Contact Us

Advertisment!

Your Advertisment!

Sunday, October 9, 2011

فقہاء احناف اور تقسیم مذکور

خبر باعتبار نقل فقہا کے نزدیک قدرے اختلاف کے ساتھ یوں منقول ہے :۔
اولاً باعتبار نقل دو قسمیں ہیں ۔
xسند xمرسل

مسند :۔ وہ حدیث جو پوری سند کے ساتھ مروی ہو۔
مرسل :۔ جسکے بعض یا کل راوی غیر مذکور ہوں ۔
پھر مسند کی تین اقسام ہیں : ۔
xخبر متواتر x خبر مشہور x خبر واحد
خبر متواتر:۔ تعریف و حکم میں مثل سابق ہے ۔
خبر مشہور:۔ عہد صحابہ میں عزیز یا غریب تھی بعدہ حد تواتر کو پہونچ گئی یا بالعموم مشہور ہو گئی ۔
حکم :۔ ثبوت و قطعیت میں متواتر سے قریب ہے ، اس سے حاصل شدہ علم موجب اطمینان
اور انکار گمراہی ہو تا ہے ۔
باعتبار ثبوت متواتر و مشہور دونوں با یں معنی مساوی درجہ رکھتی ہیں کہ قرآن کریم میں کوئی حکم اس سلسلہ میں نہ ملے جس مضمون کو یہ بیان کر رہی ہیں تو ان کو بھی اسی درجہ میں شمار کیا جائے گا جس درجہ میں آیت کا مضمون ہو تا ہے ۔
خبر واحد:۔ وہ حدیث جو کسی عہد میں تواتراور شہرت کی حد کونہ پہونچے ۔ خواہ راوی ہر دور میں
ایک ہو یا چند، خواہ ہر طبقہ میں ایسا ہو یا ایک دو طبقات میں ۔
گویا محدثین کے نزدیک عزیز غریب بلکہ بسا اوقات مشہور بھی ا سکے تحت آ سکتی ہے ۔
حکم:۔ لائق احتجاج ہوتی ہے ، ظن غالب کا افادہ کر تی ہے ، اور چند شرائط کے ساتھ واجب العمل قرار پاتی ہے ۔
شرائط آٹھ ہیں : ۔
xچار باعتبار راوی x چار باعتبار مروی
۱۔ راوی مسلمان ہو ، عاقل بالغ ہو، عادل ہو، ضابط ہو۔
۲۔ روایت قرآن کے مخالف نہ ہو۔ متواتر دستور کے خلاف نہ ہو۔
۳۔کسی ایسے مسئلہ کے مخالف نہ ہو جس سے عوام و خواص سب کا سابقہ پڑ تا ہو۔ اور حالات کا تقاضہ ہو کہ وہ سب کے علم میں ہو گی۔
ٓ۴۔صحابہ کرام نے باہمی اختلافات میں اس سے استدلال کیا ہو۔
جیسے راوی سے قولاً یا فعلاً اسی حدیث کی مخالفت ثابت ہو ۔ یا فقہاء صحابہ اور ائمہ فقہ و حدیث سے مخالفت ثابت ہو جبکہ قرائن حدیث کا تقاضہ ہو کہ وہ اس حدیث سے ناواقف نہ ہوں گے تو اس پر عمل جائز نہیں ۔
اول صورت میں ا سکو نسخ پر اوردوسری صورت میں عدم ثبوت اور عدم صحت پر محمول کریں گے ۔ جیسے کسی راوی نے اپنی روایت کا اظہار کر دیا تو روایت مقبول نہیں اور انکار رجوع پر محمول ہو گا۔
یہاں ایک بات اور اہم ہے کہ سننے کے بعد سے روایت برابر راوی کے ذہن میں محفوظ ہو۔ ذہول نہ ہو جائے ۔ ہاں تحریر میں محفوظ ہے اور رتحریر دیکھ کر یاد آ گئی تو اعتبار ہو گا ورنہ نہیں ۔ یہ امام اعظم کے نزدیک ہے ، امام ابو یوسف فرماتے ہیں ، تحریر اپنے پاس ہو یا دوسرے کے پاس لیکن اطمینان ہو تو کافی ہے ۔ (قواعد فی علوم الحدیث ۲۰۳)
اسی انداز کی شرطوں کی وجہ سے اہل تحقیق بیان کر تے ہیں کہ امام اعظم نے احادیث کے ردو قبول کا جو معیار اپنایا تھا وہ عام محدثین سے سخت تر تھا۔( السنۃ ومکانتہا فی التشریع الاسلامی ۴۲۲)
احاد کی باعتبار قوت و ضعف تقسیمات
دو قسمیں ہیں :۔
xمقبول x مردود
خبر مقبول
تعریف :۔ جس حدیث کا ثبوت راجح ہو۔
اس حدیث کو جید، قوی، صالح، مجود، ثابت، محفوظ اور معروف بھی کہا جاتا ہے ۔
حکم :۔ شرعی احکام میں قابل احتجاج اور لائق عمل ہے ۔ مقبول میں دو تقسیمات ہیں :۔
باعتبار فرق مراتب باعتبار عمل
تقسیم اول باعتبار فرق مراتب
چار قسمیں ہیں :۔
xصحیح لذاتہ xصحیح لغیرہ x حسن لذاتہ xحسن لغیرہ
صحیح لذاتہ: ۔جسکے تمام رواۃ عادل ضابط ہو ں ، سند متصل ہو اور شذوذ و علت سے خالی ہو۔
گو یا صحت کے لئے پانچ شرائط ہیں ۔
۱۔ عدالت راوی :۔ ہر راوی کا مسلمان، بالغ اور عاقل ہونے کے ساتھ ساتھ متقی وباوقار ہونا ۔
۲۔ ضبط راوی :۔ ہر راوی کا حدیث کا حاصل کر نے کے بعد پورے طور پر محفوظ کر نے کا اہتمام کرنا خواہ بذریعہ یادداشت یا بذریعہ تحریر۔
۳۔ اتصال سند :۔ شروع سند سے آخر تک ہر راوی اپنے سے اوپر والے سے براہ راست روایت کو حاصل کرے ۔
۴۔ عدم شذوذ:۔ ثقہ راوی خود سے اوثق کی مخالفت نہ کرے ۔
۵۔ عدم علت:۔ ظاہر صحت کے ساتھ ایسے خفیہ عیب سے خالی ہو جو صحت پر اثر انداز ہو تی ہے ۔
حکم :۔ قابل احتجاج اور واجب العمل ہے ۔
مثال:۔ حدثنا عبد اللہ بن یوسف قال: اخبرنا مالک عن ابن شہاب عن محمد بن جبیر بن مطعم عن ابیہ قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قرء فی المغرب بالطور۔(الجامع الصحیح للبخاری)
امام بخاری فرماتے ہیں : حدیث بیان کی ہم سے عبداللہ بن یوسف نے وہ کہتے ہیں : خبر دی ہم کو امام مالک نے امام ابن شہاب زہری سے روایت کر تے ہوئے ، وہ روایت کر تے ہیں محمد بن جبیر سے ، اور یہ اپنے والد جبیر بن مطعم سے ، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے نماز مغرب میں سورہ طور کی تلاوت فرمائی ۔
یہ حدیث صحیح ہے ، ا سکی سند متصل ، رواۃ عادل ، اور ضابط اور حدیث شذوذ و علت سے خالی ہے ۔
انتباہ:۔ محض احادیث صحیحہ کی جامع کتابوں میں اولین کتب بخاری و مسلم ہیں ، دونوں کو صحیحین
کہا جا تا ہے ، اور مصنفین کو شیخین، پھر ان دونوں میں بھی مجموعی طور پر پہلا مقام بخاری کو حاصل ہے اگر چہ مسلم کی بعض احادیث بخاری پر فائق مانی گئی ہیں ۔
پھر یہ مطلب بھی نہیں کہ علی الاطلاق ان ددنوں کتابوں کی احادیث صحیح ہیں اور ان میں کوئی حدیث ضعیف نہیں ۔یا کسی نے کبھی کوئی جرح کی ہی نہیں ۔ بلکہ صحت کا حکم باعتبار اغلب ہے ۔ اور یہ مطلب بھی نہیں کہ انکے علاوہ دوسری احادیث صحت کے مرتبہ کو نہیں پہونچیں ، بلکہ واقعہ یہ ہے کہ صحیح احادیث کا بڑ ا ذخیرہ ان کتابوں سے رہ گیا ہے ۔ خاص طور پر مستدرک اور مستخرج احادیث سے ان پر اضافہ کتب حدیث میں منقول اور صحاح کی دوسری کتابوں میں کثیر احادیث اسی مرتبہ کی منقول و ما ثور ہیں ۔
صحاح ستہ سے مراد وہ چھ کتابیں ہیں جن پر امت مسلمہ کا خاص اعتبار و اعتماد اور عمل رہا ہے ۔ پانچ تو متفق علیہ ہیں ۔
xبخاری xمسلم xنسائی xابو داؤد xترمذی
اور اکثر کے نزدیک چھٹی ابن ماجہ ہے لیکن بعض نے مؤطا امام مالک کو قرار دیا ہے ۔
صحت کے مراتب مختلف ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں :۔
۱۔ وہ حدیث جو صحیحین میں ہو ۔
۲۔ وہ حدیث جو صرف بخاری میں ہو۔
۳۔ وہ حدیث جو صرف مسلم میں ہو۔
۴۔ وہ حدیث جو شیخین کی شرط پر ہو۔
۵۔ وہ حدیث جو صرف بخاری کی شرط پر ہو۔
۶۔ وہ حدیث جو صرف مسلم کی شرط پر ہو۔
۷۔ وہ حدیث جس کو دوسرے ائمہ و محدثین نے صحیح قرار دیا ہو۔
لیکن یہ ترتیب قطعی و لازمی نہیں بلکہ معاملہ کبھی اس کے برعکس بھی ہو تا ہے ۔
حسن لذاتہ
تعریف:۔ صحیح کے تمام شرائط کے ساتھ منقول ہو لیکن ضبط میں کچھ کمزوری ہو۔
حکم :۔ صحیح سے کچھ کم مرتبہ رکھتی ہے لیکن قابل احتجاج اور واجب العمل ہے ۔
مثال:۔ حدثنا قتیبۃ حدثنا جعفر بن سلیمان الضبعی، عن ابی عمران الجونی عن ابی بکر بن ابی موسی الاشعری قال : سمعت ابی بحضرۃ العدو یقول : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ان ابواب الجنۃ تحت ظلال السیوف۔ (المسند لا حمد بن حنبل ۴ /۳۹۶)
امام ترمذی فرماتے ہیں : حدیث بیان کی ہم سے حضرت قتیبہ نے ، وہ کہتے ہیں حدیث بیان کی ہم سے حضرت جعفر بن سلیمان ضبعی نے ابو عمران جونی سے روایت کر تے ہوئے ، اور انہوں نے ابو بکر بن ابی موسی اشعری سے روایت کی ۔ وہ کہتے ہیں میں نے اپنے والد ابو موسی اشعری کو دشمن کے مقابل فرماتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت کے دروازے تلواروں کے سایہ میں ہیں ۔
اس حدیث کی سند میں چاروں راوی ثقہ ، لیکن جعفر بن سلیمان کا مرتبہ ضبط میں کچھ کم ہے ۔ لہذا یہ حدیث حسن ہے ۔
صحیح کی طرح حسن کے بھی متعدد مراتب ہیں ۔امام ذہبی نے انکے دواصولی مرتبے ذکر کئے ہیں ۔
۱۔ وہ اسناد جو صحیح کے ادنی مراتب کے تحت آتی ہیں ۔
جیسے :۔
بھز بن حکیم عن ابیہ عن جدہ۔
عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ۔
۲۔ جن احادیث کی تحسین و تضعیف کے بارے میں انکے رواۃ کے حالات کی وجہ سے اختلاف ہے ۔
جیسے :۔حارث بن عبد اللہ ، عاصم بن ضمرہ، حجاج بن ارطاۃ۔( تدریب الراوی للسیوطی ۱/۱۵۴)
احادیث حسان کے سلسلہ میں ترمذی، ابو داؤد، اور سنن دارقطنی خاص طور پر مشہور ہیں ۔
صحیح لغیرہ
تعریف : حسن لذاتہ حدیث جب دوسرے سے مروی ہو خواہ ا سکا مرتبہ مساوی ہو یا اقوی۔
حکم:۔ مذکور ہ اقسام کے درمیان ا سکا مقام و مرتبہ ہے لہذا لائق احتجاج اور واجب العمل ہے
مثال ۔ عن ابی بن العباس بن سہل بن سعد عن ابیہ عن جدہ، قال : کان للنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فی حائطنا فرس یقال لہ اللحیف۔ (الجامع الصحیح للبخاری باب اسم الفرس ۱/۴۰۰)
حضرت اُبی بن عباس اپنے والد سے ، اور اُبی کے دادا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کر تے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا گھوڑ ا ہمارے باغ میں تھا اور اس گھوڑ ے کا نام’’ لحیف‘‘ تھا۔
اس حدیث کے راویوں میں اُبی کے سلسلہ میں امام احمد ، امام ابن معین، اور امام نسائی نے قوت حفظ کی خرابی و کمزوری کی بنا پر فرمایا: یہ ضعیف ہیں ، اس لئے انکی حدیث حسن ہے ، البتہ اس حدیث کو انکے بھائی عبد المہیمن نے بھی روایت کیا ہے اس لئے یہ صحیح لغیرہ قرارپائی ۔( تدریب الراوی للسیوطی ۱/۱۷۶)
حسن لغیرہ
تعریف:۔ حدیث ضعیف جب متعدد طرق سے مروی ہو، ا سکا ضعف خواہ سوء حفظ کی وجہ
سے ہو یا انقطاع سند و جہالت راوی کی وجہ سے ۔
مرتبہ و حکم:۔ حسن لذاتہ اور ضعیف کے درمیان ا سکا مقام ہے ، اس لئے مقبول اور لائق احتجاج ہے ۔( تدریب الراوی للسیوطی ۱/۱۷۶)
مثال۔ عن شعبۃ عن عاصم عن عبید اللہ عن عبداللہ بن عامر بن ربیعۃ عن ابیہ ان امراۃ من بنی فزارۃ تزوجت علی نعلین ۔ ( الجامع للترمذی ابواب النکاح)
حضرت عامر بن ربیعہ کہتے ہیں : بنو فزارہ کی ایک عورت نے دو جوتیوں کے عوض مہر پر نکاح کیا ۔
قال الترمذی : و فی الباب عن عمر و ابی ہریرۃ وعائشۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔
اس حدیث کے رواۃ میں عاصم سو ء حفظ کی وجہ سے ضعیف ہیں لیکن دوسرے طرق سے اس حدیث کے مروی ہونے کی وجہ سے امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔( تدریب الراوی للسیوطی ۱/۱۷۶)
انتباہ۔ صحت و حسن جاننے کے ذرائع میں اہم ذریعہ تو اہل فن کی تصریح ہے ، البتہ کبھی
بعض قرا ئن کے ذریعہ بھی صحت کا حکم ہو تا ہے ، مثلا ۔
٭ائمہ محدثین کے درمیان بغیر انکار شہرت، حتی کہ اس سے قطعیت بھی حاصل ہو تی ہے ۔
٭سند کا کذب سے متصف افراد سے خالی ہونا، نیز قرآن کریم کی تصریحات و اشارات وغیرہ سے موافتق بلکہ اقوال صحابہ و تابعین ، اسی طرح اصول شرع وقیاس سے موافقت بھی صحت کے قرا ئن سے روشن قرینے شمار کئے گئے ہیں ۔
٭معتمد عالم و فقیہ کا کسی حدیث کے مطابق عمل۔(تدریب الراوی للسیوطی ۱/۶۷)
متقدمین کی تصریحات اگر کسی حدیث کی صحت و حسن کے بارے میں نہ مل سکیں تو متاخرین بھی بشرط اہلیت ا سکا فیصلہ کر سکتے ہیں ، بلکہ تواتر و شہرت کا فیصلہ بھی معتبر ہو گا۔
خبر واحد مقبول کبھی مفید یقین بھی ہوتی ہے مثلا۔
٭شیخین کی ذکر کردہ حدیث صحیحین غیر متواتر، ۔ یہ قرینہ ایسا ہے کہ کثرت طرق غیر متواتر پر بھی فوقیت رکھتا ہے ۔ ہاں اس بات کا خاص خیال رہے کہ ائمہ نے اس پر تنقید نہ کی ہو اور کسی حدیث صحیح سے متعارض نہ ہو۔
امام ابن ہمام فرماتے ہیں : کہ شیخیں کی شرائط کی بنیاد پر یہ مرتبہ انکو حاصل ہوا تو ان شروط کے پیش نظر دوسروں کی مرویات بھی یہ مقام حاصل کر سکتی ہیں ، خصوصاً اس وقت جبکہ دوسرے ائمہ خود ان مسائل میں اجتہادی شان رکھتے ہوں ۔
جیسے امام اعظم اور امام اورزاعی نے ایک مسئلہ میں اصح ا الاسانید کے تحت آنے والی ایک سند سے استدلال کیا تو امام اعظم نے رواۃ کی فقاہت کو وجہ ترجیح قرار دیا۔
٭حدیث مشہور متعدد طرق سے مروی ہو اور سب طرق کے رواۃ ضعف اور علتوں سے محفوظ ہوں ۔
٭ وہ حدیث غریب نہ ہو اور سلسلۂ سند میں راوی ائمہ دین ہوں ، جیسے امام احمد نے امام شافعی سے اور انہوں نے امام مالک سے ۔ خواہ پھر دوسرے راوی بھی ہوں ۔
حکم:۔ یہ احادیث دوسری اخبار احاد سے فائق ہوتی ہیں اور بوقت تعارض راجح قرار پاتی
ہیں ۔ ان سے حاصل شدہ علم یقین کا فائدہ دیتا ہے ، لیکن یہ یقین نظری و استدلالی ہو تا ہے ۔
تقسیم دوم باعتبار نقل
د د قسمیں ہیں :۔
xمعمول بہ xغیر معمول بہ
پہلی قسم کے دو اطلاق ہیں ۔
xمحکم xناسخ
یونہی دوسری قسم کے بھی دو اطلاق ہیں :۔
مختلف منسوخ
محکم
تعریف:۔ وہ حدیث مقبول جو اسی درجہ کی کسی دوسری حدیث کے معارض نہ ہو۔
اکثر احادیث اسی انداز کی ہیں ۔
مختلف
تعریف :۔ وہ حدیث مقبول جو اسی درجہ کی دوسری حدیث کے معارض و مخالف ہو۔
اسے مشکل الحدیث یا مشکل الاثر بھی کہتے ہیں ۔
ا سکی دو قسمیں ہیں :۔
xممکن الجمع x ممتنع الجمع
تعریف ممکن الجمع:۔ وہ احادیث مختلفہ جن میں تعارض ہو لیکن جمع کی صورت ممکن ہو ۔
مثال اول :۔لا عدوی ولا طیرۃ۔( الجامع الصحیح للبخاری ۲/۸۵۰)
چھوت کی بیماری اور بدشگونی کوئی چیز نہیں ۔
مثال دوم :۔فر من المجذوم کما تفر من الاسد۔ ( الجامع الصحیح للبخاری ۲/۸۵۰)
جذامی سے اس طرح بھاگو جس طرح شیر سے ۔
دونوں احادیث اگر چہ بظاہر مختلف ہیں اور ایک دوسرے کے معارض، کیونکہ پہلی حدیث سے ثابت کہ بیماری اڑ کر نہیں لگتی ، جبکہ دوسری حدیث سے کسی کو وہم ہو سکتا ہے کہ بیماری کے اڑ کر لگنے کی بنا پر ہی جذامی سے دور بھاگنے کا حکم ہے ، امام احمد رضا قدس سرہ دونوں کی جمع و تطبیق کے سلسلہ میں فرماتے ہیں ۔
پہلی حدیث اپنے افادہ میں صاف صریح ہے کہ بیماری اڑ کر نہیں لگتی، کوئی مرض ایک سے دوسرے کی طرف سرایت نہیں کرتا۔ کوئی تندرست بیمار کے قرب و اختلاط سے بیمار نہیں ہو جاتا۔
پھر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم واجلۂ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی عملی کا ر روائی کہ مجذوموں کو اپنے ساتھ کھلانا، ان کا جوٹھا پانی پینا، ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے پکڑ کر برتن میں رکھنا، خاص انکے کھانے کی جگہ سے نوالہ اٹھا کر کھانا، جہاں منہ لگا کر انہوں نے پانی پیا بالقصد اسی جگہ منہ رکھ کر نوش کرنا۔ یہ او ر بھی واضح کر رہا ہے کہ عدوی، یعنی ایک کی بیماری دوسرے کو لگ جانا خیال باطل ہے ، ورنہ اپنے کو بلا کے لئے پیش کرنا شرع ہر گز روا نہیں رکھتی ۔
رہی دوسری حدیث تو اس قبیل کی احادیث اس درجہ عالیہ صحت پر نہیں جس پر احادیث نفی ہیں ۔ ان میں اکثر ضعیف ہیں اور بعض غایت درجہ حسن ہیں ، صرف حدیث مذکور کی تصحیح ہو سکتی ہے مگر وہی حدیث اس سے اعلی وجہ پر جو صحیح بخاری میں آئی ۔ خود اسی میں ابطال عدوی موجود، کہ مجذوم سے بھاگو اور بیماری اڑ کر نہیں لگتی، تو یہ حدیث خود واضح کر رہی ہے کہ بھاگنے کا حکم اس وسوسہ اور اندیشہ کی بنا پر نہیں ، معہذا صحت میں اس کا پایا بھی دیگر احادیث نفی سے گرا ہو ا ہے ، کہ اسے امام بخاری نے مسندا روایت نہ کیا بلکہ بطور تعلیق۔
لہذا کوئی حدیث اصلا ثبوت عدوی میں نص نہیں ، یہ تو متواتر حدیثو ں میں فرمایا کہ بیماری اڑ کر نہیں لگتی، اور یہ کسی حدیث میں بھی نہیں آیا کہ عادی طور پر اڑ کر لگ جاتی ہے ۔
قول مشہور و مذہب جمہور و مشرب منصور کہ دوری و فرار کا حکم اس لئے ہے کہ اگر قرب و اختلاط رہا اور معاذ اللہ قضا وقدر سے کچھ مرض اسے بھی حادث ہو گیا تو ابلیس لعین اس کے دل میں وسوسہ ڈالے گاکہ دیکھ بیماری اڑ کر لگ گئی ۔
اول تو یہ ایک امر باطل کا اعتقاد ہو گا۔ اسی قدر فساد کے لئے کیا کم تھا پھر متواتر حدیثوں میں سنکر کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صاف فرمایا ہے کہ بیماری اڑ کر نہیں لگتی ، یہ وسوسہ جمنا سخت خطرناک اور ہائل ہو گا۔
لہذا ضعیف الیقین لوگوں کو اپنا دین بچانے کے لئے دوری بہتر ہے ، ہاں کامل الایمان وہ کرے جو صدیق اکبر اور فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کیا اور نہا؂یت مبالغہ کے ساتھ کیا ۔ کہ ایک مجذوم کے ساتھ صدیق اکبر نے کھانا کھایا تو جہاں سے وہ مجذوم نوالہ لیتے وہیں سے آپ نوالہ لے کر نوش فرماتے ، اور حضرت فاروق اعظم نے حضرت معیقیب بدری صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کھانا کھایا جبکہ انکو یہ مرض تھا۔ اگر معاذ اللہ کچھ حادث ہوتا انکے خواب میں بھی خیال نہ گزرتا کہ یہ عدوائے باطلہ سے پیدا ہوا ، ان کے دلوں میں ایمان کوہ گراں شکوہ سے زیادہ مستقر تھا کہ :۔ لن یصیبنا الا ماکتب اللہ لنا۔
بے تقدیر الہی کچھ نہ ہو سکے گا۔
اسی طرف اس قول و فعل حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی کہ اپنے ساتھ کھلایا اور ’’ کل ثقۃ با للہ وتوکلا علیہ ‘‘ فرمایا ۔
با لجملہ مذہب معتمد و صحیح و رجیح و نجیح یہ ہے کہ جذام، کھجلی، چیچک اور طاعون وغیرہا اصلا کوئی بیماری ایک کی دوسرے کو ہر گز اڑ کر نہیں لگتی، یہ محض اوہام بے اصل ہیں ، کوئی وہم پکائے جائے تو کبھی اصل بھی ہو جاتا ہے کہ ارشاد ہوا۔
انا عند ظن عبدی بی۔
وہ اس دوسرے کی بیماری اسے نہ لگی بلکہ خود اسی کی باطنی بیماری کہ وہم پروردہ تھی صورت پکڑ کر ظاہر ہو گئی ، فیض القدیر میں ہے ۔
بل الوہم وحدہ من اکبر اسباب الاصابۃ۔
اس لئے اور نیز کراہت و اذیت و خود بینی و تحقیر مجذوم سے بچنے کے واسطے اور اس دور اندیشی سے کہ مبادا سے کچھ پیدا ہو اور ابلیس لعین کچھ وسوسہ ڈالے کہ دیکھ بیماری اڑ کر لگ گئی ، اور اب معاذ اللہ اس امر کی حقانیت ا سکے خطرہ میں گزرے گی جسے مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم باطل فرما چکے ۔ یہ اس مرض سے بھی بدتر مرض ہو گا، ان وجوہ سے شرع حکیم ورحیم نے ضعیف الیقین لوگوں کو حکم استحبابی دیا ہے کہ اس سے دور رہیں اور کامل الایمان بندگان خدا کے لئے کچھ حرج نہیں کہ وہ ان سب مفاسد سے پاک ہیں ۔ خوب سمجھ لیاجائے کہ دور رہنے کا حکم ان حکمتوں کی وجہ سے ہے نہ یہ کہ معاذ اللہ بیماری اڑ کر لگتی ہے ۔ اسے تو اللہ و رسول رد فرما چکے ، جل جلالہ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔( فتاوی رضویہ نصف دوم ۹/۲۵۳)
تعریف غیر ممکن الجمع:۔ جن احادیث مین موافقت ممکن نہ ہو ۔
حکم۔ ان احادیث کا حکم یہ ہے کہ کسی ذریعہ سے نسخ کا علم ہو جائے تو ناسخ پر عمل ہو گا اور یہ نہ
ہو سکے تو ترجیح کی صورت اپنائی جائے جو کثیرہیں ۔
امام سیوطی نے اصولی طور پر ساتھ بتائی ہیں ، یہ بھی نہ ہو تو توقف۔
احناف کے نزدیک احادیث مختلفہ میں اولا نسخ، پھر ترجیح، پھر جمع کو اپنائیں گے ، ورنہ توقف، ورنہ اقوال صحابہ اور پھر آخر میں قیاس کی طرف رجوع کیا جائے گا۔

وجوہ ترجیح و جمع
ترجیح باعتبار متن :۔
٭ حرمت اباحت پر
٭ قول عام فعل خصوص پر، یہ جس میں خصوصیت یا عذر کا احتمال ہو۔
٭ اثبات نفی پر بشرطیکہ نفی مستقل دلیل کی بنیاد پر نہ ہو بلکہ اصل حال و حکم کی رعایت میں ہو۔
٭محکم معلل غیر معلل پر
٭ شارع کا بیان و تفسیر غیر کے بیان و تشریح پر
٭دلیل قوی دلیل ضعیف پر
ترجیح باعتبار سند
٭سند قوی ضعیف پر
٭سند عالی نازل پر بشرطیکہ دونوں ہم پلہ ہو ں ،
٭فقاہت میں فائق روایات کو دوسروں پر
٭متعدد رواۃ ایک پر
٭اتفاقی سند مختلف فیہ پر
٭اکابر صحابہ کی روایت اصاغر پر
وجوہ جمع
تنویع:۔ اگر دونوں عام ہوں تو الگ الگ انواع سے ان کا تعلق قرار دینا۔
تبعیض:۔ دونوں خاص ہوں تو الگ الگ حال پر ، یا ایک کو حقیقت دوسرے کو مجاز پر محمول کرنا۔
تقیید:۔ دونوں مطلق ہوں تو دونوں کے ساتھ ایسی قید لگانا جس سے فرق ہو جائے ۔
تخصیص:۔ ایک عام اور دوسری خاص ہو تو عام کو مخصوص قرار دینا۔
حمل:۔ ایک مطلق اور دوسرا مقید ہو تو مطلق کو مقید پر محمول کرنا، بشرطیکہ دونوں کا سبب اور حکم ایک ہو۔

No comments:

Post a Comment

 
Powered by Blogger | 6SENSE Technologies