Contact Us

Advertisment!

Your Advertisment!

Sunday, October 9, 2011

ناسخ و منسوخ

تعریف ناسخ :۔ شارع کا ایک حکم شرعی کی تحدید بیان کر کے دوسرا حکم سنانا، کبھی ایک حدیث دوسری حدیث کی ناسخ ہوتی ہے ، اور کبھی حدیث قرآن کے لئے ناسخ قرار دی جاتی ہے اور کبھی بر عکس۔
یہ فن بھی نہایت اہم اور بڑ ی دشوارگذار منزل ہے ، امام زہری فرماتے ہیں :۔
فقہاء کو ناسخ ومنسوخ احادیث نے تھکا دیا۔
امام شافعی کو اس فن میں خاص امتیاز حاصل تھا ، امام احمد نے فرمایا : ہم نے مجمل ومفسر اور ناسخ و منسوخ کو آپ کی مجلس کے بغیر حاصل نہ کیا۔
ذرائع علم نسخ
نسخ کو جاننے کے لئے متعدد ذرائع ہیں ۔
٭ خود حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تصریح فرمادیں ۔
جیسے ۔ کنت نہیتکم عن زیارۃ القبور فزوروہا فانہ تذکر الآخرۃ۔ (المسند لا حمد بن حنبل ۵/ ۳۶۱)
میں نے تم کو قبور کی زیارت سے منع کیا تھا۔ اب میں تم کو اجازت دے رہا ہوں ، لہذا زیارت کیا کرو کہ آخرت کی یاد دلاتی ہے ۔
٭ صحابی بیان کریں ، جیسے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا بیان:۔
کان آخر الامرین من رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ترک الوضوء مما غیرت النار۔ (السنن لا بی داؤد۔ باب فی ترک الوضو)
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا آخری عمل مبارک یہ تھا کہ آگ سے پکی ہوئی چیزوں کو تناول فرما کر وضو نہیں فرمایا۔
اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان:۔
انماکان انما الماء من الماء رخصۃ فی اول الاسلام ثم نھی عنہا۔ (۴)
انزال ہونے پر ہی غسل کر نے کا حکم آغاز اسلام میں تھا پھر بعد میں محض جماع پر ہی غسل کا حکم دے دیا گیا۔
٭ تاریخ وقت کا علم ہونے پر نسخ کا فیصلہ کیا جاتا ہے ، جیسے حضر ت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔
افطر الحاجم و المحجوم۔ (السنن لا بی داؤد۔باب فی الصائم یحتجم)
ٍ سنگی لگانے والے اور لگوانے والے دونوں نے اپنا روزہ توڑ لیا۔
دوسری حدیث میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا:۔
ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم احتجم وہو صائم۔(السنن لا بی داؤد۔باب الرخصۃ فی ذلک)
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے روزہ کی حالت میں سنگی لگوائی۔
پہلی حدیث فتح مکہ کے موقع پر ارشاد فرمائی جیسا کہ شداد بن اوس نے دوسری روایت میں بیان فرمایا:۔
وکان ذلک یوم الفتح۔ (المصنف لعبد الرزاق ۴/۲۰۹)
یہ حدیث فتح مکہ کے موقع پر ارشاد فرمائی ۔
دوسری حدیث حجۃ الوداع کے موقع کی ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس بیان فرماتے ہیں :۔
احتجم رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وہو صائم محرم بین مکۃ والمدینۃ( المصنف لعبد الرزاق ۴/۲۱۳)
حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا جبکہ روزہ دار تھے ، اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کے درمیان حالت احرام میں سفر فرما رہے تھے ۔
لہذا بعد والی روایت پر عمل ہو گا اور پہلی منسوخ قرار دی جائے گی۔

No comments:

Post a Comment

 
Powered by Blogger | 6SENSE Technologies