Contact Us

Advertisment!

Your Advertisment!

Sunday, October 9, 2011

معرفت صحابہ

صحابی:۔ وہ شخص جس نے حالات ایمانی میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ملاقات کا شرف حاصل کیا اور اسلام پر ہی انتقال ہوا ۔ خواہ اس نے حضور کو دیکھنے کا قصد کیا ہو یا نہیں ۔ یا صرف حضور نے اس پر نظر ڈالی ہو ۔ نیز معاذ اللہ ایمان سے پھر گیا اور اسلام لے آیا اور حضور سے ملاقات دوبارہ ہوگئی ان تمام صورتوں میں صحابی ہی شمار ہو گا ۔
جمہور اہل سنت کے نزدیک تمام صحابہ چھوٹے ہوں یا بڑ ے حضور سے شرف ملاقات کے سبب سب عادل و معتمد ہیں ۔
مکثرین صحابہ:۔ صحابۂ کرام میں جو حضرات ایسے ہیں جن سے کثیر تعداد میں
احادیث مروی ہیں ان کو مکثرین صحابہ کہا جاتا ہے ۔ ایسے حضرات وہ ہیں جن کی مرویات کی تعداد ایک ہزار سے متجاوز ہے ۔
۱۔حضرت ابو ہریرہ ۵۳۷۴
۲۔حضرت عبد اللہ بن عمر ۲۶۳۰
۳۔ حضرت انس بن مالک ۲۲۸۶
۴۔ ام المومنین عائشہ صدیقہ ۲۲۱۰
۵۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ۱۶۶۰
۶۔ حضرت جابر بن عبد اللہ۱۵۴۰

ابن کثیر نے حضرت ابو سعید خدری کو بھی مکثرین میں شمار کیا ہے اور ان کی مرویات کو ۱۱۷۰ بتایا ہے ۔ اسی طرح عبد اللہ بن مسعود اورعبد اللہ بن عمرو بن العاص کو بھی ان میں ہی شمار کیا ہے ۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہم

مفسرین صحابہ: ۔ صحابہ کرام کی ایک جماعت کو علم تفسیر میں خاص مقام حاصل تھا ۔ یہ مندرجہ ذیل ہیں :۔
حضرت ابو بکر صدیق حضرت عمر فاروق اعظم
حضرت عثمان غنی حضرت علی المرتضی
حضرت عبد اللہ بن مسعود حضرت ابی بن کعب
حضرت زید بن ثابت حضرت عبد اللہ بن عباس
حضرت عبد اللہ بن زبیر حضرت ابو موسی اشعری
رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین

مفتیان صحابہ:۔ صحابۂ کرام مین ایک ایسی جماعت بھی تھی جو مرجع فتاوی رہی ۔
حضرت عمر فاروق اعظم حضرت علی مرتضی
حضرت ابی بن کعب حضرت زید بن ثابت
حضرت ابو درداء حضرت ابن مسعود
حضرت ابن عمر حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ
رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین

مولفین صحابہ: ۔ بعض اوقات تحریر و تصنیف میں مشغول رہنے والے صحابہ کرام بھی تھے ، ان کے صحیفوں اور اسماء کی تفصیل تدوین حدیث میں گزری ،

تعداد صحابہ : ۔ صحابہ کرام کی قطعی تعداد تو معین نہیں ۔ پھر بھی محتاط اندازے کے مطابق یہ تعداد ایک لاکھ سے متجاوز ہے ۔
امام ابو زرعہ رازی فرماتے ہیں : حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے بعد ایک لاکھ چودہ ہزار صحابۂ کرام چھوڑ ے ۔ ان میں صرف دس ہزار صحابۂ کرام کے حالات ہی کتابوں میں نقل ہوئے ۔

افاضل صحابہ : ۔ باتفاق اہل سنت افضل ترین صحابہ میں سیدنا صدیق اکبر ، پھر فاروق اعظم ، پھر عثمان غنی ، پھر علی مرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ہیں ۔
ان کے بعد عشرہ مبشرہ ، پھر اصحاب بدر واحد ، پھر اہل بیت رضوان پھر اہل فتح مکہ ۔ باعتبار روایت حدیث سب کو ایک طبقہ میں شمار کیا جاتا ہے ۔

No comments:

Post a Comment

 
Powered by Blogger | 6SENSE Technologies