﴾ویقولون متیٰ ھو قل عسیٰ ان یکون قریبا﴿ً(سورئہ بنی اسرائیل: ۱۵)
(یہ کافر) کہیں گے یہ (قیامت) کب ہے تم فرماﺅ شاید نزدیک ہی ہو۔(ترجمہ کنز الایمان)
جب سے سنہ ۲۱۰۲ ءکے موضوع پر بننے والی فلم،اسکے دیکھنے اور سننے والوں کے خیالات و تخیل پر چھائی ہے،تب سے اس سال کے حوالے سے قیاس آرائیاں زبان زد خاص و عام ہیں۔کچھ لوگوں کے مطابق مختلف مذاہب میں اس سال کے حوالے سے بڑی خوفناک پیشنگوئیاں بیان ہوئی ہیں اور کچھ لوگ اپنی سائنسی تحقیق اور ریسرچ کی بنیاد پر یہ کہنے پر مجبور ہیں سنہ ۲۱۰۲ءہی قیامت کا سال ہے۔
بحیثیت مسلمان کیا ہمیں ان باتوں پر یقین رکھنا چاہئے ؟ اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے؟ یہ سوال اکثر مسلمانوں کو سو چنے پر مجبور کردیتا ہے کہ ہم بحیثیت مسلمان ان باتوں کی تصدیق کریں یا نہیں۔
بحیثیت ایک مسلمان کے ہمارا عقیدہ ہے کہ قیامت کو جھٹلانے والا مسلمان ہی نہیں ، قیامت برحق ہے اور اسکا آنا ایسا ہی یقینی ہے جیسا کہ ہمارا اپنا وجود ہے، خیال رہے کہ قیامت کبریٰ (جسمیں ساری کائنات تباہ و برباد ہوجائے گی) اسکا حقیقی علم اللہ ہی کو ہے، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا:
﴾ویقولون متیٰ ھذا الوعد ان کنتم صادقین قل انما العلم عند اللہ﴿(سورئہ ملک: ۵۲،۶۲)
اور کہتے ہیں یہ وعدہ کب آئےگا اگر تم سچے ہو تم فرماﺅ یہ علم تو اللہ کے پاس ہے ۔(ترجمہ کنز الایمان)
اسکے بتائے بغیر کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب آئےگی۔لہٰذا اگر کوئی سنہ ۲۱۰۲ءکے بارے میں دعویٰ کرتا ہے کہ اسمیں قیامت کبریٰ قائم ہوگی تو یہ کہنا غلط ہے۔البتہ قیامت صغریٰ (جیسے قدرتی آفات، ناگہانی بلائیں) جنکا ذکر قیامت کی نشانیوں کے باب میں بیشتر احادیث میںوارد ہوا ہے انکا احتمال باقی ہے لیکن اسمیں بھی ہم اپنے اندازے اور قیاس سے سنہ اور تاریخ کا تعیین نہیں کرسکتے تاوقتیکہ ان کی اساس قرآن و احادیث صحیحہ سے ثابت نہ ہوجائے۔ لہٰذا راقم کا موقف ہے کہ ہم ان قدرتی آفات اور ناگہانی مصیبتوں کی تو تصدیق کرتے ہیں جنکا ذکر قرب قیامت کی نشانیوں میں بیان ہوا ہے مگر ان نشانیوں کو ۱۲ دسمبر ۲۱۰۲سنہءسے مشروط نہیں کرتے جیساکہ بعض لوگوں کا اسی تاریخ پر اصرار ہے ۔بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ اگر اللہ چاہے تو وہ عذاب اس تاریخ کو بھی لاسکتا ہے اور نہ چاہے تو دنیا کی کوئی طاقت اسکے حکم کے بغیر قیامت تو دور کی بات ایک مچھر کے پر کو نہیں ہلا سکتی۔
اہل مغرب کی طرف سے یہ کوئی نئی تاریخ نہیں ہے جو تعجب یا اچنبھے کا باعث ہو ،اس سے پہلے بھی کئی بار اس طرح کی تاریخ دی گئیں کہ اسمیں فلاں سیارہ زمین سے ٹکرا جائےگا یا فلاں تاریخ کو ساری دنیا تباہ ہوجائےگی، مگراس مالک یوم الدین نے ان جھوٹوں کو انکے دعووں سمیت جھٹلایا ہے۔
ویکیپیڈیا انسائیکلوپیڈیامیں ایک دلچسپ واقعہ اسی موضوع کی مناسبت سے پڑھنے کو ملا کہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمة الرحمان کی زندگی میں بھی اسی طرح کا ایک دعویٰ ایک امریکی پروفیسر البرٹ نے یہ کہہ کر کیا کہ ۷۱ دسمبر ۹۱۹۱سنہ عیسوی میں نظام کائنات میں ایک ایسا خلل واقع ہوگا جسکی وجہ سے نظام شمسی کے چھ سیارے جیوپیٹر، مرکری، وینس، مارس، نیپچون اور ساٹرن سورج کے بالکل مخالف سمت میں آجائینگے، اور ان سیاروں کی مرکز مائل قوت سورج کو اپنی طرف کھینچے گی جسکی وجہ سے سورج میں اتنا بڑا اور واضح سوراخ ہوجائےگا کہ اہل زمین کھلی آنکھوں سے اسکا مشاہدہ کرینگے۔نظام کائنات میں اس تبدیلی کی وجہ سے زمین میں طوفان، زلزلے اور غیر معمولی بارشیں ہونا شروع ہوجائینگی، اور زمین کو واپس اپنی پوزیشن پر آنے میں کئی ہفتے لگ جائینگے۔سیدی اعلیٰ حضرت رحمة اللہ علیہ نے اس جھوٹے پروفیسر کی خوب خبر لی اور قرآنی آیات اور سائنسی دلائل سے اسکا رد کیا،حتیٰ کہ ۷۱ دسمبر ۹۱۹۱ کادن آیا اور سارے عالم نے اس دن اعلیٰ حضرت کی سچائی کو امن اور سکون کیساتھ دیکھا اور جھوٹوں کی قیامت انکے دعوے پر ہی ٹوٹ پڑی کہ وہ اس دن کے بعد کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہے۔جو قارئین اس دلچسپ واقعہ کو پڑھنا چاہیں وہ ویکیپیڈیا انسائیکلوپیڈیا پہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمة اللہ علیہ کے عنوان سے ملاحظہ فرمالیں۔
منکرین قیامت ہوں یا منکرین اسلام، قرب قیامت کے علم کے حوالے سے ہمیں کوئی بھی سرٹیفیکٹ ان سے لینے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی ﷺ کو جتنا علم آخرت کے علوم سے نوازا ہے درحقیقت وہ علم ہم مسلمانوں ہی کی میراث ہے۔اور اس علم کو جاننے کےلئے ہمیں قرآن و احادیث کے ذخائرسے ہی استفادہ کرنا چاہئے۔کیونکہ
قرآن میں ایک ایسی آیت موجود ہے جسمیں مختلف شہروں اور علاقوں کی تباہی کی خبر دی گئی ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے۔
﴾وان من قریةٍ الا نحن مھلکوھا قبل یوم القیامة او معذبوھا عذاباً شدیداً کان ذالک فی الکتاب مسطورا﴿(پارہ ۵۱ ،سورئہ بنی اسرائیل: ۸۵)
اور کوئی بستی نہیں مگر یہ کہ ہم اسے روز قیامت سے پہلے نیست کردینگے یا اسے سخت عذاب دینگے یہ کتاب میں لکھا ہوا ہے۔(ترجمہ کنز الایمان)
مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان علیہ الرحمة الرحمن اس آیت کی تفسیر میں روح البیان کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ بعض علماءنے فرمایا کہ ہلاکت نیک بستیوں کےلئے ہے اور عذاب مجرم بستیوں کےلئے ۔
اس آیت کی تفسیر میں ابن کثیر لکھتے ہیں: وہ نوشتہ جو لوح محفوظ میں لکھدیا گیا ہے وہ حکم جو جاری کردیا گیا ہے اسکا بیان اس آیت میں ہے کہ گناہگاروں کی بستیاں یقیناً ویران کردی جائینگی یا ان گناہوں کی وجہ سے تباہی کے قریب ہوجائینگی، اسمیں ہماری جانب سے کوئی ظلم نہ ہوگا بلکہ ان کے اپنے کرتوت کا خمیازہ ہوگا انکے اعمال کا وبال ہوگا، رب کی آیتوں اور اسکے رسولوں سے سرکشی کرنے کا پھل ہوگا۔
اب انشاءاللہ ہم وہ بیان پیش کرینگے جسکا ماخذ و منبع قرآ ن و احادیث اور بزرگان دین کے کشفیہ اقوال پر مشتمل ہے جسمیں قرب قیامت کے زمانے میں رونما ہونے والے واقعات، زلزلوں اور فتنوں کی خبر دی گئی ہے، تاکہ ہم ان نشانیوں کی روشنی میں اپنے احوال کو سدھار لیں ۔
قیامت سے قبل ماورائے عقل امور عظیم کا مشاہدہ
عن سمرة بن جندب رضی اللہ عنہ قال﴾لاتقوم الساعة حتیٰ تروا امورا عظاما لم تکونوا ترونھا تکون ولا تحدثون بھا انفسکم﴿ قیامت قائم ہونے سے قبل تم ان امور عظیمہ کو دیکھ لوگے جنہیں تم نے نہ کبھی دیکھا ہوگا اور نہ تم نے انکے بارے میں سوچا ہوگا(کتاب الفتن از نعیم بن حما د المروزی)
﴾سترون قبل ان تقوم الساعة اشیاءستنکرونھا عظاما تقولون ھل کنا حدثنا فاذا رایتم ذالکم فاذکروا اللہ تعالیٰ واعلموا انھا اوائل الساعة﴿نبی کریم ﷺ نے فرمایا: قیامت قائم ہونے سے قبل تم ایسی چیزوں کا مشاہدہ کروگے کہ جنکا تم انکار کردوگے کہ اس بارے میں کچھ ہم سے بیان کیا گیا ہے؟ جب تم یہ دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو اور جان لو کہ یہی قیامت کی ابتداءہے۔(رواہ البزار والطبرانی)
امام احمد نے اپنی سند کیساتھ ایسی ہی ایک اور حدیث بیان فرمائی ہے کہ
﴾ولن یکون ذالکم حتیٰ تروا امورا یتفاقسم فی نفوسکم و تساءلون بینکم ھل کان نبیکم ذکر لکم منھا ذکراً﴿اور ایسا اسوقت ہوگا کہ تم ایسے امور کو دیکھو گے جنکی قدر تمہارے نزدیک بہت ہوگی اور تم آپسمیں یہ سوال کروگے کہ کیا نبی اکرم ﷺ نے انکے بارے میں کچھ ارشاد فرمایا ہے۔
دنیا کا وقت اتنا ہی باقی رہ گیا ہے جتنا کہ عصر سے مغرب کی آخری ساعتوں کا ہے۔
بخاری و مسلم میں جریر عن الاعمش کے طریق اور مسند احمد میں عبد الرزاق کی سند سے روایت ہے کہ حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور پھر غروب شمس تک وعظ فرمایا اور اسمیں قیامت تک کے واقعات بیان کئے ۔یاد رکھنے والوں نے یاد رکھا کچھ بھول گئے،آپ ﷺ نے جو فرمایا اسکے کچھ الفاظ یہ تھے۔
” اے لوگو! یہ دنیا بڑی میٹھی اور سر سبز ہے اللہ نے تمہیں یہاں بسایا ہے اور دیکھ رہا ہے کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو دنیا سے بچو اور عورتوں سے بچو۔۔ پھر فرمایا
﴾ وقد دنت الشمس ان تغرب وان ما بقی من الدنیا فیما مضی مثل ما بقی من یومکم ھذا فیما مضی منہ﴿
سورج غروب ہونے کے قریب ہے اور دنیا کے ختم ہونے میں اتنا وقت باقی ہے جتنا سورج غروب ہونے میں باقی ہے۔“(النہایةفی الفتن والملاحم از ابن کثیر ص۰۴)
ان عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قال سمعت رسول اللہ ﷺ وھو قائم علی المنبر﴾انما بقاﺅکم فیما سلف قبلکم من الامم کما بین صلاة العصر الیٰ غروب الشمس....﴿حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ، آپ منبر پر کھڑے فرما رہے تھے کہ تمہارا زمانہ گزشتوں امتوں کے مقابلے میں ایسا ہے جیسے عصر سے سورج ڈوبنے تک کا وقت ہوتا ہے۔(صحیح بخاری کتاب التوحید باب:فی المشیئة والارادة،رقم الحدیث:۷۶۴۷)
حضور ﷺ کی آمد آخری ہزارویں سال میں ہوئی:
امام بیہقی دلائل النبوة میں فرماتے ہیں کہ جب حضور نبی کریم ﷺ صبح فجر کی نماز پڑ ھ لیتے۔۔ پھر لوگوں کیطرف منہ کرکے بیٹھتے اور چونکہ حضور ﷺ کو خواب اچھا معلوم ہوتا تھا اسلئے پوچھتے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ ابو زمل کہتے ہیں ایک دن حسب عادت سرکار ﷺ نے دریافت فرمایا تو میں نے کہا ہاں یارسول اللہ ﷺ ! میں نے ایک خواب دیکھا ہے، فرمایا خدا خیر سے ملائے شر سے بچائے، ہمارے لئے بہتر بنائے اور ہمارے دشمنوں کےلئے بدتر بنائے، ہر قسم کی تعریفوں جا مستحق وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اپنا خواب بیان کرو۔
میں نے کہا: یارسول اللہ ﷺ میں نے دیکھا کہ ایک راستہ ہے کشادہ آسان نرم اور صاف اور بےشمار لوگ اسمیں چلے جارہے ہیں، یہ راستہ جاتے جاتے ایک سر سبز باغ کو نکلتا ہے کہ میری آنکھوں میں ایسا لہلہلاتا ہوا ہرا بھرا باغ کبھی نہیں دیکھا، پانی ہر سو رواں ہے سبزے سے پٹا پڑا ہے، انواع و اقسام کے درخت ، خوشنما پھلے پھولے کھڑے ہیں اب میں نے دیکھا کہ پہلی جماعت جو آئی اور اس باغ کے پاس پہنچی تو انہوں نے اپنی سواریاں تیز کرلیں دائیں بائیں نہیں گئے اور تیز رفتاری کیساتھ یہاں سے گزر گئے۔پھر دوسری جماعت آئی جو تعداد میں بہت زیادہ تھی جب یہاں پہنچے تو بعض لوگوں نے اپنے جانوروں کو چرانا شروع کیا اور بعضوں نے کچھ لے لیا اور چل دئیے، پھر تو بہت سارے لوگ آئے جب انکا گزر ان گل و گلزار پر ہوا تو یہ تو پھول گئے اور کہنے لگے یہ سب سے اچھی جگہ ہے، گویا میں انہیں دیکھ رہاہوں کہ وہ دائیں بائیں جھک پڑے، میں نے یہ دیکھا لیکن میں آپ تو چلتا ہی رہا جب دور نکل گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک منبر سات سیڑھیوں کا بچھا ہوا ہے اور آپ ﷺ اسکے اعلیٰ درجے پر تشریف فرما ہیں اور آپ کی دائیں جانب ایک صاحب ہیں گندم گوں رنگ، بھری انگلیوں والے، دراز قد جب کلام کرتے ہیں تو سب خاموشی سے سنتے ہیں اور لوگ اونچے ہوہو کر توجہ سے انکی باتیں سنتے ہیں اور آپ کے بائیں طرف ایک شخص ہیں بھرے جسم کے درمیانہ قد کے، جنکے چہرے پہ بکثرت تل ہیں انکے بال گویا پانی سے ترہیںجب وہ بات کرتے ہیں تو انکے اکرام کی وجہ سے سب لوگ جھک جاتے ہیں پھر اس سے آگے ایک شخص ہیں جو اخلاق و عادات میں اور چہرے نقشے میں بالکل آپ ﷺ سے مشابہت رکھتے ہیں، آپ لوگ سب انکی طرف پوری توجہ کرتے ہیں اور انکا ارادہ کرتے ہیں۔ان سے آگے ایک دبلی پتلی بڑھیا اونٹنی ہے۔ میں نے دیکھا کہ گویا آپ اسے اٹھا رہے ہیں، یہ سنکر حضور ﷺ کا رنگ متغیر ہوگیا تھوڑی دیر میں آپ کی یہ حالت بدل گئی اور آپ ﷺ نے فرمایا سیدھے سچے اور صحیح راستے سے مراد تو وہ دین ہے جسے میں لیکر خدا کیطرف سے آیا ہوں اور جس ہدایت پر تم ہو، ہرا بھرا سبز باغ جو تم نے دیکھا وہ دنیا ہے اور اسکی عیش و عشرت کا دل لبھانے والا سامان، میں اور میرے اصحاب تو اس سے گزر جائینگے، نہ ہم اسمیں مشغول ہونگے نہ وہ ہمیں چمٹے گی، نہ ہمارا اس سے تعلق ہوگا نہ اسکا تعلق ہم سے، نہ ہم اسکی چاہت کرینگے نہ وہ ہمیں لپٹے گی، پھر ہمارے بعد دوسری جماعت آئےگی جو ہم سے تعداد میں بہت زیادہ ہوگی ان میں سے بعض تو اس دنیامیں پھنس جائینگے اور بعض بقدر حاجت لے لیں گے اور چل دینگے اور نجات پالیں گے۔پھر انکے بعد زبردست جماعت آئے گی جو اس دنیا میں بالکل مستغرق ہوجائےگی اور دائیں بائیں بہک جائےگی، فان للہ وانا الیہ راجعون، اب رہے تم سو تم اپنی سیدھی راہ چلتے رہوگے یہانتک کہ مجھ سے تمہاری ملاقات ہوجائے گی، جس منبر کے آخری ساتویں درجہ پر تم نے مجھے دیکھا اسکی تعبیر یہ ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال کی ہے میں آخری ہزارویں سال میں ہوں۔ میرے دائیں جانب جس گندمی رنگ موٹی ہتھیلی والے انسان کو تم نے دیکھا وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں، جب وہ کلام کرتے ہیں تو لوگ اونچے ہو جاتے ہیں اسلئے کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے شرف ہمکلامی ہوچکا ہے اور جنہیں تم نے میرے بائیں جانب دیکھا جو درمیانہ قد کے بھرے جسم کے، بہت سے تلوں والے تھے، جنکے بال پانی سے تر نظر آتے تھے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں چونکہ انکا اکرام اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ہم سب بھی انکی بزرگی کرتے ہیں اور جن شیخ کو تم نے بالکل مجھ جیسا دیکھا وہ ہمارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں، ہم سب انکا قصد کرتے ہیں اور انکی اقتداءاور تابعداری کرتے ہیں اور جس اونٹنی کو تم نے دیکھا کہ میں اسے کھڑی کررہاہوں اس سے مراد قیامت ہے جو میری امت پہ قائم ہوگی نہ میرے بعد کوئی نبی ہے اور نہ میری امت کے بعد کوئی امت ہے۔ فرماتے ہیں اسکے بعد رسول اللہ ﷺ نے یہ پوچھنا چھوڑ دیا کہ کسی نے خواب دیکھا ہے؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنے آپ اپنا خواب بیان کردے تو حضور ﷺ اسکی تعبیر دے دیا کرتے تھے۔(تفسیر ابن کثیر پارہ ۷۲ سورئہ واقعہ ص ۶۶)
۳﴿اس امت کو آدھے دن کی مہلت بھی عطا ہوئی ہے:
مسند احمد نے ابی ثعلبہ الخشنی کی سند سے اورسنن ابی داﺅد میں عمرو بن سعد کی سند سے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی حدیث منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ﴾انی لارجوان تنجوامتی عند ربھا من ان یوخرھا نصف یوم قیل لسعد بن ابی وقاص وکم نصف یوم قال خمسمائة سنة﴿
میں یہ امید رکھتا ہوں کہ میری امت اپنے رب کے ہاں اس بات سے بچ جائےگی کہ اسے آدھے دن تک موخر کردیا جائے۔ لوگوں نے پوچھا یہ آدھا دن کتنا وقت ہوگا؟ حضرت سعد نے فرمایا پانچ سوسال۔(النہایةفی الفتن والملاحم از ابن کثیر ص ۷۳، ۸۳)
۴﴿قیامت کی بڑی نشانیاں کب شروع ہونگیں:
ابن ماجہ میں حسن بن علی بن خلال کی سند سے روایت ہے کہ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا
﴾الآیات بعد المائتین﴿ دوسو سال کے بعد بڑی نشانیاں ہیں۔
عن عبد اللہ بن مسعود عن النبی ﷺقال﴾لولم یبق من الدنیا الا یوم قال زائدہ لطوؑل اللہ ذالک الیوم حتیٰ یبعث فیہ رجل منی او من اھل بیتی یواطی اسمہ اسمی واسم ابیہ اسم ابی﴿اگر دنیا کا ایک دن بھی باقی رہ جائے تو اللہ تعالیٰ اس دن کو طویل فرماکر اسمیں ایک شخص کو جو مجھ سے یا میرے اہل بیت سے ہوگا مبعوث فرمائےگا اسکانام میرے نام پر اور اسکے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہوگا۔(النہایةفی الفتن والملاحم از ابن کثیر ص۱۵)
فوائد حدیث:ان تمام احادیث کا حقیقی علم تو اللہ عزوجل اور اسکے بتائے سے اسکے خاص بندے ہی جانتے ہیں۔ان تمام احادیث کے مضمون کو اگر یکجا کیا جائے تو نقشہ کچھ یوں بنتا ہے کہ حضور ﷺ کی بعثت آخری ہزارویں سال میں ہوئی وہ ہزار سال پورا ہوا تو پھر امت کو آدھے دن کی مہلت عطا ہوئی اگر اس مہلت کو بھی ملا لیا جائے تو یہ کل پندرہ سو سال بنتے ہیں، اور رب کے فضل و احسان سے ہم۲۳۴۱سنہ ہجری دیکھ رہے ہیں۔ لیکن ابھی تک بڑی نشانیوں کا ظہور نہیں ہوا، یہ مہلت جو عنقریب ختم ہونے والی ہے عین ممکن ہے کہ اس مہلت کے خاتمے پران بڑی نشانیوں کا ظہور ہوجائے یا پھران نشانیوں کے وقت کا کا ﺅنٹ ڈاﺅن شروع ہوجائے یا پھر اس مہلت کے خاتمہ کے دو سو سالوں کے بعد یہ بڑی نشانیاں ظہور پذیر ہونا شروع ہوجائیں،اللہ اعلم بالصواب ۔
آئیے ان سوالوں کا جواب پانے کےلئے ہم قرآن اور احادیث مبارکہ کیطرف رجوع کرتے ہیں۔
﴾و ان من قریةٍ الا نحن مھلکوھا قبل یوم القیامة او معذبوھا عذاباً شدیداً کان ذالک فی الکتاب مسطورا﴿جتنی بھی بستیاں ہیں ہم قیامت کے دن سے پہلے پہلے یا تو انہیں ہلاک کردینے والے ہیں یا سخت تر سزا دینے والے ہیں یہ تو کتاب میں لکھا جا چکا ہے۔(پارہ ۵۱ ،سورئہ بنی اسرائیل: ۸۵)
خیال رہے کہ قرآن کی ہر آیت اپنے اندر ایک معجزہ سموئے ہوئے ہے، اسکا مقام اور اسکا بیان بھی ایک معجزہ ہے۔ شہروں کی تباہی سے متعلق مذکورہ بالا آیت حیرت انگیز طور پر پندرھویں پارے میں ہی بیان ہوئی ہے، اور یہ امر بھی حیران کن ہے کہ پندرہویں صدی تک امت کو مہلت عطا کی گئی ہے۔توہوسکتا ہے کہ یہ تباہی اور عذاب اس مہلت کیساتھ یا اسکے خاتمے سے شروع ہوجائے یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح ہم نے نائن الیون جیسا واقعہ قرآن کے اسرار و رموز سے سمجھا کہ سورئہ توبہ جسمیں کافروں پر شدت کی گئی ہے اور یہی سورت بغیر بسم اللہ شریف کے شروع ہوئی ہے اسکا سورت نمبر ۹ اور جس پارے میں ختم ہوئی اسکا نمبر ۱۱ ہی ہے گویا نائن الیون کافروں پہ شدت کے عذاب کا اشارہ ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔
کچھ لوگ اس موقف پر ہیں کہ سنہ ۲۱۰۲ ءمیں کوئی بڑا اہم واقعہ جیسے اسرائیل کا خاتمہ بھی ظہور پذیر ہوسکتا ہے،ان میں مکہ کے ایک ریسرچ اسکالر ڈاکٹر سفربن عبد الرحمن الحوالی بھی ہیں۔وہ اپنی کتاب ”یوم الغضب“ میں بائبل میں بیان کردہ نشانیوں کا تجزیہ کر کے آخر میں لکھتے ہیں:
”اب آخری اور کٹھن سوال یہ ہے کہ اللہ کے غضب کا وہ دن کب آئےگا؟ اللہ نفرت کی اس ریاست کا خاتمہ کب کرےگا؟ یروشلم کی زنجیریں کب ٹوٹیں گی اور اسکے حقوق کب واپس ملیں گے؟
اسکا جواب پہلے ہی دیا جاچکا ہے۔ جب دانیال علیہ السلام نے اس زمانے کا تعین کرتے وقت بربادی آبادی کے درمیان۔غصے اور انعام کے درمیان ذکر کیا تھا تو وہاں پینتالیس سال کا ذکر کیا تھا۔انہوں نے اس ریاست کے قیام کا زمانہ سنہ 1967عیسوی (1387ہجری) بتایا تھا جو اب واقع ہوچکا ہے۔اسلئے اسکے اختتام ۔۔ یا اختتام کا آغاز۔۔ کا زمانہ 2012ءہوگا یعنی 2012=45+1967ء یا ہجری سالوں میں 1433=45+1387ھ۔
ہمارا خیال ہے کہ یہ اسی مذکورہ سال میں ہوگا البتہ یہ کوئی حتمی سند نہیں ہے۔ہاں اگر وہ بنیاد پرست ہم سے شرط لگانا چاہیں جیسے کہ اہل قریش نے رومیوں کے عروج کےلئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے شرط لگائی تھی تو ہم بلا کسی تردید کے کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنی شرط ہم سے ہار جائینگے۔“(یوم الغضب ص۴۷۱)
کچھ اللہ والوں نے اسکی نشانی کا کچھ اور وقت بیان فرمایا ہے ۔
سیدی اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی شاہ احمد رضا خان علیہ الرحمة الرحمان کی تحقیق:
سیدی اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمة اللہ علیہ سے پوچھا گیا:قیامت کب ہوگی اور ظہور امام مہدی کب؟
ارشاد: قیامت کب ہوگی اسے اللہ جانتا ہے اور اسکے بتائے سے اسکے رسول ﷺ ، قیامت ہی کا ذکر کرکے (اللہ) ارشاد فرماتا ہے﴾ عٰلم الغیب فلا یظھر علیٰ غیبہ احداً الا من ارتضیٰ من رسول﴿ اللہ غیب کا جاننے والا ہے، وہ اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں فرماتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔امام قسطلانی وغیرہ نے تصریح فرمائی کہ اس غیب سے مراد قیامت ہے جسکا اوپر متصل آیت میں ذکر ہے۔امام جلال الدین سیوطی رحمة اللہ تعالیٰ علیہ سے پہلے بعض علمائے کرام نے بملاحظہ احادیث حساب لگایا کہ یہ امت سن ہزار ہجری سے آگے نہ بڑھے گی۔امام سیوطی نے اسکے انکار میں رسالہ لکھا الکشف عن تجاوز ھذہ الامة الالف: اسمیں ثابت کیا کہ یہ امت سنہ ۰۰۰۱ ھ سے ضرور آگے بڑھےگی۔امام جلال الدین کی وفات شریف سنہ ۱۱۹ ھ میں ہے اور اپنے حساب سے یہ خیال فرمایا کہ سنہ ۰۰۳۱ ھ میں خاتمہ ہوگا۔بحمد اللہ تعالیٰ اسے بھی چھبیس ۶۲ برس گذر گئے اور ہنوز قیامت تو قیامت ، اشراط کبریٰ میں سے کچھ نہ آیا۔امام مہدی کے بارے میں احادیث بکثرت اور متواتر ہیں مگر ان میں کسی وقت کا تعین نہیں اور بعض علوم کے ذریعہ سے مجھے ایسا خیال گزرتا ہے کہ شاید سنہ ۷۳۸۱ ہجری میں کوئی سلطنت باقی نہ رہے اور سنہ ۰۰۹۱ ہجری میں حضرت امام مہدی ظہور فرمائیں۔(مزید چند سطروں کے بعد فرماتے ہیں)
حدیث میں ہے: دنیا کی عمر سات دن ہے۔ میں اسکے پچھلے دن میں مبعوث ہوا، دوسری حدیث میں ہے: میں امید کرتا ہوں کہ میری امت کو خدائے تعالیٰ نصف دن اور عنایت فرمائے، ان حدیثوں سے امت کی عمر پندرہ سو برس ثابت ہوئی﴾ ان یوماً عند ربک کالف سنة مما تعدون﴿ تیرے رب کے یہاں ایک دن تمہاری گنتی کے ہزار برس کے برابر ہے۔ان حدیثوںسے جو مستفاد ہوا وہ اس توقیت کے منافی نہیں جو اس علم سے میرے خیال میں آئی ہے کیونکہ یہاں حضور سرور عالم ﷺ کیطرف سے اپنے رب عز جلالہ اسے استدعا ہے آئندہ انعام الٰہی وہ جس قدر زیادہ عمر عطا فرمائے جیسے جنگ بدر میں حضور ﷺ نے صحابہ کرام کو تین ھزار فرشتے مدد کےلئے آنے کی امید دلائی﴾الن یکفیکم ان یمد کم ربکم بثلاثة اٰ لاٰف ٍ من الملائکةمنزلین﴿کیا تمہیں یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تین ہزار فرشتے اتار کر تمہاری مدد فرمائے۔“
اس پر سبحانہ تعالیٰ نے فرشتوں کا اضافہ فرمایا کہ﴾بلیٰ ان تصبروا وتتقوا یاتوکم من فو رھم یمددکم ربکم بخمسة اٰلاٰفٍ من الملائکة مسومین﴿کیوں نہیں اگر تم صبر کرو اور تقوی پر رہو اور کافر ابھی کے ابھی تم پر آئیں تو تمہارا رب پانچ ہزار والے فرشتوں سے تمہاری مدد فرمائےگا۔“
عرض: حضور نے جفر سے معلوم فرمایا۔
ارشاد : ہاں(اور پھر کسی قدر زبان دبا کر فرمایا) آم کھائیے پیڑ نہ گنئے(پھر خود ہی ارشاد فرمایا) کہ میں نے یہ دونوں وقت (سنہ ۷۳۸۱ ہجری میں سلطنت اسلامی کا بڑھنا اور سنہ ۰۰۹۱ ہجری میں امام مہدی کا ظہور فرمانا)سید المکاشفین حضرت شیخ محی الدین ابن عربی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کلام سے اخذ کئے ہیں، اللہ اکبر!کیسا زبردست واضح کشف تھا کہ سلطنت ترکی کا بانی اول عثمان پاشا حضرت کے مدتوں بعد پیدا ہوا مگر حضرت شیخ اکبر رضی اللہ عنہ نے اتنے زمانے پہلے عثمان پاشا سے لیکر قریب زمانہ آخر تک جتنے بھی بادشاہ اسلامی اور انکے وزراءہونگے، رموز میں سب کا مختصر ذکر فرمایا۔انکے زمانے کے عظیم وقائع کیطرف بھی اشارے فرمادئیے، کسی بادشاہ سے اپنی تحریر میں بہ نرمی خطاب فرماتے ہیں اور کسی پر حالت غضب کا اظہار ہوتاہے، اس میں ختم اسلامی سلطنت کی نسبت لفظ ایقظ فرمایا اور صاف تصریح فرمائی کہ لا اقول ایقظ الھجریة بل ایقظ الجفریة۔میں نے اس ایقظ جفریہ کا جو حساب کیا تو سنہ ۷۳۸۱ ہجری آتے ہیںاور انہی کے دوسرے کلام سے سنہ ۰۰۹۱ ہجری ظہور امام مہدی کے اخذ کئے ہیںوہ فرماتے ہیں:
اذا دارالزمان علیٰ حروف ببسم اللہ فالمھدی قاما
ویخرج فی الحطیم عقیب صوم الا فاقراہ من عندی سلاما
خود اپنی قبر شریف کی نسبت بھی فرمادیا کہ اتنی مدت تک میری قبر لوگوں کی نظروں سے غائب رہے گی مگر
اذا دخل السین فی الشین ظھر قبر محی الدین
جب شین میں سین داخل ہوگا تو محی الدین کی قبر ظاہر ہوگی۔سلطان سلیم جب شام میں داخل ہوئے تو انکو بشارت دی کہ فلاں مقام پر ہماری قبر ہے۔سلطان نے وہاں ایک قبہ بنوادیا جو زیارت گاہ عام ہے۔(پھر فرمایا) چند جداول ۸۲۔۹۲ خانوں کی آپ نے تحریر فرمادی ہیں جن میں ایک ایک خانہ لکھا اور باقی خالی چھوڑ دیئے اب اسکا حساب لگاتے رہئے کہ اس سے کیا مطلب ہے۔(ملفوظات اعلیٰ حضرت حصہ اول ص ۱۰۱ تا ۳۰۱)
نعمت اللہ شاہ ولی کا مکاشفہ اشعار کی صورت میں
ایک اور بزرگ ہستی حضرت نعمت اللہ شاہ ولی علیہ الرحمة اللہ القوی نے قرب قیامت سے متعلق اپنے مکاشفات کو اشعار کی صورت میں سنہ ۸۴۵ ہجری میں بیان کردیا تھا۔ان اشعار میں غزوئہ ہند سے متعلق اشارے بھی ہیں۔قارئین کی دلچسپی کےلئے وہ اشعار اور انکا ترجمہ پیش نظر ہے۔
بینی تو عیسی رابر تخت بادشاہی گیرند مومناں را از حیلہ و بہانہ٭
ایسے وقت میں تم دنیا پر عیسائیوں کی حکومت دیکھو گے اور وہ مسلمانوں کو مکر وفریب سے ہر طرف سے گھیر لیں گے۔
در مومناں نزاری در جنگ قاضی آرے چوں سگ پئے شکاری گرددبسے بہانا٭
مومنوں کا ایمان کمزور ہوجائےگا اور انصاف کا ساتھ دینے والے مسلمان جنگ میں تنہا ہونگے۔کافر انہیں کثرت سے ایسے فریب دینگے جیسے کتے کو شکار سکھانے کےلئے دیا جاتا ہے۔
قوم نصاریٰ ہر سوا غویٰ غلونمایند پس ملک او بگیر ند باحیلہ و بہانہ٭
ہر جگہ عیسائی مومنوں کو برائی پر اکسائینگے اور حد سے گزر جائینگے اور مختلف حیلوں بہانوں سے انکے ملکوں پر قبضہ کرلیں گے۔
ارزاں شود برابر جائیداد وجان مسلم خوں می شود درانہ چوں بحر بیکرانہ٭
مسلمانوں کی جائیداد اور جان کافروں کے نزدیک بالکل بے وقعت ہوجائینگی۔وہ بے دھڑک مسلمانوں کے خون کے دریا بے حد و حساب بہائینگے۔
گردد بنو سلیماں باشند چو فضل رحمان یعنی کہ قوم افغاں باشد صد علانہ٭
بنو سلیمان یعنی قوم افغان اللہ تعالیٰ کے خاس فضل وکرم سے باعزت قوموں کی طرح اٹھ کھڑے ہونگے اور سوگنا زیادہ بہادری سے لڑینگے۔
چوں شود در دور آنہا جور و بدعت را رواج شاہ غربی بہر دفعش خوش عناں پیدا شود٭
جب ظلم و بدعت کو رواج ہوجائےگا غرب کا بادشاہ انکو دفع کرنے کےلئے حکومت کی اچھی باگ ڈور سنبھالنے والا ظاہر ہوگا۔
بر مومنان غربی شد فضل حق ہویدا آید بدست ایشاں مردان کاردانہ٭
مغربی پاکستان کے مسلمانوں پر ذات باری تعالیٰ کا فضل ظاہر ہوگا اور انکے ہاتھ کام چلانے والے ظاہر ہونگے۔
قاتل کفار خواہد شد شہ شیر علی حامئی دین محمد ﷺ پاسباں پیدا شود٭
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے شیروں میں سے ایک شیر کافروں کو قتل کرنے والا ظاہر ہوگا،سرکار دوعالم ﷺ کے دین کی حمایت کرنےوالا اور ملک کا پاسبان ظاہر ہوگا۔
بہر صیانت خود از سمت کج شمالی آید برائے فتح امداد غائبانہ٭
اپنی امدا د کےلئے شمال مشرق سے فتح حاصل کرنے کےلئے غائبانہ امداد آئےگا۔
آلات حرب ولشکر درکار جنگ ماہر باشد سہیم مومن بیحد و بے کرانہ ٭
جنگی ہتھیار اور جنگی معاملے میں ماہر لشکر آئےگا، مسلمانوں کو بےحد اور بے حساب تقویت پہنچے گی۔
عثمان وعرب فارس ہم مومنان اوسط از جذبہ اعانت آیند والہانہ٭
ترکی والے عرب والے ایران والے امداد کے جذبے سے دیوانہ وار آئینگے۔
اعراب نیز آیند از کوہ و دشت وہاموں سیلاب آتشیں شد از ہر طرف روانہ٭
پہاڑوں اور جنگلوں سے اعراب بھی آئینگے،آگ والا سیلاب چاروں طرف رواں ہوگا۔
ناگاہ مومناں را شورے پدید آید با کافراں نمائیند جنگے چو رستمانہ٭
اچانک مومنوں کے خلاف واضح جھوٹ پر مبنی شور آشکارا ہوگا اور مسلمان ان کافروں کے خلاف دلیری اور شجاعت سے جنگ کرینگے۔
چترال ،نانگا پربت باسین ملک گلگت پس ملک ہائے تبت گیر ند جنگ آناں٭
چترال نانگا پربت چین کیساتھ گلگت کا علاقہ ملکر تبت کا علاقہ میدان جنگ بنے گا۔
بعد آں شود چو شورش در ملک ہند پیدا غازی نمائیند آندم یک عزم غازیانہ٭
اسکے بعد ملک ہند میں ایک شورش پیدا ہوگی اور غازیان اسلام اعلان جہاد کرکے اوالعزمی کیساتھ بر سر پیکار ہونگے۔
یکجا شوند عثمان ہم چینیاں و ایران فتح کنند ایناں کل ہند غازیانہ٭
ترکی والے چین والے اور ایرانی ایک جگہ ہو جائینگے یہ سب تمام ہندوستان کو غازیانہ طور پر فتح کرلیں گے۔
یک جا شوند افغان ہم دکنیاں و ایراں فتح کنندا ینہا کل ہند غازیانہ٭
افغانستان، پاکستان اور ایران کے مجاہدین یک جان ہوجائینگے اور ملکر تمام ہندوستان کو غازیانہ فتح کرلیں گے۔
غلبہ کنند ہمچوں مور ملخ شباشب حقا کہ قوم مسلم گردند فاتحانہ٭
چیونٹیوں اور مکڑیوں کی طرح راتوں رات غلبہ حاصل کرلیں گے میں قسم کھاتا ہوں حق تعالیٰ کہ مسلمان قوم فاتح ہوگی۔
ایں غزوہ تابہ شش سال ماند بہ دہرا پیدا بس مردماں بہ میرند ہر جا ازیں بہانہ٭
یہ غزوہ چھ سال تک انسانیت کےلئے بد قسمتی کی گہری تاریک غار کیطرح ہوگی تو جان لے کہ اسوقت اللہ کی راہ میں بڑھکر لڑنےوالے ہر جگہ جام شہادت نوش کرنے کےلئے موقع تلاشکرینگے۔
کابل خروج ساز دور قتل اہل کفار کفار چپ وراست سازند بسے بہانہ٭
اہل کابل کافروں کے قتل کرنے کےلئے نکل آئینگے، کافرین دائیں بائیں بہانہ سازی کرینگے۔
از غازیان سرحد لرزو زمین چو مرقد بہر حصول مقصد آیند والہانہ٭
سرحدی غازیوں سے زمین مرقد کیطرح لرزے گی مقصد کو حاصل کرنے دیوانہ وار آئینگے۔
از خاص و عام آیند جمع تمام گردند درکارآں فزایندہ صد گونہ غم افزانہ٭
عام وخاص لوگ سب کے سب جمع ہوجائینگے اسکے کام میں سینکڑوں قسم کے غم کی زیادتی ہوگی۔
بعد از فریضہ حج پیش از نماز فطرہ از دست رفتہ گیر نداز ضبط غاصبانہ٭
یہ واقعہ بڑی عید کے بعد اور چھوٹی عید الفطر کی نماز سے پہلے ہوگا، ہاتھ سے گئے علاقے و فتح کرلیں گے۔
رود اٹک بہ سہ بار از خون اہل کفار پر مے شود بہ یکبار جریان جارحانہ٭
دریائے اٹک کافروں کے خون سے تین مرتبہ یکبار بھر کے جاری ہوگا۔
کشتہ شوند جملہ بدخواہ دین و ایماں کل ہند پاک باشد از رسم ہندوانہ٭
دین وایماں کے بدخواہ لوگ جان سے مارے جائینگے تمام ہندوستان رسم ہندوانہ سے پاک ہوجائےگا۔
خوش می شود مسلماں از لطف و فضل یزداں کل ہند پاک باشد ار رسم ہندوانہ٭
مسلمان اللہ تعالیٰ کے لطف وفضل سے خوش ہوجائینگے اور تمام ہندوستان ہندوانہ رسوم سے پاک ہوجائےگا۔
پنجاب، شہر لاہور کشمیر ملک منصور دوآب شہر بجنور گیرند غالبانہ٭
پنجاب شہر لاہور ملک کشمیر اور جمنا شہر بجنور پر مسلمان غالبانہ قبضہ کرلیں گے۔
فتح یا بد شاہ غربستان بزور تیغ قوم کافر را شکست بیگماں پیدا شود٭
غربستان کا بادشاہ ہتھیاروں اور اسلحہ کی زور پر فتح حاصل کرلےگا اور کافر قوم کو ایسی شکست ہوگی جو وہم وگماں سے ماوراءہوگی۔
تا چہل سل ای برادر من دورآن شہریار می بینم٭
اے پیارے بھائی چالیس سال تک اس بادشاہ کا عہد و اقتدار میں دیکھ رہاہوں۔
غلبة الاسلام باشد تا چہل در ملک ہند بعد ازا دجال ہم از اصفہاں پیدا شود٭
اسلام کا غلبہ چالیس سال تک ہندوستان کے ملک میں رہےگا اسکے بعد دجال اصفہان کے شہر سے ہوگا۔
از برائے دفع آں دجال من گوئم شنو عیسیٰ آید مہدی آخری زماں پیدا شود٭
میں جو کہہ رہاہوں غور سے سنو اس دجال کے فتنے کو مٹانے کےلئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مہدی آخر الزماں ظاہر ہونگے۔
خاموش باش نعمت اسرار حق مکن فاش در سال کنت کنزاً باشد چنیں بیانہ٭
اے نعمت اللہ شاہ! خاموش ہو جا رب کے رازوں کو ظاہر نہ کر، پانچ سو اڑتالیس ہجری میں، میں واقعات بیان کررہاہوں۔
ہم نے یہ تمام اقوال اسلئے بیان کردئیے تاکہ قارئین جان لیں کہ آئندہ کے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھنے والے اس امت میں ایسے بھی صاحبان علم ہیں ۔جب غلاموں کی یہ شان ہو تو سردار امت ﷺ کے علم کا کیا حال ہوگا۔
اب ہم ان احادیث کو بیان کرینگے جسمیں قرب قیامت کی نشانیوں اور اس دور کے احوال کی خبر دی گئی ہے۔
اس امت کی اجل اور اسکی ابتداءکب سے ہے:
عن خدیج بن ابی عمرو قال سمعت المستورد یقول سمعت رسول اللہ ﷺ یقول﴾ ان لکل امة اجلا وان اجل امتی مائة سنة فاذا مرت علی امتی مائة سنة اتاھا ما وعدھا اللہ﴿ قال ابن لھیعة یعنی کثرة الفتن(المعجم الکبیر للطبرانی جز ۵۱ ص ۰۴۲، رقم الحدیث: ۵۱۱۷۱)
وسرا باب: اسلام کو کسطرح بھلا دیا جائےگا:
۱﴿اسلام ایکبار پھر حالت غربت میںلوٹ جائےگا:
ابن مسعود کی صحیح روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:ان الاسلام بدا غریباً و سیعود غریبا کما بدا فطوبیٰ للغرباءقیل ومن الغربائ؟ قال النزائح من القبائل اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا تھا اور دوبارہ اجنبی حالت میں لوٹے گا جیسا کہ شروع میں تھا لہٰذا غرباءکےلئے خوشخبری ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا مختلف قوموں سے اسلام آہستہ آہستہ یوں ختم ہوجائےگا جیسے کنوﺅں سے پانی ختم ہوتا ہے۔(النہایةفی الفتن والملاحم از ابن کثیر ص ۲۴)
۲﴿علم دین سے دور رہنے کے سبب گمراہی پھیلے گی:
عن عبد اللہ بن عمرو ان رسول اللہ ﷺ قال﴾ان اللہ لا یقبض العلم انتزاعا ینتزعہ من الناس ولکن یقبض العلم بموت العلماءحتیٰ انہ اذا لم یبق عالم اتخذ الناس روسا جھالا فسئلوا فافتوا بغیر علم فضلوا واضلوا﴿ اللہ تعالیٰ علم کو اچانک یونہی نہیں اٹھائےگا کہ وہ لوگوں کے اندر سے علم کھینچ لے بلکہ علم کو موت کی صورت میں اٹھائےگا حتیٰ کہ کوئی عالم باقی نہ رہےگا اور لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنالیں گے جو بغیر علم کے فتویٰ دینگے اور خود بھی گمراہ ہونگے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرینگے۔(النہایةفی الفتن والملاحم از ابن کثیر ص۵۴)
فوائد حدیث: جب علم ہی فوت ہوجائےگا تو اسکا لازمی اثر عمل پر بھی پڑےگا، جسکے باعث رفتہ رفتہ لوگ فرائض و سنن کو فراموش کرتے چلے جائینگے۔
عن معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ قال﴾تکون فتن یکثر فیھا المال ویفتح فیھا القرآن حتی یقرا الرجل والمراٰة والصغیر والکبیر والمومن والمنافق، فیقراہ ولا یتبع فیقول:واللہ لاقرانہ علانیة ولا یتبع، فیقصد مسجدا فیبتدع کلاماً لیس من کتاب اللہ ولا من سنة رسول اللہ ﷺ فایاکم وایاہ، فانھا بدعة ضلالة ، فایاکم وایاہ فانھا بدعة ضلالة ،، فایاکم وایاہ فانھا بدعة ضلالة﴿(المعجم الکبیر للطبرانی جز ۵۱ ص ۷۲ رقم الحدیث:۱۵۶۶۱)
عن حذیفة قال الفتن بعد رسول اللہ ﷺ الی ان تقوم الساعة اربع فتن، فالاولی خمس، والثانیة عشرون والثالثة عشرون والرابعة الدجال۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ کے وصال ظاہری سے قیامت قائم ہونے تک چار بڑے فتنے ہیں، پہلے فتنہ میں پانچ ہیں، دوسرے میں بیس ، تیسرے میں بیس اور چوتھا فتنہ دجال کا خروج ہے۔(کتاب الفتن جز ۲ باب ما وقت فی الفتن من الاوقات للسنین والشھور والایام، رقم الحدیث:۹۳۹۱)
بعض مشائخ نے روایت کیا ہے کہ ان رسول اللہ ﷺ قال اذا اتی علی امتی خمس و عشرین ومئة سنة کانت الملاحم وکل ما یذکر فی آخر الزمان۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب میری امت پر ۰۲۵ سال گزر جائینگے تب لڑائیوں کا آغاز ہوجائےگا اور وہ سب کچھ جسکا آخر زمانے میں وقوع ہونا بیان کردیا گیا ہے۔(کتاب الفتن جز ۲ باب ما وقت فی الفتن من الاوقات للسنین والشھور والایام، رقم الحدیث:۲۴۹۱)
عن ابی ھریرة رضی اللہ عنہ قالوا کلھم ویل للعرب بعد الخمس والعشرین المئة سنة۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تمام تر تباہی اہل عرب کےلئے ۰۲۵ سال گزرنے کے بعد شروع ہوجائےگی۔(کتاب الفتن جز ۲ باب ما وقت فی الفتن من الاوقات للسنین والشھور والایام، رقم الحدیث:۵۴۹۱)
قال الولید و قرات علی دانیال قال جمیع شان ھذہ الامة بعد نبیھا محمد ﷺ الی عیسیٰ اربع و سبعین ومئتی سنة لبنی امیة من ذلک حقب ثمانون سنة والمتسلطون وھم اثنا عشر لھم مئة سنة ویملک الجبارون اربعین سنة ویبقی الناس لا احدھم لھم سبع سنین ویخرج الدجال سبع سنین ویخرج عیسی ابن مریم علیہ السلام فیکون اربعین سنة۔ولید نے حضرت دانیال علیہ السلام (کا صحیفہ ) پڑھتے ہوئے کہا کہ اس امت کی شان اسکے نبی محمد ﷺ کے وصال ظاہری کے بعد سے لیکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول تک ۰۷۴ سال ہیں،جسمیں سے بنو امیہ کے لئے ایک حقب ۰۸ سال کاہے، متسلطون وہ بارہ ہیں اور انکے لئے سو سال ہیں،اور جبارون کی حکومت کے چالیس سال ہیں، اسکے بعد لوگ ۰۷ سال گزارینگے کہ دجال خروج کرےگا
عن سلیمان بن یسار ان ابا اسید الساعدی اصیب بصرہ قبل قتل عثمان، فقال﴾ الحمد للہ الذی متعنی ببصری فی حیاة النبی ﷺ فلما اراد اللہ الفتنة فی عبادہ کف بصری عنھا﴿
(المعجم الکبیر للطبرانی جز۴۱ ص۰۶۱ رقم الحدیث۹۱۹۵۱)
ان کرز بن علقمة الخزاعی قال: بینما انا جالس عند رسول اللہ ﷺ اذ جاءہ رجل من اعراب نجدٍ، قال﴾یارسول اللہ ﷺ ھل للاسلام منتھی؟ قال رسول اللہ ﷺ نعم ایما اھل بیت من العرب والعجم اراد اللہ بھم خیرا ادخل علیہم الاسلام، قال الاعرابی: ثم ما ذا یارسول اللہ ؟ قال رسول اللہ ﷺ ثم تقع الفتن کانھا الظلل، قال الاعرابی:کلا یا رسول اللہ ، قال رسول اللہ ﷺ والذی نفسی بیدہ تعودون فیھا اساود صباً یضرب بعضکم رقاب بعض﴿(المعجم الکبیر للطبرانی جز۴۱ ص۰۸رقم الحدیث:۶۷۷۵۱)
۳﴿علم و عمل سے دوری ، اسلام کو کمزور کردے گی:
وقال ابن ماجة عن حذیفة بن الیمان رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺ ﴾یدرس الاسلام کما یدرس و شی الثوب ما یدری صیام ولا صلاة ولا نسک ولا صدقة ویسی النسیان علی الکتاب فی لیلة فلا یبقی فی الارض منہ آیة و تبقی طوائف من الناس الشیخ الکبیر والعجوز یقولون ادرکنا ابان علیٰ ھذہ الکلمة لا الہٰ الااللہ وھم لا یدرون ما صلاة ولا صیام ولا نسک ولا صدقة فاعرض عنہ حذیفة فرددھا علیہ ثلاثا کل ذالک یعرض عنہ حذیفة ثم اقبل علیہ فی الثالثہ فقال فاصلة تنجیھم من النار﴿اسلام کا اثر اس طرح آہستہ آہستہ ختم ہوتا چلا جائےگا جیسا کہ کپڑوں کے نشانات مٹ جاتے ہیں۔حتیٰ کہ کسی کو روزہ نمازعبادات اور صدقہ کا علم نہ ہوگا،کتاب اللہ کو ایک رات میں بھلا دیا جائےگا۔چنانچہ زمین پر ایک آیت بھی باقی نہ رہےگی،لوگوں کے بہت سے گروہ بوڑھوں اور بوڑھیوں کے ہونگے جو کہینگے کہ ہم نے اپنے ماں باپ کو کلمہ لا الہٰ الا اللہ پڑھتے دیکھا تھااور انہیں کچھ نہ پتہ ہوگا کہ نماز، روزہ عبادت اور صدقہ کیا ہے۔اس پر حضرت حذیفہ سے تین مرتبہ سوال کرنے کی کوشش کی مگر آپ نے یہ جواب دیا کہ مگر تیسری بار فرمایا کہ یہی چیز(کلمہ) انکو جہنم سے نجات دلادےگا۔تین مرتبہ فرمایا۔(النہایةفی الفتن والملاحم از ابن کثیر ص۶۴)
عن سلمة بن نفیل رضی اللہ عنہ قال سمعت رسول اللہ ﷺ یقول﴾بین یدی الساعة موتان شدید و بعدہ سنوات الزلازل﴿(کتاب الفتن از نعیم بن حما د المروزی)
قیامت سے پہلے موت کی کثرت (والی بیماریاں) واقع ہونگیں اسکے بعد زلزلوں کے سال آئینگے۔
عن مکحول فی قولہ عزوجل﴾لترکن طبقا عن طبقا﴿قال:فی کل عشرین سنة تکونون فی حال غیر الحال التی کنتم علیھا مکحول فرماتے ہیں کہ ہر بیس سال کے بعد تم میں ایسی تبدیلی آجائےگی جس پہ پہلے نہ تھے۔(کتاب الفتن از نعیم بن حما د المروزی)
عن عمیر بن اسحاق قال کنا نتحدث ان اول ما یرفع عن الناس الالفة۔عمیر بن اسحاق فرماتے ہیں کہ ہمیں کہا جاتا تھا کہ پہلی چیز جو لوگوں کے درمیان سے اٹھالی جائےگی وہ آپس کی محبت و الفت ہے۔(کتاب الفتن نعیم بن حماد المروزی)
عن زید بن وھب سمع عبد اللہ قال﴾ ان الفتنة وقفات وبعثات فمن استطاع ان یموت فی وقفاتھا فلیفعل﴿حضرت زید بن وہب فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا کہ بیشک فتنوں میں وقفہ بھی آئےگا اور یہ فتنے دوبارہ سر اٹھائینگے تو تم میں سے جس سے ہوسکے وہ ان فتنوں کے وقفہ میں مرسکے تو ایسا کر گزرے۔(کتاب الفتن نعیم بن حماد المروزی)
۴﴿اس امت کے بعض پہ عذاب کب اور کن اعمال کی بناءپر نازل ہوگا:
اے جماعت مہاجرین! میں اللہ کی پناہ مانگتاہوں ان پانچ باتوں سے کہ تم ان میں مبتلا ہوجاﺅ۔
۱) کوئی قوم جب فحاشی میں مبتلا ہوجائے اور اعلانیہ وہ گناہ کریں تو ان میں طاعون اور قحط واقع ہونگے جو ان سے پہلے کبھی واقع نہ ہوئے ہونگے۔
۲) جب کوئی قوم ناپ تول میں کمی کی آفت میں مبتلا ہوجائے تو ان پر آفات قحط سختی اور بادشاہوں کے ظلم کے عذاب واقع ہوجائینگے۔
۳) جب لوگ زکٰوة ادا نہ کرینگے تو آسمان سے بارش بند ہوجائینگی اور اگر زمین پر جانور نہ ہوتے تو کبھی بارش نہ ہوتی۔
۴) اور لوگ جب اللہ کے عہد کو توڑینگے تو اللہ ان پر انکے غیر میں سے دشمن مسلط کردےگا جو انکے اموال کو چھین لے گا۔ اور
۵) جب حکمران حکم کے مطابق فیصلے نہ کریں اور اللہ کے نازل کردہ احکامات کا مذاق اڑائیںتو اللہ عزوجل انکو خانہ جنگی(سول وار) میں مبتلا فرمادےگا۔(النہایةفی الفتن والملاحم از ابن کثیر ص۷۴)
۵﴿قرب قیامت کی نشانیوں پر ایک مفصل حدیث:
عن ابی ہریرة ان رسول اللہ ﷺ قال: لاتقوم الساعة حتیٰ تقتتل فئتان عظیمتان تکون بینھما مقتلة عظیمة دعوتھما واحدة و حتیٰ یبعث دجالون کذابون قریب من ثلاثین کلھم یزعم انہ رسول اللہ وحتیٰ یقبض العلم، وتکثر الزلازل و یتقارب الزمان و تظھر الفتن ویکثر الھرج وھو القتل وحتیٰ یکثر فیکم المال، فیفیض حتیٰ یھم رب المال من یقبل صدقتہ وحتیٰ یعرضہ فیقول الذی یعرضہ علیہ لا ارب لی بہ وحتیٰ یتطاول الناس فی البنیان وحتیٰ یمؑر الرجل بقبر الرجل فیقول :یا لیتنی مکانہ وحتیٰ تطلع الشمس من مغربھا فاذا طلعت ورآھا الناس یعنی آمنوا اجمعون فذالک حین لا ینفع نفسا ایمانھا لم تکن آمنت من قبل او کسبت فی ایمانھا خیراً ولتقومن الساعة و قد نشر الرجلان ثوبھما فلا یتبایعانہ ولا یطویانہ ولتقو من الساعة وقد انصرف الرجل بلبن لقحتہ فلا یطعمہ ولتقومن الساعة وھو یلیط حوضہ فلا یسقی فیہ ولتقو من الساعة وقد رفع اکلتہ الی فیہ فلا یطعمھا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت اسوقت تک قائم نہ ہوگی جب تک دو عظیم جماعتیں جنگ نہ کریں گی ان دونوں جماعتوں کے درمیان بڑی خون ریزی ہوگی، حالانکہ دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہوگا اور یہانتک کہ بہت سے جھوٹے دجال بھیجے جائینگے، تقریباً تیس دجال ان میں سے ہر ایک دعویٰ کرےگا کہ وہ اللہ کا رسول ہے اور یہانتک کہ علم اٹھا لیا جائےگا اور زلزلوں کی کثرت ہوگی اور زمانہ قریب ہوجائےگا اور فتنے ظاہر ہوجائینگے اور ہرج بڑھ جائےگا اور ہرج سے مراد قتل ہے اور یہانتک کہ تمہارے پاس مال کی کثرت ہوجائےگی بلکہ بہہ پڑےگا اور یہانتک کہ صاحب مال کو اس بات کی فکر ہوگی کہ اسکا صدقہ کون قبول کرےگا اور یہانتک کہ وہ جسکے سامنے پیش کرےگا وہ کہےگا کہ مجھے اسکی ضرورت نہیں ہے اور یہانتک کہ لوگ بڑی بڑی عمارتوں میں آپسمیں فخر کرینگے۔ایک سے ایک بڑھ چڑھ کر عمارات بنائینگے اور یہانتک کہ ایک شخص دوسرے کی قبر سے گزرےگا اور کہے گا کہ کاش میں بھی اسی جگہ ہوتا اور یہانتک کہ سورج مغرب سے نکلے گا۔پس جب وہ اس طرح طلوع ہوگا اور لوگ دیکھ لیں گے تو سب ایمان لے آئینگے، لیکن یہ وہ وقت ہوگا جب کسی ایسے شخص کو ایمان لانا فائدہ نہ پہنچائےگا پہلے سے ایمان نہ لایا ہو یا اس نے اپنے ایمان کیساتھ اچھے کام نہ کئے ہوں اور قیامت اچانک اسی طرح قائم ہوجائےگی کہ دو آدمیوں نے اپنے درمیان کپڑا پھیلا رکھا ہوگا اور اسے ابھی بیچ نہ پائے ہونگے نہ لپیٹ پائے ہونگے اور قیامت اسی طرح برپا ہوجائےگی کہ ایک شخص اپنی اونٹنی کا دودھ نکال کر واپس ہوا ہوگا کہ اسے ابھی کھا بھی نہ پایاہوگا اور قیامت اس طرح قائم ہوجائے گی کہ وہ اپنے حوض کو درست کررہا ہوگا اور اسمیں سے پانی بھی نہ پیا ہوگا اور قیامت اس طرح قائم ہوجائےگی کہ اس نے اپنا لقمہ منہ کیطرف اٹھایا ہوگا اور ابھی اسے کھایا بھی نہ ہوگا۔(رواہ البخاری کتاب الفتن باب ۵۲ رقم الحدیث: ۱۲۱۷)
حدثنا معبد سمعت حارثة بن وھب قال: سمعت رسول اللہ ﷺ یقول:تصدقوا فسیاتی علی الناس زمان یمشی الرجل بصدقتہ فلا یجد من یقبلھا۔
حضرت حارثہ بن وھب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوںنے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا صدقہ کرو کیونکہ عنقریب لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئےگا جب ایک شخص اپنا صدقہ لیکرپھرےگا اور کوئی اسے لینے والا نہیں ملےگا۔(رواہ البخاری کتاب الفتن باب ۵۲ رقم الحدیث: ۰۲۱۷)
قل ھو القادر علیٰ ان یبعث علیکم عذابا من فوقکم او من تحت ارجلکم او یلبسکم شیعا و یذیق بعضکم باس بعض انظر کیف نصرف الآیت لعلھم یفقھون۔(سورئہ انعام :۵۶)
ابن مردویہ میں حدیث ہے کہ دو چیزوں پہ اللہ نے حکم جاری فرمادیا اور دو چیزیں روک دی گئیں۔ اور جو دو چیزیں موقوف یعنی روک دی گئیں وہ آسمان سے پتھروں کا سب پر برسانا موقوف کردیا گیا ہے اور زمین کے پانی کے طوفان سے سب کا غرق ہوجانا موقوف کردیا گیا ہے لیکن قتل اور آپس کی لڑائی موقوف نہیں کی گئی۔
حضرت ابن ابی کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو چیزیں اس امت سے ہٹا لی گئیں اور دو رہ گئیں۔اوپر کا عذاب یعنی آسمان سے پتھروں کی بارش اور نیچے کا عذاب یعنی زمین کا دھنس جانا یہ تو ہٹا لیا گیا اور آپس کی پھوٹ اور ایک کا ایک کو ایذائیں پہنچانا رہ گیا۔ آپ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں چار چیزوں کا ذکر ہے جن میں سے دو تو حضور ﷺ کی وفات کے پچیس سال بعد ہی شروع ہوگئیں یعنی پھوٹ اور آپس کی لڑائی۔دو باقی رہ گئیں وہ بھی ضرور ہی آنے والی ہیں یعنی رجم اور خسف آسمان سے سنگباری اور زمین میں دھنسایا جانا۔( مسند احمد) حضرت حسن رحمة اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جب تک لوگ گناہ سے بچے ہوئے تھے عذاب بھی رکے ہوئے تھے جب گناہ شروع ہوگئے تو عذاب بھی اتر پڑے۔ایک حدیث میں ہے کہ میری امت میں سنگ باری اور زمین میں دھنس جانا اور صورتوں کا مسخ ہوجانا واقع ہوگا۔(تفسیر ابن کثیر پارہ ۷ سورئہ انعام : ۵۶کے مقام پہ)
وقال رسول اللہ ﷺ﴾یکون فی امتی خسف ومسخ وقذف﴿ میری امت میں سنگ باری اور زمین میں دھنس جانا اور صورتوں کا مسخ ہوجانا واقع ہوگا(مسند احمدفی مسند عبد اللہ بن عمرو الرقم : ۸۷۶۶)
۷﴿سرخ آندھیاں، زمین کا دھنسنا، اور چہروں کا بگڑنا یہ کب ہوگا:
وقال الترمذی عن محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب قال: قال رسول اللہ ﷺ اذا فعلت امتی خمس عشرة خصلة حلؑ فیھا البلاءقیل وما ھی یارسول اللہﷺ؟ قال اذا کان المغنم دولا، ولامانة مغنما ولازکاة مغرما واطاع الرجل زوجتہ وعق امہ وبر صدیقہ وجفا اباہ، وارتفعت الاصوات فی المساجد وکان زعیم القوم ارذلھم واکرم الرجل مخافة شرہ و شربت الخمر ولبس الحریر واتخذت القینات والمعازف ولعن آخر ھذہ الامة اوؑلھافلیرتقبوا عند ذالک ریحاًحمراً او خسفاً او مسخاً۔
جب میری امت ان پندرہ خصلتوں کو اختیار کرلے گی تو ان پر مصیبتیں آنا شروع ہو جائینگی، پوچھا گیا وہ خصلتیں کیا ہیں؟فرمایا
جب غنیمت چند ہاتھوں میں رہ جائے ، امانت کو غنیمت سمجھ لیا جائے، زکوٰة کو ٹیکس سمجھا جائے، مرد اپنی بیوی کی اطاعت کرے اور ماں کی نافرمانی کرے، دوست سے نیکی کرے باپ سے جفا کرے، مسجد میں آوازیں بلند ہونے لگیں، قوم کا سردار سب سے برا انسان ہواور اسکے شر کے خوف سے اسکی عزت کیجائے۔ شراب پی جانے لگے، ریشم پہنا جائے، گانے بجانے والی عورتیں اور گانے کے آلات رکھے جائیں، اس امت کے اگلے لوگ اپنے پچھلے بزرگ و اسلاف پر لعن طعن کریں تو اسوقت سرخ آندھی، یا زمین کے دھنس جانے کے عذاب یا چہروں کے مسخ ہوجانے کا انتظار کرو۔(النہایةفی الفتن والملاحم از ابن کثیر ص۷۴)
وقال الحافظ ابوبکر البزار عن علی بن ابی طالب قال(قال رسول اللہ ﷺ )ذالک عند حیف الائمةوتصدیق بالنجوم وتکذیب بالقدر وحتیٰ تتخذ الامانة مغنما والصدقہ مغرما والفاحشة زیادة فعند ذالک ھلک قومک۔
قیامت اسوقت آئےگی جب حکمرانوں کے ظلم و ستم بڑھ جائینگے، ستاروں کی تصدیق کیجائےگی اور تقدیر کو جھٹلایا جائےگااور امانت کو غنیمت سمجھ لیا جائےگا، صدقہ کو ٹیکس سمجھا جائےگا، فحاشی بڑھ جائےگی تو اسوقت تیری قوم ہلاک ہوجائےگی۔(النہایةفی الفتن والملاحم از ابن کثیر ص۷۴)
قال الترمذی عن ابی ہریرة رضی اللہ عنہ قال رسول اللہ ﷺ اذا اتخذا الغنی والامانة مغنما والزکاة مغرماو تعالم لغیر الدین، واطاع الرجل امراتہ وعنؑ امہ وادنی صدیقہ واقصی اباہ و ظھرت الاصوات فی المساجد وساد القبیلة فاسقھم وکان زعیم القوم ارذلھم واکرم الرجل مخافة شرہ، وظھرت القینات والمعازف و شربت الخمور ولعن آخر ھذہ الامة اولھا فلیرتقبوا عند ذالک ریحا حمراً، وخسفاً ومسخاً وقذفاً وآیات تتابع کنظام بال قطع سلکہ فتتابع۔جب غنیمت چند ہاتھوں میں رہ جائے، امانت کو غنیمت سمجھا جائے، زکوٰة کو ٹیکس سمجھا جائے، دین کے ماسوا تعلیم حاصل کیجائے مرد بیوی کا مطیع اور ماں کا نافرمان ہوجائے دوست سے نیکی کرے باپ سے سختی کیجائے، قبیلہ کی قیادت انکے فاسق کے ہاتھ میں ہو، قوم کا سردار سب سے نیچ آدمی ہو اور آدمی کی عزت اسکے شر کے خوف سے کیجائے، گانے والیاں اور گانے کے آلات عام ہوجائیں، شرابیں پی جائیں، اس زمانے کے لوگ پہلے زمانے کے بزرگوں پر لعن طعن کریں تو اسوقت سرخ آندھی، زمین دھنس جانے کے عذاب، چہروں کے مسخ ہونے یا پتھروں کی بارش کا انتظار کرو، اور یہ سب عذاب اس تیزی سے آئینگے جیسے لٹکا دھاگہ ٹوٹنے کے بعد پے درپے موتی گرتے جاتے ہیں۔(النہایةفی الفتن والملاحم از ابن کثیر ص۸۴)
عن جنادة بن ابی امیہ انہ سمع عبادة بن الصامت یذکر ان رجلا اتی النبی ﷺ فقال یارسول اللہ ﷺ﴾ ما مدة امتک من الرخائ﴿ فلم یرد علیہ شیئا حتی سالہ ثلاث مرار کل ذلک لا یجیبہ ثم انصرف الرجل ثم ان النبی ﷺ قال﴾این السائل؟ فردوہ علیہ فقال: لقد سالتنی عن شئی ما سالنی عنہ احد من امتی مدة امتی من الرخاءمائة سنة۔ قالھا مرتین او ثلاثا فقال الرجل یارسول اللہ ﷺ فھل لذالک من امارة او علامة او آیة فقال:نعم الخسف والرجف وارسال الشیاطین المجبلة علی الناس﴿ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ آپکی امت کی خوشحالی اور آسودگی کی مدت کتنی ہے؟ راوی کہتے ہیں کہ سائل کے سوال کا کوئی جواب نہ ملا حتی کہ اس نے تین مرتبہ یہی سوال دہرایا اور سائل چلا گیا، پھر اسکے بعد نبی کریم ﷺ نے پوچھا کہ سوال کرنےوالا شخص کہاں ہے؟ لوگوں نے سائل کو بلایا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تونے مجھ سے وہ سوال کیا ہے کہ تیرے سوا میری امت میں کسی نے نہیں کیا۔میری امت کی مدت رخاءسو سال ہیں، پھر یہی الفاظ دو یا تین مرتبہ دہرائے۔تو اس شخص نے پوچھا کہ کیا اس مدت کی کوئی نشانی، علامت ہے۔فرمایا ہاں خسف، رجف اور شیاطین کے لاﺅ لشکر جو لوگوں پر بھیجے جائینگے۔
(مسند احمد ، فی مسند عبادة بن الصامت الرقم : ۱۴۴۳۲)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ ﴾یکون قوم من امتی یکفرون باللہ و بالقرآن وھم لا یشعرون کما کفرت الیھود ولنصاریٰ، قال قلت: جعلت فداک یا رسول اللہ ﷺ و کیف ذاک؟ قال : یقرون ببعض القدر ویکفرون ببعضہ، قال قلت : ثم ما یقولون؟ قال یقولون :الخیر من اللہ والشر من ابلیس، فیقرون علی ذالک کتاب اللہ ویکفرون بالقرآن بعد الایمان و المعرفة ، فما یلقی امتی منھم العداوة والبغضاءوالجدال اولٰئک زنادقة ھذہ الامة فی زمانھم یکون ظلم السلطان، فینالھم من ظلم و حیف اثرة۔ ثم یبعث اللہ عزوجل طاعونا فیفنی عامتھم، ثم یکون الخسف فما اقل ما ینجو منھم المومن یومئذ قلیل فرحہ شدید غمہ، ثم یکون المسخ فیمسخ اللہ عزوجل عامة اولئک قردة و خنازیر، ثم یخرج الدجال علی اثر ذالک قریبا، ثم بکی رسول اللہ ﷺ حتی بکینا لبکائہ قلنا ما یبکیک؟ قال : رحمة لھم الاشقیائ، لان فیھم المتعبد ومنھم المجتھد مع انھم لیسو ا باول من سبق الی ھذا القول، و ضاق بحملہ ذرعا ان عامة من ھلک من بنی اسرائیل بالتکذیب بالقدر، قلت جعلت فداک یارسول اللہ فقل لی: کیف الایمان بالقدر؟ قال نومن باللہ وحدہ وانہ لا یملک معہ احد ضرا ولا نفعا ونومن بالجنة والنار و تعلم ان اللہ عزوجل خالقھما قبل خلق الخلق، ثم خلق خلقہ فجعلھم من شاءمنھم للجنة ومن شاءمنھم للنار، عدلا ذلک منہ و کل یعمل لما فرغ لہ وھو صائر الی ما فرغ منہ قلت : صدق اللہ و رسولہ﴿(معجم الکبیر للطبرانی الرقم :۱۵۱۴)
عن عمران بن حصین ان رسول اللہ ﷺ قال: فی ھذہ الامة خسف و مسخ و قذف فقال رجل من المسلمین ومتیٰ ذالک یارسول اللہ ﷺ؟ قال:اذا ظھرت القیان والمعازف و شربت الخمور۔“
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: اس امت پر زمین کے دھنسنے کا عذاب ، صورتوں کے مسخ ہونے کا عذاب، اور پتھروں کی بارش کے عذاب آئینگے، کسی نے پوچھا ایسا کب ہوگا؟ فرمایا جب گانے بجانے والیوں اور گانے کے آلات کی کثرت ہو اور شرابیں پی جائیں۔(النہایةفی الفتن والملاحم از ابن کثیر ص۸۴)
اسی حدیث کو امام حاکم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ﴾اذا رایت النساءقد رکبن السروج وکثرت القینات وشھد شھادات الزور وشر المسلمون فی آنیة اھل الشرک الذھب والفضة واستغنی الرجال بالرجال ولنساءبالنساءفاستد فروا واستعدوا ھکذا بیدہ و ستر وجھہ﴿(رواہ الحاکم فی المستدرک الرقم: ۹۴۳۸)
حضرت جریر بن عبد اللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :دجلہ و دجیل اور قطربل و فرات کے درمیان ایک شہر تعمیر ہوگا اور اس شہر میں دنیا کے جابر حکمران جمع ہونگے اور خزانے وہاں آجائینگے، پھر اس شہر میں خسف یعنی زمین میں دھنس جانا واقع ہوگا۔(التذکرة از امام قرطبی جلد ۲ ص ۹۸۴)
امام قشیری اور ثعلبی نے اپنی تفاسیر میں بیان کیا ہے کہ جب یہ آیت حم عسق نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ کے رخ انور پر غم و اندوہ کے آثار دیکھے گئے ۔آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ آپکو کس چیز نے غمگین کردیا ہے تو فرمایا: میری امت کو خسف، قذف، اور آگ جو انکو جمع کرےگی اور آندھی جو انکو اٹھا کے سمندر میں پھینک دے گی، ایسے مصائب و بلیات کے لاحق ہونے کی خبر دی گئی ہے اور پے در پے علامات قیامت کے نازل ہونے سے انکو مصائب پہنچیں گے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور دجال کے خروج کے زمانے میں ہونگے۔(التذکرة از امام قرطبی جلد ۲ ص ۰۹۴)
عن کثیر بن مرة قال قال رسول اللہ ﷺ من علامات البلاءو اشراط الساعة ان تغرب العقول وتنقص الاحلام ویکثر الھم و ترفع علامات الحق ویظھر الظلم۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مصیبت اور قرب قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ عقلیں ڈوب جائینگی، اور سمجھ داری کم ہوجائے گی، اور غم زیادہ ہوجائینگے اور حق کی علامتیں اٹھالی جائینگی (یا اٹھائی جائینگی) اور ظلم ظاہر ہوجائینگے۔(کتاب الفتن نعیم بن حماد المروزی)
عن کعب قال یدنو الرب الیٰ السماءفیرد الماءالیٰ عنصرہ و ترجف الارض ویخر الناس لوجوھھم سجدا ویعتقون عامة ارقائھم ثم تسکن زمانا ثم تعود فتزلزل باھلھا اشد من المرة الاولیٰ فیعتقون عامة ارقائھم ثم تصدع و تخسف بطائفة من الارض و اودیتھا والناس حتیٰ ان الرجل یسری فیمر بالحی وھم سالمون و آخرون مخسوف بھم و ان الرجلین لیطحنان فتصیبھما الصعقة فیموت احدھما او تصیبھما فی نومھا کذالک و تستصعب الارض زلزالا کالبرذون الفحل الصعب حتیٰ یلجا اھل المدن والقریٰ الیٰ الجبال فیکونون مع السباع وتحشر حلیة الارض ذھبھا و فضتھا الیٰ بیت المقدس وحتیٰ یفتح الرجل والمراة السفط والجونہ فلا یجدان من حلیھما شیئا ویتقعقع خشب بیت المقدس و سقفہ تھلک المراعی والدواب وینقطع ملک الجزیرة وارمینیة وییبس شجرھا وتھلک دوابھما من الزلزلة ویشبعھما جوعا وحتیٰ ان الرجل لیثور لیتقلع من مکانہ فیھرب ثلاث مرات کل ذالک یرد الیٰ موضعہ فیکون آخر انقلاعہ و فرارہ الیٰ طبریہ فیثبت علیھا ویتعوذ الیٰ اللہ باسمہ المقدس الا یعیدہ فیقرہ و تغلو الخیل فتطلب الفرس بالمال الکثیر فلا یصاب۔
رب العزت کا قہر آسمان دنیا سے قریب ہوجائےگا، جسکی وجہ سے پانی اپنے عناصر کیطرف لوٹ جائےگااور زمین قہر الٰہی کے سبب کانپ اٹھے گی حتیٰ کہ لوگ سجدہ کے بل زمین پر گر جائینگے اور لوگ اپنا سکون اور نیند سب بھو ل جائینگے، پھر زمانے میں سکون آجائےگا (اور لوگ اپنی پرانی روش کیطرف لوٹ جائینگے) کہ پھر زمین میں زلزلہ برپا ہوگا اور یہ پہلے سے زیادہ شدید زلزلہ ہوگا اور لوگ اپنی خوابگاہوں سے بے نیاز ہوکر بھاگنے لگیں گے اور زمین ان کے نیچے سے پھٹنے لگے گی اور لوگوں کی جماعتیں زمین میں دھنس جائینگی۔اور لوگ مصیبت میں گرفتار ہونگے۔حتیٰ کہ اگر کوئی دولتمند شخص کسی قبیلہ پر سے گزرا ہو اور وہ سلامتی کیساتھ تھے جب ان پر سے گزرےگا تو وہ فاقہ زدہ نظر آئینگے۔اور دو آدمی ایسے بھی ہونگے کہ جنکے پاس اونٹوں کے لشکر ہونگے تو ایک کے جانور تو بجلی گرنے کے سبب ہلاک ہوگئے ہونگے اور ایک کی مال و متاع رات ہی کو ہلاک کردی گئی ہوگی۔اور زمین پر زلزلوں کے سبب رہنا دشوار ہوجائےگا، زمین ایسی شدت سے کانپتی ہوگی جیسے بد مست گھوڑا بدکتا ہے، حتیٰ کہ شہر اور گاﺅں والے پہاڑوں کیطرف پناہ لینے کےلئے بھا گیں گے۔اور انکے ساتھ جنگلی درندے بھی بھاگتے ہونگے۔اور زمین کا زیور یعنی سونا چاندی بیت المقدس کیطرف جمع کیا جائےگاحتیٰ کہ کوئی مرد یا عورت اپنی ٹوکری یا برتن جسمیں زیور رکھتا تھا کھولے گا تو اسمیں اپنا زیور نہ پائےگا۔۔۔ چرواہے اور اسکے جانور ہلاک ہوجائینگے،ملک جزیرہ اور آرمینیا کا انقطاع ہوجائےگا اور درخت سب سوکھ جائینگے، اور جانور ہلاک ہوجائینگے اس زلزلے کے سبب سے، اور بھوک پھیل جائےگی حتیٰ کہ ایک آدمی اپنے بیل کو مکان میں لیجانے کےلئے تین مرتبہ مارےگا اور اس مار سے وہ جانور زخمی ہوکر بھاگ جائیگاطبریہ کی جانب۔
عن سلمة بن نفیل رضی اللہ عنہ قال: سمعت رسول اللہ ﷺ یقول:انہ اوحی الیٰ انی غیر لابث فیکم ولستم لابثون بعدی الا قلیلاثم تلبثون حتیٰ تقولوا متیٰ و ستاتون افنادا یفنی بعضکم بعضا وبین یدی الساعة موتان شدید و بعدہ سنوات الزلازل۔(کتاب الفتن نعیم بن حماد المروزی)
مجھے وحی کی گئی ہے کہ میں تم میں زیادہ عرصہ نہ رہوں گا اور نہ ہی تم لوگ میرے بعد زمین پرزیادہ عرصہ جیو گے مگر کچھ عرصہ تک، تم لو گ میرے بعد جیو گے حتیٰ کہ تم لوگ ستر سال والی عاجز زندگی دیکھو گے اور قیامت سے پہلے شدید قسم کی اموات ہونگیں جنکے بعد زلزلوں کے سال آئینگے۔
عن ضمرة بن حبیب عن الجرشی سمع ابا ھریرة یقول لمعاویة ان البلاءوالزلازل والقتل ما فوق الثمانین و دون المائة فاللہ اعلم ای الثمانین۔
بلائیں زلزلے اور قتل سنہ ۰۸ کے اوپر اور سو سال سے پہلے ہونگے اب اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کونسے ۰۸ کا زمانہ ہوگا۔
عبد اللہ بن مروان عن ابیہ عن ابی الخوصاءعن طاوس قال﴾ ثلاث رجفات رجفة بالیمن و رجفة بالشام اشد منھا و رجفة بالمشرق وھی الجاحف مضتا الا التی بالمشرق﴿(کتاب الفتن نعیم بن حماد المروزی)
تین زلزلے آئینگے، ایک زلزلہ یمن میں اور شام کا زلزلہ یمن کے زلزلے سے زیادہ شدید ہوگا اور جو مشرق میںزلزلہ آئےگا وہ تو سب سے زیادہ ہلا کت خیز ہوگا، نہیں ہلاک کرےگا مگر مشرق والوں کو۔
عن انس بن مالک ان النبی ﷺ قال ﴾سیکون فی امتی خسف و قذف و مسخ﴿(السنن الواردة فی الفتن للدانی باب :ما جاءفی الخسف والقذف والمسخ والرجف الرقم: ۸۳۳)
عن عبد الرحمن بن سابط ان رسول اللہ ﷺ قال﴾انہ کائن قذف و مسخ وخسف قیل ویشھدون ان لا الہ الا اللہ، قال نعم اذا ظھر فیھم القینات والمعازف والحریر والخمر﴿(السنن الواردة فی الفتن للدانی باب :ما جاءفی الخسف والقذف والمسخ والرجف الرقم:۹۳۳)


