راویان حدیث کی شخصیات اور ان کے حالات زندگی کا علم ایک اہم چیز ہے کہ جب تک کسی شخصیت کے بارے میں علم نہ ہو گا اس کے مقبول وغیر مقبول ہونے کا فیصلہ نہ ہو سکے گا ۔ چونکہ یہ کام محدثین و ائمہ فن کر چکے اور فیصلہ کر کے ہمارے لئے کتابیں تحریر فرمادیں ۔ اس سلسلہ میں ائمہ فن نے جرح و تعدیل کی کتابیں اور مستقلا علیٰحدہ علیٰحدہ عنوانات پر بھی کام کیا ۔ بعض اہم علوم و عنوان اس طرح پیش کئے گئے ہیں ۔
٭ معرفت صحابہ ٭معرفت تابعین ٭ معرفدت برادران و خواہران
٭معرفت متشابہ ٭ معرفت مہمل ٭معرفت متفق و مفترق
٭معرفت مبہمات ٭معرفت وحدان ٭معرفت موتلف و مختلف
٭معرفت القاب ٭ معرفت تواریخ رواۃ ٭معرف طبقات علماء و رواۃ
٭معرفت مذکورین باسماء باصفات مختلفہ ٭معرفت موالی
٭معرفت اسماء مشہورین بکنیات ٭معرفت نسبت خلاف ظاہر
٭معرفت اسماء مفردہ و کنیت و القاب ٭معرفت خلط کنند ان از ثقات
٭معرفت رواۃ ثقات و ضعفاء ٭معرفت اوطان و ممالیک رواۃ ٭معرفت منسوبین بسوئے غیر پدر ٭ معرفت اکابر رواۃ از اصاغر٭ معرفت روایت پدراں از پسراں ٭معرفت روایت پسراں از پدراں
یہ اور ان جیسے علوم کے مجموعہ کو علم اسماء الرجال کہتے ہیں اور ان راویان حدیث کے حالات کتابوں میں مذکور ہیں ۔
٭طبقات مشاہیر الاسلام:۔ مصنفہ امام ذہبی ۳۵! جلدوں میں ہے اور اس میں ایک ہجری سے ۷۰۰ھ تک کے تمام ایسے اشخاص کا احاطہ کر لیا گیا ہے ۔
٭تذکرۃ الحفاظ :۔ یہ بھی آپ کی تصنیف ہے ۔ اور اس میں ۷۰۰ ھ سے کچھ آگے کے حالات بھی مرقوم ہیں ۔
علامہ ابن حجر کے لسان المیزان نویں صدی تک کا احاطہ کرتی ہے اور امام سیوطی کی ’’ذیل‘‘ میں ۱۰۱۰ ھ تک کے مشاہیر کا تذکرہ ہے ۔
جرح و تعدیل کا زیادہ تر سلسلہ متون حدیث کی تالیف کے آخری عہد یعنی امام بیہقی
م ۴۵۸ھ کے عہد تک رہا ہے ، پھر چونکہ احادیث کے اصل و معتمد تمام مجموعے تصنیف کئے جا چکے تھے اس لئے اس کے بعد رواۃ کے حالات جمع کرنے کا نہ اہتمام کیا گیا اور نہ ہی اس کی ضرورت رہ گئی تھی ۔ لہذا اب کتابوں کی طرف ہی رجوع ہوتا ہے


No comments:
Post a Comment