عنی کسی حدیث کے خلاف تمام صحابہ کرام کا اجماع اور بالا تفاق عمل اس بات کا پتہ دتیا ہے کہ پہلا حکم منسوخ ہو چکا ہے ۔
جیسے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی حدیث کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :۔
من شرب الخمر فاجلدوہ فان عاد فی الرابعۃ فاقتلوہ۔ (الجامع للترمذی ۱/۱۷۴)
جس نے شراب پی اس پر کوڑ وں سے حد جاری کرو اور ا سکے بعد چو تھی مرتبہ بھی ا سکا یہ قصور ثابت ہو جائے تو قتل کر دو۔
دوسری حدیث میں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ا سکے بعد ایک ایساہی شرابی لایا گیا۔
ثم اتی النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بعد ذلک برجل قد شرب فی الرابعۃ فضربہ ولم یقتلہ۔(الجامع للترمذی ۱/۱۷۴)
کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں ا سکے بعد ایک ایسا ہی شخص لایا گیا جس نے چوتھی مرتبہ شراب پی تھی، تو آپ نے اس پر صرف حد جاری فرمائی اور قتل کا حکم نہیں فرمایا۔
امام ترمذی فرماتے ہیں :۔
انما کان ہذا فی اول الامر ثم نسخ بعد، والعمل علی ہذا عند عامۃ اہل العلم، لا نعلم بینہم اختلافا فی ذلک فی القدیم والحدیث، و مما یقوی ہذا ماروی عن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم من اوجہ کثیرۃ انہ قال :
لا یحل دم امرء مسلم یشہد ان لا الہ اللہ وانی رسول اللہ الا باحدی ثلث، النفس بالننفس، والثیب الزانی، و التارک لدینہ ۔(الجامع للترمذی ۱/۱۷۴)
یہ حکم قتل اول امر میں تھا پھر منسوخ ہوا۔ تمام علماء فقہاء اس پر متفق ہیں ، متقدمین و متاخرین میں کسی کا اختلاف اس سلسلہ میں ہمیں معلوم نہیں ۔ اس موقف کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جو متعدد طرق سے مروی ہے ، حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔
کسی مسلمان کا خون بہانا صرف تین چیزوں میں سے کسی ایک چیز کے ذریعہ ہی جائز ہے ، قتل عمد کے قصاص میں ، شادی شدہ زانی ، اور مرتد۔
واضح رہے کہ اجماع خود مستقل ناسخ نہیں ہوتا بلکہ نسخ پر دال ہو تا ہے ۔( نذہۃ النظر۵۷)
تصانیف فن
٭الاعتبار فی الناسخ و المنسوخ من الآثار للحازمی م ۵۸۴
٭الناسخ والمنسوخ للا مام احمد، م ۲۴۱
٭تجرید الاحادیث المنسوخۃ لا بن الجوزی، م ۵۹۷
جیسے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی حدیث کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :۔
من شرب الخمر فاجلدوہ فان عاد فی الرابعۃ فاقتلوہ۔ (الجامع للترمذی ۱/۱۷۴)
جس نے شراب پی اس پر کوڑ وں سے حد جاری کرو اور ا سکے بعد چو تھی مرتبہ بھی ا سکا یہ قصور ثابت ہو جائے تو قتل کر دو۔
دوسری حدیث میں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ا سکے بعد ایک ایساہی شرابی لایا گیا۔
ثم اتی النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بعد ذلک برجل قد شرب فی الرابعۃ فضربہ ولم یقتلہ۔(الجامع للترمذی ۱/۱۷۴)
کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں ا سکے بعد ایک ایسا ہی شخص لایا گیا جس نے چوتھی مرتبہ شراب پی تھی، تو آپ نے اس پر صرف حد جاری فرمائی اور قتل کا حکم نہیں فرمایا۔
امام ترمذی فرماتے ہیں :۔
انما کان ہذا فی اول الامر ثم نسخ بعد، والعمل علی ہذا عند عامۃ اہل العلم، لا نعلم بینہم اختلافا فی ذلک فی القدیم والحدیث، و مما یقوی ہذا ماروی عن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم من اوجہ کثیرۃ انہ قال :
لا یحل دم امرء مسلم یشہد ان لا الہ اللہ وانی رسول اللہ الا باحدی ثلث، النفس بالننفس، والثیب الزانی، و التارک لدینہ ۔(الجامع للترمذی ۱/۱۷۴)
یہ حکم قتل اول امر میں تھا پھر منسوخ ہوا۔ تمام علماء فقہاء اس پر متفق ہیں ، متقدمین و متاخرین میں کسی کا اختلاف اس سلسلہ میں ہمیں معلوم نہیں ۔ اس موقف کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جو متعدد طرق سے مروی ہے ، حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔
کسی مسلمان کا خون بہانا صرف تین چیزوں میں سے کسی ایک چیز کے ذریعہ ہی جائز ہے ، قتل عمد کے قصاص میں ، شادی شدہ زانی ، اور مرتد۔
واضح رہے کہ اجماع خود مستقل ناسخ نہیں ہوتا بلکہ نسخ پر دال ہو تا ہے ۔( نذہۃ النظر۵۷)
تصانیف فن
٭الاعتبار فی الناسخ و المنسوخ من الآثار للحازمی م ۵۸۴
٭الناسخ والمنسوخ للا مام احمد، م ۲۴۱
٭تجرید الاحادیث المنسوخۃ لا بن الجوزی، م ۵۹۷


No comments:
Post a Comment