھی کہا جاتا ہے ۔
٭ معنی متواتر ہوں الفاط نہیں تو متواتر معنوی اور متواتر قدر مشترک کہتے ہیں ۔
٭ کبھی ایک بڑ ی جماعت کے ہر قرن میں عمل کی بنیاد پر بھی تواتر کا حکم لگتا ہے ، ا سکو متواتر عملی کہا جاتا ہے ۔
٭ کبھی دلائل متواتر ہوتے ہیں تو ا سکو متواتر استدلالی کہتے ہیں ۔
مثال متواتر اسنادی:۔
من کذب علی متعمدا فلیتبوٗا مقعدہ من النار۔( المسند لا حمد بن حنبل ۴/۱۰۰)
جو شخص قصداً میری طرف جھوٹ منسوب کرے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ۔
٭ امام ابن صلاح نے کہا: اس حدیث کو ۶۲ صحابہ کرام نے روایت کیا ۔ نیز فرمایا ؒ ا سکی سند میں تمام عشرۃ مبشرۃ بھی ہیں ، اس حدیث کے علاوہ کسی دوسری حدیث میں ان سب کا اجتماع نہ ہوا۔ اور بذات خود حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے روایت کر نے والے صحابہ کرام اس کثرت سے کسی دوسری حدیث میں نہیں ۔
٭ امام نو وی نے فرمایا: تقریباً دو سو صحابہ کرام سے یہ حدیث مروی ہے ۔
٭ امام عراقی کہتے ہیں :۔ خاص اس متن کے ساتھ ستر سے زائد صحابہ کرام سے روایت آئی ۔
مثال متواتر لفظی:۔
نظم قرآن کریم۔
قرآن کریم عہد رسالت سے آج تک انہیں الفاظ کے ساتھ نقل ہوتا آیا جو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر نازل ہو ا تھا۔ ہر طبقہ میں بے شمار افراد ا سکے راوی رہے لہذا نہ کسی سند کی ضرورت اورنہ کسی اسناد کی حاجت، ا سکو متواتر طبقہ کہہ سکتے ہیں ۔
مثال متواتر معنوی:۔
کان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اذا رفع فی الدعاء لم یجطہماحتی یمسح بہما وجہہ، (الجامع للترمذی باب رفع الایدی ۲/۱۷۴)
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جب دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتے تو اس وقت تک نہیں چھوڑ تے جب تک چہرہ پر نہ پھیر لیتے ۔
اس حدیث سے دعا کے وقت ہاتھ اٹھا نے کا ثبوت ملتا ہے ، اس سلسلہ میں ایک سو کے قریب احادیث ہیں جن میں مختلف مواقع پر دعا کے لئے ہاتھ اٹھانے کا ذکر ہے ، الگ الگ کوئی حدیث حد تواتر کو نہیں پہونچی مگر ان کا قدر مشترک مفہوم یعنی دعاکے وقت ہاتھ اٹھانا متواتر ہے ۔
اسی باب سے ہے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے مطلق معجزہ کا صدور کہ اگر چہ معجزات فرداً فرداً خبر واحد یا خبر مشہور سے ثابت ہوں لیکن جن روایات میں معجزہ کا ذکر ہے وہ متواتر ہیں ۔
متواتر عملی کی مثال:۔
وضو میں مسواک، کہ عملاً اگر چہ سنت ہے لیکن ا سکی سنیت کا اعتقاد فرض ہے ، کیونکہ یہ تواتر عملی سے ثابت شدہ ہے ، لہذا ا سکی سنیت کا انکار کفر ہو گا۔
اسی قسم سے دن و رات میں پانچ نمازوں کا ثبوت بھی ہے ، کہ ہر زمانہ میں اہل اسلام پانچ وقت کی نمازیں پڑ ھتے آئے اور بالاتفاق تمام مسلمان ا ن کو فرض جانتے اور مانتے ہیں حتی کہ غیر مسلم بھی اس بات سے واقف ہیں کہ مسلمانوں کے یہاں پانچ وقت کی نماز پڑ ھی جاتی ہے ۔
متواتر استدلالی کی مثال:۔
اجماع ، خبر واحد اور قیاس کا حجت شرعی ہونا ایسے دلائل سے ثابت ہے جو شمار میں لا تعداد ہیں اور مختلف مواقع پر مذکورہیں ، یہ الگ ا لگ تو اگر چہ ظنی ہیں مگر ان کا حاصل ایک ہے ۔
حکم۔
حدیث متواتر علم قطعی یقینی بدیہی کا فائدہ دیتی ہے ، راویوں سے بحث نہیں کی جاتی، ا سکے مضمون کا انکار کفر ہے ۔
تصنیفات فن
اس نوعیت کی متعدد تصانیف معرض وجود میں آئیں ۔ بعض حسب ذیل ہیں ۔
۱۔ الفوائد المتکاثرۃ فی الاخبار المتواترۃ للسیوطی،
۲۔ الازہار المتناثرۃ فی الاخبار المتواترۃ للسیوطی،
۳۔ قطف الازہار للسیوطی،
۴۔ نظم المتناثر من الحدیث المتواتر للکتانی،
۵۔ اتحاف ذوی الفضائل المشتہرۃ بما وقع من الزبادات فی نظم المتناثر علی الازہار المتنا ثرۃ لا بی الفضل عبد اللہ صدیق۔
تعریف خبر واحد:۔
وہ حدیث جو تواتر کی حد کو نہ پہونچے ۔
حکم:۔
ظن غالب کا افادہ کر تی ہے ، اور اس سے حاصل شدہ علم نظری ہو تا ہے ۔
ا سکی دو قسمیں ہیں :۔
با عتبار نقل با عتبار قوت وضعف
باعتبار نقل
یعنی ہم تک پہونچنے کے اعتبار سے ا سکی تین قسمیں ہیں :۔
xمشہور x عزیز xغریب
خبر مشہور
تعریف:۔ ہر طبقہ میں جسکے راوی تین یازائد ہوں بشرطیکہ حد تواتر کو نہ پہونچیں ، ا سکو
مستفیض بھی کہتے ہیں ۔
بعض کے نزدیک عموم خصوص کی نسبت ہے کہ مستفیض خاص ہے ، یعنی جسکے رواۃ ہر زمانہ میں یکساں ہوں بر خلاف مشہور، بعض نے ا سکے بر عکس کہا ہے ۔
مشہور فقہاء و اصولیین :۔
مشہور کی غیر اصطلاحی تعبیر یوں بھی منقول ہے کہ وہ حدیث کہ
عہد صحابہ میں ناقل تین سے کم رہے مگر بعد میں اضافہ ہو گیا اور تلقی امت با لقبول سے ممتاز ہو گئی ، گویا انکے نزدیک متواتر اور خبر واحد کے درمیان برزخ ہے ۔
مشہور عرفی :۔
جو حدیث عوام و خواص میں مشہور ہوئی خواہ شرائط شہرت ہوں یا نہ ہوں ۔
یہ محدثین، فقہاء اصولے ین اور عوام کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہے ۔
مثال نزد محدثین :۔ قنت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم شہرا بعد الرکوع یدعو علی رعل وذکوان۔ (دلائل النبوۃ للبیہقی ۳/۳۵۰)
مثال نزد فقہاء:۔ من سئل عن علم فکتمہ الجم بلجام من نار۔ (المستدرک للحاکم ۱/۱۰۱)
مثال نزد اصولیین:۔ رفع عن امتی الخطاء و النسیان۔( کنز العمال للمتقی ،۱۰۳۰۷)
مثال نزد عوام:۔ اختلاف امتی رحمۃ۔ (اتحاف السادۃ للزبیدی ۱/۲۰۴)
العجلۃ من الشیطان۔ (السنن الکبری للبیہقی ۱/ ۱۰۴)
لیس الخبر کالمعا نیۃ۔ (المسند لا حمد بن حنبل ۱/۲۷۱)
حکم:۔
مشہور کے مراتب مختلف ہیں ، مشہور اصطلاحی اگر صحیح ہے تو ا سکو بعد کی تمام اقسام پر ترجیح
حاصل ہو گی ۔( تدریب الراوی للسیوطی ۲/۱۷۲)
تصانیف فن
اس نوع کی احادیث میں مندرجہ ذیل کتب مشہور ہیں :۔
۱۔ التدکرۃ فی الاحادیث المشہرۃ للزرکشی، م ۷۹۴ھ
۲۔ المقاصد الحنسۃ فیما اشتہر علی الالسنۃ للسخاوی، م ۹۰۲ھ
۳۔ کشف الخفا و مزیل الالباس فیما اشتہر من الحدیث
علی السنۃ الناس للعجلونی، م۱۱۲۲
۴۔ تمیز الطیب من الخبیث فیما یدور علی السنۃ الناس
من الحدیث للشیبانی، م۹۴۴
خبر عزیز
تعریف:۔
وہ حدیث جسکے راوی کسی طبقہ میں دو سے کم نہ ہوں ۔
مثال:۔ لا یومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ و و لدہ والناس اجمعین۔(المسند لا حمد بن حنبل ۳/۲۰۷)
تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن کا مل نہیں جب تک ا سکے نزدیک میری محبت ماں باپ، اولاد اور تمام لوگوں کی محبت پر غالب نہ ہو۔
اس حدیث مبارک کو صحابہ کرام میں حضرت ابو ہریرہ اور حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے روایت کیا ۔
پھر بعض تفصیلات یوں ہیں ۔
٭ حضرت انس سے قتادہ اور عبد العزیز نے
٭ حضرت قتادہ سے شعبہ اور سعید نے
٭ حضرت عبد العزیز سے اسمعیل بن علیہ اور عبد الوارث نے۔(تدریب الراوی للسیوطی ۲/ ۱۸۱)
خبر غریب
ا سکی دو قسمیں ہیں :۔
٭ غریب اسنادی ٭ غریب لغوی
تعریف غریب اسنادی:۔
کسی ایک طبقہ میں ایک راوی ہو، ا سکو فرد بھی کہتے ہیں ،۔
ا سکی بھی دو قسمیں ہیں ۔
٭غریب مطلق ٭غریب نسبی
٭فرد مطلق ٭فرد نسبی
انکے بیان کے لئے ’’تفرد فلاں ‘‘ اور ’’اغرب فلاں ‘‘ کہا جاتا ہے ۔
تعریف غریب مطلق:۔
سند حدیث کے اولین طبقہ میں تفرد و غرابت ہو۔
مثال اول:۔ انما الاعمال بالنیات۔( الجامع الصحیح للبخاری ۱/۲)
اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے ۔
اس حدیث کی اول سند میں حضرت عمر فاروق اعظم تنہا ہیں ، یہ حدیث غریب مطلق ان لوگوں کے نزدیک شمار ہو گی جو اولین طبقہ سے مراد صحابہ کرام لیتے ہیں ۔
مثال دوم:۔ الایمان بضع و سبعون شعبۃ و الحیاء شعبۃ من الایمان۔(مجمع الزوائد للہیثمی ۱/۳۶)
ایمان کے ستر سے زیادہ شعبے ہیں ، ان میں حیاء بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے ۔
یہ حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے صرف ابو صالح نے اور ابو صالح سے صرف عبد اللہ بن دینار نے روایت کی ہے ، لہذا جو حضرات اولین طبقہ سے تابعین مراد لیتے ہیں انکے نزدیک یہ بھی غریب مطلق ہی شمار ہو گی۔
مثال سوم:۔ نھی النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم عن بیع الولاء و ہبۃ، (المسند لا حمد بن حنبل ۲ /۹)
حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ولاء ( یعنی غلام آزاد کرنے کے بعد آقا کا جو حق غلام سے متعلق رہ جاتا ہے ) کو بیچنے اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔
اس حدیث کو حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے عبد اللہ بن دینار نے تنہا روایت کیا۔
تعریف غریب نسبی:۔
درمیان طبقہ میں غرابت ہو۔
مثال:۔ان النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم دخل مکۃ وعلی رأسہ المغفر، ( المسند لا حمد بن حنبل)
حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپکے مبارک سر پر خود تھا۔ اس حدیث کو امام زہری سے صرف امام مالک نے روایت کیا۔(مقدمہ ابن صلاح۱۳۷)
حکم:۔
ان احادیث کا حکم بھی مشہور احادیث کی طرح ہے کہ ہر حدیث کا صحیح اور معتمد ہونا
ضروری نہیں بلکہ حسب موقع مختلف مراتب ہو تے ہیں ۔
بلکہ غرائب پر اکثر جرح ہی ہو تی ہے ۔
مندرجہ ذیل کتب میں اکثر و بیشتر احادیث غرائب مذکورہیں ۔
المسند للبزار م ۲۹۲ھ
المعجم الاوسط للطبرانی م ۳۶۰ھ
تضانیف فن
٭غرائب مالک للدار قطنی م ۳۸۵
٭الا فراد للدارقطنی
٭السنن التی تفرد بکل سنۃ منہا اہل بلدۃ لا بی داؤد م۲۷۵
غریب لغوی
تعریف:۔
متن حدیث میں کوئی ایسا لفط آجائے جو قلیل الاستعمال ہونے کی وجہ سے غیر ظاہر ہو۔
یہ فن نہایت عظیم ہے ، اس میں نہایت احتیاط اور تحقیق کی ضرورت پیش آتی ہے ، کیونکہ معاملہ کلام نبوی کی شرح و تفسیر کا ہے ، لہذا کلام الہی کی طرح حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے کلام کی تشریخ و تفسیر بھی محض رائے سے مذموم قرار دی جائے گی۔ حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کسی لفظ غریب کے بارے میں سوال ہو ا تو فرمایا: اس فن کے لوگوں سے پوچھو، مجھے خوف ہے کہ کہیں میں اپنے ظن و تخمین سے کوئی بات کہہ دوں اور غلطی میں مبتلا ہو جاؤں ۔
امام ابو سعید اصمعی سے ابو قلابہ نے پوچھاحضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے فرمان ’’الجار احق بسقبۃ‘‘ کے کیا معنی ہیں ، فرمایا:میں اپنی رائے سے اس حدیث کی تفسیر نہیں کر سکتا۔ البتہ اہل عرب ’سقب‘ کے معنی قرب و نزدیکی بیان کر تے ہیں (مقدمہ ابن صلاح۱۳۷)
یہ دونوں واقعے اسی غات احتیاط کی طرف مشیر ہیں ۔
بہترین تفسیر وہ کہلاتی ہے جو خود حضور ہی سے کسی دوسری حدیث میں منقول ہو۔
صل قائما فان لم تستطع فقاعدا فان لم تستطع فعلی جنب٘ ۔ (الجامع الصحیح للبخاری)
کھڑ ے ہو کر نماز پڑ ھو، اور اگر یہ نہ ہو سکے تو بیٹھ کر پڑ ھو اور اگر یہ نہ ہو سکے تو پہلو پر۔
دوسری روایت جو حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے ہے اس میں حضور نے ’فعلی جنب‘ کی تفسیر یو ں فرمائی ، داہنی کروٹ کے بل قبلہ رخ ہو کر ۔
تصانیف فن
٭ کتاب نضر بن شمیل ، اولین کتاب م ۲۰۴
٭غریب الحدیث لا بن عبید قاسم بن سلام م ۲۲۴
٭غریب الحدیث لعبد اللہ بن مسلم الدینوی م ۲۲۷
٭النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لا بن اثیر م ۶۰۶
٭الفائق لجاراللہ الزمخشری م ۵۳۸
٭مجمع بحار الانوارلمحمد بن طاہر الہندی م ۹۸۶
تعریف :۔اس سلسلہ میں تین اقوال ہیں ۔
۱۔ یہ حدیث کے مرادف وہم معنی ہے ۔ عام علمائے فن کے نزدیک یہ قول ہی زیادہ پسندیدہ ہے ۔
۲۔ حدیث کا مقابل ۔ یعنی اس سے وہ امور مراد ہوتے ہیں جو حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے علاوہ کسی دوسرے سے منقول ہوں ۔
۳۔ حدیث سے عام ۔ یعنی ہر منقول چیز خواہ حضور سے منقول ہو یا غیر سے ۔
بعض نے اس طرح بھی فرق بیان کیا ہے کہ جو حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور صحابہ و تابعین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے مروی ہو ا سکو حدیث کہتے ہیں ، اور ملوک و سلاطین اور ایام گزشتہ کی حکایات کو خبر کہا جاتا ہے ۔ لہذا جو سنت کے ساتھ مشغلہ رکھتا ہے ا سکو محدث کہتے ہیں ، اور جسکا مشغلہ تاریخ ہو ا سکو اخباری کہتے ہیں ۔
خبر میں اصولاً دو طرح کی تقسیم جاری ہوتی ہے :۔
۱۔ باعتبار مصدر ومدار ۔ یعنی اس ذات کے اعتبار سے جس سے وہ منقول ہے ۔
۲۔ باعتبار نقل ۔یعنی اس اعتبار سے کہ نقل درنقل ہم تک کس طرح پہونچی ۔
اقسام خبر باعتبار مدارو مصدر
اس اعتبار سے خبر کی چار اقسام ہیں ۔
xحدیث قدسی ۔ xمرفوع ۔ xموقوف ۔ x مقطوع۔
پہلی تین اقسام کی باعتبار سند دو دو قسمیں ہیں ۔
متصل ۔ منقطع ۔
مقطوع کو علی الاطلاق متصل نہیں کہتے بلکہ قید کے ساتھ یوں کہا جاتا ہے ۔
ہذا متصل الی سعید بن المسیب ، او الی الزہری ، او الی مالک۔
حدیث قدسی:۔
وہ حدیث جسکے راوی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہوں اور نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو۔
حدیث قدسی اور قرآن کریم میں متعدد وجوہ سے فرق ہے ۔
۱۔ قرآن کریم کے الفاظ و معانی دونوں من جا نب اللہ ہوتے ہیں ، بر خلاف حدیث قدسی کہ اس میں معانی اللہ عزوجل کی جانب سے اور الفاظ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف سے ۔
۲۔ قرآن کریم کے لئے تواتر شرط ہے حدیث قدسی کیلئے نہیں ۔
۳۔ قرآن کریم کلام معجز ہے کہ کوئی مخلوق ا سکی نظیر پیش نہیں کر سکتا ۔
۴۔ قرآن کریم کا منکر کافر ہے ، حدیث قدسی کا نہیں جب تک تواتر سے ثابت نہ ہو۔
مثال:۔ ان اللہ تعالیٰ یقول :ان الصوم لی و انا اجزی بہ ۔ ( المسند لا حمد بن حنبل ۳/۵)
بیشک اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : بیشک روزہ میرے لئے ہے ، اور میں اس کی جزا دوں گا۔
مرفوع:۔
وہ حدیث ہے جو حضور سید عالم صل اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو، خواہ قول ہو یا فعل ، تقریر ہو یا حال۔
کسی حدیث کا رفع ثابت کر نے کیلئے سند مذکور ہو یا غیر مذکور، ناقص ہو یا کامل، صحابی ہوں یا تابعی، وغیرہ کوئی بھی بیان کریں بہر حال وہ حدیث مرفوع ہی رہے گی۔
یہ اور مسند ہم معنی ہیں ، لہذا ان دونوں کا اطلاق متصل ، منقطع اور مرسل وغیرہا سب پر ہوتا ہے ، بعض حضرات کا کہنا کہ مسند کا اطلاق صرف متصل پر ہی ہوتا ہے ، ہاں جن محدثین نے مرفوع کو مرسل کامقابل قرار دیا ہے وہ مرفوع متصل ہی مراد لیتے ہیں ۔(مقدمہ ابن صلاح۲۲)
مرفوع کی اصولی طور پر دو قسمیں ہے :۔
xحقیقی x حکمی
مرفوع حقیقی:۔
وہ حدیث جو صراحۃ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو۔
ا سکی چار قسمیں ہیں :۔
xقولی x فعلی x تقریری xوصفی
قولی:۔
وہ حدیث جو بذریعہ قول بیان کی جائے ، یونہی وہ حدیث جو قول کے بجائے ان الفاظ
سے بیان کی جائے جو ا سکا مفہوم ادا کریں ۔
جیسے :۔ امر، نھی، قضی، حکم، وغیرہا۔
فعلی:۔
فعل یا عمل کے ذریعہ بیان کردہ وہ حدیث، یونہی ان الفاظ سے جو مختلف افعال و اعمال
کی طرف مشیر ہوں ۔
جیسے :۔ توضأ ، صلی، صام، حج، اعتکف، وغیرہا۔
تقریری:۔
حضور کی مجلس میں کوئی کام کسی مسلمان سے صادر ہوا اور آپ نے انکار نہ فرمایا۔
وصفی۔:۔
حضور کے اوصاف و حالات کا ذکر جن احادیث سے ثابت ہو۔
مرفوع حکمی:۔
جو حدیث بظاہر حضور کی طرف منسوب نہ ہو لیکن کسی خاص وجہ کے سبب اس پر
حکم رفع لگایا جا ئے ۔ وجوہ رفع میں بعض یہ ہیں :۔
۱۔ کوئی صحابی جو صاحب اسرائیلیات نہ ہوں ان کا ایسا قول جس میں اجتہاد وقیاس کو دخل نہ ہو، نہ لغت کابیان مقصود ہو اورنہ کسی لفظ کی شرح ہو ، بلکہ جیسے گزشتہ( ابتدائے آفرینش) اور آئندہ ( احوال قیامت) کی خبر یاکسی مخصوص جزا ء و سزا کا بیان ہو۔
۲۔ کسی صحابی کا ایسا فعل جس میں اجتہاد کی گنجائش نہ ہو۔
جیسے حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کا نماز کسوف میں دو سے زائد رکوع کرنا۔
۳۔حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس کی طرف کسی کام کی نسبت کرنا، جیسے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا فرمان:۔
کنا نعزل علی عہد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔ ان دونوں صورتوں میں ظاہر یہ ہی ہے کہ سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس فعل پر مطلع تھے اور اس فعل کے جواز پر وحی آ چکی تھی۔
۴۔ فعل مجہول کے ذریعہ کسی چیز کو بیان کرنا۔
جیسے :۔ امرنا بکذا۔ و نہنینا بکذا۔
۵۔ یا راوی یوں کہے ، ’’ من السنۃ کذا‘‘ کہ اس سے بھی بظاہر سنت نبوی مفہوم ہوتی ہے ، اگر چہ احتمال یہ بھی ہے کہ خلفائے راشدین کی سنت یا دیگر صحابہ کا طریقہ مراد ہو۔
۶۔ کوئی صحابی کسی آیت کاشان نزول بیان کرے ۔(تدریب الراوی للسیوطی ۱/۱۸۵)
موقوف :۔
وہ حدیث جو صحابی کی طرف منسوب ہو خواہ قول و فعل ہو یا تقریر۔ بیان کرنے
والے صحابی ہوں یا غیر صحابی، سند مذکور ہو یا نہیں ۔
اگر سند مذکور اور صحابی تک متصل ہو تو ا سکو موقوف موصولی یا متصل کہتے ہیں ، اور کبھی غیر صحابی کی حدیث کو بھی موقوف کہا جاتا ہے ۔ لیکن ا سکا استعمال قید کے ساتھ ہو گا۔ مثلا یوں کہیں گے :۔
حدیث کذاوکذاو قفۃ فلان علی عطاء او علی طاؤس او نحوہذا۔
فقہاء خراسان کی اصطلاح میں موقوف کو اثر اور مرفوع کو خبر کہا جا تا ہے ۔ (مقدمہ ابن صلاح۲۲)
ا س کی تین قسمیں ہیں :۔
xقولی xفعلی x تقریری
قولی:۔
جیسے ۔قال علی بن ابی طالب کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم:حدثوا الناس
بما یعرفون۔(۱)
لوگوں سے وہ چیزیں بیان کرو جسکے وہ متحمل ہو سکیں ۔
فعلی :۔
جیسے ۔ ام ابن عباس وہو متیمم۔ (الجامع الصحیح للبخاری کتاب التیمم ۱/۸۲)
حضرت ابن عباس نے حالت تیمم میں امامت فرمائی۔
تقریری:۔
صحابی کے سامنے کوئی کام کسی مسلمان نے کیا اور انہوں نے سکوت فرمایا۔
حکم:۔
یہ کبھی مقبول ہوتی ہے اور کبھی غیر مقبول ۔ اگر یہ حکما مرفوع ہے تو قابل احتجاج ہو گی،
اور محض موقوف تو احادیث ضعیفہ میں تقویت کا کام دے گی اور غیر اختلافی امور میں حجت بھی قرار دی جائے گی۔ ہاں اختلافی امور میں بایں معنی اعتبار ہو گا کہ علاوہ اور مقابل کسی رائے اور قیاس کو دخل نہیں دیا جائے گا۔
مقطوع:۔ جو قول و فعل کسی تابعی کی طرف منسوب ہو۔
ا سکی دو قسمیں ہیں :۔
٭قولی ٭ فعلی
قولی:۔
جیسے حضرت امام حسن بصری تابعی کا قول:۔
صل و علیہ بدعتہ، ( الجامع الصحیح للبخاری کتاب التیمم۱۵۷/۱)
نماز پڑ ھ لیا کرو ا سکی بدعت اسی پر پڑ ے گی۔
فعلی:۔
جیسے ابراہیم بن محمد بن منتشر کا بیان:۔
کان مسروق یرخی الستربینہ و بین اہلہ و یقبل علی صلاوۃ و یخلیہم و دنیاہم، ( حلیۃ الاولیاء لا بی نعیم ۲/۹۶)
حضرت امام مسروق اپنے اہل و عیال کے درمیان پردہ ڈال کر نماز میں مشغول ہو جاتے اور انکو انکی دنیا میں مشغول چھوڑ دیتے ۔
حکم:۔
کسی سند سے مرفوع ثابت ہوئی تو مرفوع مرسل کے حکم میں ہو گی، اور موقوف کا درجہ
حاصل کرنے کے لئے بعض احناف نے فرمایا کہ تابعی عہد صحابہ میں انکی نگرانی میں افتاء کا کام کرتا رہا ہو اور ان کا معتمد ہو تو ا سکو موقوف کی حیثیت حاصل ہو گی، ا سکو منقطع بھی کہا جاتا ہے ۔( تدریب الراوی للسیوطی ۱/۱۹۴)
متصل :۔
وہ حدیث مرفوع یا موقوف جسکے تمام رواۃ مذکور ہوں ۔
مرفوع متصل :۔
مالک عن ابن شہاب عن سعید بن المسیب عن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نعی النجاشی للناس فی الیوم الذی مات فیہ وخرج بہم الی المصلی فصف بہم و کبر اربع تکبیرات۔ (المؤطا لمالک۷۸)
حضور ا کرم سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے شاہ حبشہ حضرت نجاشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے انتقال کی خبر صحابہ کرام کو سنائی اور ایک میدان میں جا کر انکی نماز ادا کی۔
اس حدیث کی سند متصل ہے اور حدیث مرفوع۔
موقوف متصل:۔
مالک عن نافع ان عبد اللہ بن عمر قال :یصلی علی الجنازۃ بعد العصر و بعد الصبح اذا صلیتما لوقتہا۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: نماز جنازہ نماز عصر و فجر کے بعد بھی پڑ ھی جا سکتی ہے ۔ اس حدیث کی سند متصل اور حدیث موقوف۔
منقطع:۔
وہ حدیث مرفوع یا موقوف جسکے بعض رواۃ سند سے ساقط ہوں ، واضح رہے کہ منقطع تین معنی پر بولا جا تا ہے ۔
۱۔ حدیث مقطوع جو کسی تابعی کا قول و فعل ہو۔ کما مر
۲۔ متصل مقطوع کا مقابل کہ سند سے کوئی راوی ساقط ہو ایک خواہ زیادہ، مسلسل یا متفرق۔
۳۔ دوسرے معنی پر بولا جانے والا منقطع مقسم ہے اور یہ ا سکی ایک قسم ۔
اقسا م خبر با عتبار نقل
سلسلۂ سند کے اعتبار سے ہم تک پہونچنے والی احادیث کی دو قسمیں ہیں ۔
xمتواتر x غیر متواتر
تعریف:۔ جس حدیث کے راوی ہر طبقہ میں اتنے ہوں کہ ان کا جھوٹ پر اتفاق کر لینا محال
عقلی بھی ہو اور عادی بھی ، نیز مضمون حدیث حسیات سے متعلق ہو عقلی قیاسی نہ ہو۔ ا سکو متواتراسنادی بھی کہتے ہیں ۔( تدریب الراوی للسیوطی ۲/۱۷۶)
٭ الفاظ متحد ہوں تو متواتر لفظی بھی کہا جاتا ہے ۔
٭ معنی متواتر ہوں الفاط نہیں تو متواتر معنوی اور متواتر قدر مشترک کہتے ہیں ۔
٭ کبھی ایک بڑ ی جماعت کے ہر قرن میں عمل کی بنیاد پر بھی تواتر کا حکم لگتا ہے ، ا سکو متواتر عملی کہا جاتا ہے ۔
٭ کبھی دلائل متواتر ہوتے ہیں تو ا سکو متواتر استدلالی کہتے ہیں ۔
مثال متواتر اسنادی:۔
من کذب علی متعمدا فلیتبوٗا مقعدہ من النار۔( المسند لا حمد بن حنبل ۴/۱۰۰)
جو شخص قصداً میری طرف جھوٹ منسوب کرے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ۔
٭ امام ابن صلاح نے کہا: اس حدیث کو ۶۲ صحابہ کرام نے روایت کیا ۔ نیز فرمایا ؒ ا سکی سند میں تمام عشرۃ مبشرۃ بھی ہیں ، اس حدیث کے علاوہ کسی دوسری حدیث میں ان سب کا اجتماع نہ ہوا۔ اور بذات خود حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے روایت کر نے والے صحابہ کرام اس کثرت سے کسی دوسری حدیث میں نہیں ۔
٭ امام نو وی نے فرمایا: تقریباً دو سو صحابہ کرام سے یہ حدیث مروی ہے ۔
٭ امام عراقی کہتے ہیں :۔ خاص اس متن کے ساتھ ستر سے زائد صحابہ کرام سے روایت آئی ۔
مثال متواتر لفظی:۔
نظم قرآن کریم۔
قرآن کریم عہد رسالت سے آج تک انہیں الفاظ کے ساتھ نقل ہوتا آیا جو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر نازل ہو ا تھا۔ ہر طبقہ میں بے شمار افراد ا سکے راوی رہے لہذا نہ کسی سند کی ضرورت اورنہ کسی اسناد کی حاجت، ا سکو متواتر طبقہ کہہ سکتے ہیں ۔
مثال متواتر معنوی:۔
کان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اذا رفع فی الدعاء لم یجطہماحتی یمسح بہما وجہہ، (الجامع للترمذی باب رفع الایدی ۲/۱۷۴)
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جب دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتے تو اس وقت تک نہیں چھوڑ تے جب تک چہرہ پر نہ پھیر لیتے ۔
اس حدیث سے دعا کے وقت ہاتھ اٹھا نے کا ثبوت ملتا ہے ، اس سلسلہ میں ایک سو کے قریب احادیث ہیں جن میں مختلف مواقع پر دعا کے لئے ہاتھ اٹھانے کا ذکر ہے ، الگ الگ کوئی حدیث حد تواتر کو نہیں پہونچی مگر ان کا قدر مشترک مفہوم یعنی دعاکے وقت ہاتھ اٹھانا متواتر ہے ۔
اسی باب سے ہے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے مطلق معجزہ کا صدور کہ اگر چہ معجزات فرداً فرداً خبر واحد یا خبر مشہور سے ثابت ہوں لیکن جن روایات میں معجزہ کا ذکر ہے وہ متواتر ہیں ۔
متواتر عملی کی مثال:۔
وضو میں مسواک، کہ عملاً اگر چہ سنت ہے لیکن ا سکی سنیت کا اعتقاد فرض ہے ، کیونکہ یہ تواتر عملی سے ثابت شدہ ہے ، لہذا ا سکی سنیت کا انکار کفر ہو گا۔
اسی قسم سے دن و رات میں پانچ نمازوں کا ثبوت بھی ہے ، کہ ہر زمانہ میں اہل اسلام پانچ وقت کی نمازیں پڑ ھتے آئے اور بالاتفاق تمام مسلمان ا ن کو فرض جانتے اور مانتے ہیں حتی کہ غیر مسلم بھی اس بات سے واقف ہیں کہ مسلمانوں کے یہاں پانچ وقت کی نماز پڑ ھی جاتی ہے ۔
متواتر استدلالی کی مثال:۔
اجماع ، خبر واحد اور قیاس کا حجت شرعی ہونا ایسے دلائل سے ثابت ہے جو شمار میں لا تعداد ہیں اور مختلف مواقع پر مذکورہیں ، یہ الگ ا لگ تو اگر چہ ظنی ہیں مگر ان کا حاصل ایک ہے ۔
حکم۔
حدیث متواتر علم قطعی یقینی بدیہی کا فائدہ دیتی ہے ، راویوں سے بحث نہیں کی جاتی، ا سکے مضمون کا انکار کفر ہے ۔
تصنیفات فن
اس نوعیت کی متعدد تصانیف معرض وجود میں آئیں ۔ بعض حسب ذیل ہیں ۔
۱۔ الفوائد المتکاثرۃ فی الاخبار المتواترۃ للسیوطی،
۲۔ الازہار المتناثرۃ فی الاخبار المتواترۃ للسیوطی،
۳۔ قطف الازہار للسیوطی،
۴۔ نظم المتناثر من الحدیث المتواتر للکتانی،
۵۔ اتحاف ذوی الفضائل المشتہرۃ بما وقع من الزبادات فی نظم المتناثر علی الازہار المتنا ثرۃ لا بی الفضل عبد اللہ صدیق۔
تعریف خبر واحد:۔
وہ حدیث جو تواتر کی حد کو نہ پہونچے ۔
حکم:۔
ظن غالب کا افادہ کر تی ہے ، اور اس سے حاصل شدہ علم نظری ہو تا ہے ۔
ا سکی دو قسمیں ہیں :۔
با عتبار نقل با عتبار قوت وضعف
باعتبار نقل
یعنی ہم تک پہونچنے کے اعتبار سے ا سکی تین قسمیں ہیں :۔
xمشہور x عزیز xغریب
خبر مشہور
تعریف:۔ ہر طبقہ میں جسکے راوی تین یازائد ہوں بشرطیکہ حد تواتر کو نہ پہونچیں ، ا سکو
مستفیض بھی کہتے ہیں ۔
بعض کے نزدیک عموم خصوص کی نسبت ہے کہ مستفیض خاص ہے ، یعنی جسکے رواۃ ہر زمانہ میں یکساں ہوں بر خلاف مشہور، بعض نے ا سکے بر عکس کہا ہے ۔
مشہور فقہاء و اصولیین :۔
مشہور کی غیر اصطلاحی تعبیر یوں بھی منقول ہے کہ وہ حدیث کہ
عہد صحابہ میں ناقل تین سے کم رہے مگر بعد میں اضافہ ہو گیا اور تلقی امت با لقبول سے ممتاز ہو گئی ، گویا انکے نزدیک متواتر اور خبر واحد کے درمیان برزخ ہے ۔
مشہور عرفی :۔
جو حدیث عوام و خواص میں مشہور ہوئی خواہ شرائط شہرت ہوں یا نہ ہوں ۔
یہ محدثین، فقہاء اصولے ین اور عوام کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہے ۔
مثال نزد محدثین :۔ قنت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم شہرا بعد الرکوع یدعو علی رعل وذکوان۔ (دلائل النبوۃ للبیہقی ۳/۳۵۰)
مثال نزد فقہاء:۔ من سئل عن علم فکتمہ الجم بلجام من نار۔ (المستدرک للحاکم ۱/۱۰۱)
مثال نزد اصولیین:۔ رفع عن امتی الخطاء و النسیان۔( کنز العمال للمتقی ،۱۰۳۰۷)
مثال نزد عوام:۔ اختلاف امتی رحمۃ۔ (اتحاف السادۃ للزبیدی ۱/۲۰۴)
العجلۃ من الشیطان۔ (السنن الکبری للبیہقی ۱/ ۱۰۴)
لیس الخبر کالمعا نیۃ۔ (المسند لا حمد بن حنبل ۱/۲۷۱)
حکم:۔
مشہور کے مراتب مختلف ہیں ، مشہور اصطلاحی اگر صحیح ہے تو ا سکو بعد کی تمام اقسام پر ترجیح
حاصل ہو گی ۔( تدریب الراوی للسیوطی ۲/۱۷۲)
تصانیف فن
اس نوع کی احادیث میں مندرجہ ذیل کتب مشہور ہیں :۔
۱۔ التدکرۃ فی الاحادیث المشہرۃ للزرکشی، م ۷۹۴ھ
۲۔ المقاصد الحنسۃ فیما اشتہر علی الالسنۃ للسخاوی، م ۹۰۲ھ
۳۔ کشف الخفا و مزیل الالباس فیما اشتہر من الحدیث
علی السنۃ الناس للعجلونی، م۱۱۲۲
۴۔ تمیز الطیب من الخبیث فیما یدور علی السنۃ الناس
من الحدیث للشیبانی، م۹۴۴
خبر عزیز
تعریف:۔
وہ حدیث جسکے راوی کسی طبقہ میں دو سے کم نہ ہوں ۔
مثال:۔ لا یومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ و و لدہ والناس اجمعین۔(المسند لا حمد بن حنبل ۳/۲۰۷)
تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن کا مل نہیں جب تک ا سکے نزدیک میری محبت ماں باپ، اولاد اور تمام لوگوں کی محبت پر غالب نہ ہو۔
اس حدیث مبارک کو صحابہ کرام میں حضرت ابو ہریرہ اور حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے روایت کیا ۔
پھر بعض تفصیلات یوں ہیں ۔
٭ حضرت انس سے قتادہ اور عبد العزیز نے
٭ حضرت قتادہ سے شعبہ اور سعید نے
٭ حضرت عبد العزیز سے اسمعیل بن علیہ اور عبد الوارث نے۔(تدریب الراوی للسیوطی ۲/ ۱۸۱)
خبر غریب
ا سکی دو قسمیں ہیں :۔
٭ غریب اسنادی ٭ غریب لغوی
تعریف غریب اسنادی:۔
کسی ایک طبقہ میں ایک راوی ہو، ا سکو فرد بھی کہتے ہیں ،۔
ا سکی بھی دو قسمیں ہیں ۔
٭غریب مطلق ٭غریب نسبی
٭فرد مطلق ٭فرد نسبی
انکے بیان کے لئے ’’تفرد فلاں ‘‘ اور ’’اغرب فلاں ‘‘ کہا جاتا ہے ۔
تعریف غریب مطلق:۔
سند حدیث کے اولین طبقہ میں تفرد و غرابت ہو۔
مثال اول:۔ انما الاعمال بالنیات۔( الجامع الصحیح للبخاری ۱/۲)
اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے ۔
اس حدیث کی اول سند میں حضرت عمر فاروق اعظم تنہا ہیں ، یہ حدیث غریب مطلق ان لوگوں کے نزدیک شمار ہو گی جو اولین طبقہ سے مراد صحابہ کرام لیتے ہیں ۔
مثال دوم:۔ الایمان بضع و سبعون شعبۃ و الحیاء شعبۃ من الایمان۔(مجمع الزوائد للہیثمی ۱/۳۶)
ایمان کے ستر سے زیادہ شعبے ہیں ، ان میں حیاء بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے ۔
یہ حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے صرف ابو صالح نے اور ابو صالح سے صرف عبد اللہ بن دینار نے روایت کی ہے ، لہذا جو حضرات اولین طبقہ سے تابعین مراد لیتے ہیں انکے نزدیک یہ بھی غریب مطلق ہی شمار ہو گی۔
مثال سوم:۔ نھی النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم عن بیع الولاء و ہبۃ، (المسند لا حمد بن حنبل ۲ /۹)
حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ولاء ( یعنی غلام آزاد کرنے کے بعد آقا کا جو حق غلام سے متعلق رہ جاتا ہے ) کو بیچنے اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔
اس حدیث کو حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے عبد اللہ بن دینار نے تنہا روایت کیا۔
تعریف غریب نسبی:۔
درمیان طبقہ میں غرابت ہو۔
مثال:۔ان النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم دخل مکۃ وعلی رأسہ المغفر، ( المسند لا حمد بن حنبل)
حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپکے مبارک سر پر خود تھا۔ اس حدیث کو امام زہری سے صرف امام مالک نے روایت کیا۔(مقدمہ ابن صلاح۱۳۷)
حکم:۔
ان احادیث کا حکم بھی مشہور احادیث کی طرح ہے کہ ہر حدیث کا صحیح اور معتمد ہونا
ضروری نہیں بلکہ حسب موقع مختلف مراتب ہو تے ہیں ۔
بلکہ غرائب پر اکثر جرح ہی ہو تی ہے ۔
مندرجہ ذیل کتب میں اکثر و بیشتر احادیث غرائب مذکورہیں ۔
المسند للبزار م ۲۹۲ھ
المعجم الاوسط للطبرانی م ۳۶۰ھ
تضانیف فن
٭غرائب مالک للدار قطنی م ۳۸۵
٭الا فراد للدارقطنی
٭السنن التی تفرد بکل سنۃ منہا اہل بلدۃ لا بی داؤد م۲۷۵
غریب لغوی
تعریف:۔
متن حدیث میں کوئی ایسا لفط آجائے جو قلیل الاستعمال ہونے کی وجہ سے غیر ظاہر ہو۔
یہ فن نہایت عظیم ہے ، اس میں نہایت احتیاط اور تحقیق کی ضرورت پیش آتی ہے ، کیونکہ معاملہ کلام نبوی کی شرح و تفسیر کا ہے ، لہذا کلام الہی کی طرح حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے کلام کی تشریخ و تفسیر بھی محض رائے سے مذموم قرار دی جائے گی۔ حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کسی لفظ غریب کے بارے میں سوال ہو ا تو فرمایا: اس فن کے لوگوں سے پوچھو، مجھے خوف ہے کہ کہیں میں اپنے ظن و تخمین سے کوئی بات کہہ دوں اور غلطی میں مبتلا ہو جاؤں ۔
امام ابو سعید اصمعی سے ابو قلابہ نے پوچھاحضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے فرمان ’’الجار احق بسقبۃ‘‘ کے کیا معنی ہیں ، فرمایا:میں اپنی رائے سے اس حدیث کی تفسیر نہیں کر سکتا۔ البتہ اہل عرب ’سقب‘ کے معنی قرب و نزدیکی بیان کر تے ہیں (مقدمہ ابن صلاح۱۳۷)
یہ دونوں واقعے اسی غات احتیاط کی طرف مشیر ہیں ۔
بہترین تفسیر وہ کہلاتی ہے جو خود حضور ہی سے کسی دوسری حدیث میں منقول ہو۔
صل قائما فان لم تستطع فقاعدا فان لم تستطع فعلی جنب٘ ۔ (الجامع الصحیح للبخاری)
کھڑ ے ہو کر نماز پڑ ھو، اور اگر یہ نہ ہو سکے تو بیٹھ کر پڑ ھو اور اگر یہ نہ ہو سکے تو پہلو پر۔
دوسری روایت جو حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے ہے اس میں حضور نے ’فعلی جنب‘ کی تفسیر یو ں فرمائی ، داہنی کروٹ کے بل قبلہ رخ ہو کر ۔
تصانیف فن
٭ کتاب نضر بن شمیل ، اولین کتاب م ۲۰۴
٭غریب الحدیث لا بن عبید قاسم بن سلام م ۲۲۴
٭غریب الحدیث لعبد اللہ بن مسلم الدینوی م ۲۲۷
٭النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لا بن اثیر م ۶۰۶
٭الفائق لجاراللہ الزمخشری م ۵۳۸
٭مجمع بحار الانوارلمحمد بن طاہر الہندی م ۹۸۶


No comments:
Post a Comment