تعدیل راوی کی عدالت و ضبط کے تحقیق کو کہتے ہیں اور جرح سے مراد وہ امور ہیں جو ان دونوں پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ جن کی تفصیلی تعداد تیرہ بیان کی جاتی ہے ۔
عدالت پر اثر انداز: ۔
٭کذب٭اتہام کذب٭فسق ٭بدعت ٭ جہالت
ضبط پر اثر انداز : ۔
٭زیادۃ غلط ٭سوء حفظ ٭ فرط غفلت ٭ زیادت وہم ٭مخالفت ثقات ٭ شہرت تساہل ٭ شہرت قبول تلقین ٭نسیان
جرح و تعدیل وہی معتبر ہے جو ائمہ فن سے بغیر کسی تعصب یا بے جا حمایت کے ساتھ منقول ہو ، البتہ تعدیل مبہم کا اعتبار ہو گا کہ وجوہ عدالت بیان کئے بغیر ثقہ وغیرہ کہنا ، کیونکہ وجوہ عدالت کثیر ہیں جن کا احاطہ ایک وقت میں ممکن نہیں ۔
البتہ جرح مبہم غیر مفسر معتبر نہیں ، کہ اسباب جرح اتنے زائد نہیں کہ ان کے شمار میں دشواری ہو ۔ نیز اسباب جرح میں اختلاف ہے ، ہو سکتا ہے ایک سبب کسی کے نزدیک معتبر ہو اور دوسروں کے یہاں نہ ہو ۔
لہذا ابن صلاح نے تصریح کی کہ فقہ و اصول میں یہ ہی طے ہے ، اور خطیب نے ائمہ نقاد کا یہ ہی مذہب بتایا اور اسی پر عمل ہے ۔ ( تدریب الراوی للسیوطی ۱/۳۰۸)
خیال رہے کہ جن علماء و فقہاء کو امت نے مقتدا بنالیا ان پر کسی کی تنقید و جرح منقول نہیں ۔ (جامع بیان العلم لا بن عبد البر۲۱۵ )
الفاظ جرح اور ان کے مراتب
ادنی سے اعلیٰ کی طرف
۱۔جو نرمی ، تساہل اور لا پرواہی پر دلالت کریں ۔ جیسے :۔
٭ لین الحدیث ٭فیہ مقال٭وغیرہا
۲۔ جو عدم احتجاج یا اس کے مثل مفہوم پر دال ہوں ۔ جیسے :۔
٭ فلاں لا یحتج ٭ ضعیف ٭ لہ مناکیر ٭و غیرہا۔
۳۔ عدم کتابت یا اس کے مثل کی تصریح ۔ جیسے :۔
٭فلان لا یکتب حدیثہ ٭ لا تحل الروایۃ عنہ ٭ ضعیف جدا٭ واہ بمرۃ ٭ رد حدیثہ ٭ طرحو احدیثہ ٭وغیرہا ۔
۴۔ وہ الفاظ جواتہام کذب پر دال ہوں ۔ جیسے :۔
٭ فلان متہم الکذب ٭ متہم بالوضع ٭ یسرق الحدیث ٭ساقط ٭ متروک ٭ لیس ثقۃ ٭ ذاہب الحدیث وغیرہا۔
۵۔ وہ الفاظ جو صاف صاف جھوٹ پر دال ہوں ۔ جیسے :۔
٭کذاب ٭ دجال ٭ وضاع ٭یکذب ٭ یضع وغیرہا۔
۶۔ وہ الفاظ جو جھوٹ میں مبالغہ پر دلالت کریں ۔ جیسے :۔
٭ اکذب الناس ٭الیہ المنتہی فی الکذب٭ رکن الکذب وغیرہا۔
پہلے دو مراتب کی حدیث متابع اور شاہد میں کام آتی ہے ۔ باقی قطعا مردود وغیر مقبول ہیں ۔
الفاظ تعدیل اور ان کے مراتب
اعلی سے ادنی کی طرف
۱۔ وہ الفاظ جو ثقاہت اور اعتماد میں مبالغہ پر دال ہوں ۔ جیسے :۔
٭ فلان الیہ المنتہی فی التثبت ٭ فلان اثبت الناس ٭ لا احد اثبت عنہ وغیرہا۔
۲۔ وہ الفاظ جو ثقاہت کے بیان میں مکر ر آئیں ۔ جیسے :۔
٭ثقہ ثقۃ ٭ثقۃ ثبت وغیرہا۔
۳۔ وہ الفاظ جو بلا تاکید ثقاہت پر دال ہوں ۔ جیسے :۔
٭ ثقہ ٭حجۃ ٭ متقن ٭ عدل وغیرہا۔
۴۔وہ الفاظ جو صرف عدالت کا ثبوت دیں ، ضبط سے تعلق نہ ہو۔ جیسے :۔
٭صدوق٭ محلہ الصدق٭ مامون٭ خیار وغیرہا ۔
۵۔ وہ الفاظ جو جرح و تعدیل کچھ نہ بتائیں ۔ جیسے :۔
٭فلان شیخ وغیرہا۔
۶۔ وہ الفاظ جو جرح سے قرب کو ظاہر کریں ، جیسے :۔
٭فلان صالح الحدیث ٭ یکتب حدیثہ وغیرہا۔
پہلے تین مراتب کی حدیث حجت ہے ، چہارم پنجم کو پہلے کے موافق پائیں تو قبول کریں گے ورنہ نہیں ۔ششم کو متابع اور شاہدکے لئے لایا جائے گا۔
عدالت پر اثر انداز: ۔
٭کذب٭اتہام کذب٭فسق ٭بدعت ٭ جہالت
ضبط پر اثر انداز : ۔
٭زیادۃ غلط ٭سوء حفظ ٭ فرط غفلت ٭ زیادت وہم ٭مخالفت ثقات ٭ شہرت تساہل ٭ شہرت قبول تلقین ٭نسیان
جرح و تعدیل وہی معتبر ہے جو ائمہ فن سے بغیر کسی تعصب یا بے جا حمایت کے ساتھ منقول ہو ، البتہ تعدیل مبہم کا اعتبار ہو گا کہ وجوہ عدالت بیان کئے بغیر ثقہ وغیرہ کہنا ، کیونکہ وجوہ عدالت کثیر ہیں جن کا احاطہ ایک وقت میں ممکن نہیں ۔
البتہ جرح مبہم غیر مفسر معتبر نہیں ، کہ اسباب جرح اتنے زائد نہیں کہ ان کے شمار میں دشواری ہو ۔ نیز اسباب جرح میں اختلاف ہے ، ہو سکتا ہے ایک سبب کسی کے نزدیک معتبر ہو اور دوسروں کے یہاں نہ ہو ۔
لہذا ابن صلاح نے تصریح کی کہ فقہ و اصول میں یہ ہی طے ہے ، اور خطیب نے ائمہ نقاد کا یہ ہی مذہب بتایا اور اسی پر عمل ہے ۔ ( تدریب الراوی للسیوطی ۱/۳۰۸)
خیال رہے کہ جن علماء و فقہاء کو امت نے مقتدا بنالیا ان پر کسی کی تنقید و جرح منقول نہیں ۔ (جامع بیان العلم لا بن عبد البر۲۱۵ )
الفاظ جرح اور ان کے مراتب
ادنی سے اعلیٰ کی طرف
۱۔جو نرمی ، تساہل اور لا پرواہی پر دلالت کریں ۔ جیسے :۔
٭ لین الحدیث ٭فیہ مقال٭وغیرہا
۲۔ جو عدم احتجاج یا اس کے مثل مفہوم پر دال ہوں ۔ جیسے :۔
٭ فلاں لا یحتج ٭ ضعیف ٭ لہ مناکیر ٭و غیرہا۔
۳۔ عدم کتابت یا اس کے مثل کی تصریح ۔ جیسے :۔
٭فلان لا یکتب حدیثہ ٭ لا تحل الروایۃ عنہ ٭ ضعیف جدا٭ واہ بمرۃ ٭ رد حدیثہ ٭ طرحو احدیثہ ٭وغیرہا ۔
۴۔ وہ الفاظ جواتہام کذب پر دال ہوں ۔ جیسے :۔
٭ فلان متہم الکذب ٭ متہم بالوضع ٭ یسرق الحدیث ٭ساقط ٭ متروک ٭ لیس ثقۃ ٭ ذاہب الحدیث وغیرہا۔
۵۔ وہ الفاظ جو صاف صاف جھوٹ پر دال ہوں ۔ جیسے :۔
٭کذاب ٭ دجال ٭ وضاع ٭یکذب ٭ یضع وغیرہا۔
۶۔ وہ الفاظ جو جھوٹ میں مبالغہ پر دلالت کریں ۔ جیسے :۔
٭ اکذب الناس ٭الیہ المنتہی فی الکذب٭ رکن الکذب وغیرہا۔
پہلے دو مراتب کی حدیث متابع اور شاہد میں کام آتی ہے ۔ باقی قطعا مردود وغیر مقبول ہیں ۔
الفاظ تعدیل اور ان کے مراتب
اعلی سے ادنی کی طرف
۱۔ وہ الفاظ جو ثقاہت اور اعتماد میں مبالغہ پر دال ہوں ۔ جیسے :۔
٭ فلان الیہ المنتہی فی التثبت ٭ فلان اثبت الناس ٭ لا احد اثبت عنہ وغیرہا۔
۲۔ وہ الفاظ جو ثقاہت کے بیان میں مکر ر آئیں ۔ جیسے :۔
٭ثقہ ثقۃ ٭ثقۃ ثبت وغیرہا۔
۳۔ وہ الفاظ جو بلا تاکید ثقاہت پر دال ہوں ۔ جیسے :۔
٭ ثقہ ٭حجۃ ٭ متقن ٭ عدل وغیرہا۔
۴۔وہ الفاظ جو صرف عدالت کا ثبوت دیں ، ضبط سے تعلق نہ ہو۔ جیسے :۔
٭صدوق٭ محلہ الصدق٭ مامون٭ خیار وغیرہا ۔
۵۔ وہ الفاظ جو جرح و تعدیل کچھ نہ بتائیں ۔ جیسے :۔
٭فلان شیخ وغیرہا۔
۶۔ وہ الفاظ جو جرح سے قرب کو ظاہر کریں ، جیسے :۔
٭فلان صالح الحدیث ٭ یکتب حدیثہ وغیرہا۔
پہلے تین مراتب کی حدیث حجت ہے ، چہارم پنجم کو پہلے کے موافق پائیں تو قبول کریں گے ورنہ نہیں ۔ششم کو متابع اور شاہدکے لئے لایا جائے گا۔


No comments:
Post a Comment