تعریف:۔ جس حدیث کا ثبوت بعض یا کل شرائط قبولیت کے معدوم ہونے کی وجہ سے راجح نہ ہو، ا سکا دوسرا معروف عنوان’ ضعیف ‘ہے ۔
اسباب رد دو ہیں ۔
xسقوط از سند x طعن بر راوی
اول کی مندرجہ ذیل چھ قسمیں ہیں ۔
xمعلق x مرسلx معضلx منقطعx مرسل خفیx مدلس
سقوط راوی اگر واضح ہو تو اس سے پہلی چار قسمیں متعلق ہیں ، اور سقوط خفی ہو تو آخری دو۔
اسباب رد دو ہیں ۔
xسقوط از سند x طعن بر راوی
اول کی مندرجہ ذیل چھ قسمیں ہیں ۔
xمعلق x مرسلx معضلx منقطعx مرسل خفیx مدلس
سقوط راوی اگر واضح ہو تو اس سے پہلی چار قسمیں متعلق ہیں ، اور سقوط خفی ہو تو آخری دو۔
معلق
تعریف:۔جس حدیث کی شروع سند سے ایک ، یا زائد راوی پے در پے حذف ہو ں ۔
حکم
یہ حدیث قابل رد ہے کہ راوی غیر مذکور کا حال معلوم نہیں ، ہاں راوی کا حال معلوم ہو
جائے اور وہ شرائط عدالت اور اوصاف قبولیت سے متصف ہو تو مقبول ہو گی ، یہ حکم تمام منقطع احادیث کا ہونا چاہیے ۔
مثال۔ قال ابو ہریرۃ عن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: اللہ اعلم بمن یجاہد فی سبیلہ۔(الجامع الصحیح للبخاری ۱/۴۰۶تعلیقات بخاری
واضح رہے کہ امام بخاری کی ذکر کردہ تعلیقات کو یک قلم مردود قرار نہیں دیا جا سکتا، کہ اس کتاب میں صحیح احادیث کے جمع کر نے کا التزام ہے ، البتہ اس میں تفصیل یہ ہے کہ بعض تعلیقات کو یقین و قطیعت کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ۔ جیسے ۔
قال ۔ ذکر۔ حکی۔ وغیرہا۔
اور بعض کو شک و تردد کے ساتھ بیان کیا ہے ، جیسے ۔
قیل ، ذکر، روی ، وغیرہا۔
اول کو صحیح اور ثابت کہا جاتا ہے ، اور ثانی پر تحقیق کے بعد ہی حکم ہو گا، اس سے پہلے توقف بہتر ہے ، ایسی احادیث بخاری میں صرف ایک سو ساٹھ ہیں ۔( تدریب الراوی للسیوطی، ۱ /۱۱۷مرسل
تعریف :۔ جس حدیث میں آخر سند سے تابعی کے بعد راوی غیر مذکور ہو ۔
مثال۔ عن سعید بن المسیب ان رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال: من اکل من ہذہ الشجرۃ فلا یقرب مسجدنا۔( المؤطا لمالک۶)
حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے اس درخت ( کچی پیاز ا اور لہسن) سے کچھ کھایا وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے ۔
مثال۔ عن سعید بن المسیب ان رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال: من اکل من ہذہ الشجرۃ فلا یقرب مسجدنا۔( المؤطا لمالک۶)
حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے اس درخت ( کچی پیاز ا اور لہسن) سے کچھ کھایا وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے ۔
مرسل نزد فقہاء و اص
جس حدیث کی سند متصل نہ ہو ، خواہ ایک راوی غیر مذکور ہو یا سب، پے د رپے یا الگ الگ۔ گویا سقوط سند کی تمام صورتیں انکے نزدیک مر سل ہیں ۔
حکم:۔ مر سل در حقیقت ضعیف مردود اور غیر مقبول ہے ، کہ قبولیت کی ایک شرط اتصال سند
سے خالی ہے ، جمہور محدثین اور ایک جماعت اصولے ین و فقہا کا یہ ہی مسلک ہے ۔
امام اعظم ، امام مالک، اور امام احمد کا قول مشہورمیں نیز ایک جماعت علماء کے نزدیک مقبو ل اور لائق احتجاج ہے بشرطیکہ ارسال کرنے والا ثقہ اور کسی معتمد ہی سے ارسال کرے ، اس لئے کہ ثقہ تابعی جب تک کسی اپنے جیسے ثقہ سے کو ئی بات نہ سنے تو براہ راست حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف نسبت نہیں کرتا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ حضرات تابعین مرسل پر نکیر نہیں کر تے تھے ۔
امام شافعی اور بعض علماء کے نزدیک چند شرطوں سے مقبول ہے ۔
٭ ارسال کرنے والا اکابر تابعین سے ہو ۔
٭غیر مذکور راوی کی تعے ین میں ثقہ ہی کا نام لیا جائے ۔
٭معتمد حفاظ حدیث کسی دوسری سند سے روایت کریں تو ا سکے مخالف نہ ہو۔
٭ کسی دوسری سند سے متصل ہو۔
٭کسی صحابی کے قول کے موافق ہو۔
٭اکثر اہل علم کے نزدیک ا سکے مضمون پر فتوی ہو۔
اگر صحیح حدیث ایک طریق سے مروی ہو لیکن مرسل کے مخالف، اور مرسل او ر ا سکی مؤید علیحدہ سند سے تویہ مرسل ہی راجح ہو گی، اگر جمع و تطبیق کی کوئی صورت ممکن نہ ہو۔
خیال رہے کہ مرسل صحابی جمہور کے نزدیک مقبول اور لائق احتجاج ہے ،۔ مرسل صحابی کی صورت یہ ہوتی ہے کہ صحابی کم سنی یا تاخیرا سلام کی وجہ سے خود حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے نہیں سن پاتا لیکن براہ راست نسبت حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف ہی کر تا ہے ۔
جیسے عبد اللہ بن زبیر اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی اکثر روایات اسی طرح کی ہیں ۔(تدریب الراوی للسیوطی ۱/ ۲۰۷)
مرسل اور ائمہ احناف:۔ احناف کے نزدیک تابعی اور تبع تابعین کی مرسلات مطلقاً
مقبول ہیں ، انکے بعد ثقہ کی ہو تو مقبول او ر باقی کا فیصلہ تحقیق کے بعد ہو تا ہے ۔( فواتح الرحموت لبحر العلوم ۲/۱۷۴)
مشہور مصنفات
٭المراسیل لا بی داؤد، م ۲۷۵
٭ المراسیل لا بن ابی حاتم، م ۳۲۷
٭ جامع التحصیل لا حکام المراسیل للعلائی ، م ۷۶۱
معضل
تعریف:۔ جسکی سند سے دو یا زائد راوی پے در پے ساقط ہوں
مثال۔ مالک انہ بلغہ ان عائشۃ زوج النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قالت فی المرأۃ الحامل تری الدم انہا تدع الصلوۃ۔ (المؤطا لمالک۲۱)
حضرت امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ روایت پہونچی کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا:۔ حاملہ عورت اگر خون دیکھے تو نماز نہ پرھے ۔
یہ حدیث امام مالک کے بلاغات سے ہے اور درمیان میں دو راوی ساقط ہیں کہ بالعموم امام مالک اور حضرت صدیقہ کے درمیان موطا میں دو واسطے مذکور ہیں ۔
لہذا فنی طور پر یہ حدیث منقطع معضل شمار ہو گی۔
حکم:۔ ضعیف شمار ہو تی ہے اور مرسل کے بعد ا سکا نمبر آتا ہے ۔
معضل اور معلق کے درمیان عموم خصوص من وجہ کی نسبت ہے ۔
مادۂ اجتماع:۔ یہ ہے کہ اآغاز سند سے پے در پے دو راوی ساقط ہوں ۔
مادۂ افتراق:۔ درمیان سند سے پے در پے دو یا زائد راوی ساقط ہوں تو معضل کہیں گے معلق نہیں ۔
آغاز سند سے صر ف ایک راوی ساقط ہو تو معلق کہا جائے گا معضل نہیں ۔
حکم:۔ مر سل در حقیقت ضعیف مردود اور غیر مقبول ہے ، کہ قبولیت کی ایک شرط اتصال سند
سے خالی ہے ، جمہور محدثین اور ایک جماعت اصولے ین و فقہا کا یہ ہی مسلک ہے ۔
امام اعظم ، امام مالک، اور امام احمد کا قول مشہورمیں نیز ایک جماعت علماء کے نزدیک مقبو ل اور لائق احتجاج ہے بشرطیکہ ارسال کرنے والا ثقہ اور کسی معتمد ہی سے ارسال کرے ، اس لئے کہ ثقہ تابعی جب تک کسی اپنے جیسے ثقہ سے کو ئی بات نہ سنے تو براہ راست حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف نسبت نہیں کرتا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ حضرات تابعین مرسل پر نکیر نہیں کر تے تھے ۔
امام شافعی اور بعض علماء کے نزدیک چند شرطوں سے مقبول ہے ۔
٭ ارسال کرنے والا اکابر تابعین سے ہو ۔
٭غیر مذکور راوی کی تعے ین میں ثقہ ہی کا نام لیا جائے ۔
٭معتمد حفاظ حدیث کسی دوسری سند سے روایت کریں تو ا سکے مخالف نہ ہو۔
٭ کسی دوسری سند سے متصل ہو۔
٭کسی صحابی کے قول کے موافق ہو۔
٭اکثر اہل علم کے نزدیک ا سکے مضمون پر فتوی ہو۔
اگر صحیح حدیث ایک طریق سے مروی ہو لیکن مرسل کے مخالف، اور مرسل او ر ا سکی مؤید علیحدہ سند سے تویہ مرسل ہی راجح ہو گی، اگر جمع و تطبیق کی کوئی صورت ممکن نہ ہو۔
خیال رہے کہ مرسل صحابی جمہور کے نزدیک مقبول اور لائق احتجاج ہے ،۔ مرسل صحابی کی صورت یہ ہوتی ہے کہ صحابی کم سنی یا تاخیرا سلام کی وجہ سے خود حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے نہیں سن پاتا لیکن براہ راست نسبت حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف ہی کر تا ہے ۔
جیسے عبد اللہ بن زبیر اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی اکثر روایات اسی طرح کی ہیں ۔(تدریب الراوی للسیوطی ۱/ ۲۰۷)
مرسل اور ائمہ احناف:۔ احناف کے نزدیک تابعی اور تبع تابعین کی مرسلات مطلقاً
مقبول ہیں ، انکے بعد ثقہ کی ہو تو مقبول او ر باقی کا فیصلہ تحقیق کے بعد ہو تا ہے ۔( فواتح الرحموت لبحر العلوم ۲/۱۷۴)
مشہور مصنفات
٭المراسیل لا بی داؤد، م ۲۷۵
٭ المراسیل لا بن ابی حاتم، م ۳۲۷
٭ جامع التحصیل لا حکام المراسیل للعلائی ، م ۷۶۱
معضل
تعریف:۔ جسکی سند سے دو یا زائد راوی پے در پے ساقط ہوں
مثال۔ مالک انہ بلغہ ان عائشۃ زوج النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قالت فی المرأۃ الحامل تری الدم انہا تدع الصلوۃ۔ (المؤطا لمالک۲۱)
حضرت امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ روایت پہونچی کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا:۔ حاملہ عورت اگر خون دیکھے تو نماز نہ پرھے ۔
یہ حدیث امام مالک کے بلاغات سے ہے اور درمیان میں دو راوی ساقط ہیں کہ بالعموم امام مالک اور حضرت صدیقہ کے درمیان موطا میں دو واسطے مذکور ہیں ۔
لہذا فنی طور پر یہ حدیث منقطع معضل شمار ہو گی۔
حکم:۔ ضعیف شمار ہو تی ہے اور مرسل کے بعد ا سکا نمبر آتا ہے ۔
معضل اور معلق کے درمیان عموم خصوص من وجہ کی نسبت ہے ۔
مادۂ اجتماع:۔ یہ ہے کہ اآغاز سند سے پے در پے دو راوی ساقط ہوں ۔
مادۂ افتراق:۔ درمیان سند سے پے در پے دو یا زائد راوی ساقط ہوں تو معضل کہیں گے معلق نہیں ۔
آغاز سند سے صر ف ایک راوی ساقط ہو تو معلق کہا جائے گا معضل نہیں ۔
منقطع
تعریف :۔ درمیان سند سے ایک راوی ساقط ہو ، اور دو یا زائد ہوں تو پے در پے نہ ہوں ۔
مثال۔ حدثنی محمد بن صالح، ثنا احمد بن سلمۃ، ثنا اسحاق بن ابراہیم، ثنا عبد الرزاق، انا النعمان بن شیبۃ، عن سفیان الثوری، عن ابی اسحاق، عن زید بن یتبع، عن حذیفہ، رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ان و لیتموہا ابا بکر فزاہد فی الدنیا راغب فی الآخرۃ و فی جسمہ ضعف، و ان ولیتموہا عمر فقوی امین لا یخاف فی اللہ لو مۃ لا ئم، و ان ولیتموہا علیا فہاد مہتد یقیمکم علی صراط مستقیم ۔( المستدرک للحاکم ۳ /۱۵۳)
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم خلافت صدیق اکبر کے سپرد کرو گے تو انکو دنیا سے بے رغبت اور آخرت کی طرف راغب پاؤگے ، اور وہ اپنے جسم میں ضعیف ثابت ہوں گے ۔ اور عمر فاروق اعظم کے سپرد کرو گے تو وہ قوی اور امین ثابت ہوں گے ، احکام الہہ میں کسی کی پرواہ نہیں کریں گے ۔ اور اگرعلی کو خلیفہ بناو گے تو وہ سیدھی راہ پر خود بھی چلیں گے اور دوسروں کو بھی صراط مستقیم پر گامزن رکھیں گے ۔
اس حدیث کی سند میں ایک راوی سفیان ثوری اور ابو اسحق کے درمیان سے ساقط ہیں اور وہ شریک ہیں ، کیونکہ سفیان ثوری نے ابو اسحق سے براہ راست سماعت نہیں کی بلکہ بواسطہ شریک ، لہذا یہ منقطع ہے ، اسی لئے امام ذہبی نے تلخیص میں ا سکو ضعیف کہا ۔
چونکہ اس حدیث کی سند میں سقوط راوی شروع سند سے نہیں لہذا یہ معلق نہیں ، اور آخر سند سے نہیں ، لہذا مرسل نہیں ، اور سند سے دو راوی پے در پے بھی ساقط نہیں لہذا معضل بھی نہیں ، اسی لئے ا سکو علیحدہ قسم شمار کیا گیا ہے ۔
حکم:۔ راوی غیر مذکور کا حال معلوم نہ ہونے کے سبب ضعیف شمار ہو تی ہے ۔
مثال۔ حدثنی محمد بن صالح، ثنا احمد بن سلمۃ، ثنا اسحاق بن ابراہیم، ثنا عبد الرزاق، انا النعمان بن شیبۃ، عن سفیان الثوری، عن ابی اسحاق، عن زید بن یتبع، عن حذیفہ، رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ان و لیتموہا ابا بکر فزاہد فی الدنیا راغب فی الآخرۃ و فی جسمہ ضعف، و ان ولیتموہا عمر فقوی امین لا یخاف فی اللہ لو مۃ لا ئم، و ان ولیتموہا علیا فہاد مہتد یقیمکم علی صراط مستقیم ۔( المستدرک للحاکم ۳ /۱۵۳)
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم خلافت صدیق اکبر کے سپرد کرو گے تو انکو دنیا سے بے رغبت اور آخرت کی طرف راغب پاؤگے ، اور وہ اپنے جسم میں ضعیف ثابت ہوں گے ۔ اور عمر فاروق اعظم کے سپرد کرو گے تو وہ قوی اور امین ثابت ہوں گے ، احکام الہہ میں کسی کی پرواہ نہیں کریں گے ۔ اور اگرعلی کو خلیفہ بناو گے تو وہ سیدھی راہ پر خود بھی چلیں گے اور دوسروں کو بھی صراط مستقیم پر گامزن رکھیں گے ۔
اس حدیث کی سند میں ایک راوی سفیان ثوری اور ابو اسحق کے درمیان سے ساقط ہیں اور وہ شریک ہیں ، کیونکہ سفیان ثوری نے ابو اسحق سے براہ راست سماعت نہیں کی بلکہ بواسطہ شریک ، لہذا یہ منقطع ہے ، اسی لئے امام ذہبی نے تلخیص میں ا سکو ضعیف کہا ۔
چونکہ اس حدیث کی سند میں سقوط راوی شروع سند سے نہیں لہذا یہ معلق نہیں ، اور آخر سند سے نہیں ، لہذا مرسل نہیں ، اور سند سے دو راوی پے در پے بھی ساقط نہیں لہذا معضل بھی نہیں ، اسی لئے ا سکو علیحدہ قسم شمار کیا گیا ہے ۔
حکم:۔ راوی غیر مذکور کا حال معلوم نہ ہونے کے سبب ضعیف شمار ہو تی ہے ۔
مدلّس
تعریف:۔ جس حدیث کی سند کا عیب پوشیدہ رکھا جائے اور ظاہر کو سنوار کر پیس کیا جائے ۔
دوقسمیں ہیں ۔
xمدلس الاسناد x مدلس الشیوخ
مدلس الاسناد:۔ وہ حدیث جسکو استاذ سے بغیر سنے ایسے الفاظ سے استاذ کی طرف نسبت
کرے جس سے سننے کا گمان ہو۔ ا سکی صورت یہ ہوتی ہے کہ راوی اپنے شیخ کا ذکر نہ کرے جس سے سماع حاصل تھا بلکہ اپنے شیخ سے بالا شیخ کو ذکر کر دے جس سے سماع حاصل نہیں مگر ایسے لفظ سے جو سماع کا ایہام کر تا ہے ۔
جیسے :۔ قال، عن ، ان ، وغیرہا کے ذریعہ بیان کرے ۔ کہ یہ الفاظ موہم سماع ہیں ۔
یعنی ایسے الفاظ نہ استعمال کرے جو صراحت کے ساتھ براہ راست سننے کو بتائیں ورنہ جھوٹا کہلائے گا۔ اس صورت میں چھوٹے ہوئے راوی ایک سے زاید بھی ہو سکتے ہیں ۔
تدلیس کا سبب کبھی یہ ہوتا ہے کہ شیخ کے صغیر السن ہونے کی وجہ سے راوی ازراہ خفت ا سکا تذکرہ نہیں کرنا چاہتا، یا راوی کا شیخ کوئی معروف شخص نہیں ، یا عوام و خواص میں ا سکو مقبولیت حاصل نہیں ، یا پھر مجروح ضعیف ہے ۔لہذا شیخ کے نام کو ذ کرنے سے پہلو تہی کر تا ہے ۔
واضح رہے کہ بعض اکابر جیسے سفیان بن عے ینہ سے تدلیس مندرجہ بالا وجوہ کے پیش نظر واقع نہیں ہوئی بلکہ اس وجہ سے کہ صحت حدیث پر انکو وثوق تھا اور بوجہ شہرت اپنے شیوخ کے ذکر کی ضرورت نہ سمجھی ، لہذا انکی حدیث پر بایں معنی جرح نہیں کی جاتی۔
حکم :۔ ایسی احادیث ضعیف کی اہم اقسام سے ہیں ، علماء نے اس عمل کو نہایت مکروہ بتایا ہے
اور بہت مذمت کی ہے ، امام شعبہ نے تدلیس کو کذب بیانی کا دوسرا عنوان بتایا ہے ۔
مدلس الشیوخ:۔ وہ حدیث جسے راوی اپنے استاذ سے نقل کر تے ہوئے اس کے لئے
کوئی غیر معروف نام، لقب، کنیت ، یا نسب ذکر کرے تا کہ اسے پہچانا نہ جا سکے ۔( تدریب الراوی للسیوطی ۱/۲۲۳)
ا سکی ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ شیخ سے بکثرت روایتیں کرنے کی وجہ سے بار بار معروف نام لینا نہیں چاہتا۔
حکم:۔ اس میں پہلی قسم کی بہ نسبت نقص کم ہو تا ہے ، کیونکہ راوی ساقط نہیں ہوتا، ہاں راوی کا غیر معروف نام ذکر کر کے سامعین کو الجھن میں مبتلا کر نا ہے ۔
ایسی احادیث میں اگر سماع کی تصریح کر دی جائے تو حدیث مقبول ورنہ غیر مقبول ہو گی، نیز وہ حضرات جو ثقہ سے تدلیس کر تے ہیں انکی مقبول ورنہ غیر مقبول ۔(تدریب الراوی للسیوطی ۱/۲۲۹)
تصانیف فن
اس فن میں محدثین نے مستقل کتابیں لکھیں چند یہ ہیں :۔
٭ کتاب التدلیس للخطیب، م ۴۶۳
٭ التبین لأسما ء المدلسین للخطیب، م۴۶۳
٭ التبین لأسماء المدلسین للحلبی، م ۸۴۱
٭ تعریف اہل التقدیس بمراتب الموصوفین بالتدلیس لا بن حجر، ۸۵۲
مرسل خفی
تعریف : جس حدیث کو راوی کسی ایسے شخص سے نقل کرے جس سے ا سکی معاصرت کے
باوجود ملاقات یاسماع ثابت نہ ہو۔
مرسل خفی اورمدلس کے درمیان فرق یوں ہے کہ راوی کی مروی عنہ سے معاصرت ہوتی ہے اور ملاقات بھی ممکن لیکن سماع ثابت نہیں ہوتا ۔ برخلاف مدلس کہ اس میں تینوں چیزیں ہوتی ہیں ۔
مثال:۔ حدثنا محمد بن الصباح، انبأنا عبد العزیز بن محمد عن صالح بن محمد بن زائدۃ، عن عمر بن عبد العزیز عن عقبۃ بن عامر الجھنی قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم: رحم اللہ حارس الحرس۔ (السنن لا بن ماجہ ۲ / ۱۹۹)
حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ مجاہدین کے محافظین پر رحم فرمائے ۔
عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حضرت عقبہ سے معاصرت تو ثابت ہے لیکن ملاقات نہیں جیسا کہ مزی نے اطراف الحدیث میں ذکر کیا ۔
حکم:۔ ضعیف ہے اس لئے کہ اس میں انقطاع ہو تا ہے ۔
تصنیف فن
٭ کتاب التفصیل لمبہم المراسیل للخطیب۔
یہ اس فن میں نہایت مشہور کتاب ہے ۔
معنعن و مؤنن
تعریف:۔ لفظ ’عن‘ کے ذریعہ روایت معنعن ہے ، اور’ ان‘ کے ذریعہ روایت مؤنن ہے ۔
حکم:۔ چند شرائط کے ساتھ متصل شمار ی جاتی ہے ۔
٭راوی مدلس نہ ہو۔
٭جن راویوں کے درمیان ’ عن ‘ یا ’ان‘ آئے وہ ہم عصر ہو ں ۔
مردود بسبب طعن در راوی
راوی میں طعن کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ا سکی عدالت یعنی مذہب و کردار، اور ضبط و حفظ کے بارے میں جرح کی جائے ۔
اسباب طعن دس ہیں :۔
٭پانچ عدالت سے متعلق ٭پانچ ضبط سے متعلق
عدا لت میں طعن کے وجوہ یہ ہیں ۔
xکذبxاتہام کذب x فسق xبدعتx جہالت
ضبط میں طعن کے وجوہ یہ ہیں ۔
xفرط غفلت xکثرت غلط x سوء حفظ xکثرت وہم x مخالفت ثقات
اب بدتر سے کم تر کی طرف ترتیب ملاحظہ ہو۔
دوقسمیں ہیں ۔
xمدلس الاسناد x مدلس الشیوخ
مدلس الاسناد:۔ وہ حدیث جسکو استاذ سے بغیر سنے ایسے الفاظ سے استاذ کی طرف نسبت
کرے جس سے سننے کا گمان ہو۔ ا سکی صورت یہ ہوتی ہے کہ راوی اپنے شیخ کا ذکر نہ کرے جس سے سماع حاصل تھا بلکہ اپنے شیخ سے بالا شیخ کو ذکر کر دے جس سے سماع حاصل نہیں مگر ایسے لفظ سے جو سماع کا ایہام کر تا ہے ۔
جیسے :۔ قال، عن ، ان ، وغیرہا کے ذریعہ بیان کرے ۔ کہ یہ الفاظ موہم سماع ہیں ۔
یعنی ایسے الفاظ نہ استعمال کرے جو صراحت کے ساتھ براہ راست سننے کو بتائیں ورنہ جھوٹا کہلائے گا۔ اس صورت میں چھوٹے ہوئے راوی ایک سے زاید بھی ہو سکتے ہیں ۔
تدلیس کا سبب کبھی یہ ہوتا ہے کہ شیخ کے صغیر السن ہونے کی وجہ سے راوی ازراہ خفت ا سکا تذکرہ نہیں کرنا چاہتا، یا راوی کا شیخ کوئی معروف شخص نہیں ، یا عوام و خواص میں ا سکو مقبولیت حاصل نہیں ، یا پھر مجروح ضعیف ہے ۔لہذا شیخ کے نام کو ذ کرنے سے پہلو تہی کر تا ہے ۔
واضح رہے کہ بعض اکابر جیسے سفیان بن عے ینہ سے تدلیس مندرجہ بالا وجوہ کے پیش نظر واقع نہیں ہوئی بلکہ اس وجہ سے کہ صحت حدیث پر انکو وثوق تھا اور بوجہ شہرت اپنے شیوخ کے ذکر کی ضرورت نہ سمجھی ، لہذا انکی حدیث پر بایں معنی جرح نہیں کی جاتی۔
حکم :۔ ایسی احادیث ضعیف کی اہم اقسام سے ہیں ، علماء نے اس عمل کو نہایت مکروہ بتایا ہے
اور بہت مذمت کی ہے ، امام شعبہ نے تدلیس کو کذب بیانی کا دوسرا عنوان بتایا ہے ۔
مدلس الشیوخ:۔ وہ حدیث جسے راوی اپنے استاذ سے نقل کر تے ہوئے اس کے لئے
کوئی غیر معروف نام، لقب، کنیت ، یا نسب ذکر کرے تا کہ اسے پہچانا نہ جا سکے ۔( تدریب الراوی للسیوطی ۱/۲۲۳)
ا سکی ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ شیخ سے بکثرت روایتیں کرنے کی وجہ سے بار بار معروف نام لینا نہیں چاہتا۔
حکم:۔ اس میں پہلی قسم کی بہ نسبت نقص کم ہو تا ہے ، کیونکہ راوی ساقط نہیں ہوتا، ہاں راوی کا غیر معروف نام ذکر کر کے سامعین کو الجھن میں مبتلا کر نا ہے ۔
ایسی احادیث میں اگر سماع کی تصریح کر دی جائے تو حدیث مقبول ورنہ غیر مقبول ہو گی، نیز وہ حضرات جو ثقہ سے تدلیس کر تے ہیں انکی مقبول ورنہ غیر مقبول ۔(تدریب الراوی للسیوطی ۱/۲۲۹)
تصانیف فن
اس فن میں محدثین نے مستقل کتابیں لکھیں چند یہ ہیں :۔
٭ کتاب التدلیس للخطیب، م ۴۶۳
٭ التبین لأسما ء المدلسین للخطیب، م۴۶۳
٭ التبین لأسماء المدلسین للحلبی، م ۸۴۱
٭ تعریف اہل التقدیس بمراتب الموصوفین بالتدلیس لا بن حجر، ۸۵۲
مرسل خفی
تعریف : جس حدیث کو راوی کسی ایسے شخص سے نقل کرے جس سے ا سکی معاصرت کے
باوجود ملاقات یاسماع ثابت نہ ہو۔
مرسل خفی اورمدلس کے درمیان فرق یوں ہے کہ راوی کی مروی عنہ سے معاصرت ہوتی ہے اور ملاقات بھی ممکن لیکن سماع ثابت نہیں ہوتا ۔ برخلاف مدلس کہ اس میں تینوں چیزیں ہوتی ہیں ۔
مثال:۔ حدثنا محمد بن الصباح، انبأنا عبد العزیز بن محمد عن صالح بن محمد بن زائدۃ، عن عمر بن عبد العزیز عن عقبۃ بن عامر الجھنی قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم: رحم اللہ حارس الحرس۔ (السنن لا بن ماجہ ۲ / ۱۹۹)
حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ مجاہدین کے محافظین پر رحم فرمائے ۔
عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حضرت عقبہ سے معاصرت تو ثابت ہے لیکن ملاقات نہیں جیسا کہ مزی نے اطراف الحدیث میں ذکر کیا ۔
حکم:۔ ضعیف ہے اس لئے کہ اس میں انقطاع ہو تا ہے ۔
تصنیف فن
٭ کتاب التفصیل لمبہم المراسیل للخطیب۔
یہ اس فن میں نہایت مشہور کتاب ہے ۔
معنعن و مؤنن
تعریف:۔ لفظ ’عن‘ کے ذریعہ روایت معنعن ہے ، اور’ ان‘ کے ذریعہ روایت مؤنن ہے ۔
حکم:۔ چند شرائط کے ساتھ متصل شمار ی جاتی ہے ۔
٭راوی مدلس نہ ہو۔
٭جن راویوں کے درمیان ’ عن ‘ یا ’ان‘ آئے وہ ہم عصر ہو ں ۔
مردود بسبب طعن در راوی
راوی میں طعن کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ا سکی عدالت یعنی مذہب و کردار، اور ضبط و حفظ کے بارے میں جرح کی جائے ۔
اسباب طعن دس ہیں :۔
٭پانچ عدالت سے متعلق ٭پانچ ضبط سے متعلق
عدا لت میں طعن کے وجوہ یہ ہیں ۔
xکذبxاتہام کذب x فسق xبدعتx جہالت
ضبط میں طعن کے وجوہ یہ ہیں ۔
xفرط غفلت xکثرت غلط x سوء حفظ xکثرت وہم x مخالفت ثقات
اب بدتر سے کم تر کی طرف ترتیب ملاحظہ ہو۔
موضوع
تعریف:۔ وہ مضمون جسکو بصورت حدیث حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف
کذب بیانی سے منسوب کیا جائے ۔
ا سکی تین صورتیں ہوتی ہیں ۔
٭ کبھی محض اپنی طرف سے گڑ ھ کر کوئی بات حضور کی طرف منسوب کی جاتی ہے ۔
٭کبھی کسی کی کوئی بات حضور کی طرف منسوب کی جاتی ہے ۔
٭ کبھی ضعیف حدیث کے ساتھ قوی سند لگا کر۔
اس آخری صورت میں اصل نسبت تو جھوٹی نہیں ہوتی لیکن حتمی و یقینی شکل بنا کر پیش کرنا واقعی جھوٹ ہے ۔
حکم و مرتبہ :۔ ا سکو حدیث مجازاکہتے ہیں ورنہ در حقیقت یہ حدیث ہی نہیں ، اور جس حدیث
کی وضع کا علم ہو اس میں وضع کی صراحت کے بغیر ا سکی روایت کرنا جائز نہیں ۔
بعض صوفیہ اور فرقہ کرامیہ ترغیب و ترہیب میں ایسی روایت کے جواز کے قائل ہیں مگر جمہور ا سکے خلاف ہیں ، امام الحرمین نے تو واضع حدیث کو کا فرتک کہا ہے ۔
یہ جرم اتنا قبیح ہے کہ کسی سے متعلق ایک مرتبہ بھی یہ حرکت ثابت ہو جائے تو پھر کبھی ا سکی روایت مقبول نہیں ہوتی خواہ توبہ کر لے ۔
ذرائع معرفت وضع:۔
٭وضع کے سلسلہ میں واضع کا اقرار۔ یا بمنزلۂ اقرار۔یا راوی کے اندر کسی قرینے سے ۔ یا مروی کے اندر کسی طریقے سے وضع کا علم ہوتا ہے ۔
٭نیز عقل و مشاہدہ ، صراحت قرآن ، سنت متواترہ، اجماع قطعی ، اور مشہور تاریخی واقعات کی واضح مخالفت سے بھی وضع کا حکم لگایا جاتا ہے ۔ یہ جب ہے کہ تاویل و تطبیق کا احتمال نہ رہے ۔
٭ امر منقول ایسا ہو کہ حالات و قرائن بتاتے ہیں کہ ایک جماعت ا سکی ناقل ہونی چاہئیے تھی، یا یہ کہ دین کی اصل ہے اور ان دونوں صورتوں میں راوی و ناقل صرف ایک ہے ، یا زیادہ ہیں لیکن تواتر کو نہیں پہونچے ۔
٭ کسی معمولی چیز پر سخت و عید ، یا اجر عطیم کی بشارت، نیز وعید و تہدید میں ایسے لمبے چوڑ ے مبالغے ہوں جنہیں کلام معجز نظام نبوت سے مشابہت نہ رہے ۔
٭معنی شنیع و قبیح ہوں جنکا صدور حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے نا ممکن، جیسے معاذ اللہ کسی فساد یا ظلم، یا عبث ، یاسفہ ، یا مدح باطل یا ذم حق پر مشتمل ہو ۔
٭ ایک جماعت جسکا عدد حد تواتر کو پہونچے اور ان میں احتمال کذب یا ایک دوسرے کی تقلید کا نہ رہے ا سکے کذب و بطلان ہر گواہی مستنداً الی الحس دے ۔
٭ لفظ رکیک و سنحیف ہوں جنہیں سمع دفع اور طبع منع کرے اور ناقل مدعی ہو کہ یہ بعینہا الفاظ کریمہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں ، یا وہ محل ہی نقل بالمعنی کانہ ہو ۔
٭ یا ناقل رافضی حضرات اہل بیت کرام علی سید ہم و علیہم الصلوۃ والسلام کے فضائل میں وہ باتیں روایت کرے جو ا سکے غیر سے ثابت نہ ہوں ۔
٭ یونہی وہ مناقب امیر معاویہ و عمر بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہ صرف نواصب کی روایت سے آئیں کہ جس طرح روافض نے فضائل امیر المومنین و اہل بیت طاہرین رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں قریب تین لاکھ حدیثوں کے وضع کیں ، کما نص علیہ الحافظ ابو یعلی و الحافظ الخلیلی فی الارشاد، یونہی نواصب نے مناقب امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں حدیثیں گڑ ھیں ، کما ارشد الیہ الامام احمد بن حنبل رحمۃ ا اللہ تعالی علیہ ۔
٭ تمام کتب و تصانیف اسلامیہ میں استقرائے تام کیا جائے اور اس کا کہیں پتہ نہ چلے یہ صرف اجلۂ حفاظ ائمہ شان کا کام تھا جسکی لیاقت صدہا سال سے معدوم ۔(فتاوی رضویہ جدید ۵/۴۶۰)
دواعی وضع:۔
کسی نے تقرب الی اللہ کی غرض سے غلبہ جہل کے باعث۔کسی نے اپنے مذہب کی فوقیت میں تعصب و عناد کی خاطر۔ کسی نے بددینی پھیلانے کے لئے ۔ کسی نے دنیا طلبی اور خواہش نفسانی کے پیش نظر۔ اور کسی نے حب جاہ اور طلب شہرت کے لئے یہ مذموم فعل اپنا وطیرہ بنایا تھا۔(تدریب الراوی للسیوطی ۱/۲۸۸)
بعض مفسرین نے بلا صراحت وضع ایسی روایات لی ہیں ۔ وضع کا زیادہ تر تعلق اقوام و افراد کی منقبت و مذمت، انبیاء سابقین کے قصوں ، بنی اسرائیل کے احوال ، کھانے پینے کی چیزوں ، جانوروں ، جھاڑ پھونک ، دعا اور نوافل کے ثواب سے رہا ہے ۔( العجالۃ النافعہ۷۱)
تصانیف فن
٭تذکرۃ الموضوعات للمقدسی ، م۵۰۷
٭کتاب الموضوعات لا بن الجوزی، م ۵۹۷
٭اللآ لی المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ للسیوطی، م ۹۱۱
٭تنز یہ الشریعۃ المرفوعۃ عن الاحادیث الشنیعۃ الموضوعۃ للکتانی ، م۹۶۳ متروک
تعریف :۔ سند و حدیث میں کوئی راوی متہم با لکذب ہو۔
اسباب اتہام میں ایک اہم سبب یہ ہوتا ہے کہ وہ تنہا ایسی روایت کرتا ہے جو قرآن و حدیث سے مستنبط قواعد کے خلاف ہو ۔
دوسرا سبب ا سکی عام گفتگو میں جھوٹ بولنے کی عادت مشہور ہو جبکہ حدیث کے بیان میں ا سکی یہ عادت ثابت و منقول نہ ہو۔
حکم و مرتبہ :۔ موضوع کے بعد ا سکا مرتبہ ہے ، ا سکی یہ روایت مقبول نہیں ہاں جب توبہ
کر لے اور امارات صدق ظاہر ہو جائیں تو ا سکی حدیث مقبول ہو گی ، اور جس شخص سے نادراً اپنے کلام میں کذب صادر ہو اور حدیث میں کبھی نہ ہو تو ا سکی حدیث کو موضوع یا متروک نہیں کہتے ۔
پھر بھی پہلی صورت میں مردود رہے گی۔
مثال:۔ عن عمرو بن شمر ، عن جابر، عن ابی الطفیل ، عن علی و عمار قالا : کان النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یقنت فی الفجر ویکبر یوم عرفۃ من صلوۃ الغداۃ ، و یقطع صلوۃ العصر آخر ایام التشریق۔ (میز ان الاعتدال للذہبی، ۱ /۲۲۳)
حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فجر میں قنوت پڑ ھتے ، اور تکبیر تشریق نویں ذی الحجہ کی فجر سے تیرہوی کی عصر تک کہتے تھے ۔
اس حدیث کی سند میں عمر وبن شمر جعفی شیعی کوفی ہے ، ابن حبان نے کہا: یہ رافضی تبرائی تھا۔
یحیی بن معین نے فرمایا: ا سکی حدیث نہ لکھی جائے ۔
امام بخاری نے فرمایا: منکر الحدیث ہے ۔
امام نسائی اور دار قطنی نے متروک الحدیث کہا۔( میز ان الاعتدال للذہبی، ۱/۲۲۹)
منکر
تعریف:۔ جسکی سند میں کوئی راوی فسق یاکثرت غلط یا فرط غفلت سے متصف ہو ۔
حکم و مرتبہ :۔ یہ حدیث ضعیف کہلا تی ہے ، اور تعریف میں جن تین اوصاف کا تذکرہ ہوا
ضعف میں بھی اسی ترتیب کا لحاظ ہو تا ہے ، یعنی بدتر سے کمتر کی طرف۔ لہذا زیادہ قابل رد بر بنائے فسق ہو گی ، و علی ہذا۔
مثال :۔ حدثنا ابو البشر بکر بن خلف، ثنا یحے ی بن محمد قیس المدنی ، ثنا ہشام بن عروۃ عن ابیہ عن عائشۃ قالت: قا ل رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم :کلوا البلح بالتمر ، کلوا الخلق بالجدید فان الشیطان یغضب۔ ( السنن لا بن ماجہ ۲/۲۳۹)
ام المو منین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کچی کھجوروں کو خشک کھجوروں کو ساتھ ملا کر کھایا کرو، اور پرانی کھجور جدید کے ساتھ ، کہ شیطان کو اس سے غصہ آتا ہے ۔
اس حدیث کی سند میں یحے ی بن محمد ہیں جو کثرت غلط سے متصف تھے ۔ حافظ ابن حجر نے انکے بارے میں کہا یہ بہت زیادہ خطا کر تے تھے ، اگر چہ یہ رجال مسلم سے ہیں لیکن امام مسلم نے فقط متالبعات میں ان سے روایات لی ہیں ، لہذا انکی یہ حدیث منکر ضعیف ہے ۔
معلل
تعریف ۔ وہ حدیث جو بظاہر بے عیب ہو مگر ا سکے اندر کسی ایسے عیب کا علم ہو جائے جو ا سکی صحت کو مجروح کر دے ، اس عیب کو علت کہا جاتا ہے ۔
یہ علت نہایت پوشیدہ ہوتی ہے اور صحت پر اثر انداز۔ کبھی علت سند میں ہوتی ہے اور ا سکا اثر متن پر بھی پڑ تا ہے ، جیسے متصل روایت مرسل ثابت ہوئی تو سند و متن دونوں غیر مقبول۔
کبھی صرف سند میں ہوتی ہے اور یہ وہاں جہاں سند میں ایک ثقہ کی جگہ دوسر ا ثقہ راوی لایا جائے ۔ لہذا سند اگر چہ اس غلطی کی وجہ سے مجروح ہو گی لیکن متن مقبول ہے ۔ اور کبھی صرف متن میں ہوتی ہے ۔
لہذا معلل کی دو قسمیں ہیں ۔
xمعلل در سند xمعلل در متن
یہ علت راوی کے وہم کی پیدا وار ہوتی ہے ، جیسے راوی کبھی حدیث مرسل کو متصل ، یا متصل کو مرسل روایت کر دے ، یا مرفوع کو موقوف یا ایک حدیث کو دوسری حدیث میں داخل کر دے یا اور کسی قرینۂ خفیہ سے جس پر ہر ایک کو اطلاع نہیں ہوتی بلکہ یہ فن نہایت عظیم بلکہ دقیق ہے کہ ا سکی بنیاد ان اسباب علل پر بھی ہوتی ہے جو ظاہر و واضح نہیں ہوتے بلکہ مخفی و پوشیدہ انکو اعلیٰ درجہ کے محدثین و محققین ہی سمجھ پاتے ہیں ۔ جیسے
ابن مدینی ، امام احمد ابن حنبل ، امام بخاری ، ابوحاتم ، دار قطنی ۔
تصانیف فن
٭ کتاب العلل لا بن المدینی، م ۲۲۴
٭ علل الحدیث لا بن ابی حاتم، م ۳۲۷
٭ العلل و معرفۃ الرجال لا حمد بن حنبل ، م ۲۴۱
٭ العلل الکبیر و العلل الصغیر للترمذی ، م ۲۷۰
٭علل الواردۃ فی الاحادیث النبویہ للدار قطنی ، م۳۸۵
٭ کتاب العلل للخلال ، (تدریب الراوی للسیوطی ۱/۲۵۱) م۳۱۱
کذب بیانی سے منسوب کیا جائے ۔
ا سکی تین صورتیں ہوتی ہیں ۔
٭ کبھی محض اپنی طرف سے گڑ ھ کر کوئی بات حضور کی طرف منسوب کی جاتی ہے ۔
٭کبھی کسی کی کوئی بات حضور کی طرف منسوب کی جاتی ہے ۔
٭ کبھی ضعیف حدیث کے ساتھ قوی سند لگا کر۔
اس آخری صورت میں اصل نسبت تو جھوٹی نہیں ہوتی لیکن حتمی و یقینی شکل بنا کر پیش کرنا واقعی جھوٹ ہے ۔
حکم و مرتبہ :۔ ا سکو حدیث مجازاکہتے ہیں ورنہ در حقیقت یہ حدیث ہی نہیں ، اور جس حدیث
کی وضع کا علم ہو اس میں وضع کی صراحت کے بغیر ا سکی روایت کرنا جائز نہیں ۔
بعض صوفیہ اور فرقہ کرامیہ ترغیب و ترہیب میں ایسی روایت کے جواز کے قائل ہیں مگر جمہور ا سکے خلاف ہیں ، امام الحرمین نے تو واضع حدیث کو کا فرتک کہا ہے ۔
یہ جرم اتنا قبیح ہے کہ کسی سے متعلق ایک مرتبہ بھی یہ حرکت ثابت ہو جائے تو پھر کبھی ا سکی روایت مقبول نہیں ہوتی خواہ توبہ کر لے ۔
ذرائع معرفت وضع:۔
٭وضع کے سلسلہ میں واضع کا اقرار۔ یا بمنزلۂ اقرار۔یا راوی کے اندر کسی قرینے سے ۔ یا مروی کے اندر کسی طریقے سے وضع کا علم ہوتا ہے ۔
٭نیز عقل و مشاہدہ ، صراحت قرآن ، سنت متواترہ، اجماع قطعی ، اور مشہور تاریخی واقعات کی واضح مخالفت سے بھی وضع کا حکم لگایا جاتا ہے ۔ یہ جب ہے کہ تاویل و تطبیق کا احتمال نہ رہے ۔
٭ امر منقول ایسا ہو کہ حالات و قرائن بتاتے ہیں کہ ایک جماعت ا سکی ناقل ہونی چاہئیے تھی، یا یہ کہ دین کی اصل ہے اور ان دونوں صورتوں میں راوی و ناقل صرف ایک ہے ، یا زیادہ ہیں لیکن تواتر کو نہیں پہونچے ۔
٭ کسی معمولی چیز پر سخت و عید ، یا اجر عطیم کی بشارت، نیز وعید و تہدید میں ایسے لمبے چوڑ ے مبالغے ہوں جنہیں کلام معجز نظام نبوت سے مشابہت نہ رہے ۔
٭معنی شنیع و قبیح ہوں جنکا صدور حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے نا ممکن، جیسے معاذ اللہ کسی فساد یا ظلم، یا عبث ، یاسفہ ، یا مدح باطل یا ذم حق پر مشتمل ہو ۔
٭ ایک جماعت جسکا عدد حد تواتر کو پہونچے اور ان میں احتمال کذب یا ایک دوسرے کی تقلید کا نہ رہے ا سکے کذب و بطلان ہر گواہی مستنداً الی الحس دے ۔
٭ لفظ رکیک و سنحیف ہوں جنہیں سمع دفع اور طبع منع کرے اور ناقل مدعی ہو کہ یہ بعینہا الفاظ کریمہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں ، یا وہ محل ہی نقل بالمعنی کانہ ہو ۔
٭ یا ناقل رافضی حضرات اہل بیت کرام علی سید ہم و علیہم الصلوۃ والسلام کے فضائل میں وہ باتیں روایت کرے جو ا سکے غیر سے ثابت نہ ہوں ۔
٭ یونہی وہ مناقب امیر معاویہ و عمر بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہ صرف نواصب کی روایت سے آئیں کہ جس طرح روافض نے فضائل امیر المومنین و اہل بیت طاہرین رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں قریب تین لاکھ حدیثوں کے وضع کیں ، کما نص علیہ الحافظ ابو یعلی و الحافظ الخلیلی فی الارشاد، یونہی نواصب نے مناقب امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں حدیثیں گڑ ھیں ، کما ارشد الیہ الامام احمد بن حنبل رحمۃ ا اللہ تعالی علیہ ۔
٭ تمام کتب و تصانیف اسلامیہ میں استقرائے تام کیا جائے اور اس کا کہیں پتہ نہ چلے یہ صرف اجلۂ حفاظ ائمہ شان کا کام تھا جسکی لیاقت صدہا سال سے معدوم ۔(فتاوی رضویہ جدید ۵/۴۶۰)
دواعی وضع:۔
کسی نے تقرب الی اللہ کی غرض سے غلبہ جہل کے باعث۔کسی نے اپنے مذہب کی فوقیت میں تعصب و عناد کی خاطر۔ کسی نے بددینی پھیلانے کے لئے ۔ کسی نے دنیا طلبی اور خواہش نفسانی کے پیش نظر۔ اور کسی نے حب جاہ اور طلب شہرت کے لئے یہ مذموم فعل اپنا وطیرہ بنایا تھا۔(تدریب الراوی للسیوطی ۱/۲۸۸)
بعض مفسرین نے بلا صراحت وضع ایسی روایات لی ہیں ۔ وضع کا زیادہ تر تعلق اقوام و افراد کی منقبت و مذمت، انبیاء سابقین کے قصوں ، بنی اسرائیل کے احوال ، کھانے پینے کی چیزوں ، جانوروں ، جھاڑ پھونک ، دعا اور نوافل کے ثواب سے رہا ہے ۔( العجالۃ النافعہ۷۱)
تصانیف فن
٭تذکرۃ الموضوعات للمقدسی ، م۵۰۷
٭کتاب الموضوعات لا بن الجوزی، م ۵۹۷
٭اللآ لی المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ للسیوطی، م ۹۱۱
٭تنز یہ الشریعۃ المرفوعۃ عن الاحادیث الشنیعۃ الموضوعۃ للکتانی ، م۹۶۳ متروک
تعریف :۔ سند و حدیث میں کوئی راوی متہم با لکذب ہو۔
اسباب اتہام میں ایک اہم سبب یہ ہوتا ہے کہ وہ تنہا ایسی روایت کرتا ہے جو قرآن و حدیث سے مستنبط قواعد کے خلاف ہو ۔
دوسرا سبب ا سکی عام گفتگو میں جھوٹ بولنے کی عادت مشہور ہو جبکہ حدیث کے بیان میں ا سکی یہ عادت ثابت و منقول نہ ہو۔
حکم و مرتبہ :۔ موضوع کے بعد ا سکا مرتبہ ہے ، ا سکی یہ روایت مقبول نہیں ہاں جب توبہ
کر لے اور امارات صدق ظاہر ہو جائیں تو ا سکی حدیث مقبول ہو گی ، اور جس شخص سے نادراً اپنے کلام میں کذب صادر ہو اور حدیث میں کبھی نہ ہو تو ا سکی حدیث کو موضوع یا متروک نہیں کہتے ۔
پھر بھی پہلی صورت میں مردود رہے گی۔
مثال:۔ عن عمرو بن شمر ، عن جابر، عن ابی الطفیل ، عن علی و عمار قالا : کان النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یقنت فی الفجر ویکبر یوم عرفۃ من صلوۃ الغداۃ ، و یقطع صلوۃ العصر آخر ایام التشریق۔ (میز ان الاعتدال للذہبی، ۱ /۲۲۳)
حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فجر میں قنوت پڑ ھتے ، اور تکبیر تشریق نویں ذی الحجہ کی فجر سے تیرہوی کی عصر تک کہتے تھے ۔
اس حدیث کی سند میں عمر وبن شمر جعفی شیعی کوفی ہے ، ابن حبان نے کہا: یہ رافضی تبرائی تھا۔
یحیی بن معین نے فرمایا: ا سکی حدیث نہ لکھی جائے ۔
امام بخاری نے فرمایا: منکر الحدیث ہے ۔
امام نسائی اور دار قطنی نے متروک الحدیث کہا۔( میز ان الاعتدال للذہبی، ۱/۲۲۹)
منکر
تعریف:۔ جسکی سند میں کوئی راوی فسق یاکثرت غلط یا فرط غفلت سے متصف ہو ۔
حکم و مرتبہ :۔ یہ حدیث ضعیف کہلا تی ہے ، اور تعریف میں جن تین اوصاف کا تذکرہ ہوا
ضعف میں بھی اسی ترتیب کا لحاظ ہو تا ہے ، یعنی بدتر سے کمتر کی طرف۔ لہذا زیادہ قابل رد بر بنائے فسق ہو گی ، و علی ہذا۔
مثال :۔ حدثنا ابو البشر بکر بن خلف، ثنا یحے ی بن محمد قیس المدنی ، ثنا ہشام بن عروۃ عن ابیہ عن عائشۃ قالت: قا ل رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم :کلوا البلح بالتمر ، کلوا الخلق بالجدید فان الشیطان یغضب۔ ( السنن لا بن ماجہ ۲/۲۳۹)
ام المو منین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کچی کھجوروں کو خشک کھجوروں کو ساتھ ملا کر کھایا کرو، اور پرانی کھجور جدید کے ساتھ ، کہ شیطان کو اس سے غصہ آتا ہے ۔
اس حدیث کی سند میں یحے ی بن محمد ہیں جو کثرت غلط سے متصف تھے ۔ حافظ ابن حجر نے انکے بارے میں کہا یہ بہت زیادہ خطا کر تے تھے ، اگر چہ یہ رجال مسلم سے ہیں لیکن امام مسلم نے فقط متالبعات میں ان سے روایات لی ہیں ، لہذا انکی یہ حدیث منکر ضعیف ہے ۔
معلل
تعریف ۔ وہ حدیث جو بظاہر بے عیب ہو مگر ا سکے اندر کسی ایسے عیب کا علم ہو جائے جو ا سکی صحت کو مجروح کر دے ، اس عیب کو علت کہا جاتا ہے ۔
یہ علت نہایت پوشیدہ ہوتی ہے اور صحت پر اثر انداز۔ کبھی علت سند میں ہوتی ہے اور ا سکا اثر متن پر بھی پڑ تا ہے ، جیسے متصل روایت مرسل ثابت ہوئی تو سند و متن دونوں غیر مقبول۔
کبھی صرف سند میں ہوتی ہے اور یہ وہاں جہاں سند میں ایک ثقہ کی جگہ دوسر ا ثقہ راوی لایا جائے ۔ لہذا سند اگر چہ اس غلطی کی وجہ سے مجروح ہو گی لیکن متن مقبول ہے ۔ اور کبھی صرف متن میں ہوتی ہے ۔
لہذا معلل کی دو قسمیں ہیں ۔
xمعلل در سند xمعلل در متن
یہ علت راوی کے وہم کی پیدا وار ہوتی ہے ، جیسے راوی کبھی حدیث مرسل کو متصل ، یا متصل کو مرسل روایت کر دے ، یا مرفوع کو موقوف یا ایک حدیث کو دوسری حدیث میں داخل کر دے یا اور کسی قرینۂ خفیہ سے جس پر ہر ایک کو اطلاع نہیں ہوتی بلکہ یہ فن نہایت عظیم بلکہ دقیق ہے کہ ا سکی بنیاد ان اسباب علل پر بھی ہوتی ہے جو ظاہر و واضح نہیں ہوتے بلکہ مخفی و پوشیدہ انکو اعلیٰ درجہ کے محدثین و محققین ہی سمجھ پاتے ہیں ۔ جیسے
ابن مدینی ، امام احمد ابن حنبل ، امام بخاری ، ابوحاتم ، دار قطنی ۔
تصانیف فن
٭ کتاب العلل لا بن المدینی، م ۲۲۴
٭ علل الحدیث لا بن ابی حاتم، م ۳۲۷
٭ العلل و معرفۃ الرجال لا حمد بن حنبل ، م ۲۴۱
٭ العلل الکبیر و العلل الصغیر للترمذی ، م ۲۷۰
٭علل الواردۃ فی الاحادیث النبویہ للدار قطنی ، م۳۸۵
٭ کتاب العلل للخلال ، (تدریب الراوی للسیوطی ۱/۲۵۱) م۳۱۱
مخالفت ثقات
راوی پر طعن کا سبب ثقات کی مخالفت بھی ہے جسکی سات صورتیں ہیں ۔ لہذا سات عنوان ا سکے لئے وضع کئے گئے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں : ۔
مدرج ، مقلوب ، المزید فی متصل المسانید ، مضطرب، مصحف ، شاذ ، منکر ، ۔
اجمالا یوں سمجھئے کہ مخالفت ثقات اسناد یا متن میں تبدیلی یا اضافہ کی صورت میں ہو تو مدرج ہے ۔ تقدیم و تاخیر میں ہو تو مقلوب ہے ۔ معتبر سند میں راوی کا اضافہ ہو تو المزید فی متصل الاسانید ہے ۔ اگر راوی میں تبدیلی یا متن میں ایسا اختلاف جو تعارض کا سبب ہو اور کوئی وجہ ترجیح نہ ہو تو مضطرب ہے ۔ اگر حروف میں تبدیلی ہو تو مصحف ہے ۔ ثقہ اگر اوثق کی مخالفت کرے تو شاذ اور ا سکے مقابل محفوظ ہے ۔ ضعیف اگر ثقہ کی مخالفت کرے تو منکر اور ا سکے مقابل معروف ہے ۔
مدرج
تعریف۔ جس حدیث میں غیر کو داخل کر دیا جائے ۔
دو قسمیں ہیں :۔
xمدرج الاسناد x مدرج المتن
تعریف مدرج الاسناد ۔ وہ حدیث جسکی سند کا وسط یا سیاق بدل دیاجائے ۔
ا سکی متعدد صورتیں ہیں لیکن اجمالی کلام یہ ہے
٭ راوی کو ایک حدیث چند شیوخ سے پہونچی جنہوں نے اس حدیث کو مختلف سندوں سے بیان کیا تھا ، پھر اس راوی نے حدیث مذکور کو ان سب سے ایک سند کے ساتھ روایت کر دیا ، اور انکی سندوں کا اختلاف بیان نہ کیا ۔ جیسے ۔
عن بندار عن عبد الرحمن بن مہدی عن سفیان الثوری عن واصل و منصور والاعمش عن ابی وائل عن عمر وبن شرجبیل عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قلت: یا رسول اللہ ! ای الذنب اعظم ؟ قال : ان تجعل للہ ندا وہوخلقک ، قال : قلت : ثم ماذا ؟ قال: ان تقتل ولدک خشیۃ ان یطعم معک ، قال : قلت : ثم ماذا؟ قال :ان تزنی حلیلۃ جارک ۔(الجامع للترمذی، تفسیرسورۃ الفرقان ۲/۱۴۹)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! سب سے بڑ ا گناہ کونسا ہے ؟ فرمایا : یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو ا سکا شریک بنائے حالانکہ اس نے تجھے پیدا فرمایا : میں نے عرض کیا: پھر کونسا؟ فرمایا : اپنی اولاد کو اس خوف سے قتل کر دینا کہ وہ تیرے ساتھ مل کر کھائے گا ۔ میں نے عرض کیا : پھر کونسا؟ فرمایا : اپنے پڑ وسی کی بیوی سے زنا میں مبتلا ہو جانا ۔
اس حدیث کی روایت میں واصل ، منصور اور اعمش کی سندیں مختلف تھیں ، کہ واصل کی سند میں عمر و بن شرحبیل نہ تھے ، بلکہ ابو وائل ہیں ، اور منصور و اعمش کی سند میں تھے ۔ حضرت سفیان ثوری کے راوی عبد الرحمن بن مہدی نے حدیث مذکور کو سب سے بیک سند روایت کر دیا ۔
٭ کسی شیخ کے نزدیک متن کا ایک حصہ ایک سند سے مروی تھا اور دوسرا حصہ دوسری سند سے ۔ انکے شاگرد نے دونوں حصوں کو ان سے ایک سند کے ساتھ روایت کر دیا ۔ جیسے ۔
حدثنا عثمان نبن ابی شیبۃ ، اخبرنا شریک عن عاصم بن کلیب عن ابیہ عن وائل بن حجر قال: رأیت النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حین افتتح الصلوۃ رفع یدیہ حیال اذنیہ ، قال : ثم أتیتہم فرأیتہم یرفعون ایدیہم الی صدورہم فی افتتاح الصلوۃ وعلیہم برانس واکیسہ ۔ (السنن لا بی داؤد باب رفع الیدین فی الصلوۃ )
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے نماز شروع کرتے وقت کانوں تک ہاتھ اٹھائے ۔ کہتے ہیں : پھر میں ایک دوسرے موقع پر ( سردی کے موسم میں ) حاضر ہوا تو دیکھا کہ سب حضرات تکبیر تحریمہ میں صرف سینہ تک ہاتھ اٹھا تے ہیں اور اس وقت وہ ٹوپے اوڑ ھے تھے اور جبوں میں ملبوس ۔
اس حدیث میں یہ جملہ ’ثم أتیتہم فرأیتہم الخ‘ عاصم کے نزدیک اس سند سے نہیں بلکہ دوسری سند سے ثابت تھا مگر انکے شاگرد ’شریک ‘ نے اسے اول متن کے ساتھ ملا کر مجموعہ کو اس سند کے ساتھ عاصم سے روایت کر دیا۔
دوسری سند یوں ہے ۔
حدثنا محمد بن سلیمان الانباری ، اخبر نا وکیع عن شریک عن عاصم بن کلیب عن علقمۃ بن وائل عن وائل بن حجر قال :اتیت النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فی الشتاء فرأیت اصحابہ یرفعون ایدیہم فی ثیا بہم فی الصلوۃ ۔
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں موسم سرما میں حاضر ہوا تو میں نے آپکے صحابہ کو دیکھا کہ نماز میں اپنے ہاتھوں کو کپڑ وں کے اندر ہی اٹھاتے ہیں ۔
پہلی سند میں عاصم نے اپنے والد کلیب سے روایت کی ہے اور انہوں نے وائل بن حجر سے ،۔ جبکہ اس دوسری سند میں عاصم کی روایت علقمہ بن وائل سے ہے ۔
٭ ایک شیخ کے نزدیک دو متن دو مختلف سندوں سے مروی تھے مگر انکے شاگرد نے دونوں کو ایک سند سے روایت کر دیا ۔ جیسے یہ دو حدیثیں امام مالک نے روایت کیں ۔
مالک عن ابن شہاب عن انس بن مالک ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال: لا تبا غضوا و لا تحاسدوا و لا تدا بروا، و کونوا عباد اللہ اخوانا، ولا یحل لمسلم ان یہجر اخاہ فوق ثلث لیال ۔(المؤطا لمالک۳۶۵)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آپس میں بغض نہ رکھو ، حسد نہ کرو ، قطع تعلق نہ کرو ، اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندے بنکر آپس میں بھائی چارگی کے ساتھ رہو ، کسی مسلمان کو جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑ ے رہے ۔
مالک عن ابی الزناد عن الاعرج عن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال : ایاکم و الظن، فان الظن اکذب الحدیث، ولا تجسسوا ولا تحسسوا ولا تنافسوا ولا تحاسدوا ولا تبا غضوا ولا تدا بروا، وکونوا عباد اللہ اخوانا۔(المؤطا لمالک۳۶۵)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بدگمانی سے بچو کہ یہ بڑ ا جھوٹ ہے ، کسی کی پوشیدہ باتیں نہ سنو اور کسی کی اندورن خانہ چیزوں میں نہ پڑ و، آپس میں ایک دوسرے کو نیچا نہ دکھاؤ اور باہم حسد نہ رکھو ، اپنے درمیان بعض و عناد نہ رکھواور قطع تعلق نہ کرو ، اللہ تعالی کے بندے بھائی بھائی بنکر رہو۔
پہلی حدیث حضرت انس سے مروی ہے اور دوسری حضرت ابو ہریرہ سے ، امام مالک نے دونوں کو علیحدہ علیحدہ سندوں سے ذکر کیا ۔
پہلی حدیث حضرت انس سے مروی ہے اس میں لفظ ’ولا تنا فسوا‘ نہیں اور دوسری حضرت ابوہریرہ سے اور اس میں یہ لفظ ہے ۔ امام مالک نے دونوں حدیثوں کو علیحدہ علیحدہ سند سے ذکر کیا تھا ۔ مگر امام مالک کے شاگرد سعید بن حکم المعروف بابن ابی مریم ، نے دونوں روایتوں کو پہلی سند سے روایت کر دیا۔(حاشیہ نذہۃ النظر۶۱)
٭ شیخ نے ایک سند بیان کی اور اس کا متن بیان کرنے سے پہلے کسی ضرورت سے کچھ کلام کیا ، شاگرد نے اس کلام کو سند مذکور کا متن خیال کر کے اس سند کے ساتھ شیخ سے روایت کر دیا ۔
یہ چاروں صورتیں مدرج الاسناد کی ہیں ۔
تعریف مدرج المتن ۔ جس متن حدیث میں غیر حدیث کو داخل کر دیا جائے خواہ صحابی کا قول ہو یا بعد کے کسی راوی کا ۔ نیز ادراج درمیان میں ہو یا اول و آخر میں ۔ پھر ا سکو حدیث رسول کے ساتھ اس طرح مخلوط کر دیا جائے کہ دونوں میں امتیاز نہ رہے ۔
٭اول حدیث میں ادراج ، جیسے :۔
خطیب بغدادی نے ’ابو قطن ‘ اور ’ شبابہ‘ سے ایک روایت یوں نقل کی ہے ۔
عن شعبۃ عن محمدبن زیاد عن ابی ہریرۃ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:اسبغو ا الوضوء ، ویل للأ عقاب من النار ۔ (حاشیہ نذہۃ النظر۶۲)
حضرت ابو ہر رہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وضو میں خوب مبالغہ کرو، ایڑ یوں کے لئے دوزخ کی تباہی ہے ۔
اس حدیث میں ’ اسبغوا الوضوئ‘ حضرت ابو ہریرہ کا فرمان ہے جس کو ابو قطن و غیرہ نے حدیث مرفوع میں مخلوط کر کے پیش کر دیا ہے ۔
امام شعبہ سے روایت کرنے والے آدم اور محمد بن جعفر ہیں لیکن کسی میں یہ لفظ نہیں ۔
آدم سے بطریق شعبہ امام بخاریٔ نے روایت لی ہے انکے الفاظ یہ ہیں :۔
عن آدم بن ابی ایاس ، ثنا شعبۃ ، ثنا محمد بن زیاد قال سمعت اباہریرۃ و کان یمر بنا و الناس یتو ضؤن من المطہرۃ فیقول : اسبغوا الوضوء ، فان ابا القاسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال: ویل للأعقاب من النار۔ (الجامع الصحیح للبخاری باب غسل الاعقاب ۱/۲۸)
اس روایت سے یہ معلوم ہوا کہ ’اسبغوا الوضوء ‘ حضرت ابوہریرہ کا قول ہے ۔
اور محمد بن جعفر اور امام وکیع سے بطریق شعبہ امام مسلم نے روایت فرما کر ارشاد فرمایا :۔
وَلیس فیِ حَدِیث شعبۃ أسبغوا الوضُوء ۔( الصحیح لمسلم، باب وجوب غسل الرجلین بکمالہما۱/۱۲۵)
امام شیبۃ کی حدیث میں اسبغوا الوضوء کے الفاظ نہیں ۔
خیال رہے کہ یہ تفصیل حضرت ابو ہریرہ کی روایت کی بنا پر ہے ورنہ صحیح مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عمر و بن عاص سے جو روایت آئی اس میں یہ جملہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف سے یوں منسوب ہے ۔
کہ آپ نے ارشاد فرمایا:۔
ویل للأ عقاب من النار اسبغوا الوضوء ۔( الصحیح لمسلم، باب وجوب غسل الرجلین بکمالہما۱/۱۲۵)
خشک ایڑ یوں کیلئے جہنم کی ہلاکت ہے ، وضو میں مبالغہ کرو۔
اور امام بہقی نے ابو عبد اللہ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بایں الفاظ مرفوعا روایت لی ۔
انما مثل الذی یصلی ولا یرکع ، وینقر فی سجودہ کا لجائع لایأکل الا تمرۃ او تمر تین فماذا تغنیان عنہ ، فاسبغوا الوضوء ، ویل للأعقاب من النار۔ (السنن الکبری للیہقی، ۲/۱۲۷)
جوشخص نماز پڑ ھے اور رکوع و سجود اطمینا ن سے نہ کرے ا سکی مثال ایسی ہے کہ بھوکے آدمی کو ایک دو کھجور کھانے کو ملیں ، تو کیا یہ ا سکو کفایت کریں گی ، لہذا وضو میں مبالغہ کرو، سوکھی ایڑ یوں کے لئے دوزخ کی ہلاکت ہے ۔
ان دونوں روایتوں میں وہ لفظ موجود اور خود حضور کی طرف منسوب ہے ، لہذا ان سندوں کی رو سے حدیث کو مدرج المتن نہیں کہا جا سکتا ۔
بلکہ دوسری روایت میں توانتساب کو قوی بنانے کے لئے یہ الفاظ بھی ہے ہیں کہ راوی حدیث ابو صالح اشعری نے ابو عبد اللہ اشعری سے پوچھا ۔
من حدثت بہم الحدیث ، قال : امراء الاجناد ، خالد بن الولید ، و عمر و بن العاص و شرحبیل بن حسنۃ و یزید بن ابی سفیان کل ھٰؤلاء سمعہ من رسول اللہ اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔ (السنن الکبری للیہقی، ۲/۱۲۷)
یہ حدیث آپ سے کس نے بیان کی ؟ بولے : لشکروں کے امیروں نے یعنی ، خالد بن ولید ، عمر و بن عاص، شر حبیل بن حسنہ اور یزید بن ابی سفیان نے ۔ ان سب حضرات نے خود حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی تھی ۔
یہ حضرات خلافت فاروقی میں ملک شام میں فلسطین ، اردن، حمص ، قنسرین اور دمشق کے امیر تھے ۔
درمیان حدیث میں ادراج ، جیسے :۔
عن ام المومنین عائشۃ الصدیقۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قالت : اول ما بدی بہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم من الوحی الرویا الصالحۃ فی النوم فکان لا یری رویا الا جاء ت مثل فلق الصبح ثم حبب الیہ الخلاء و کان یخلو بغار حراء فیتحنث فیہ و ہو التعبد اللیالی ذوات العدد قبل ان ینزع الی اہلہ و یتزود لذلک ۔ (الجامع الصحیح للبخاری باب کیف کان بد ء الوحی ۱/۲)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے کا آغاز اچھے خوابوں سے ہوا ، جو خواب بھی آپ دیکھتے اس کی تعبیر صبح روشن کی طرح ظاہر ہوتی ، پھر آ پ کے دل میں خلوت گزینی کی محبت ڈال دی گئی اور آپ نے غار حراء میں خلوت اختیار فرمائی ، چنانچہ آپ وہاں تحنث ( یعنی عبادت ) میں چند ایام مشغول رہتے جب تک قلب اپنے اہل و عیال کی طرف مائل نہ ہوتا ، اتنے ایام کا توشہ ساتھ لے جاتے تھے ،
اس حدیث میں ’’وہو التعبد‘‘ درمیان حدیث میں ادراج ہے اور یہ امام ازہری کا قول ہے ، کما فی الطیبی۔
٭ اخر حدیث میں ادراج ، جیسے :۔
عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم للعبد المملوک الصالح اجران ، و الذی نفسی بیدی لو لا الجہاد فی سبیل اللہ و الحج و برامی لا احببت ان اموت و انا مملوک ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : نیک غلام کو دو اجر ملتے ہیں ۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ! اگر جہاد حج اور والدہ کی خدمت کا معاملہ نہ ہوتا تو مجھے یہ ہی پسند تھا کہ میں غلامی کی حالت میں ہی دنیا سے جاؤں ۔
اس حدیث میں ’’ نفسی بیدی الخ‘‘ سے پورا جملہ حضرت ابو ہریرہ کا قول ہے جو اخر حدیث میں مدرج ہے ، اس لئے کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس طرح کی تمنا نہیں کر سکتے تھے اور آپ کی والدہ ماجدہ بھی باحیات نہ تھیں جن کی خدمت غلامی سے مانع ہوتی ۔
نیز یہ روایت:۔
عن ابی خیثمۃ زہیر بن معاویۃ عن الحسن بن الحر عن القاسم بن مخیمرۃ عن علقمۃ عن عبد اللہ بن مسعود ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم علمہ التشہد فی الصلوۃ فقال : قل التحیات للہ الی آخرہ فاذا قلت ہذا فقد قضیت صلوتک ، ان شئت ان تقوم فقم ، وان شئت ان تقعد فاقعد ۔ (مقدمہ ابن صلاح۴۵)
حضرت علقمہ روایت کرتے ہیں حضرت عبد اللہ بن مسعود سے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے آپہ کو نماز میں پڑ ھاجانے والا تشہد تعلیم فرمایا، تو ارشاد فرمایا: پڑ ھو التحیات للہ الی آخرہ جب تم نے یہ پڑ ھ لیا تو نماز مکمل کر لی ، چا ہو تو کھڑ ے ہو جاؤ اور چا ہو تو بیٹھے رہو ۔
اس حدیث میں ’’ فاذا قلت ‘‘ سے آخر تک حضرت ابن مسعود کا قول ہے جو اپنے شاگرد حضرت علقمہ سے آپ نے بیان کیا تھا ، حضور کا فرمان نہیں ، لہذا ادراج آخر میں ہے ۔
حکم ۔ محدثین و فقہاء متفق ہیں کہ صحابہ کے بعد ادراج ناجائز ہے لیکن تشریح لفظ کیلئے جائز ۔
اسی لئے محتاط و محققین علماء سے بھی ایسا ادراج منقول ہے ، بخاری شریف میں اس کی کثیر مثالیں موجود ہیں ۔
تصانیف فن
٭ الفصل للوصل المدرج فی النقل للخطیب م ۴۶۳ ھ
٭ تقریب المنہج بترتیب المدرج لابن حجر م ۸۵۲ ھ
مقلوب
تعریف : ۔ وہ حدیث جس میں تقدیم و تاخیر کے ذریعہ تبدیلی کر دی جائے ۔
وہ قسمیں ہیں :۔
xمقلوب السند xمقلوب المتن
مقلوب السند : ۔ راوی اور اس کی ولدیت میں تقدیم و تاخیر سے ہوتا ہے ۔ یا راوی مشہو ر کی
جگہ دوسرے کانام لے دیا جاتا ہے جیسے ۔ کعب بن مرۃ کو مرۃ بن کعب ، روایت کر دینا ، یا سالم بن عبد اللہ کی جگہ نافع کا ذکر کر دینا ۔
مقلوب المتن: ۔ الفاظ حدیث کی تقدیم و تاخیر کے ذریعہ تبدیلی کر دینا۔ مثال جیسے :۔
عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سبعۃ یظلہم اللہ فی ظلہ یوم لا ظل الا ظلہ الی ان قال ، و رجل تصدق بصدقۃ فاخفاہا حتی لا تعلم یمینہ ما تنفق شمالہ الحدیث ۔ (ا لصحیح لمسلم باب فضل اخفاء الصدقہ ۱ /۳۳۱)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سات لوگ برو ز قیامت اللہ تعالیٰ کے سایہ رحمت میں رہیں گے ، انہیں میں وہ شخص بھی ہے جو پوشیدہ طور پر صدقہ دیا کرتا ہے اس طرح کی بائیں ہاتھ سے دیتا ہے تو داہنے کو خبر نہیں ہوتی ۔
اس حدیث کے جملہ ’’ حتی لا تعلم الخ ‘‘ میں قلب واقع ہوا کیونکہ معروف و معتاد یہ ہی ہے کہ خرچ داہنے ہاتھ سے ہوتا ہے ۔ اور صحیح معروف وہ ہے جس کو امام مالک اور امام بخاری نے روایت کیا ۔
و رجل تصدق بصدقۃ فاخفا ہا حتی لا تعلم شمالہ ما تنفق یمینہ ۔( الجامع الصحیح للبخاری باب الصدقۃ با لیمین ۱/۱۹۱)
وہ شخص جو صدقہ اس طرح چھپا کر دیتا ہے کہ داہنا ہاتھ خرچ کرتا ہے تو بائیں کو خبر نہیں ہوتی ۔
امام قاضی عیاض نے فرمایا ، یہ قلب ناقلین سے واقع ہوا امام مسلم سے نہیں ، اس پر دلیل یہ ہے کہ امام مالک سے فورا بعد جو حدیث ذکر کی اس کو اسی حدیث کے مثل قرار دیا ہے ، اور امام مالک کی روایت میں وہی ترتیب ہے جو بخاری سے گزری حتی کہ الفاظ بھی بعینہ وہی ہیں ۔
کبھی مقلوب المتن کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ایک سند دوسری حدیث کے ساتھ اور دوسری سند پہلی حدیث کے ساتھ ضم کر دی جاتی ہے ، جیسے بغداد میں امام بخاری کا امتحان لینے کیلئے بعض لوگوں نے سو سے زائد احادیث میں ایسا ہی کیا تھا ۔
قلب متعدد وجودہ سے ہوتا ہے : ۔
٭ اپنا علمی تفوق ظاہر کرنا ۔
٭ کسی دوسرے کا امتحان لینا۔
٭ خطا و سہو کی بنا پر ۔
ٍحکم :۔پہلی صورت میں ناجائز ہے ۔ دوسری صورت میں اسی وقت جائز جبکہ اسی مجلس میں
حقیقت واضح کر دی جائے ۔ البتہ تیسری صورت والا معذور ہے ۔ ہاں بکثرت ہو تو ضبط مجروح ہو گا اور روایت ضعیف قرار پائے گی ۔
تصنیف فن
٭ رافع الارتیاب فی المقلوب من الاسماء و الا لقاب للخطیب ۔م ۴۶۳ھ
قلب سند میں یہ کتاب خصوصیت کی حامل ہے ۔
المزید فی متصل الاسانید
تعریف:۔ جس حدیث کی سند بظاہر متصل ہو لیکن سند میں کسی راوی کا اضافہ کر دیا جائے ۔
مثال : ۔ عن عبد اللہ بن المبارک قال : حدثنا سفیان عن عبد الرحمن بن یزید ، حدثنی بسر بن عبید اللہ قال: قال سمعت ابا ادریس قال : سمعت واثلۃ بن الاسقع یقول : سمعت ابا مرثد الغنوی یقول سمعت النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یقول :لا تجلسوا عن القبو ر ولا تصلوا الیہا ۔ (الجامع للترمذی باب فی کراہیۃ الوطی علی القبور۱/۱۲۵)
ابو مرثد غنوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑ ھو ۔
اس حدیث کی سند میں دو راویوں کی زیادتی ہے ۔
xسفیان xابو ادریس
یہ زیادتی محض وہم کی بنیاد پر ہے ۔
٭ سفیان کی زیادتی امام عبد اللہ بن مبارک سے نقل کرنے والے رواۃ کے وہم کی بنا پر ہے ۔ کیونکہ ثقہ حضرات نے ابن مبارک کے بعد براہ راست عبد الرحمن بن یزید کی روایت نقل کی ۔(الصحیح لملسم باب فی النہی عن الجلوس علی القبر۱ /۳۱۲)
اور بعض راویوں نے تو ’’عن ‘‘ کے بجائے صریح ’’ اخبر‘‘ استعمال کیا ہے ۔
٭ ابوادریس کا اضافہ خود ابن مبارک کا ہے ، اس لئے کہ ان کے استاذ عبد الرحمن سے روایت کرنے والے ثقات کی ایک جماعت نے ابو ادریس کا ذکر نہیں کیا اور بعض نے تو تصریح کر دی ہے کہ ’’ بسر ‘‘ نے براہ راست ’ واثلہ ‘‘سے سنا ہے ۔(السنن لا بی داؤد باب کراہیۃ القعود علی القبر ۲/۴۶۰)
حکم:۔ وہم کی بنا پر مردود ہوتی ہے ، ہاں زیادتی کرنے والا اپنے مقابل سے فائق ہو تو پھر
راجح و مقبول ہے ۔ اور دوسری منقطع ، لیکن یہ انقطاع خفی ہوتا جس سے حدیث مرسل خفی ہوجاتی ہے ۔
تصنیف فن
٭ تمیز المزید فی متصل الاسانید للخطیب ، م۴۶۳
یہ اس فن کی اہم کتاب ہے ۔
مضطرب
تعریف:۔ وہ حدیث جس کے تمام راوی ثقہ اور ہم پلہ ہوں لیکن مختلف صورتوں کے ساتھ مروی ہو۔ کبھی ایک راوی سے ہی اختلاف منقول ہوتا ہے کہ انہوں نے روایت متعدد مواقع پر کی ، اور کبھی راوی چند ہونے کی وجہ سے اختلاف ہوتا ہے ۔
واضح رہے کہ اختلاف ایسا شدید ہو کہ ان کے درمیان تطبیق و توفیق ممکن نہ ہو۔ پھر یہ بھی ضروری کہ تمام روایات قوت و مرتبہ میں مساوی و برابر ہوں کہ ترجیح بھی نا ممکن ہو ، اگر ترجیح یا توفیق ممکن ہوئی تو اضطراب متحقق نہیں ہو گا ۔
اضطراب کی دو قسمیں ہیں :۔
اضطراب فی السند اضطراب فی المتن
مثال قسم اول :۔ یہ قسم ہی زیادہ وقوع پذیر ہے ۔ جیسے :۔
حدثنا مسدد ، حدثنا بشر بن المفضل ، حدثنا اسماعیل ابن امیہ حدثنی ابو عمر و بن محمد بن حریث انہ سمع جدہ حریثا یحدث عن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال : اذا صلی احدکم فلیجعل تلقاء وجہہ شیئا ، فان لم یجد فلینصب عصا ، فان لم یکن معہ عصا فلیخطط خطا ثم لا یضرہ ما مرا مامہ ۔ ( السنن لا بی داؤدبا ب الخط اذا لم یجد عصا)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں کوئی نما ز پڑ ھنے کھڑ ا ہو تو اپنے سامنے سترہ قائم کر ے ، اگر کوئی چیز نہ ملے تو اپنا عصا ہی نصب کرے ، اور عصا بھی نہ ہو تو ایک خط کھینچ لے کہ اس کے سامنے سے گزرنے میں پھر کوئی حرج نہ ہو گا ۔
اس حدیث کو اسماعیل بن امیہ سے بشر بن مفصل اور روح بن قاسم نے بسند مذکور روایت کیا ، ان دونوں حضرات کی روایت میں ابو عمرو کے بعد راوی ان کے جد ’’ حریث‘‘ ہیں اور ان کے والد کا نام محمد ہے ۔
اور حضرت امام سفیان ثوری کی روایت ’’ اسماعیل بن امیہ ‘‘ سے اس طرح ہے ۔
عن ابی عمر و بن حریث عن ابیہ عن ابی ہریرۃ۔
اس سند میں ابو عمرو ، کے بعد راوی اگرچہ حریث ہیں مگر ان کو ابو عمرو کا والد قرار دیا ہے ۔
اور حمید بن اسود کی روایت اسماعیل بن امیہ سے طرح ہے :۔
عن ابی عمروبن محمد بن حریث بن سلیم عن ابیہ عن ابی ہریرۃ ۔
اس میں ابو عمرو کے بعد راوی ان کے والد ’’ محمد ‘‘ ہیں اور ’’ حریث‘‘ کے والد کا نام’ سلیم‘‘ ذکر کیا ہے ۔
اور وہیب و عبد الوارث کی روایت اسماعیل بن امیہ سے یوں ہے ۔
عن ابی عمرو بن حریث عن جدہ۔
اس میں ابو عمر کے بعد راوی ان کے جد حریث ہیں مگر والد کا نام بھی حریث بتایا ہے ۔
اور ابن جریج کی روایت اسمعیل بن امیہ سے اس طرح ہے :۔
عن ابی عمرو عن حریث بن عمار عن ابی ہریرۃ۔
اس میں ابو عمرو کے بعد اگرچہ حریث ہیں مگر ان کے والد کا نام عمار بیان کیا گیا ہے ۔
اس سند میں اس طرح کے اور بھی اضطراب ہیں ۔(مقدمہ ابن صلاح ۴۵)
مثال قسم ثانی ، جیسے :۔
حدثنا عبد اللہ بن عبد الرحمن نا محمد بن الطفیل عن شریک عن ابی حمزۃ عن عامر عن فاطمۃ بنت قیس عن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال : ان فی المال حقا سوی الزکوۃ ۔ (الجامع للترمذی باب فی ان فی المال حقا سوی الزکوۃ ۱/۸۴)
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیشک مال میں زکوۃ کے علاوہ بھی ایک حق ہے ۔
دوسری روایت اس طرح ہے :۔
حدثنا علی بن محمد، ثنا یحے ی بن آدم عن شریک عن ابی حمزۃ عن الشعبی عن فاطمۃ بن قیس انہا سمعتہ تعنی النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یقول: لیس فی المال حق سوی الزکوۃ۔ ( السنن لا بن ماجہ باب ما ادی زکوتہ لیس بکنز ۱/۱۲۸)
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک مال میں زکوۃ کے علاوہ اور کوئی حق نہیں ۔
پہلی حدیث میں زکوۃ کے علاوہ مال میں کچھ اور حقوق بھی فرمائے تھے اور اس میں نفی ہے ۔ لہذا یہ متن میں اضطراب ہوا ۔
حکم:۔ اضطراب چونکہ راوی کے ضبط کی کمزوری کو بتاتا ہے ۔ لہذا ایسی احادیث ضعیف قرار پاتی ہیں ۔ اور اس کا مرتبہ مقلوب کے بعد ہے ۔
تصنیف فن
٭ المقترب فی بیان المضطرب لا بن حجر ،
اس فن کی نادر کتاب ہے ۔
مصحف
تعریف : ۔ وہ حدیث جس کے کسی کلمہ کو ثقہ روایت کی روایت کے خلاف نقل کیا جائے ۔ یہ اختلاف خواہ لفظی ہو یا معنوی ۔ اس میں تین قسمیں جاری ہوتی ہیں ۔
٭ باعتبار منشاء و باعث
٭ باعتبار محل
٭ باعتبار لفظ و معنی
اول کی دو قسمیں ہیں :۔
xمصحف البصر xمصحف السمع
مصحف البصر : ۔ وہ حدیث جس میں رسم الخط کے نقص یا نقطوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے
اشتباہ ہو جائے ۔ جیسے :۔
عن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما قال ۔ قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : من صام رمضان و اتبعہ ستا من شوال خرج من ذنوبہ کیوم ولدتہ امہ ۔ ( المعجم الاوسط للطبرانی ، ۸/۳۷۵)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے رمضان کے روزے رکھے اور پھر اس کے بعد شوال کے چھہ روزے بھی تو وہ گنا ہوں سے ایسا پاک ہو گیا جیسے اپنی پیدائش کے دن گنا ہوں سے پاک تھا ۔
اس حدیث کو بعض نے ’’ستا ‘‘کی جگہ ’’شے ئا‘‘ سمجھا ۔
مصحف السمع : ۔ وہ حدیث جس کو راوی اپنی سماعت کی کمزوری یا متکلم سے دوسری کے سبب
کچھ کا کچھ سمجھ لیتا ہے ۔
جیسے عاصم الاحوال کو بعض نے عاصم الاحدب سمجھ کر روایت کر دیا ۔
مصحف باعتبار محل کی بھی دو قسمیں ہیں :۔
xمصحف السند xمصحف المتن
مصحف السند :۔ جس حدیث کی سند مین تصحیف ہو ۔ جیسے :۔
عن شیبۃ عن العوام بن مراجم عن ابی عثمان النہدی عن عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم لتودن الحقوق الی اہلہا ۔ (مقدمہ ابن صلاح ۱۴۰)
امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہیں حق والوں کے حقوق ضرور ادا کرنا ہوں گے ۔
اس حدیث کی سند میں عوام بن مراجم کو یحیی بن معین نے مزاحم پڑ ھا جو اسی زمانہ میں رد کر دیا گیا تھا ۔ (مقدمہ ابن صلاح ۱۴۰)
ٍ مصحف المتن : ۔ وہ حدیث جس کے متن میں تصحیف واقع ہو ، جیسے ،
عن زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم احتجر فی المسجد ۔ (مقدمہ ابن صلاح۱۴۱)
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مسجد مین چٹائی سے آڑ کی ۔
اس حدیث کو ابن لہیعہ نے کتاب موسیٰ بن عقبہ سے نقل کر کے ، احتجم فی المسجد ، کر دیا ، یعنی آپ نے مسجد میں فصد کھلوائی ۔
یہ متن میں تصحیف ہوئی ، وجہ یہ تھی کہ ابن لہیعہ نے شیخ سے سنے بغیر محض کتاب سے یہ حدیث نقل کی جس کی وجہ سے یہ غلطی واقع ہوئی ۔(مقدمہ ابن صلاح۱۴۱)
اور جیسے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ حدیث:۔
رمی ابی یوم الاحزاب علی اکحلہ فکواہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔
اس حدیث میں ’غندر‘ سے یہ تحریف واقع ہوئی کہ انہوں نے لفظ ’اُبی‘ کو مضاف مضاف الیہ کر کے روایت کر دیا حالانکہ یہ لفظ ’اُبی‘ ہے اور اس سے مراد’ اُبی بن کعب ‘ہیں انہیں کا یہ واقعہ ہے جو حدیث میں ذکر ہوا ۔ اور تحریف کی صورت میں تو یہ واقعہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد کا قرار پائیے گا اور یہ درست نہیں ، کیونکہ وہ تو جنگ احزاب سے بیشتر جنگ احد میں شہید ہو چکے تھے ۔(دیباچہ بشیر القاری۔ مصنفہ صدر العلماء میرٹھی علیہ الرحمہ۳۸)
٭ لفظ و معنی کے اعتبار سے بھی دو قسمیں ہیں :۔
x مصحف اللفظ xمصحف المعنی
مصحف اللفظ : ۔ وہ حدیث جس کے لفط میں تصحیف ہو ، اکثر یہ ہی صورت پیش آتی ہے ۔
اس کی دو قسمیں ہیں :۔
xمصحف الشکل xمصحف النقط
مصحف الشکل :۔ وہ ھدیث جس کے خط کی صورت تو باقی رہے لیکن حروف کی حرکت بدل
جائے ۔ جیسے :۔
حضرت عرفجہ کی حدیث میں ’یوم کلُاب‘ کو ’یوم کلاُِب‘ بتانا ۔
بعض نے اس کو محرف کا نام دیا ہے ۔ (دیباچہ بشیر القاری۔ مصنفہ صدر العلماء میرٹھی علیہ الرحمہ۳۸)
مصحف النقط : ۔ جس کے خط کی صورت تو باقی رہے لیکن نقطوں میں تبدیلی ہوجائے۔ جیسے
گزشتہ مثال ۔
مراجم کو مزاحم پڑ ھنا۔
مصحف المعنی :۔ وہ حدیث جس کے معنی کو اصلی معنی مراد سے پھیر دینا جیسے :۔
ابو موسی عنزی کا بیان ہے کہ ہماری قوم کو بڑ ا شرف حاصل ہے کہ حضور نے ہمارے قبیلہ عنزہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑ ھی ۔ حالانکہ حدیث میں عنزہ سے مراد نیزہ تھا ، اور یہ اپنے قبیلہ کو سمجھے ۔ تفصیل تدوین حدیث کے عنوان میں گزری ۔
حکم : ۔ اگر کسی راوی سے اتفاقاً یہ عمل سرزد ہو جائے تو ضبط متاثر نہیں ہو تا کہ تھوڑ ی بہت غلطی
سے تو شاذ و نادر ہی کوئی بچتا ہے ۔ اگر بکثرت ہو تو عیب ہے اور ضبط مجروح ۔ اکثر و بیشتر تصحیف کا سبب یہ ہوتا تھا کہ راوی استاذ و شیخ کے بجائے کتب و صحائف سے حدیث حاصل کرتا تھا جس کے متعلق ایک زمانہ تک یہ نظر یہ رہا کہ اس طرح تحصیل حدیث منع ہے ، لیکن جب مدون ہو گیا اور محض زبانی یاد داشت پر تکیہ نہ رہا تو وہ ممانعت بھی نہ رہی ۔
مشہور تصانیف فن
٭ التصحیف للدار قطنی م ۳۸۵ھ
٭ اصلاح خطاء المحدثین للخطابیم ۳۲۸ھ
٭ تصحیفات المحدثین للعسکری م ۳۸۲ھ
شاذ و محفوظ
تعریف :۔ وہ حدیث جسے کوئی مقبول عادل راوی ایسے راوی کے خلاف روایت کرے جومرتبہ میں اس سے فائق ہے ۔
اس کے مقابل کو محفوظ کہتے ہیں : ۔
شاذ کی دو قسمیں ہیں :۔
x شاذ السند xشاذ المتن
شاذ السند : ۔ وہ حدیث جس کی سند میں شذوذ ہو ۔ جیسے :۔
عن سفیان بن عینیۃ عن عمر و بن دینار عن عوسجۃ عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ان رجلا توفی علی عہد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم و لم یدع و ارثا الا مولی ہو ا عتقہ ۔(شرح نخبۃ الفکر۳۹)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے عہد پاک میں ایک شخص کا انتقال ہوا اور اس نے اپنے آقا کے سوا جس نے اسے آزاد کیا تھا کسی دوسرے کو وارث نہ چھوڑ ا ۔
یہ حدیث متصل ہے ، سفیان کی طرح ابن جریج نے بھی اسے موصولا روایت کیا ہے ۔ لیکن حماد بن زید نے مرسلا روایت کیا ۔ یعنی حضرت ابن عباس کو واسطہ نہیں بنایا ۔
چونکہ دونوں طرح کی روایتوں یعنی موصول و مرسل کے راوی ثقہ ہیں ، لیکن حماد بن زید ، کے مقابلہ میں سفیان کی روایت کو متعدد ثقہ حضرات نے ذکر کیا ہے ، لہذا موصول راجح اور مرسل مرجوح قرار دی گئی اور مذکورہ سند محفوظ اور اس کے مقابل شاذ ہوئی ۔
شاذ المتن :۔ وہ حدیث جس کے متن میں شذوذ ہو ۔ جیسے :۔
عن عبد الواحد بن زیاد عن الاعمش عن ابی صالح عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : اذا صلی احدکم الفجر فلیضطجع عن یمینہ۔ (السنن لا بی داؤد)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم نماز فجر پڑ ھ لو تو داہنی کروٹ پر لیٹ جاؤ ۔
یہ حدیث قولی ہے ۔ لیکن دوسرے ثقہ حضرات نے اس حدیث کو حضور کے فعل کے طور پر ذکر کیا ہے ۔ امام بیہقی کہتے ہیں ، عبد الواحد نے حدیث قولی روایت کر کے متعدد ثقہ روات کی مخالفت کی ہے ۔ اور یہ اپنی اس روایت میں تنہا ہیں ۔ لہذا ان کی روایت’’ شاذ ‘‘اور دوسرے حضرات کی ’’محفوظ‘ ‘ ہے ۔
منکرو معروف
تعریف منکر :۔ وہ حدیث جس کا راوی ضعیف ہو اور معتمد رواۃ کی حدیث کے خلاف روایت کرے ۔
اس کے مقابل کو معروف کہتے ہیں : ۔
مثال : ۔
ابن ابی حاتم کی روایت بطریق حبیّب بن حبیب :۔
عن ابی اسحاق عن العیزار بن حریث عن ابن عباس عن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال : من اقام الصلوۃ و آتی الزکوۃ و حج البیت و صام و قری الضیف دخل الجنۃ ۔ (شرح نخبۃ الفکر۴۰)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے نماز پڑ ھی ، زکوۃ دی ، حج بیت اللہ کیا ، رمضان کے روزے رکھے اور مہمان نوازی کی وہ جنت میں داخل ہوا ۔
ابو حاتم کا کہنا ہے کہ یہ روایت منکر ہے ، کیونکہ ثقہ روات نے اس حدیث کو موقوفا روایت کیا یعنی حضرت ابن عباس کا قول بتایا ہے ، لہذا س مخالفت کی بنیاد پر ابو اسحاق کی یہ روایت منکر قرار پائی۔ اورباقی دوسرے ثقہ راویوں کی معروف ۔(شرح نخبۃ الفکر۴۰)
انتباہ:۔بعض حضرات نے ’’شاذ و منکر‘ میں مخالفت کا اعتبار نہیں کیا اور شاذ کی تعریف یہ کی ۔
اس حدیث کو کہتے ہیں جس کو ثقہ نے روایت کیا اور اس روایت مین منفرد ہو، اور اس کے لئے کوئی اصل موید پائی جائے ۔ یہ تعریف ثقہ کے فرد صحیح پر صادق آتی ہے ۔ اور اول تعریف صادق نہیں ۔ اور بعض نے ’’شاذ ‘‘ میں نہ راوی کے ثقہ ہونے کا اعتبار کیا اور نہ مخالفت کا ۔
ایسے ہی منکر کو صورت مذکورہ کے ساتھ خاص نہیں کیا یہ لوگ فسق اور فرط غفلت اور کثرت غلط کے ساتھ مطعون کی حدیث کو منکر کہتے ہیں ۔ یہ اپنی اپنی اصطلاح ہے ۔
و للناس فیما یعشوقون مذاہب ۔ (دیباچہ بشیر القاری ۳۵)
منکر کی بایں معنی تعریف اور قدرے تفصیل متروک کے بعد اس سے قبل ذکر کی جا چکی ہے ۔
ابن صلاح نے منکر مقابل معروف کو مقسم قرار دیکر شاذاور منکر کو اس کی قسمیں بتایا
ہے ۔
حکم : ۔ شاذ کے راوی ثقہ نہیں تو یہ مردود ہے ورنہ مرجوح ہو گی اور منکر مردود ہے ۔
البتہ محفوظ و معروف راجح اور مقبول ہوتی ہے ۔
مدرج ، مقلوب ، المزید فی متصل المسانید ، مضطرب، مصحف ، شاذ ، منکر ، ۔
اجمالا یوں سمجھئے کہ مخالفت ثقات اسناد یا متن میں تبدیلی یا اضافہ کی صورت میں ہو تو مدرج ہے ۔ تقدیم و تاخیر میں ہو تو مقلوب ہے ۔ معتبر سند میں راوی کا اضافہ ہو تو المزید فی متصل الاسانید ہے ۔ اگر راوی میں تبدیلی یا متن میں ایسا اختلاف جو تعارض کا سبب ہو اور کوئی وجہ ترجیح نہ ہو تو مضطرب ہے ۔ اگر حروف میں تبدیلی ہو تو مصحف ہے ۔ ثقہ اگر اوثق کی مخالفت کرے تو شاذ اور ا سکے مقابل محفوظ ہے ۔ ضعیف اگر ثقہ کی مخالفت کرے تو منکر اور ا سکے مقابل معروف ہے ۔
مدرج
تعریف۔ جس حدیث میں غیر کو داخل کر دیا جائے ۔
دو قسمیں ہیں :۔
xمدرج الاسناد x مدرج المتن
تعریف مدرج الاسناد ۔ وہ حدیث جسکی سند کا وسط یا سیاق بدل دیاجائے ۔
ا سکی متعدد صورتیں ہیں لیکن اجمالی کلام یہ ہے
٭ راوی کو ایک حدیث چند شیوخ سے پہونچی جنہوں نے اس حدیث کو مختلف سندوں سے بیان کیا تھا ، پھر اس راوی نے حدیث مذکور کو ان سب سے ایک سند کے ساتھ روایت کر دیا ، اور انکی سندوں کا اختلاف بیان نہ کیا ۔ جیسے ۔
عن بندار عن عبد الرحمن بن مہدی عن سفیان الثوری عن واصل و منصور والاعمش عن ابی وائل عن عمر وبن شرجبیل عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قلت: یا رسول اللہ ! ای الذنب اعظم ؟ قال : ان تجعل للہ ندا وہوخلقک ، قال : قلت : ثم ماذا ؟ قال: ان تقتل ولدک خشیۃ ان یطعم معک ، قال : قلت : ثم ماذا؟ قال :ان تزنی حلیلۃ جارک ۔(الجامع للترمذی، تفسیرسورۃ الفرقان ۲/۱۴۹)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! سب سے بڑ ا گناہ کونسا ہے ؟ فرمایا : یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو ا سکا شریک بنائے حالانکہ اس نے تجھے پیدا فرمایا : میں نے عرض کیا: پھر کونسا؟ فرمایا : اپنی اولاد کو اس خوف سے قتل کر دینا کہ وہ تیرے ساتھ مل کر کھائے گا ۔ میں نے عرض کیا : پھر کونسا؟ فرمایا : اپنے پڑ وسی کی بیوی سے زنا میں مبتلا ہو جانا ۔
اس حدیث کی روایت میں واصل ، منصور اور اعمش کی سندیں مختلف تھیں ، کہ واصل کی سند میں عمر و بن شرحبیل نہ تھے ، بلکہ ابو وائل ہیں ، اور منصور و اعمش کی سند میں تھے ۔ حضرت سفیان ثوری کے راوی عبد الرحمن بن مہدی نے حدیث مذکور کو سب سے بیک سند روایت کر دیا ۔
٭ کسی شیخ کے نزدیک متن کا ایک حصہ ایک سند سے مروی تھا اور دوسرا حصہ دوسری سند سے ۔ انکے شاگرد نے دونوں حصوں کو ان سے ایک سند کے ساتھ روایت کر دیا ۔ جیسے ۔
حدثنا عثمان نبن ابی شیبۃ ، اخبرنا شریک عن عاصم بن کلیب عن ابیہ عن وائل بن حجر قال: رأیت النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حین افتتح الصلوۃ رفع یدیہ حیال اذنیہ ، قال : ثم أتیتہم فرأیتہم یرفعون ایدیہم الی صدورہم فی افتتاح الصلوۃ وعلیہم برانس واکیسہ ۔ (السنن لا بی داؤد باب رفع الیدین فی الصلوۃ )
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے نماز شروع کرتے وقت کانوں تک ہاتھ اٹھائے ۔ کہتے ہیں : پھر میں ایک دوسرے موقع پر ( سردی کے موسم میں ) حاضر ہوا تو دیکھا کہ سب حضرات تکبیر تحریمہ میں صرف سینہ تک ہاتھ اٹھا تے ہیں اور اس وقت وہ ٹوپے اوڑ ھے تھے اور جبوں میں ملبوس ۔
اس حدیث میں یہ جملہ ’ثم أتیتہم فرأیتہم الخ‘ عاصم کے نزدیک اس سند سے نہیں بلکہ دوسری سند سے ثابت تھا مگر انکے شاگرد ’شریک ‘ نے اسے اول متن کے ساتھ ملا کر مجموعہ کو اس سند کے ساتھ عاصم سے روایت کر دیا۔
دوسری سند یوں ہے ۔
حدثنا محمد بن سلیمان الانباری ، اخبر نا وکیع عن شریک عن عاصم بن کلیب عن علقمۃ بن وائل عن وائل بن حجر قال :اتیت النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فی الشتاء فرأیت اصحابہ یرفعون ایدیہم فی ثیا بہم فی الصلوۃ ۔
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں موسم سرما میں حاضر ہوا تو میں نے آپکے صحابہ کو دیکھا کہ نماز میں اپنے ہاتھوں کو کپڑ وں کے اندر ہی اٹھاتے ہیں ۔
پہلی سند میں عاصم نے اپنے والد کلیب سے روایت کی ہے اور انہوں نے وائل بن حجر سے ،۔ جبکہ اس دوسری سند میں عاصم کی روایت علقمہ بن وائل سے ہے ۔
٭ ایک شیخ کے نزدیک دو متن دو مختلف سندوں سے مروی تھے مگر انکے شاگرد نے دونوں کو ایک سند سے روایت کر دیا ۔ جیسے یہ دو حدیثیں امام مالک نے روایت کیں ۔
مالک عن ابن شہاب عن انس بن مالک ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال: لا تبا غضوا و لا تحاسدوا و لا تدا بروا، و کونوا عباد اللہ اخوانا، ولا یحل لمسلم ان یہجر اخاہ فوق ثلث لیال ۔(المؤطا لمالک۳۶۵)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آپس میں بغض نہ رکھو ، حسد نہ کرو ، قطع تعلق نہ کرو ، اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندے بنکر آپس میں بھائی چارگی کے ساتھ رہو ، کسی مسلمان کو جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑ ے رہے ۔
مالک عن ابی الزناد عن الاعرج عن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال : ایاکم و الظن، فان الظن اکذب الحدیث، ولا تجسسوا ولا تحسسوا ولا تنافسوا ولا تحاسدوا ولا تبا غضوا ولا تدا بروا، وکونوا عباد اللہ اخوانا۔(المؤطا لمالک۳۶۵)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بدگمانی سے بچو کہ یہ بڑ ا جھوٹ ہے ، کسی کی پوشیدہ باتیں نہ سنو اور کسی کی اندورن خانہ چیزوں میں نہ پڑ و، آپس میں ایک دوسرے کو نیچا نہ دکھاؤ اور باہم حسد نہ رکھو ، اپنے درمیان بعض و عناد نہ رکھواور قطع تعلق نہ کرو ، اللہ تعالی کے بندے بھائی بھائی بنکر رہو۔
پہلی حدیث حضرت انس سے مروی ہے اور دوسری حضرت ابو ہریرہ سے ، امام مالک نے دونوں کو علیحدہ علیحدہ سندوں سے ذکر کیا ۔
پہلی حدیث حضرت انس سے مروی ہے اس میں لفظ ’ولا تنا فسوا‘ نہیں اور دوسری حضرت ابوہریرہ سے اور اس میں یہ لفظ ہے ۔ امام مالک نے دونوں حدیثوں کو علیحدہ علیحدہ سند سے ذکر کیا تھا ۔ مگر امام مالک کے شاگرد سعید بن حکم المعروف بابن ابی مریم ، نے دونوں روایتوں کو پہلی سند سے روایت کر دیا۔(حاشیہ نذہۃ النظر۶۱)
٭ شیخ نے ایک سند بیان کی اور اس کا متن بیان کرنے سے پہلے کسی ضرورت سے کچھ کلام کیا ، شاگرد نے اس کلام کو سند مذکور کا متن خیال کر کے اس سند کے ساتھ شیخ سے روایت کر دیا ۔
یہ چاروں صورتیں مدرج الاسناد کی ہیں ۔
تعریف مدرج المتن ۔ جس متن حدیث میں غیر حدیث کو داخل کر دیا جائے خواہ صحابی کا قول ہو یا بعد کے کسی راوی کا ۔ نیز ادراج درمیان میں ہو یا اول و آخر میں ۔ پھر ا سکو حدیث رسول کے ساتھ اس طرح مخلوط کر دیا جائے کہ دونوں میں امتیاز نہ رہے ۔
٭اول حدیث میں ادراج ، جیسے :۔
خطیب بغدادی نے ’ابو قطن ‘ اور ’ شبابہ‘ سے ایک روایت یوں نقل کی ہے ۔
عن شعبۃ عن محمدبن زیاد عن ابی ہریرۃ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:اسبغو ا الوضوء ، ویل للأ عقاب من النار ۔ (حاشیہ نذہۃ النظر۶۲)
حضرت ابو ہر رہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وضو میں خوب مبالغہ کرو، ایڑ یوں کے لئے دوزخ کی تباہی ہے ۔
اس حدیث میں ’ اسبغوا الوضوئ‘ حضرت ابو ہریرہ کا فرمان ہے جس کو ابو قطن و غیرہ نے حدیث مرفوع میں مخلوط کر کے پیش کر دیا ہے ۔
امام شعبہ سے روایت کرنے والے آدم اور محمد بن جعفر ہیں لیکن کسی میں یہ لفظ نہیں ۔
آدم سے بطریق شعبہ امام بخاریٔ نے روایت لی ہے انکے الفاظ یہ ہیں :۔
عن آدم بن ابی ایاس ، ثنا شعبۃ ، ثنا محمد بن زیاد قال سمعت اباہریرۃ و کان یمر بنا و الناس یتو ضؤن من المطہرۃ فیقول : اسبغوا الوضوء ، فان ابا القاسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال: ویل للأعقاب من النار۔ (الجامع الصحیح للبخاری باب غسل الاعقاب ۱/۲۸)
اس روایت سے یہ معلوم ہوا کہ ’اسبغوا الوضوء ‘ حضرت ابوہریرہ کا قول ہے ۔
اور محمد بن جعفر اور امام وکیع سے بطریق شعبہ امام مسلم نے روایت فرما کر ارشاد فرمایا :۔
وَلیس فیِ حَدِیث شعبۃ أسبغوا الوضُوء ۔( الصحیح لمسلم، باب وجوب غسل الرجلین بکمالہما۱/۱۲۵)
امام شیبۃ کی حدیث میں اسبغوا الوضوء کے الفاظ نہیں ۔
خیال رہے کہ یہ تفصیل حضرت ابو ہریرہ کی روایت کی بنا پر ہے ورنہ صحیح مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عمر و بن عاص سے جو روایت آئی اس میں یہ جملہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف سے یوں منسوب ہے ۔
کہ آپ نے ارشاد فرمایا:۔
ویل للأ عقاب من النار اسبغوا الوضوء ۔( الصحیح لمسلم، باب وجوب غسل الرجلین بکمالہما۱/۱۲۵)
خشک ایڑ یوں کیلئے جہنم کی ہلاکت ہے ، وضو میں مبالغہ کرو۔
اور امام بہقی نے ابو عبد اللہ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بایں الفاظ مرفوعا روایت لی ۔
انما مثل الذی یصلی ولا یرکع ، وینقر فی سجودہ کا لجائع لایأکل الا تمرۃ او تمر تین فماذا تغنیان عنہ ، فاسبغوا الوضوء ، ویل للأعقاب من النار۔ (السنن الکبری للیہقی، ۲/۱۲۷)
جوشخص نماز پڑ ھے اور رکوع و سجود اطمینا ن سے نہ کرے ا سکی مثال ایسی ہے کہ بھوکے آدمی کو ایک دو کھجور کھانے کو ملیں ، تو کیا یہ ا سکو کفایت کریں گی ، لہذا وضو میں مبالغہ کرو، سوکھی ایڑ یوں کے لئے دوزخ کی ہلاکت ہے ۔
ان دونوں روایتوں میں وہ لفظ موجود اور خود حضور کی طرف منسوب ہے ، لہذا ان سندوں کی رو سے حدیث کو مدرج المتن نہیں کہا جا سکتا ۔
بلکہ دوسری روایت میں توانتساب کو قوی بنانے کے لئے یہ الفاظ بھی ہے ہیں کہ راوی حدیث ابو صالح اشعری نے ابو عبد اللہ اشعری سے پوچھا ۔
من حدثت بہم الحدیث ، قال : امراء الاجناد ، خالد بن الولید ، و عمر و بن العاص و شرحبیل بن حسنۃ و یزید بن ابی سفیان کل ھٰؤلاء سمعہ من رسول اللہ اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔ (السنن الکبری للیہقی، ۲/۱۲۷)
یہ حدیث آپ سے کس نے بیان کی ؟ بولے : لشکروں کے امیروں نے یعنی ، خالد بن ولید ، عمر و بن عاص، شر حبیل بن حسنہ اور یزید بن ابی سفیان نے ۔ ان سب حضرات نے خود حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی تھی ۔
یہ حضرات خلافت فاروقی میں ملک شام میں فلسطین ، اردن، حمص ، قنسرین اور دمشق کے امیر تھے ۔
درمیان حدیث میں ادراج ، جیسے :۔
عن ام المومنین عائشۃ الصدیقۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قالت : اول ما بدی بہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم من الوحی الرویا الصالحۃ فی النوم فکان لا یری رویا الا جاء ت مثل فلق الصبح ثم حبب الیہ الخلاء و کان یخلو بغار حراء فیتحنث فیہ و ہو التعبد اللیالی ذوات العدد قبل ان ینزع الی اہلہ و یتزود لذلک ۔ (الجامع الصحیح للبخاری باب کیف کان بد ء الوحی ۱/۲)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے کا آغاز اچھے خوابوں سے ہوا ، جو خواب بھی آپ دیکھتے اس کی تعبیر صبح روشن کی طرح ظاہر ہوتی ، پھر آ پ کے دل میں خلوت گزینی کی محبت ڈال دی گئی اور آپ نے غار حراء میں خلوت اختیار فرمائی ، چنانچہ آپ وہاں تحنث ( یعنی عبادت ) میں چند ایام مشغول رہتے جب تک قلب اپنے اہل و عیال کی طرف مائل نہ ہوتا ، اتنے ایام کا توشہ ساتھ لے جاتے تھے ،
اس حدیث میں ’’وہو التعبد‘‘ درمیان حدیث میں ادراج ہے اور یہ امام ازہری کا قول ہے ، کما فی الطیبی۔
٭ اخر حدیث میں ادراج ، جیسے :۔
عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم للعبد المملوک الصالح اجران ، و الذی نفسی بیدی لو لا الجہاد فی سبیل اللہ و الحج و برامی لا احببت ان اموت و انا مملوک ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : نیک غلام کو دو اجر ملتے ہیں ۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ! اگر جہاد حج اور والدہ کی خدمت کا معاملہ نہ ہوتا تو مجھے یہ ہی پسند تھا کہ میں غلامی کی حالت میں ہی دنیا سے جاؤں ۔
اس حدیث میں ’’ نفسی بیدی الخ‘‘ سے پورا جملہ حضرت ابو ہریرہ کا قول ہے جو اخر حدیث میں مدرج ہے ، اس لئے کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس طرح کی تمنا نہیں کر سکتے تھے اور آپ کی والدہ ماجدہ بھی باحیات نہ تھیں جن کی خدمت غلامی سے مانع ہوتی ۔
نیز یہ روایت:۔
عن ابی خیثمۃ زہیر بن معاویۃ عن الحسن بن الحر عن القاسم بن مخیمرۃ عن علقمۃ عن عبد اللہ بن مسعود ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم علمہ التشہد فی الصلوۃ فقال : قل التحیات للہ الی آخرہ فاذا قلت ہذا فقد قضیت صلوتک ، ان شئت ان تقوم فقم ، وان شئت ان تقعد فاقعد ۔ (مقدمہ ابن صلاح۴۵)
حضرت علقمہ روایت کرتے ہیں حضرت عبد اللہ بن مسعود سے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے آپہ کو نماز میں پڑ ھاجانے والا تشہد تعلیم فرمایا، تو ارشاد فرمایا: پڑ ھو التحیات للہ الی آخرہ جب تم نے یہ پڑ ھ لیا تو نماز مکمل کر لی ، چا ہو تو کھڑ ے ہو جاؤ اور چا ہو تو بیٹھے رہو ۔
اس حدیث میں ’’ فاذا قلت ‘‘ سے آخر تک حضرت ابن مسعود کا قول ہے جو اپنے شاگرد حضرت علقمہ سے آپ نے بیان کیا تھا ، حضور کا فرمان نہیں ، لہذا ادراج آخر میں ہے ۔
حکم ۔ محدثین و فقہاء متفق ہیں کہ صحابہ کے بعد ادراج ناجائز ہے لیکن تشریح لفظ کیلئے جائز ۔
اسی لئے محتاط و محققین علماء سے بھی ایسا ادراج منقول ہے ، بخاری شریف میں اس کی کثیر مثالیں موجود ہیں ۔
تصانیف فن
٭ الفصل للوصل المدرج فی النقل للخطیب م ۴۶۳ ھ
٭ تقریب المنہج بترتیب المدرج لابن حجر م ۸۵۲ ھ
مقلوب
تعریف : ۔ وہ حدیث جس میں تقدیم و تاخیر کے ذریعہ تبدیلی کر دی جائے ۔
وہ قسمیں ہیں :۔
xمقلوب السند xمقلوب المتن
مقلوب السند : ۔ راوی اور اس کی ولدیت میں تقدیم و تاخیر سے ہوتا ہے ۔ یا راوی مشہو ر کی
جگہ دوسرے کانام لے دیا جاتا ہے جیسے ۔ کعب بن مرۃ کو مرۃ بن کعب ، روایت کر دینا ، یا سالم بن عبد اللہ کی جگہ نافع کا ذکر کر دینا ۔
مقلوب المتن: ۔ الفاظ حدیث کی تقدیم و تاخیر کے ذریعہ تبدیلی کر دینا۔ مثال جیسے :۔
عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سبعۃ یظلہم اللہ فی ظلہ یوم لا ظل الا ظلہ الی ان قال ، و رجل تصدق بصدقۃ فاخفاہا حتی لا تعلم یمینہ ما تنفق شمالہ الحدیث ۔ (ا لصحیح لمسلم باب فضل اخفاء الصدقہ ۱ /۳۳۱)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سات لوگ برو ز قیامت اللہ تعالیٰ کے سایہ رحمت میں رہیں گے ، انہیں میں وہ شخص بھی ہے جو پوشیدہ طور پر صدقہ دیا کرتا ہے اس طرح کی بائیں ہاتھ سے دیتا ہے تو داہنے کو خبر نہیں ہوتی ۔
اس حدیث کے جملہ ’’ حتی لا تعلم الخ ‘‘ میں قلب واقع ہوا کیونکہ معروف و معتاد یہ ہی ہے کہ خرچ داہنے ہاتھ سے ہوتا ہے ۔ اور صحیح معروف وہ ہے جس کو امام مالک اور امام بخاری نے روایت کیا ۔
و رجل تصدق بصدقۃ فاخفا ہا حتی لا تعلم شمالہ ما تنفق یمینہ ۔( الجامع الصحیح للبخاری باب الصدقۃ با لیمین ۱/۱۹۱)
وہ شخص جو صدقہ اس طرح چھپا کر دیتا ہے کہ داہنا ہاتھ خرچ کرتا ہے تو بائیں کو خبر نہیں ہوتی ۔
امام قاضی عیاض نے فرمایا ، یہ قلب ناقلین سے واقع ہوا امام مسلم سے نہیں ، اس پر دلیل یہ ہے کہ امام مالک سے فورا بعد جو حدیث ذکر کی اس کو اسی حدیث کے مثل قرار دیا ہے ، اور امام مالک کی روایت میں وہی ترتیب ہے جو بخاری سے گزری حتی کہ الفاظ بھی بعینہ وہی ہیں ۔
کبھی مقلوب المتن کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ایک سند دوسری حدیث کے ساتھ اور دوسری سند پہلی حدیث کے ساتھ ضم کر دی جاتی ہے ، جیسے بغداد میں امام بخاری کا امتحان لینے کیلئے بعض لوگوں نے سو سے زائد احادیث میں ایسا ہی کیا تھا ۔
قلب متعدد وجودہ سے ہوتا ہے : ۔
٭ اپنا علمی تفوق ظاہر کرنا ۔
٭ کسی دوسرے کا امتحان لینا۔
٭ خطا و سہو کی بنا پر ۔
ٍحکم :۔پہلی صورت میں ناجائز ہے ۔ دوسری صورت میں اسی وقت جائز جبکہ اسی مجلس میں
حقیقت واضح کر دی جائے ۔ البتہ تیسری صورت والا معذور ہے ۔ ہاں بکثرت ہو تو ضبط مجروح ہو گا اور روایت ضعیف قرار پائے گی ۔
تصنیف فن
٭ رافع الارتیاب فی المقلوب من الاسماء و الا لقاب للخطیب ۔م ۴۶۳ھ
قلب سند میں یہ کتاب خصوصیت کی حامل ہے ۔
المزید فی متصل الاسانید
تعریف:۔ جس حدیث کی سند بظاہر متصل ہو لیکن سند میں کسی راوی کا اضافہ کر دیا جائے ۔
مثال : ۔ عن عبد اللہ بن المبارک قال : حدثنا سفیان عن عبد الرحمن بن یزید ، حدثنی بسر بن عبید اللہ قال: قال سمعت ابا ادریس قال : سمعت واثلۃ بن الاسقع یقول : سمعت ابا مرثد الغنوی یقول سمعت النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یقول :لا تجلسوا عن القبو ر ولا تصلوا الیہا ۔ (الجامع للترمذی باب فی کراہیۃ الوطی علی القبور۱/۱۲۵)
ابو مرثد غنوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑ ھو ۔
اس حدیث کی سند میں دو راویوں کی زیادتی ہے ۔
xسفیان xابو ادریس
یہ زیادتی محض وہم کی بنیاد پر ہے ۔
٭ سفیان کی زیادتی امام عبد اللہ بن مبارک سے نقل کرنے والے رواۃ کے وہم کی بنا پر ہے ۔ کیونکہ ثقہ حضرات نے ابن مبارک کے بعد براہ راست عبد الرحمن بن یزید کی روایت نقل کی ۔(الصحیح لملسم باب فی النہی عن الجلوس علی القبر۱ /۳۱۲)
اور بعض راویوں نے تو ’’عن ‘‘ کے بجائے صریح ’’ اخبر‘‘ استعمال کیا ہے ۔
٭ ابوادریس کا اضافہ خود ابن مبارک کا ہے ، اس لئے کہ ان کے استاذ عبد الرحمن سے روایت کرنے والے ثقات کی ایک جماعت نے ابو ادریس کا ذکر نہیں کیا اور بعض نے تو تصریح کر دی ہے کہ ’’ بسر ‘‘ نے براہ راست ’ واثلہ ‘‘سے سنا ہے ۔(السنن لا بی داؤد باب کراہیۃ القعود علی القبر ۲/۴۶۰)
حکم:۔ وہم کی بنا پر مردود ہوتی ہے ، ہاں زیادتی کرنے والا اپنے مقابل سے فائق ہو تو پھر
راجح و مقبول ہے ۔ اور دوسری منقطع ، لیکن یہ انقطاع خفی ہوتا جس سے حدیث مرسل خفی ہوجاتی ہے ۔
تصنیف فن
٭ تمیز المزید فی متصل الاسانید للخطیب ، م۴۶۳
یہ اس فن کی اہم کتاب ہے ۔
مضطرب
تعریف:۔ وہ حدیث جس کے تمام راوی ثقہ اور ہم پلہ ہوں لیکن مختلف صورتوں کے ساتھ مروی ہو۔ کبھی ایک راوی سے ہی اختلاف منقول ہوتا ہے کہ انہوں نے روایت متعدد مواقع پر کی ، اور کبھی راوی چند ہونے کی وجہ سے اختلاف ہوتا ہے ۔
واضح رہے کہ اختلاف ایسا شدید ہو کہ ان کے درمیان تطبیق و توفیق ممکن نہ ہو۔ پھر یہ بھی ضروری کہ تمام روایات قوت و مرتبہ میں مساوی و برابر ہوں کہ ترجیح بھی نا ممکن ہو ، اگر ترجیح یا توفیق ممکن ہوئی تو اضطراب متحقق نہیں ہو گا ۔
اضطراب کی دو قسمیں ہیں :۔
اضطراب فی السند اضطراب فی المتن
مثال قسم اول :۔ یہ قسم ہی زیادہ وقوع پذیر ہے ۔ جیسے :۔
حدثنا مسدد ، حدثنا بشر بن المفضل ، حدثنا اسماعیل ابن امیہ حدثنی ابو عمر و بن محمد بن حریث انہ سمع جدہ حریثا یحدث عن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال : اذا صلی احدکم فلیجعل تلقاء وجہہ شیئا ، فان لم یجد فلینصب عصا ، فان لم یکن معہ عصا فلیخطط خطا ثم لا یضرہ ما مرا مامہ ۔ ( السنن لا بی داؤدبا ب الخط اذا لم یجد عصا)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں کوئی نما ز پڑ ھنے کھڑ ا ہو تو اپنے سامنے سترہ قائم کر ے ، اگر کوئی چیز نہ ملے تو اپنا عصا ہی نصب کرے ، اور عصا بھی نہ ہو تو ایک خط کھینچ لے کہ اس کے سامنے سے گزرنے میں پھر کوئی حرج نہ ہو گا ۔
اس حدیث کو اسماعیل بن امیہ سے بشر بن مفصل اور روح بن قاسم نے بسند مذکور روایت کیا ، ان دونوں حضرات کی روایت میں ابو عمرو کے بعد راوی ان کے جد ’’ حریث‘‘ ہیں اور ان کے والد کا نام محمد ہے ۔
اور حضرت امام سفیان ثوری کی روایت ’’ اسماعیل بن امیہ ‘‘ سے اس طرح ہے ۔
عن ابی عمر و بن حریث عن ابیہ عن ابی ہریرۃ۔
اس سند میں ابو عمرو ، کے بعد راوی اگرچہ حریث ہیں مگر ان کو ابو عمرو کا والد قرار دیا ہے ۔
اور حمید بن اسود کی روایت اسماعیل بن امیہ سے طرح ہے :۔
عن ابی عمروبن محمد بن حریث بن سلیم عن ابیہ عن ابی ہریرۃ ۔
اس میں ابو عمرو کے بعد راوی ان کے والد ’’ محمد ‘‘ ہیں اور ’’ حریث‘‘ کے والد کا نام’ سلیم‘‘ ذکر کیا ہے ۔
اور وہیب و عبد الوارث کی روایت اسماعیل بن امیہ سے یوں ہے ۔
عن ابی عمرو بن حریث عن جدہ۔
اس میں ابو عمر کے بعد راوی ان کے جد حریث ہیں مگر والد کا نام بھی حریث بتایا ہے ۔
اور ابن جریج کی روایت اسمعیل بن امیہ سے اس طرح ہے :۔
عن ابی عمرو عن حریث بن عمار عن ابی ہریرۃ۔
اس میں ابو عمرو کے بعد اگرچہ حریث ہیں مگر ان کے والد کا نام عمار بیان کیا گیا ہے ۔
اس سند میں اس طرح کے اور بھی اضطراب ہیں ۔(مقدمہ ابن صلاح ۴۵)
مثال قسم ثانی ، جیسے :۔
حدثنا عبد اللہ بن عبد الرحمن نا محمد بن الطفیل عن شریک عن ابی حمزۃ عن عامر عن فاطمۃ بنت قیس عن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال : ان فی المال حقا سوی الزکوۃ ۔ (الجامع للترمذی باب فی ان فی المال حقا سوی الزکوۃ ۱/۸۴)
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیشک مال میں زکوۃ کے علاوہ بھی ایک حق ہے ۔
دوسری روایت اس طرح ہے :۔
حدثنا علی بن محمد، ثنا یحے ی بن آدم عن شریک عن ابی حمزۃ عن الشعبی عن فاطمۃ بن قیس انہا سمعتہ تعنی النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یقول: لیس فی المال حق سوی الزکوۃ۔ ( السنن لا بن ماجہ باب ما ادی زکوتہ لیس بکنز ۱/۱۲۸)
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک مال میں زکوۃ کے علاوہ اور کوئی حق نہیں ۔
پہلی حدیث میں زکوۃ کے علاوہ مال میں کچھ اور حقوق بھی فرمائے تھے اور اس میں نفی ہے ۔ لہذا یہ متن میں اضطراب ہوا ۔
حکم:۔ اضطراب چونکہ راوی کے ضبط کی کمزوری کو بتاتا ہے ۔ لہذا ایسی احادیث ضعیف قرار پاتی ہیں ۔ اور اس کا مرتبہ مقلوب کے بعد ہے ۔
تصنیف فن
٭ المقترب فی بیان المضطرب لا بن حجر ،
اس فن کی نادر کتاب ہے ۔
مصحف
تعریف : ۔ وہ حدیث جس کے کسی کلمہ کو ثقہ روایت کی روایت کے خلاف نقل کیا جائے ۔ یہ اختلاف خواہ لفظی ہو یا معنوی ۔ اس میں تین قسمیں جاری ہوتی ہیں ۔
٭ باعتبار منشاء و باعث
٭ باعتبار محل
٭ باعتبار لفظ و معنی
اول کی دو قسمیں ہیں :۔
xمصحف البصر xمصحف السمع
مصحف البصر : ۔ وہ حدیث جس میں رسم الخط کے نقص یا نقطوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے
اشتباہ ہو جائے ۔ جیسے :۔
عن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما قال ۔ قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : من صام رمضان و اتبعہ ستا من شوال خرج من ذنوبہ کیوم ولدتہ امہ ۔ ( المعجم الاوسط للطبرانی ، ۸/۳۷۵)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے رمضان کے روزے رکھے اور پھر اس کے بعد شوال کے چھہ روزے بھی تو وہ گنا ہوں سے ایسا پاک ہو گیا جیسے اپنی پیدائش کے دن گنا ہوں سے پاک تھا ۔
اس حدیث کو بعض نے ’’ستا ‘‘کی جگہ ’’شے ئا‘‘ سمجھا ۔
مصحف السمع : ۔ وہ حدیث جس کو راوی اپنی سماعت کی کمزوری یا متکلم سے دوسری کے سبب
کچھ کا کچھ سمجھ لیتا ہے ۔
جیسے عاصم الاحوال کو بعض نے عاصم الاحدب سمجھ کر روایت کر دیا ۔
مصحف باعتبار محل کی بھی دو قسمیں ہیں :۔
xمصحف السند xمصحف المتن
مصحف السند :۔ جس حدیث کی سند مین تصحیف ہو ۔ جیسے :۔
عن شیبۃ عن العوام بن مراجم عن ابی عثمان النہدی عن عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم لتودن الحقوق الی اہلہا ۔ (مقدمہ ابن صلاح ۱۴۰)
امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہیں حق والوں کے حقوق ضرور ادا کرنا ہوں گے ۔
اس حدیث کی سند میں عوام بن مراجم کو یحیی بن معین نے مزاحم پڑ ھا جو اسی زمانہ میں رد کر دیا گیا تھا ۔ (مقدمہ ابن صلاح ۱۴۰)
ٍ مصحف المتن : ۔ وہ حدیث جس کے متن میں تصحیف واقع ہو ، جیسے ،
عن زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم احتجر فی المسجد ۔ (مقدمہ ابن صلاح۱۴۱)
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مسجد مین چٹائی سے آڑ کی ۔
اس حدیث کو ابن لہیعہ نے کتاب موسیٰ بن عقبہ سے نقل کر کے ، احتجم فی المسجد ، کر دیا ، یعنی آپ نے مسجد میں فصد کھلوائی ۔
یہ متن میں تصحیف ہوئی ، وجہ یہ تھی کہ ابن لہیعہ نے شیخ سے سنے بغیر محض کتاب سے یہ حدیث نقل کی جس کی وجہ سے یہ غلطی واقع ہوئی ۔(مقدمہ ابن صلاح۱۴۱)
اور جیسے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ حدیث:۔
رمی ابی یوم الاحزاب علی اکحلہ فکواہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔
اس حدیث میں ’غندر‘ سے یہ تحریف واقع ہوئی کہ انہوں نے لفظ ’اُبی‘ کو مضاف مضاف الیہ کر کے روایت کر دیا حالانکہ یہ لفظ ’اُبی‘ ہے اور اس سے مراد’ اُبی بن کعب ‘ہیں انہیں کا یہ واقعہ ہے جو حدیث میں ذکر ہوا ۔ اور تحریف کی صورت میں تو یہ واقعہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد کا قرار پائیے گا اور یہ درست نہیں ، کیونکہ وہ تو جنگ احزاب سے بیشتر جنگ احد میں شہید ہو چکے تھے ۔(دیباچہ بشیر القاری۔ مصنفہ صدر العلماء میرٹھی علیہ الرحمہ۳۸)
٭ لفظ و معنی کے اعتبار سے بھی دو قسمیں ہیں :۔
x مصحف اللفظ xمصحف المعنی
مصحف اللفظ : ۔ وہ حدیث جس کے لفط میں تصحیف ہو ، اکثر یہ ہی صورت پیش آتی ہے ۔
اس کی دو قسمیں ہیں :۔
xمصحف الشکل xمصحف النقط
مصحف الشکل :۔ وہ ھدیث جس کے خط کی صورت تو باقی رہے لیکن حروف کی حرکت بدل
جائے ۔ جیسے :۔
حضرت عرفجہ کی حدیث میں ’یوم کلُاب‘ کو ’یوم کلاُِب‘ بتانا ۔
بعض نے اس کو محرف کا نام دیا ہے ۔ (دیباچہ بشیر القاری۔ مصنفہ صدر العلماء میرٹھی علیہ الرحمہ۳۸)
مصحف النقط : ۔ جس کے خط کی صورت تو باقی رہے لیکن نقطوں میں تبدیلی ہوجائے۔ جیسے
گزشتہ مثال ۔
مراجم کو مزاحم پڑ ھنا۔
مصحف المعنی :۔ وہ حدیث جس کے معنی کو اصلی معنی مراد سے پھیر دینا جیسے :۔
ابو موسی عنزی کا بیان ہے کہ ہماری قوم کو بڑ ا شرف حاصل ہے کہ حضور نے ہمارے قبیلہ عنزہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑ ھی ۔ حالانکہ حدیث میں عنزہ سے مراد نیزہ تھا ، اور یہ اپنے قبیلہ کو سمجھے ۔ تفصیل تدوین حدیث کے عنوان میں گزری ۔
حکم : ۔ اگر کسی راوی سے اتفاقاً یہ عمل سرزد ہو جائے تو ضبط متاثر نہیں ہو تا کہ تھوڑ ی بہت غلطی
سے تو شاذ و نادر ہی کوئی بچتا ہے ۔ اگر بکثرت ہو تو عیب ہے اور ضبط مجروح ۔ اکثر و بیشتر تصحیف کا سبب یہ ہوتا تھا کہ راوی استاذ و شیخ کے بجائے کتب و صحائف سے حدیث حاصل کرتا تھا جس کے متعلق ایک زمانہ تک یہ نظر یہ رہا کہ اس طرح تحصیل حدیث منع ہے ، لیکن جب مدون ہو گیا اور محض زبانی یاد داشت پر تکیہ نہ رہا تو وہ ممانعت بھی نہ رہی ۔
مشہور تصانیف فن
٭ التصحیف للدار قطنی م ۳۸۵ھ
٭ اصلاح خطاء المحدثین للخطابیم ۳۲۸ھ
٭ تصحیفات المحدثین للعسکری م ۳۸۲ھ
شاذ و محفوظ
تعریف :۔ وہ حدیث جسے کوئی مقبول عادل راوی ایسے راوی کے خلاف روایت کرے جومرتبہ میں اس سے فائق ہے ۔
اس کے مقابل کو محفوظ کہتے ہیں : ۔
شاذ کی دو قسمیں ہیں :۔
x شاذ السند xشاذ المتن
شاذ السند : ۔ وہ حدیث جس کی سند میں شذوذ ہو ۔ جیسے :۔
عن سفیان بن عینیۃ عن عمر و بن دینار عن عوسجۃ عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ان رجلا توفی علی عہد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم و لم یدع و ارثا الا مولی ہو ا عتقہ ۔(شرح نخبۃ الفکر۳۹)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے عہد پاک میں ایک شخص کا انتقال ہوا اور اس نے اپنے آقا کے سوا جس نے اسے آزاد کیا تھا کسی دوسرے کو وارث نہ چھوڑ ا ۔
یہ حدیث متصل ہے ، سفیان کی طرح ابن جریج نے بھی اسے موصولا روایت کیا ہے ۔ لیکن حماد بن زید نے مرسلا روایت کیا ۔ یعنی حضرت ابن عباس کو واسطہ نہیں بنایا ۔
چونکہ دونوں طرح کی روایتوں یعنی موصول و مرسل کے راوی ثقہ ہیں ، لیکن حماد بن زید ، کے مقابلہ میں سفیان کی روایت کو متعدد ثقہ حضرات نے ذکر کیا ہے ، لہذا موصول راجح اور مرسل مرجوح قرار دی گئی اور مذکورہ سند محفوظ اور اس کے مقابل شاذ ہوئی ۔
شاذ المتن :۔ وہ حدیث جس کے متن میں شذوذ ہو ۔ جیسے :۔
عن عبد الواحد بن زیاد عن الاعمش عن ابی صالح عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : اذا صلی احدکم الفجر فلیضطجع عن یمینہ۔ (السنن لا بی داؤد)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم نماز فجر پڑ ھ لو تو داہنی کروٹ پر لیٹ جاؤ ۔
یہ حدیث قولی ہے ۔ لیکن دوسرے ثقہ حضرات نے اس حدیث کو حضور کے فعل کے طور پر ذکر کیا ہے ۔ امام بیہقی کہتے ہیں ، عبد الواحد نے حدیث قولی روایت کر کے متعدد ثقہ روات کی مخالفت کی ہے ۔ اور یہ اپنی اس روایت میں تنہا ہیں ۔ لہذا ان کی روایت’’ شاذ ‘‘اور دوسرے حضرات کی ’’محفوظ‘ ‘ ہے ۔
منکرو معروف
تعریف منکر :۔ وہ حدیث جس کا راوی ضعیف ہو اور معتمد رواۃ کی حدیث کے خلاف روایت کرے ۔
اس کے مقابل کو معروف کہتے ہیں : ۔
مثال : ۔
ابن ابی حاتم کی روایت بطریق حبیّب بن حبیب :۔
عن ابی اسحاق عن العیزار بن حریث عن ابن عباس عن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال : من اقام الصلوۃ و آتی الزکوۃ و حج البیت و صام و قری الضیف دخل الجنۃ ۔ (شرح نخبۃ الفکر۴۰)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے نماز پڑ ھی ، زکوۃ دی ، حج بیت اللہ کیا ، رمضان کے روزے رکھے اور مہمان نوازی کی وہ جنت میں داخل ہوا ۔
ابو حاتم کا کہنا ہے کہ یہ روایت منکر ہے ، کیونکہ ثقہ روات نے اس حدیث کو موقوفا روایت کیا یعنی حضرت ابن عباس کا قول بتایا ہے ، لہذا س مخالفت کی بنیاد پر ابو اسحاق کی یہ روایت منکر قرار پائی۔ اورباقی دوسرے ثقہ راویوں کی معروف ۔(شرح نخبۃ الفکر۴۰)
انتباہ:۔بعض حضرات نے ’’شاذ و منکر‘ میں مخالفت کا اعتبار نہیں کیا اور شاذ کی تعریف یہ کی ۔
اس حدیث کو کہتے ہیں جس کو ثقہ نے روایت کیا اور اس روایت مین منفرد ہو، اور اس کے لئے کوئی اصل موید پائی جائے ۔ یہ تعریف ثقہ کے فرد صحیح پر صادق آتی ہے ۔ اور اول تعریف صادق نہیں ۔ اور بعض نے ’’شاذ ‘‘ میں نہ راوی کے ثقہ ہونے کا اعتبار کیا اور نہ مخالفت کا ۔
ایسے ہی منکر کو صورت مذکورہ کے ساتھ خاص نہیں کیا یہ لوگ فسق اور فرط غفلت اور کثرت غلط کے ساتھ مطعون کی حدیث کو منکر کہتے ہیں ۔ یہ اپنی اپنی اصطلاح ہے ۔
و للناس فیما یعشوقون مذاہب ۔ (دیباچہ بشیر القاری ۳۵)
منکر کی بایں معنی تعریف اور قدرے تفصیل متروک کے بعد اس سے قبل ذکر کی جا چکی ہے ۔
ابن صلاح نے منکر مقابل معروف کو مقسم قرار دیکر شاذاور منکر کو اس کی قسمیں بتایا
ہے ۔
حکم : ۔ شاذ کے راوی ثقہ نہیں تو یہ مردود ہے ورنہ مرجوح ہو گی اور منکر مردود ہے ۔
البتہ محفوظ و معروف راجح اور مقبول ہوتی ہے ۔
زیاتی ثقات
تعریف : ۔ زیادتی ثقات سے مراد راویوں کی جانب سے احادیث میں منقول وہ زائد کلمات ہیں جو دوسروں سے منقول نہ ہوں ۔
زیادتی ثقات در اصل مخالفت ثقات کا ایک پہلو ہے اور گزشتہ اوراق میں ذکر کردہ اقسام در اصل اسی اصل کے جزئیات ہیں جیسا کہ مذکورہ تفصیلات سے ظاہر ہے ۔ لیکن ان کے عناوین مستقل تھے لہذا ان کو علیٰحدہ ذکر کر دیا گیا ۔
اب زیادتی ثقات کو علیٰحدہ ایک مستقل علم و فن اور باب قرار دیکر اس سے بحث مقصود ہے ۔ زیادتی متن میں بھی ہوتی اور سند میں بھی ۔
متن میں زیادتی کی تین قسمیں ہیں :۔
xزیادتی منافی xزیادتی غیر منافی xزیادتی منافی از بعض وجوہ
زیادتی منافی:۔ ایسی زیادتی جو دوسرے ثقات یا اوثق کی روایت کے منافی و معارض ہو ۔
مثال جیسے :۔
عن عقبۃبن عامر قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : یوم عرفۃ و یوم النحر و ایام التشریق عیدنا اہل الاسلام و ہی ایام اکل و شرب ۔ (الجامع للترمذی باب فی کراہیۃ یوم التشریق ۱/۹۶)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یوم عرفہ و ذوالحجہ اور یوم نحر ۱۰ ذوالحجہ اور ایام تشریق۱۱،۱۲،۱۳ذوالحجہ ہم مسلمانوں کی عید کے ایام ہیں اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں ۔
اس حدیث میں ’’یوم عرفۃ ‘‘ کی زیادتی ہے اور یہ زیادتی صرف موسی بن علی سے منقول ہے باقی طرق میں منقول نہیں ۔ اور یہ دیگر روایات کے منافی بھی ہے کہ دوسری روایتوں میں تو ۹ ذوالحجہ کے روزہ کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور اس میں ممانعت ۔
حکم : ۔ یہ مثل شاذ ہے :۔
زیادتی غیر منافی :۔ ایسی زیادتی جو معارض و منافی نہ ہو ۔
مثال : ۔ عن الاعمش عن ابی رزین و ابی صالح عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : اذا ولغ الکلب فی اناء احدکم لیغسلہ سبع مرار۔ (الصحیح لمسلم باب حکم ولوغ الکلب ۱/۱۳۷)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کتا تمہارے برتن میں منہ ڈالے تو ا سکو سات مرتبہ دھولو۔
اما م اعمش تک تمام راوی اس متن پر متفق ہیں لیکن آپ کے بعد آپ کے تلامذہ میں علی بن مسہر نے ’’ فَلْیُرِقْہ ‘‘کا اضافہ کر دیا ۔
یعنی برتن دھونے سے پہلے پانی کو بہادے ۔
امام مسلم فرماتے ہیں :۔
حدثنی محمد بن الصباح قال : نا اسماعیل بن زکریا عن الاعمش بہذا الاسناد مثلہ و لم یذکر ، فلیرقہ ۔(الصحیح لمسلم باب حکم ولوغ الکلب ۱/۱۳۷)
حکم : ۔ یہ زیادتی ثقہ کی ہے اور اصل روایت کے منافی نہیں ، لہذاثقہ کی مستقل روایت کے
حکم میں مقبول ہو گی ۔
زیادتی منافی از بعض وجوہ : ۔ وہ زیادتی جو بعض وجوہ سے منافی ہو اور بعض اعتبار سے نہیں ۔
مثال : جیسے :۔
عن حذیفۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : فضلنا علی الناس بثلث ( الی ان قال ) و جعلت لنا الارض کلہا مسجدا و جعلت تربتہا لنا طہورا ۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہمیں لوگوں پر تین چیزوں میں فضیلت دی گئی ، (آخر میں فرمایا) اور ہمارے لئے تمام زمین مسجد بنادی گئی ، اور اس کی مٹی پاکی حاصل کرنے یعنی تیمم کا ذریعہ بنادی گئی ۔
اس حدیث میں ’’ و تربتہا ‘‘ کا لفظ صرف ابو مالک اشجعی سے مروی ہے اور کسی نے نہیں ، دوسری روایتوں کے الفاظ یہ ہیں ۔
و جعلت لنا الارض مسجد او طہورا ۔
اس زیادتی کے ذریعہ کبھی عام کی تخصیص اور کبھی مطلق کی تقیید ہوتی ہے ۔ امام نو وی فرماتے ہیں : ۔
اما م شافعی اور امام احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اس زیادتی کو معتبر قرار دیتے ہوئے لفظ مٹی سے تیمم جائز قرار دیا اور جن احادیث میں مطلق ارض کا ذکر ہے ان کو اسی پر محمول فرمایا ۔ بر خلاف امام اعظم و امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہ آپ نے جمیع اجزائے زمین سے تیمم کو جائز فرمایا ہے ۔ لہذ مطلق اپنے اطلاق پر رہے گا اور مقید اپنی تقیید پر ۔
سند میں زیادتی : ۔ سند میں زیادتی کی متعدد صورتیں ہیں جن کی تفصیل مستقل عناوین کے ساتھ گزرچکی ۔
جیسے ۔ المزید فی متصل الاسانید۔
زیادتی ثقہ کے تحت خاص طور پر حدیث کے وصل و ارسال ، اور وقف ورفع کا تعارض زیر بحث آتا ہے ۔
جہالت راوی
عدالت میں طعن کے وجوہ پانچ شمار کئے گئے تھے ، ان میں سے کذب اور اتہام کذب کا بیان موضوع اور متروک کے عنوان سے کیا جا چکا ۔ اور فسق راوی کا ذکر منکر کے ضمن میں گزرا اب جہالت راوی کا بیان ہے ۔
جہالت راوی سے مراد یہ ہے کہ راوی کی عدالت ظاہر ی اور باطنی معلوم نہ ہو ایسے راوی کو ’’ مجہول الحال ‘‘ کہتے ہیں اور اس کی حدیث کو’’ مبہم ‘‘۔
جیسے کہتے ہیں :۔
حدثنی رجل ۔ یا حدثنی شیخ۔
ایسے راوی کی حدیث مقبول نہیں ۔ ہاں اگر حدیث مبہم بلفظ تعدیل وارد ہو ، جیسے حدثنی ثقہ ، یا ’اخبرنی عدل‘ تو اس میں اختلاف ہے ۔اصح یہ ہے کہ مقبول نہیں ۔ کیونکہ جائز ہے کہ کہنے والے کے اعتقاد میں عدل ہو اور نفس الامر میں نہ ہو ۔ اور اگر کوئی امام حاذق یہ الفاظ فرمائے تو مقبول ہے ۔ اور اگر راوی کی عدالت ظاہری معلوم ہے اور باطنی کی تحقیق نہیں اس کو مستور کہتے ہیں اور اگر راوی سے صرف ایک ہی شخص نے روایت کی ہے تو ا سکو مجہول العین کہتے ہیں ، ان دونوں کی روایت محققین کے نزدیک قابل احتجاج ہے ۔
امام نو وی قدس سرہ القوی منہاج میں فرماتے ہیں :۔
المجہول اقسام ، مجہول العدالۃ ظاہرا و باطنا ، و مجہولہا باطنا مع وجود ہا ظاہر ا و ہو المستور ، ومجہول العین۔ فاما الاول فالجمہور علی انہ لا یحتج بہ ، اما الآخران فاحتج بہما کثیرون من المحققین ۔ (دیباچہ بشیر القاری ۳۶)
اس کی بعض تفصیلات حسب ذیل ہیں :۔
راوی کبھی کثرت صفات و القاب کی وجہ سے ، کبھی قلت روایت کی وجہ سے اور کبھی نام کی عدم صراحت کی وجہ سے مجہول ہوتا ہے ۔
کثرت صفات : ۔ جن الفاظ و کلمات سے راوی کو ذکر کیا جاتا ہے ان کی کثرت خواہ وہ حقیقی نام و کنیت ہو ، یا لقب و وصف ، یا نسب و پیشہ۔ راوی ان میں سے کسی ایک سے معروف ہوتا ہے اور ذکر کرنے والا کسی خاص مقصد کے تحت غیر مشہور نام و وصف استعمال کرتا ہے ۔ لہذا یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ پوری ایک جماعت کے نام ہیں حالانکہ ان سب کا مصداق ایک ہی آدمی ہوتا ہے ۔
مثال : ۔ محمد بن سائب بن بشر کلبی ۔ بعض نے دادا کی طرف منسوب کر کے محمد بن بشر ، ذکر کیا۔ بعض نے ا ن کا نام ’’حماد‘‘ لکھا۔ کنیتوں میں کسی نے ابو نصر بیان کی۔ کسی نے ’’ ابو سعید ‘‘ اور کسی نے ابو ہشام۔ اس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ متعدد اشخاص کے نام ہیں حالانکہ صرف ایک شخص ہیں ۔
قلت روایت : ۔ راوی سے نقل روایت کا سلسلہ نہایت محدود ہوتا ہے کہ بعض اوقات ایک ہی شخص ان سے روایت کرتا ہے ۔ اس وجہ سے راوی مجہول سمجھا جاتا ہے ۔
مثال : ۔ ابو العشراء دارمی ۔ یہ تابعین میں سے ہیں ، ان سے صرف ’’ حماد بن ابی سلمہ ‘‘ نے روایت کی ہے ۔
نام کی عدم صراحت : ۔ حدیث کے راوی کا نام نہ لینا ، خواہ اختصار کے پیش نظر ہو خواہ کوئی دوسرا سبب ۔
مثال :۔راوی یوں کہے :۔
اخبرنی فلان ، اخبرنی شیخ ، اخبرنی رجل۔
زیادتی ثقات در اصل مخالفت ثقات کا ایک پہلو ہے اور گزشتہ اوراق میں ذکر کردہ اقسام در اصل اسی اصل کے جزئیات ہیں جیسا کہ مذکورہ تفصیلات سے ظاہر ہے ۔ لیکن ان کے عناوین مستقل تھے لہذا ان کو علیٰحدہ ذکر کر دیا گیا ۔
اب زیادتی ثقات کو علیٰحدہ ایک مستقل علم و فن اور باب قرار دیکر اس سے بحث مقصود ہے ۔ زیادتی متن میں بھی ہوتی اور سند میں بھی ۔
متن میں زیادتی کی تین قسمیں ہیں :۔
xزیادتی منافی xزیادتی غیر منافی xزیادتی منافی از بعض وجوہ
زیادتی منافی:۔ ایسی زیادتی جو دوسرے ثقات یا اوثق کی روایت کے منافی و معارض ہو ۔
مثال جیسے :۔
عن عقبۃبن عامر قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : یوم عرفۃ و یوم النحر و ایام التشریق عیدنا اہل الاسلام و ہی ایام اکل و شرب ۔ (الجامع للترمذی باب فی کراہیۃ یوم التشریق ۱/۹۶)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یوم عرفہ و ذوالحجہ اور یوم نحر ۱۰ ذوالحجہ اور ایام تشریق۱۱،۱۲،۱۳ذوالحجہ ہم مسلمانوں کی عید کے ایام ہیں اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں ۔
اس حدیث میں ’’یوم عرفۃ ‘‘ کی زیادتی ہے اور یہ زیادتی صرف موسی بن علی سے منقول ہے باقی طرق میں منقول نہیں ۔ اور یہ دیگر روایات کے منافی بھی ہے کہ دوسری روایتوں میں تو ۹ ذوالحجہ کے روزہ کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور اس میں ممانعت ۔
حکم : ۔ یہ مثل شاذ ہے :۔
زیادتی غیر منافی :۔ ایسی زیادتی جو معارض و منافی نہ ہو ۔
مثال : ۔ عن الاعمش عن ابی رزین و ابی صالح عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : اذا ولغ الکلب فی اناء احدکم لیغسلہ سبع مرار۔ (الصحیح لمسلم باب حکم ولوغ الکلب ۱/۱۳۷)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کتا تمہارے برتن میں منہ ڈالے تو ا سکو سات مرتبہ دھولو۔
اما م اعمش تک تمام راوی اس متن پر متفق ہیں لیکن آپ کے بعد آپ کے تلامذہ میں علی بن مسہر نے ’’ فَلْیُرِقْہ ‘‘کا اضافہ کر دیا ۔
یعنی برتن دھونے سے پہلے پانی کو بہادے ۔
امام مسلم فرماتے ہیں :۔
حدثنی محمد بن الصباح قال : نا اسماعیل بن زکریا عن الاعمش بہذا الاسناد مثلہ و لم یذکر ، فلیرقہ ۔(الصحیح لمسلم باب حکم ولوغ الکلب ۱/۱۳۷)
حکم : ۔ یہ زیادتی ثقہ کی ہے اور اصل روایت کے منافی نہیں ، لہذاثقہ کی مستقل روایت کے
حکم میں مقبول ہو گی ۔
زیادتی منافی از بعض وجوہ : ۔ وہ زیادتی جو بعض وجوہ سے منافی ہو اور بعض اعتبار سے نہیں ۔
مثال : جیسے :۔
عن حذیفۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : فضلنا علی الناس بثلث ( الی ان قال ) و جعلت لنا الارض کلہا مسجدا و جعلت تربتہا لنا طہورا ۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہمیں لوگوں پر تین چیزوں میں فضیلت دی گئی ، (آخر میں فرمایا) اور ہمارے لئے تمام زمین مسجد بنادی گئی ، اور اس کی مٹی پاکی حاصل کرنے یعنی تیمم کا ذریعہ بنادی گئی ۔
اس حدیث میں ’’ و تربتہا ‘‘ کا لفظ صرف ابو مالک اشجعی سے مروی ہے اور کسی نے نہیں ، دوسری روایتوں کے الفاظ یہ ہیں ۔
و جعلت لنا الارض مسجد او طہورا ۔
اس زیادتی کے ذریعہ کبھی عام کی تخصیص اور کبھی مطلق کی تقیید ہوتی ہے ۔ امام نو وی فرماتے ہیں : ۔
اما م شافعی اور امام احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اس زیادتی کو معتبر قرار دیتے ہوئے لفظ مٹی سے تیمم جائز قرار دیا اور جن احادیث میں مطلق ارض کا ذکر ہے ان کو اسی پر محمول فرمایا ۔ بر خلاف امام اعظم و امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہ آپ نے جمیع اجزائے زمین سے تیمم کو جائز فرمایا ہے ۔ لہذ مطلق اپنے اطلاق پر رہے گا اور مقید اپنی تقیید پر ۔
سند میں زیادتی : ۔ سند میں زیادتی کی متعدد صورتیں ہیں جن کی تفصیل مستقل عناوین کے ساتھ گزرچکی ۔
جیسے ۔ المزید فی متصل الاسانید۔
زیادتی ثقہ کے تحت خاص طور پر حدیث کے وصل و ارسال ، اور وقف ورفع کا تعارض زیر بحث آتا ہے ۔
جہالت راوی
عدالت میں طعن کے وجوہ پانچ شمار کئے گئے تھے ، ان میں سے کذب اور اتہام کذب کا بیان موضوع اور متروک کے عنوان سے کیا جا چکا ۔ اور فسق راوی کا ذکر منکر کے ضمن میں گزرا اب جہالت راوی کا بیان ہے ۔
جہالت راوی سے مراد یہ ہے کہ راوی کی عدالت ظاہر ی اور باطنی معلوم نہ ہو ایسے راوی کو ’’ مجہول الحال ‘‘ کہتے ہیں اور اس کی حدیث کو’’ مبہم ‘‘۔
جیسے کہتے ہیں :۔
حدثنی رجل ۔ یا حدثنی شیخ۔
ایسے راوی کی حدیث مقبول نہیں ۔ ہاں اگر حدیث مبہم بلفظ تعدیل وارد ہو ، جیسے حدثنی ثقہ ، یا ’اخبرنی عدل‘ تو اس میں اختلاف ہے ۔اصح یہ ہے کہ مقبول نہیں ۔ کیونکہ جائز ہے کہ کہنے والے کے اعتقاد میں عدل ہو اور نفس الامر میں نہ ہو ۔ اور اگر کوئی امام حاذق یہ الفاظ فرمائے تو مقبول ہے ۔ اور اگر راوی کی عدالت ظاہری معلوم ہے اور باطنی کی تحقیق نہیں اس کو مستور کہتے ہیں اور اگر راوی سے صرف ایک ہی شخص نے روایت کی ہے تو ا سکو مجہول العین کہتے ہیں ، ان دونوں کی روایت محققین کے نزدیک قابل احتجاج ہے ۔
امام نو وی قدس سرہ القوی منہاج میں فرماتے ہیں :۔
المجہول اقسام ، مجہول العدالۃ ظاہرا و باطنا ، و مجہولہا باطنا مع وجود ہا ظاہر ا و ہو المستور ، ومجہول العین۔ فاما الاول فالجمہور علی انہ لا یحتج بہ ، اما الآخران فاحتج بہما کثیرون من المحققین ۔ (دیباچہ بشیر القاری ۳۶)
اس کی بعض تفصیلات حسب ذیل ہیں :۔
راوی کبھی کثرت صفات و القاب کی وجہ سے ، کبھی قلت روایت کی وجہ سے اور کبھی نام کی عدم صراحت کی وجہ سے مجہول ہوتا ہے ۔
کثرت صفات : ۔ جن الفاظ و کلمات سے راوی کو ذکر کیا جاتا ہے ان کی کثرت خواہ وہ حقیقی نام و کنیت ہو ، یا لقب و وصف ، یا نسب و پیشہ۔ راوی ان میں سے کسی ایک سے معروف ہوتا ہے اور ذکر کرنے والا کسی خاص مقصد کے تحت غیر مشہور نام و وصف استعمال کرتا ہے ۔ لہذا یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ پوری ایک جماعت کے نام ہیں حالانکہ ان سب کا مصداق ایک ہی آدمی ہوتا ہے ۔
مثال : ۔ محمد بن سائب بن بشر کلبی ۔ بعض نے دادا کی طرف منسوب کر کے محمد بن بشر ، ذکر کیا۔ بعض نے ا ن کا نام ’’حماد‘‘ لکھا۔ کنیتوں میں کسی نے ابو نصر بیان کی۔ کسی نے ’’ ابو سعید ‘‘ اور کسی نے ابو ہشام۔ اس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ متعدد اشخاص کے نام ہیں حالانکہ صرف ایک شخص ہیں ۔
قلت روایت : ۔ راوی سے نقل روایت کا سلسلہ نہایت محدود ہوتا ہے کہ بعض اوقات ایک ہی شخص ان سے روایت کرتا ہے ۔ اس وجہ سے راوی مجہول سمجھا جاتا ہے ۔
مثال : ۔ ابو العشراء دارمی ۔ یہ تابعین میں سے ہیں ، ان سے صرف ’’ حماد بن ابی سلمہ ‘‘ نے روایت کی ہے ۔
نام کی عدم صراحت : ۔ حدیث کے راوی کا نام نہ لینا ، خواہ اختصار کے پیش نظر ہو خواہ کوئی دوسرا سبب ۔
مثال :۔راوی یوں کہے :۔
اخبرنی فلان ، اخبرنی شیخ ، اخبرنی رجل۔
امام اعظم کے نزدیک مجہول کے احکام
مجہول العین : ۔ یہ کوئی جرح نہیں ، اس کی حدیث جب غیر مقبول ہو گی جبکہ سلف نے اسے مردود قرار دیا ہو، یا یہ کہ اس کا ظہور عہد تابعین کے بعد ہو۔ اگر قرون ثلثہ میں ہو تو مطلقا مقبول ہے ۔ مجہو ل الاسم کا بھی یہ ہی حکم ہے ۔ اور مجہول الحال راوی مقبول ہے ۔
بدعت
راوی کی عدالت میں طعن کا سبب بدعت بھی ہے۔
بدعت سے مراد اہل سنت و جماعت کے خلاف کسی چیز کا اعتقاد رکھنا بشرطیکہ یہ اعتقاد کسی تاویل پر مبنی ہو ۔
ایسے بدعتی کی حدیث جمہور کے نزدیک مقبول نہیں ۔ اور بعض کے نزدیک مقبول ہے بشرطیکہ موصوف بالصدق ہو ۔ اور بعض نے فرمایا کہ اگر وہ بدعتی وضروریات دین میں سے کسی ضروری چیز کامنکر ہے تو اس کی حدیث مردود ہے ورنہ مقبول بشرطیکہ ضبط ، ورع ، تقوی ، احتیاط اور صیانت کے ساتھ متصف ہو۔
لیکن مختار مذہب یہ ہے کہ ا گر وہ اپنی بدعت کی جانب دعوت دیتا اور اس کی ترویج کرتا ہے تو اس کی حدیث مقبول نہیں ورنہ مقبول کی جائے گی ۔ بالجملہ اہل بدعت سے اخذ حدیث میں ائمہ مختلف ہیں اور احتیاط اسی میں ہے کہ ان سے حدیث اخذ نہ کی جائے کہ یہ لوگ اپنے مذہب کی ترویج کے واسطے احادیث گڑ ھتے اور بعد توبہ اعتراف کرتے تھے ۔ (دیباچہ بشیر القاری ۳۶)
سوء حفط
راوی کے ضبط میں طعن کے وجوہ بھی پانچ شمار کئے گئے تھے ، ان میں سے فرط غفلت اور کثرت غلط کو منکر کے تحت ذکر کیا گیا تھا ، اور کثرت وہم حدیث معلل کے ضمن میں بیان ہوا ، اور مخالفت ثقات کو مدرج وغیرہا سات اقسام میں شمار کیا ، اب فقط سوء حفظ کا ذکر باقی ہے ، اس کے سلسلہ میں اجمالی کلام یہ ہے ۔
x لازم xطاری
لازم : ۔ وہ ہے جو تمام احوال میں پایا جائے ، ایسے راوی کی حدیث معتبر نہیں۔
طاری : ۔ وہ ہے جو پہلے نہ تھا کسی سبب سے حادث ہو گیا، جیسے پیرانہ سالی ، یا ذہاب بصارت ، یا فقدان کتب ، ایسے راوی کو مختلط کہتے ہیں ۔ اس کی اختلاط سے پہلے کی احادیث قبول کی جائیں گی بشرطیکہ اختلاط سے بعد کی روایتوں سے ممتاز ہوں ۔ اور اگر ممتاز نہیں تو توقف کیا جائیگا ۔ اور اگر مشتبہ ہیں تب بھی ان کا حکم توقف ہے ۔ اگر ان کے واسطے متابعات و شواہد دستیاب ہو گئے تو مقبول ہو جائیں گی ۔ (دیباچہ بشیر القاری ۳۸)
ضروری وضاحت
تعدد طرق سے حدیث کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔ اس اصول کے تحت حسن لذاتہ کو صحیح لغیرہ کا درجہ ملتا ہے ۔ راوی کا ضعف سوء حفظ ، یا جہالت کی وجہ سے ہو تو حدیث حسن لغیرہ ہو جاتی ہے ۔ متروک و منکر احادیث اسی جیسے رواۃ کے تعدد طرق سے مروی ہوں تو مستور اور سوء حفظ کے حامل کی روایت کے درجہ میں شمار ہوتی ہے ۔ اب اگر مزید تائید میں کوئی ایسی ضعیف حدیث مل جاے جس کے ضعف کو گوارہ کیا جا سکتا ہے تو پورا مجموعہ حسن لغیرہ کی منزل میں آجائے گا ۔
اعتبار
تعریف:۔ کسی حدیث کی حیثیت جاننے کے لئے دوسری احادیث پر غور کرنا یعنی یہ جاننا کہ کسی دوسرے نے اس حدیث کو روایت کیا ہے یا نہیں اگر روایت کیا ہے تو اس کی نوعیت کیا ہے ، دونوں میں موافقت ہے یا مخالفت ، اگر موافقت ہے تو لفظی ہے یا معنوی ، نیز دونوں کی روایت ایک صحابی سے ہے یا دو سے ۔ اگر مخالفت ہے تو دونوں کے راویوں میں باہم کیا نسبت ہے کہ کسی ایک کو ترجیح ہو ۔ اگر تحقیقی سے معلوم ہو جائے کہ اس حدیث کو کسی دوسرے نے روایت نہیں کیا تو وہ فرد و غریب ہے ۔
ہاں کسی دوسرے نے موافقت کے ساتھ روایت کیا ہے تو حسب تفصیل دوسری حدیث کو متابع اور شاہد کہتے ہیں ۔ اور مخالفت کیساتھ روایت کیا تو وہ تمام تفصیلات آپ شاذو منکر وغیرہا کے بیان میں پڑ ھ چکے ہیں ۔
اس تفصیل سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ متابعت سے تائید و تقویت حاصل ہوتی ہے یہ ضروری نہیں کہ متابعت کرنے والا راوی اصل راوی کے مرتبہ میں مساوی ہو بلکہ کم مرتبہ کی متابعت بھی معتبر ہے ۔
متابع و شاہد
تعریف متابع:۔ اکثر کے نزدیک وہ حد یث جس کو ایک ہی صحابی سے لفظ و معنی یا صرف معنی کی موافقت سے ذکر کیا جائے ۔
تعریف شاہد : ۔ اکثر کے نزدیک وہ حدیث جس کو چند صحابہ سے لفظ و معنی یا صرف معنی کی موافقت سے ذکر کیا جائے ۔
بعض حضرات موافقت فی اللفظ کو متابع اور موافق فی المعنی کو شاہد کہتے ہیں ۔ خواہ ایک صحابی سے مروی ہو یا دو سے ۔ اور کبھی متابع و شاہد ایک معنی میں بولے جاتے ہیں ۔
بدعت
راوی کی عدالت میں طعن کا سبب بدعت بھی ہے۔
بدعت سے مراد اہل سنت و جماعت کے خلاف کسی چیز کا اعتقاد رکھنا بشرطیکہ یہ اعتقاد کسی تاویل پر مبنی ہو ۔
ایسے بدعتی کی حدیث جمہور کے نزدیک مقبول نہیں ۔ اور بعض کے نزدیک مقبول ہے بشرطیکہ موصوف بالصدق ہو ۔ اور بعض نے فرمایا کہ اگر وہ بدعتی وضروریات دین میں سے کسی ضروری چیز کامنکر ہے تو اس کی حدیث مردود ہے ورنہ مقبول بشرطیکہ ضبط ، ورع ، تقوی ، احتیاط اور صیانت کے ساتھ متصف ہو۔
لیکن مختار مذہب یہ ہے کہ ا گر وہ اپنی بدعت کی جانب دعوت دیتا اور اس کی ترویج کرتا ہے تو اس کی حدیث مقبول نہیں ورنہ مقبول کی جائے گی ۔ بالجملہ اہل بدعت سے اخذ حدیث میں ائمہ مختلف ہیں اور احتیاط اسی میں ہے کہ ان سے حدیث اخذ نہ کی جائے کہ یہ لوگ اپنے مذہب کی ترویج کے واسطے احادیث گڑ ھتے اور بعد توبہ اعتراف کرتے تھے ۔ (دیباچہ بشیر القاری ۳۶)
سوء حفط
راوی کے ضبط میں طعن کے وجوہ بھی پانچ شمار کئے گئے تھے ، ان میں سے فرط غفلت اور کثرت غلط کو منکر کے تحت ذکر کیا گیا تھا ، اور کثرت وہم حدیث معلل کے ضمن میں بیان ہوا ، اور مخالفت ثقات کو مدرج وغیرہا سات اقسام میں شمار کیا ، اب فقط سوء حفظ کا ذکر باقی ہے ، اس کے سلسلہ میں اجمالی کلام یہ ہے ۔
x لازم xطاری
لازم : ۔ وہ ہے جو تمام احوال میں پایا جائے ، ایسے راوی کی حدیث معتبر نہیں۔
طاری : ۔ وہ ہے جو پہلے نہ تھا کسی سبب سے حادث ہو گیا، جیسے پیرانہ سالی ، یا ذہاب بصارت ، یا فقدان کتب ، ایسے راوی کو مختلط کہتے ہیں ۔ اس کی اختلاط سے پہلے کی احادیث قبول کی جائیں گی بشرطیکہ اختلاط سے بعد کی روایتوں سے ممتاز ہوں ۔ اور اگر ممتاز نہیں تو توقف کیا جائیگا ۔ اور اگر مشتبہ ہیں تب بھی ان کا حکم توقف ہے ۔ اگر ان کے واسطے متابعات و شواہد دستیاب ہو گئے تو مقبول ہو جائیں گی ۔ (دیباچہ بشیر القاری ۳۸)
ضروری وضاحت
تعدد طرق سے حدیث کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔ اس اصول کے تحت حسن لذاتہ کو صحیح لغیرہ کا درجہ ملتا ہے ۔ راوی کا ضعف سوء حفظ ، یا جہالت کی وجہ سے ہو تو حدیث حسن لغیرہ ہو جاتی ہے ۔ متروک و منکر احادیث اسی جیسے رواۃ کے تعدد طرق سے مروی ہوں تو مستور اور سوء حفظ کے حامل کی روایت کے درجہ میں شمار ہوتی ہے ۔ اب اگر مزید تائید میں کوئی ایسی ضعیف حدیث مل جاے جس کے ضعف کو گوارہ کیا جا سکتا ہے تو پورا مجموعہ حسن لغیرہ کی منزل میں آجائے گا ۔
اعتبار
تعریف:۔ کسی حدیث کی حیثیت جاننے کے لئے دوسری احادیث پر غور کرنا یعنی یہ جاننا کہ کسی دوسرے نے اس حدیث کو روایت کیا ہے یا نہیں اگر روایت کیا ہے تو اس کی نوعیت کیا ہے ، دونوں میں موافقت ہے یا مخالفت ، اگر موافقت ہے تو لفظی ہے یا معنوی ، نیز دونوں کی روایت ایک صحابی سے ہے یا دو سے ۔ اگر مخالفت ہے تو دونوں کے راویوں میں باہم کیا نسبت ہے کہ کسی ایک کو ترجیح ہو ۔ اگر تحقیقی سے معلوم ہو جائے کہ اس حدیث کو کسی دوسرے نے روایت نہیں کیا تو وہ فرد و غریب ہے ۔
ہاں کسی دوسرے نے موافقت کے ساتھ روایت کیا ہے تو حسب تفصیل دوسری حدیث کو متابع اور شاہد کہتے ہیں ۔ اور مخالفت کیساتھ روایت کیا تو وہ تمام تفصیلات آپ شاذو منکر وغیرہا کے بیان میں پڑ ھ چکے ہیں ۔
اس تفصیل سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ متابعت سے تائید و تقویت حاصل ہوتی ہے یہ ضروری نہیں کہ متابعت کرنے والا راوی اصل راوی کے مرتبہ میں مساوی ہو بلکہ کم مرتبہ کی متابعت بھی معتبر ہے ۔
متابع و شاہد
تعریف متابع:۔ اکثر کے نزدیک وہ حد یث جس کو ایک ہی صحابی سے لفظ و معنی یا صرف معنی کی موافقت سے ذکر کیا جائے ۔
تعریف شاہد : ۔ اکثر کے نزدیک وہ حدیث جس کو چند صحابہ سے لفظ و معنی یا صرف معنی کی موافقت سے ذکر کیا جائے ۔
بعض حضرات موافقت فی اللفظ کو متابع اور موافق فی المعنی کو شاہد کہتے ہیں ۔ خواہ ایک صحابی سے مروی ہو یا دو سے ۔ اور کبھی متابع و شاہد ایک معنی میں بولے جاتے ہیں ۔


No comments:
Post a Comment