Contact Us

Advertisment!

Your Advertisment!

Sunday, October 23, 2011

سورۃ الکھف کا شانِ نزل

قرآن مجید کی 18 ویں سورت جو مکہ میں نازل ہوئی۔ اس میں اصحاب کہف، حضرت خضر علیہ السلام اور ذوالقرنین کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔

اس سورت کا نام پہلے رکوع کی نویں آیت "اذ اوی الفتیۃ الی الکھف" سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ سورت جس میں کہف کا لفظ آیا ہے۔
زمانۂ نزول:
یہاں سے اُن سورتوں کا آغاز ہوتا ہے جو مکی زندگی کے تیسرے دور میں نازل ہوئی ہیں۔ مکی زندگی کو چار بڑے بڑے دوروں میں تقسیم کیا گیا ہے جن کی تفصیل سورۂ انعام کے مضمون میں گذر چکی ہے۔ اس تقسیم کے لحاظ سے تیسرا دور تقریباً 5 نبوی کے آغاز سے شروع ہو کر قریب قریب 10 نبوی تک چلتا ہے۔ اس دور کو جو چیز دوسرے ادوار سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ دوسرے دور میں تو قریش نے نبی آخر الزماں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کی تحریک اور جماعت کو دبانے کے لیے زیادہ تر تضحیک، استہزاء، اعتراضات، الزامات، تخویف، اطماع اور مخالفانہ پروپیگنڈے پر اعمتاد کر رکھا تھا مگر اس تیسرے دور میں انہوں نے ظلم و ستم، مار پیٹ اور معاشی دباؤ کے ہتھیار پوری سختی کے ساتھ استعمال کیے یہاں تک کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو ملک چھوڑ کر حبش کی طرف نکل جانا پڑا اور باقی ماندہ مسلمانوں کو اور ان کے ساتھ خود نبیصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے خاندان کو شِعبِ ابی طالب میں محصور کرکے ان کا مکمل معاشی اور معاشرتی مقاطعہ کردیا گیا تاہم اس دور میں دو شخصیتیں ---ابو طالب اور ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا---- ایسی تھیں جن کے ذاتی اثر کی وجہ سے قریش کے دو بڑے خاندان نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پشت پناہی کررہے تھے۔ 10 نبوی میں دونوں کی آنکھیں بند ہوتے ہی یہ دور ختم ہوگیا اور چوتھا دور شروع ہوا جس میں مسلمانوں پر مکے کی زندگی تنگ کردی گئی یہاں تک کہ آخر کار نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سمیت تمام مسلمانوں کو مکہ سے نکل جانا پڑا۔
سورۂ کہف کے مضمون پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تیسرے دور کے آغاز میں نازل ہوئی ہوگی جبکہ ظلم و ستم اور مزاحمت نے شدت تو اختیار کرلی تھی مگر ابھی ہجرتِ حبشہ واقع نہیں ہوئی تھی۔ اس وقت جو مسلمان ستائے جارہے تھے ان کو اصحابِ کہف کا قصہ سنایا گیا تاکہ ان کی ہمت بندھے اور انہیں معلوم ہو کہ اہل ایمان اپنا ایمان بچانے کے لیے اس سے پہلے کیا کچھ کرچکے ہیں۔
موضوع اور مضمون:
یہ سورت مشرکین مکہ کے تین سوالات کے جواب میں نازل ہوئی جو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا امتحان لینے کے لیے اہل کتاب کے مشورے سے آپ کے سامنے پیش کیے تھے۔ اصحاب کہف کون تھے؟ قصۂ خضر کی حقیقت کیا ہے؟ اور ذوالقرنین کا کیا قصہ ہے؟ یہ تینوں قصے عیسائیوں اور یہودیوں کی تاریخ سے متعلق تھے۔ حجاز میں ان کا کوئی چرچا نہ تھا، اسی لیے اہل کتاب نے امتحان کی غرض سے ان کا انتخاب کیا تھا تاکہ یہ بات کھل جائے کہ واقعی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس کوئی غیبی ذریعۂ علم ہے یا نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے صرف یہی نہیں کہ اپنے نبی کی زبان سے ان کے سوالات کا پورا جواب دیا بلکہ ان کے اپنے پوچھے ہوئے تینوں قصوں کو پوری طرح اُس صورتحال پر چسپاں بھی کردیا جو اس وقت مکہ میں کفر و اسلام کے درمیان درپیش تھی:
  1. اصحابِ کہف کے متعلق بتایا کہ وہ اُسی توحید کے قائل تھے جس کی دعوت یہ قرآن پیش کررہا ہے، اور ان کا حال مکے کے مٹھی بھر مظلوم مسلمانوں کے حال سے اور ان کی قوم کا رویہ کفار قریش کے رویے سے کچھ مختلف نہ تھا۔ پھر اسی قصے سے اہل ایمان کو یہ سبق دیا کہ اگر کفار کا غلبہ بے پناہ ہو اور ایک مومن کو ظالم معاشرے میں سانس لینے تک کی مہلت نہ دی جارہی ہو، تب بھی اس کو باطل کے آگے سر نہ جھکانا چاہیے بلکہ اللہ کے بھروسے پر تن بتقدیر نکل جانا چاہیے۔ اسی سلسلے میں ضمناً کفار مکہ کو یہ بھی بتایا کہ اصحاب کہف کا قصہ عقیدۂ آخرت کی صحت کا ایک ثبوت ہے۔ جس طرح خدا نے اصحاب کہف کو ایک مدت دراز تک موت کی نیند سلانے کے بعد پھر جلا اٹھایا، اسی طرح اُس کی قدرت سے وہ بعث بعد الموت بھی کچھ بعید نہیں ہے جسے ماننے سے تم انکار کررہے ہو۔
  2. اصحاب کہف کے قصے سے راستہ نکال کر اس ظلم و ستم اور تحقیر و تذلیل پر گفتگو شروع کردی گئی جو مکے کے سردار اور کھاتے پیتے لوگ اپنی بستی کی چھوٹی سی نو مسلم جماعت کے ساتھ برت رہے تھے۔ اس سلسلے میں ایک طرف نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ہدایت کی گئی کہ نہ ان ظالموں سے کوئی مصالحت کرو اور نہ اپنے غریب ساتھیوں کے مقابلے میں ان بڑے بڑے لوگوں کو اہمیت دو۔ دوسری طرف ان رئیسوں کو نصیحت کی گئی ہے کہ اپنے چند روز عیشِ زندگانی پر نہ پھولو بلکہ ان بھلائیوں کے طالب بنو جو ابدی اور پائیدار ہے۔
  3. اسی سلسلۂ کلام میں قصۂ خضر و موسیٰ کچھ اس انداز سے سنایا گیا کہ اس میں کفار کے سوالات کا جواب بھی تھا اور مومنین کے لیے سامان تسلی بھی۔ اس قصے میں دراصل جو سبق دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کی مشیت کا کارخانہ جن مصلحتوں پر چل رہا ہے وہ چونکہ تمہاری نظر سے پوشیدہ ہیں اس لیے تم بات بات پر حیران ہوتے ہو کہ یہ کیوں ہوا؟ یہ تو بڑا غضب ہوا! حالانکہ اگر پردہ اٹھا دیا جائے تو تمہیں خود معلوم ہوجاۓ کہ یہاں جو کچھ ہورہا ہے ٹھیک ہورہا ہے اور بظاہر جس چیز میں برائی نظر آتی ہے، آخر کار وہ بھی کسی نتیجۂ خیر ہی کے لیے ہوتی ہے۔
  4. اس کے بعد قصۂ ذوالقرنین ارشاد ہوتا ہے اور اس میں سائلوں کو یہ سبق دیا جاتا ہے کہ تم اپنی اتنی ذرا ذرا سی سرداریوں پر پھول رہے ہو حالانکہ ذوالقرنین اتنا بڑا فرمانروا اور ایسا زبردست فاتح اور اس قدر عظیم الشان ذرائع کا مالک ہو کر بھی اپنی حقیقت کو نہ بھولا تھا اور اپنے خالق کے آگے ہمیشہ سرِ تسلیم خم رکھتا تھا۔ نیز یہ کہ تم اپنی ذرا ذرا سی حویلیوں اور باغیچوں کی بہار کو لازوال سمجھ بیٹھے ہو، مگر وہ دنیا کی سب سے زیادہ مستحکم دیوارِ تحفظ بنا کر بھی یہی سمجھتا تھا کہ اصل بھروسے کے لائق اللہ ہے نہ کہ یہ دیوار۔ اللہ کی مرضی جب تک یہ دیوار دشمنوں کو روکتی رہے گی اور جب اس کی مرضی کچھ اور ہوگی تو اس دیوار میں رخنوں اور شگافوں کے سوا کچھ نہ رہے گا۔
اس طرح کفار کے امتحانی سوالات کو انہی پر پوری طرف الٹ دینے کے بعد خاتمۂ کلام میں پھر انہی باتوں کو دہرا دیا گیا ہے جو آغاز کلام میں ارشاد ہوئی ہیں، یعنی کہ توحید اور آخرت سراسر حق ہیں اور تمہاری اپنی بھلائی اسی میں ہے کہ انہیں مانو، ان کے مطابق اپنی اصلاح کرو اور خدا کے حضور اپنے آپ کو جوابدہ سمجھتے ہوئے دنیا میں زندگی بسر کرو۔ ایسا نہ کرو گے تو تمہاری اپنی زندگی خراب ہوگی اور تمہارا سب کچھ کیا کرایا اکارت جائے گا۔

Sunday, October 9, 2011

روایت حدیث کے طریقے روایت حدیث کے طریقے

روای حدیث روایت کے وقت جو الفاظ بولتا ہے ان کو طرق تحمل حدیث کہتے ہیں ۔ ان کو آٹھ حصوں میں تقسیم کی گیا ہے ۔

۱۔ سماع و تحدیث : ۔ راوی سنے اور شیخ اپنے حافظہ یا کتاب سے حدیث بیان کرے تو ایسی احادیث کو روایت کرتے وقت راوی مندرجہ ذیل الفاظ ادا کرتا ہے ۔
سمعت حدثنی یہ اس وقت جب کہ بوقت سماع راوی تنہا تھا ۔
سمعنا حدثنا یہ اس وقت جب کہ بوقت سماع راوی کے ساتھ دوسرے ساتھی بھی تھے ۔
تمام کلمات ادا میں ’سمعت ‘ کا مقام سب پر فائق ہے ۔

۲۔ اخبار و قرات : ۔ راوی پڑ ھے اور یشخ سنتا رہے اس وقت یہ الفاظ بولے جاتے ہیں ۔
قرات علیہ اخبرنی اس وقت جبکہ راوی تنہا ہو
قرانا علیہ اخبرنا اس وقت جب کہ راوی کے ساتھ دوسرے بھی ہوں ۔
اس صورت میں راوی قری علیہ و انا اسمع بھی کبھی استعمال کرتا ہے ۔

۳۔ انباء :۔ متقدمین کے یہاں یہ لفظ بمعنی اخبار بولا جاتا تھا لیکن متاخرین ا سکو اجازت کے معنی میں استعمال کرتے ہیں ۔
لہذا شیخ اپنی سند سے روایت کرنے کی اجازت دیدے خواہ راوی نے اس سے وہ حدیث سنی ہو یا نہیں ۔ لہذا راوی کہتا ہے ۔
xانبانی xاجازنی

۴۔ اجازت : ۔ شیخ اپنی سند سے روایت کرنے کی اجازت دیدے اس کی چند صورتیں ہیں ۔
مشافہہ : ۔ شیخ اپنی زبان سے روایت کرنے کی اجازت دے ۔
مکاتبہ: ۔ شیخ اپنی تحریر سے اجازت دے ۔
مناولہ : ۔ شیخ اپنی کتاب اصل خواہ نقل شاگرد کو دے یا شاگر د خود نقل کر کے استاذ کے سامنے پیش کر دے ، پھر شیخ کہے میں اس کتاب کو فلاں سے روایت کرتا ہوں ، یہ سب سے اعلیٰ صورت ہے ۔

۵۔ وجادت: ۔ کسی کی کتاب سے استفادہ کرنا اور ا سکی تحریر و دستخط وغیرہ کی شناخت سے اس کتاب کی روایت کرنا جبکہ یہ مجاز ہو ۔ اجازت نہ ہونے کی صورت میں ’’ وجدت بخط فلان‘‘ وغیرہ الفاظ کے ذریعہ ہی روایت درست ہو گی ۔

۶۔ وصیت:۔ شیخ اپنی وفات یا سفر سے قبل اپنی کسی کتاب یا چند کتابوں سے روایت کرنے کا حق دوسروں کو منتقل کر دے ۔ اس صورت میں ’’وصانی۔ اخبرنی وصیۃ‘‘ کے الفاظ ادا کئے جاتے ہیں ۔

۷۔ اعلام :۔ شیخ اپنے کسی تلمیذ کو بتادے کہ میں فلاں کتاب کو فلاں سے روایت کرتا ہوں ، اس صورت میں روایت اسی وقت جائز جبکہ شیخ کی طرف سے یہ تلمیذ اجازت یافتہ ہو ۔

۸ ۔ عنعنہ : ۔ لفظ ’’عن‘‘ سے روایت کی جائے ، اسی صورت میں یہ الفاظ بھی ہیں۔ xقال xذکر xروی
لفظ ’’عن‘‘ سے جو روایت کی جاتی ہے ا سکو معنعن کہتے ہیں اور اس فعل کو عنعنہ ۔
یہ دو شرطوں کے ساتھ سماع پر محمول ہوتا ہے ۔
۱۔ راوی اور مروی عنہ میں میں معاصرت ہو ۔
۲۔ راوی مدلس نہ ہو
پھر تیسری شرط کے بارے میں اختلاف ہے ۔
امام بخاری لقاء کو شرط قرار دیتے ہیں اور امام مسلم اس کے سخت مخالف ہیں ۔

مراتب ارباب حدیث

طالب ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ حدیث کا متعلم
شیخ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حدیث کا معلم ، ا س کو محدث بھی کہتے ہیں
حافظ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جس شیخ کو ایک لاکھ احادیث متناًو سنداً مع احوال رواۃ یاد ہوں
حجت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جس شخص کو تین لاکھ احادیث متنا ًو سنداً مع جرح و تعدیل محفوظ ہوں
حاکم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جس شخص کو تمام احادیث مرویہ متنا ً و سنداً جرحاً و تعدیلاً محفوظ ہوں

طبقات کتب حدیث 

کتب حدیث کی صحت ، شہر ت اور مقبولیت کے اعتبار سے شاہ عبد لعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عجالہ نافعہ میں چار طبقات ذکر کئے ہیں ۔ ان کی تلخیص و اختصار اس طرح ہے ۔

طبقۂ اولیٰ :۔ وہ کتابیں جو شہرت مقبولیت اور صحت تینوں اوصاف میں سب پر فائق ہوں ، یہ تین کتابیں ہیں ،
xصحیح بخاری xصحیح مسلم xموطا مالک

طبقۂ ثانیہ : ۔ وہ کتابیں جو مذکورہ تینوں اوصاف میں مندرجہ بالا کتب کے ہم پلہ تو نہیں
البتہ ان سے قریب ترہیں ۔ یہ بھی تین کتابیں ہیں
xجامع ترمذی xسنن ابی داؤد xسنن نسائی

طبقۂ ثالثہ : ۔ وہ کتابیں جوصحاح ستہ مذکورہ کے مصنفین سے مقدم یا معاصر یا بعد میں ہوئے ، فن حدیث میں امامت کے درجہ پر فائز تھے لیکن اپنی تصانیف میں صحت کا پورا اہتمام نہیں رکھا اور ضعیف روایت بکثرت آ گئیں ۔ جیسے :۔
xمسند شافعی x سنن دارمی xسنن ابن ماجہ x مصنف عبد الرزاق
xسنن بیہقی xتصانیف طبرانی xسنن دار قطنی

طبقۂ رابعہ: ۔ وہ کتابیں جو متاخرین علماء نے تصنیف کیں اور ان کی روایت کردہ احادیث کا قرون اولیٰ میں ثبوت نہیں ملتا ۔ اس کی دو وجہیں ہو سکتی ہیں۔یا تو ان کو ان احادیث کی اصل نہیں ملی ، اور یا ان روایات میں کوئی علت خفیہ دیکھ کر ان کو ترک کر دیا ۔ جیسے :۔
دیلمی ، ابو نعیم اور ابن عسا کر کی تصانیف۔

کتب احادیث کے طبقات کی یہ ایک اجمالی فہرست ہے ، ان کے درمیان دوسرے طبقات بھی ہو سکتے ہیں ، جیسے بعض کتب میں احادیث صحیحہ تو وافر ہیں لیکن ان کو عام شہرت و مقبولیت حاصل نہ ہو سکی ۔ جیسے صحیح ابن خزیمہ ، صحیح ابن حبان۔ وغیرہا۔

اسی لئے شاہ محدث دہلوی نے اپنی دوسری کتاب ’’ ما یجب حفظہ للناظر ‘‘ میں پانچ طبقات بیان کئے ہیں ۔ غرض کہ تمام کتابوں کا ا ستیعاب و احاطہ مقصود نہیں اور نہ یہ مطلب کہ ان کے علاوہ تمام کتابیں غیر معتبر ہیں

 


 


انواع کتب حدیث

احادیث کی کتب مختلف انداز پر مرتب کی گئیں اور ہر قسم کو علیٰحدہ نام سے موسوم کیا گیا ہے لہذا ان کی معرفت بھی ضروری ہے ، انواع و اقسام مندرجہ ذیل ہیں : ۔
۱۔ جامع : ۔ حدیث کی اس کتاب کو کہتے ہیں جس میں آٹھ چیزوں کا بیان ہو ۔
٭سیر ٭ آداب٭ تفسیر ٭ عقائد ٭ فتن ٭ احکام ٭ اشراط٭ مناقب
جیسے :۔ ٭جامع بخاری ٭جامع ترمذی

مسلم شریف پر بعض حضرات قلت تفسیر کی بنا پر جامع کا اطلاق نہیں کرتے ، اور بعض نے قلت کو نظر انداز کر کے اطلاق کیا ہے ، جیسے شیخ مجدد الدین شیرازی ۔

۲۔ سنن : ۔حدیث کی وہ کتاب جس کی ترتیب ابواب فقہیہ کے اعتبار سے ہو اور صرف احادیث احکام ذکر کی جائیں ۔
جیسے :۔٭ سنن ابو داؤد ٭سنن نسائی ٭سنن ابن ماجہ

۳۔ مسند :۔ حدیث کی وہ کتاب جس میں ہر صحابی کی روایات علیٰحدہ جمع کی جائیں ، راویوں کی ترتیب کبھی باعتبار فرق مراتب ہوتی ہے اور کبھی باعتباراسماء حروف تہجی کی ترتیب پر ۔
جیسے ۔ ٭مسند امام احمد ٭مسند ابو داؤد طیالسی

۴۔ معجم : ۔ حدیث کی وہ کتاب جس میں راویان حدیث کی ترتیب حروف تہجی پر احادیث جمع کی گئی ہوں ، خواہ وہ راوی مصنف کے اپنے شیوخ ہوں یا صحابۂ کرام۔جیسے :۔امام طبرانی کی معاجیم ثلاثہ۔

۵۔ مستدرک :۔ حدیث کی وہ کتاب جس میں کسی خاص کتاب کے مصنف کی رعایت کردہ شرائط کے مطابق رہ جانے والی احادیث کو جمع کیا گیا ہو ۔
جیسے :۔ امام حاکم کی مستدرک
۶۔ مستخرج : ۔ حدیث کی وہ کتاب جس میں کسی دوسری کتاب کی احادیث کو اپنی ایسی سند سے روایت کرنا جس میں اس مصنف کا واسطہ نہ آتا ہو ۔
جیسے :۔ مستخرج اسماعیلی علی البخاری مستخرج ابی عوانۃ علی مسلم

۷۔ جزء : ۔ حدیث کی وہ کتاب جس میں کسی ایک راوی کی روایات ، یا کسی ایک موضوع پر احادیث جمع کی جائیں ۔ جیسے :۔ جزء رفع الیدین للبخاری

۸۔ افرادو غرائب : ۔ حدیث کی وہ کتاب جس میں کسی ایک محدث کے تفرد ات کو جمع کیا گیا ہو ۔
جیسے :۔ ٭غرائب مالک ٭کتاب الافراد للدارقطنی

۹۔ جمع:۔ حدیث کی وہ کتاب جس میں چند کتب حدیث کی روایتوں کو بحذف سند و تکرار ذکر کیا گیا ہو۔
جیسے :۔ الجمع بین الصحیحین للحمیدی

۱۰۔ زوائد : ۔ حدیث کی وہ کتاب جس میں کسی کتاب کی صرف وہ احادیث ذکر کر دی جائیں جو کسی دوسری کتاب سے زائد ہیں ۔
جیسے :۔ مصباح الزجاجۃ فی زوائد ابن ماجہ للبوصیری ۔
اس میں وہ احادیث مذکور ہیں جو باقی صحاح ستہ میں نہیں ۔

۱۱۔ اطراف : ۔ وہ کتاب جس میں احادیث کا صرف ایک حصہ ذکر کیا جائے اور پھر اس حدیث کی کل یابعض سندوں کا ذکر کیا جائے ۔
جیسے :۔ تحفۃ الاشراف بمعرفۃ الاطراف للمزنی۔ متوفی ۷۴۲ھ

۱۲۔ مفہرس:۔ وہ کتاب جس میں کسی ایک یا چند کتابوں کی احادیث کی فہرست دیدی جائے جس سے حدیث معلوم کرنا آسان ہو جائے ،
جیسے :۔ المعجم المفہرس لالفاظ الحدیث النبوی ٭مفتاح کنوز السنۃ

۱۳۔ مصنف و مؤطا: ۔ حدیث کی وہ کتاب جس میں ترتیب ا ابواب فقہ پر ہو اور احادیث مرفوعہ کے ساتھ موقوف و مقطوع احادیث بھی مذکور ہوں ۔
جیسے :۔ المصنف لعبد الرزاق المصنف لابن ابی شیبۃ
المؤطا لمالک کتاب الآثار لابی یوسف

۱۴۔ اربعین :۔ حدیث کی وہ کتاب جس میں کسی خاص موضوع یا متعدد موضوعات پر چالیس احادیث جمع کی گئی ہوں ۔
جیسے :۔ الاربعین لاحمد الاربعین للنو وی۔

۱۵۔ غریب الحدیث : ۔ وہ کتاب جس میں احادیث کریمہ کے کلمات کے لغوی اور اصطلاحی معنی بیان کئے جائیں ۔
جیسے :۔ النہایۃ فی غریب الحدیث لابن الاثیر۔
مجمع بحار الانوار فی غرائب التنزیل و الآثار للفتنی

۱۶۔ علل: ۔وہ کتاب ہے جس میں ایسی احادیث ذکر کی جائیں جن کی سند میں کلام ہوتاہے ۔
جیسے :۔ العلل للترمذی، کتاب العلل لابن ابی حاتم

۱۷۔ موضوعات: وہ کتاب جس میں موضوع احادیث کو جمع کیا جائے اور اصل حدیثموضوع کو ممتاز کر دیا جائے ۔
جیسے :۔ الموضوعات لابن الجوزی الموضوعات الکبری للقاری
اللالی المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ

۱۸۔ مشہورہ : ۔ وہ کتاب جس میں ایسی احادیث کی تحقیق جائے جو عام طور پر مشہور اور زبان زد خاص و عام ہیں ۔
جیسے :۔ المقاصد الحسنۃ للسخاوی

۱۹۔ تعلیقہ : ۔وہ کتاب جس میں احادیث کی سند کو حذ ف کر دیا جائے اور اصل متن ذکر کیا جائے ۔
جیسے :۔ المصابیح لللبغوی المشکوۃ للتبریزی
جمع الجوامع للسیوطی جمع الفوائد للمغربی

۲۰۔ ترغیب و ترہیب : ۔ وہ کتاب جس میں ایسی احادیث جمع کی جائیں جن کا تعلق عقائد و اعمال میں ترغیب اور ان سے غفلت پر ترہیب سے ہو ۔
جیسے :۔ الترغیب و الترہیب للمنذری ترغیب الصلوٰۃ للبیہقی

۲۱۔ مشیخہ : ۔وہ کتاب جس میں کسی شیخ کی مرویات کو جمع کر دیا جائے خواہ وہ کسی موضوع سے متعلق ہوں ۔
جیسے :۔ المشیخۃ لابن شاذان المشیخۃ لابن البخاری
المشیخۃ لابن القاری

۲۲۔ اذکار:۔ وہ کتاب جس میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے منقول دعائیں جمع کی جائیں ۔
جیسے :۔ الاذکار للنو وی الحصن الحصین للجزری

۲۳۔ ناسخ و منسوخ : ۔وہ کتاب جس میں ناسخ و منسوخ احادیث بیان کی جائیں
جیسے :۔ کتاب الاعتبار فی الناسخ و المنسوخ من الآثار للحازمی

۲۴۔ اوائل : ۔وہ کتاب جس میں احادیث کو حروف تہجی کی ترتیب پر جمع کیا جائے ۔
جیسے :۔ الجامع الصغیر للسیوطی الفردوس للدیلمی

۲۵۔ شرح الآثار:۔ وہ کتاب جس میں ایسی احادیث بیان کی جائیں جو آپس میں متعارض ہیں اور پھر اس تعارض کو اٹھا یا جائے ۔
جیسے :۔ شرح معانی الآثار للطحاوی

۲۶۔ تفسیر ماثور : ۔وہ کتاب جس میں ایسی احادیث جمع کی جائی جو آیات قرآنیہ کی تفسیر سے متعلق ہیں ۔
جیسے :۔ جامع البیان للطبری الدر المنثور للسیوطی

۲۷۔ صحیح :۔ حدیث کی اس کتاب کو کہتے ہیں جس کے مصنف نے صرف احادیث صحیحہ کو بیان کرنے کا التزام کیا ہو ۔
جیسے :۔ الصحیح للبخاری الصحیح لمسلم

۲۸۔ رسالہ : ۔ حدیث کی وہ کتاب جس میں جامع کے عناوین میں سے کسی ایک عنوان کے تحت احادیث جمع کی جائیں۔
جیسے :۔ کتاب الزہد لاحمد

۲۹۔ امالی :۔جس کتاب میں شیخ کے املاء کراتے ہوئے فوائد حدیث ہوں ۔
جیسے :۔ الامالی لمحمد

ٍ۳۰۔ تخریج : ۔ وہ کتاب جس میں کسی دوسری کتاب کی احادیث کی سند اور حوالہ درج کیا جائے ۔
جیسے :۔ نصب الرایۃ للزیلعی التلخیص الحبیر لابن حجر
اور جیسے راقم الحروف کی ترتیب و پیش کش
المختارات الرضویہ من الاحادیث النبویہ والآثار المر ویۃ المعروف بجامع الاحادیث۔


عصر حاضر میں تخریج کا عام طریقہ یہ ہے کہ کسی حدیث کے تعلق سے ان کتابوں کے اسماء، باب، جلد، صفحہ، مطبع، اور دیگر ضروری چیزوں کی نشاندہی کی جاتی ہے جس سے اصل کی طرف رجوع میں آسانی پیدا ہو جاتی ہے ۔ قدیم طرز پر صرف کتاب اور راوی کانام ضروری ہوتا تھا، بایں معنی امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ نے اپنی تصانیف میں پیش کردہ اکثر احادیث کی تخریج خود کر دی ہے ، لہذا اس دور کے لحاظ سے جدید طرز پر ضرورت تھی جس کے لئے راقم الحروف کی کاوش ہدیہ ناظریں ہے ۔ تفصیل کچھ اس طرح ہے ۔
امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ نے اپنی تصانیف میں جن احادیث کو بطور استدلال پیش فرمایا ہے وہ آپ کی کتابوں میں بکھری ہوئی ہیں ، جہاں جس مسئلہ سے متعلق ضرورت پیش آئی ان کو نقل فرمایا ، ہم نے تمام احادیث کو آپ کی ان تمام تصانیف سے جو ہم کو اب تک دستیا ب ہوئیں جن کی تعداد تین سو کے قریب ہے نقل کیا ، پھر ان کو ابواب فقہیہ پر مرتب کیا ، جن احادیث کا ترجمہ نہیں تھا ترجمہ کیا ، ایسے مقام پر مرتب اور حد کا اشاریہ قائم کرتے ہوئے (۱۲م) لکھ یدیا ، اور جن احادیث کا ترجمہ اعلیٰ حضرت نے لکھا اور متن کی ضرورت ان کو نہ پیش آئی ہم نے کتاب کو مستقل اور یکساں بنانے کیلئے اصل کتابوں سے وہ احادیث لکھیں اور ترجمہ کو ان متون کے ساتھ ضم کر دیا ۔ اعلیٰحضرت کی جس کتاب سے ہم نے حدیث اخذ کی اس کا حوالہ وہیں لکھ دیا ۔ پھر حدیث کے حوالہ میں جن کتابوں کی نشاندہی اعلیٰحضرت نے کی تھی اگر وہ کتابیں ہمارے پاس موجود تھیں تو جلدو صفحہ کی وضاحت کرتے ہوئے نیچے حدیث نمبرکے مطابق لکھ دیا ، اور جو کتابیں نہیں تھیں ان کے اسماء کو حذ ف کر دیا ، البتہ کثیر حوالے وہ بھی ہیں جو ہم نے اصل پر زیادہ کئے ۔ اسی لئے بعض مقامات پر چالیس کتابوں کے حوالے بھی آپ کو ملیں گے ۔پھر تمام مآخذ و مراجع کی فہرست آخر میں لکھ دی ہے جس میں مطبع کی و ضاحت بھی کر دی گئی ہے ۔

معرفت تابعین

تابعی:۔ وہ شخص جو حالت اسلام میں کسی صحابی سے ملاقات کریں اور اسلام پر ہی ان کا وصال ہوا ۔ ان کے مختلف طبقات ہیں ۔
علامہ ابن حجر نے ان کے چار طبقات بتائے ہیں :۔
افضل ترین تابعی: ۔ اس سلسلہ میں مختلف اقول ہیں :۔
نزد اہل مدینہ حضرت سعید بن مسیب
نز د اہل کوفہ حضرت اویس قرنی
نزد اہل بصرہ حضرت حسن بصری
فقہائے سبعہ : ۔ مدینہ منورہ کے اکابر تابعین میں باعتبار فقہ و فتاوی ان سات حضرات کو امتیازی مقام حاصل تھا ۔
سعید بن مسیب قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق
عروہ بن زبیر خارجہ بن زید بن ثابت
سلیمان بن یسار ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف
عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود
بعض نے ساتواں سالم بن عبد اللہ بن عمر کوبتایا ہے ۔
مخضر مین
وہ حضرات جنہوں نے اسلام اور جاہلیت دونوں زمانوں کو پایا لیکن حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے شرف ملاقت حاصل نہ ہوا ۔ خواہ وہ عہد نبوی میں مسلمان ہوئے یا بعد میں ۔ ان کو مخضر مین کہا جاتا ہے اور ان کا شمار کبار تابعین میں ہوتا ہے ۔
اتباع تابعین
وہ حضرات جنہوں نے بحالت ایمان کسی تابعی سے ملاقات کی ہو اور اسلام پر ہی ان کا خاتمہ ہوا ہو ، یہ حضرات تابعین کے تلامذہ و مستفیدین ہیں ان کے بھی متعدد طبقات ہیں ۔ صحابہ ، تابعین تبع تابعین اور ان سے استفادہ کرنے والے حضرات کو علامہ بن حجر عسقلانی نے بارہ طبقات میں پیش کیا ہے ۔
۱۔ تمام صحابۂ کرام
۲۔ کبار تابعین جیسے سعید بن مسیب
۳۔ اوساط تابعین جیسے حسن بصری ، محمد بن سیرین
۴۔ طبقہ ثالثہ سے متصل کہ اکثر روایت کبار تابعین سے کرتے ہیں جیسے :۔ اما م زہری
۵۔ اصاغر تابعین جیسے امام اعظم ، امام اعمش
۶۔ معاصرین اصاغر جیسے ابن جریج
۷۔ کبار تبع تابعین جیسے امام مالک ، امام ثوری
۸۔ اوساط تبع تابیعن جیسے سفیان ابن عینیہ ، اسماعیل بن علیہ
۹۔ اصاغر تبع تابعین جیسے امام شافعی ، ابو داؤد طیالسی ، عبد الرزاق صنعانی
طبقہ تاسعہ سے ملا صق جن کی کسی تابعی سے ملاقات نہ ہو۔
۱۰۔ اولی جیسے امام احمد بن حنبل
۱۱ ۔ وسطی جیسے امام بخاری ، امام مسلم ، امام ذہلی
۱۲۔ صغری جیسے امام ترمذی

معرفت صحابہ

صحابی:۔ وہ شخص جس نے حالات ایمانی میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ملاقات کا شرف حاصل کیا اور اسلام پر ہی انتقال ہوا ۔ خواہ اس نے حضور کو دیکھنے کا قصد کیا ہو یا نہیں ۔ یا صرف حضور نے اس پر نظر ڈالی ہو ۔ نیز معاذ اللہ ایمان سے پھر گیا اور اسلام لے آیا اور حضور سے ملاقات دوبارہ ہوگئی ان تمام صورتوں میں صحابی ہی شمار ہو گا ۔
جمہور اہل سنت کے نزدیک تمام صحابہ چھوٹے ہوں یا بڑ ے حضور سے شرف ملاقات کے سبب سب عادل و معتمد ہیں ۔
مکثرین صحابہ:۔ صحابۂ کرام میں جو حضرات ایسے ہیں جن سے کثیر تعداد میں
احادیث مروی ہیں ان کو مکثرین صحابہ کہا جاتا ہے ۔ ایسے حضرات وہ ہیں جن کی مرویات کی تعداد ایک ہزار سے متجاوز ہے ۔
۱۔حضرت ابو ہریرہ ۵۳۷۴
۲۔حضرت عبد اللہ بن عمر ۲۶۳۰
۳۔ حضرت انس بن مالک ۲۲۸۶
۴۔ ام المومنین عائشہ صدیقہ ۲۲۱۰
۵۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ۱۶۶۰
۶۔ حضرت جابر بن عبد اللہ۱۵۴۰

ابن کثیر نے حضرت ابو سعید خدری کو بھی مکثرین میں شمار کیا ہے اور ان کی مرویات کو ۱۱۷۰ بتایا ہے ۔ اسی طرح عبد اللہ بن مسعود اورعبد اللہ بن عمرو بن العاص کو بھی ان میں ہی شمار کیا ہے ۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہم

مفسرین صحابہ: ۔ صحابہ کرام کی ایک جماعت کو علم تفسیر میں خاص مقام حاصل تھا ۔ یہ مندرجہ ذیل ہیں :۔
حضرت ابو بکر صدیق حضرت عمر فاروق اعظم
حضرت عثمان غنی حضرت علی المرتضی
حضرت عبد اللہ بن مسعود حضرت ابی بن کعب
حضرت زید بن ثابت حضرت عبد اللہ بن عباس
حضرت عبد اللہ بن زبیر حضرت ابو موسی اشعری
رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین

مفتیان صحابہ:۔ صحابۂ کرام مین ایک ایسی جماعت بھی تھی جو مرجع فتاوی رہی ۔
حضرت عمر فاروق اعظم حضرت علی مرتضی
حضرت ابی بن کعب حضرت زید بن ثابت
حضرت ابو درداء حضرت ابن مسعود
حضرت ابن عمر حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ
رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین

مولفین صحابہ: ۔ بعض اوقات تحریر و تصنیف میں مشغول رہنے والے صحابہ کرام بھی تھے ، ان کے صحیفوں اور اسماء کی تفصیل تدوین حدیث میں گزری ،

تعداد صحابہ : ۔ صحابہ کرام کی قطعی تعداد تو معین نہیں ۔ پھر بھی محتاط اندازے کے مطابق یہ تعداد ایک لاکھ سے متجاوز ہے ۔
امام ابو زرعہ رازی فرماتے ہیں : حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے بعد ایک لاکھ چودہ ہزار صحابۂ کرام چھوڑ ے ۔ ان میں صرف دس ہزار صحابۂ کرام کے حالات ہی کتابوں میں نقل ہوئے ۔

افاضل صحابہ : ۔ باتفاق اہل سنت افضل ترین صحابہ میں سیدنا صدیق اکبر ، پھر فاروق اعظم ، پھر عثمان غنی ، پھر علی مرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ہیں ۔
ان کے بعد عشرہ مبشرہ ، پھر اصحاب بدر واحد ، پھر اہل بیت رضوان پھر اہل فتح مکہ ۔ باعتبار روایت حدیث سب کو ایک طبقہ میں شمار کیا جاتا ہے ۔

معرفت رواۃ

راویان حدیث کی شخصیات اور ان کے حالات زندگی کا علم ایک اہم چیز ہے کہ جب تک کسی شخصیت کے بارے میں علم نہ ہو گا اس کے مقبول وغیر مقبول ہونے کا فیصلہ نہ ہو سکے گا ۔ چونکہ یہ کام محدثین و ائمہ فن کر چکے اور فیصلہ کر کے ہمارے لئے کتابیں تحریر فرمادیں ۔ اس سلسلہ میں ائمہ فن نے جرح و تعدیل کی کتابیں اور مستقلا علیٰحدہ علیٰحدہ عنوانات پر بھی کام کیا ۔ بعض اہم علوم و عنوان اس طرح پیش کئے گئے ہیں ۔
٭ معرفت صحابہ ٭معرفت تابعین ٭ معرفدت برادران و خواہران
٭معرفت متشابہ ٭ معرفت مہمل ٭معرفت متفق و مفترق
٭معرفت مبہمات ٭معرفت وحدان ٭معرفت موتلف و مختلف
٭معرفت القاب ٭ معرفت تواریخ رواۃ ٭معرف طبقات علماء و رواۃ
٭معرفت مذکورین باسماء باصفات مختلفہ ٭معرفت موالی
٭معرفت اسماء مشہورین بکنیات ٭معرفت نسبت خلاف ظاہر
٭معرفت اسماء مفردہ و کنیت و القاب ٭معرفت خلط کنند ان از ثقات
٭معرفت رواۃ ثقات و ضعفاء ٭معرفت اوطان و ممالیک رواۃ ٭معرفت منسوبین بسوئے غیر پدر ٭ معرفت اکابر رواۃ از اصاغر٭ معرفت روایت پدراں از پسراں ٭معرفت روایت پسراں از پدراں
یہ اور ان جیسے علوم کے مجموعہ کو علم اسماء الرجال کہتے ہیں اور ان راویان حدیث کے حالات کتابوں میں مذکور ہیں ۔
٭طبقات مشاہیر الاسلام:۔ مصنفہ امام ذہبی ۳۵! جلدوں میں ہے اور اس میں ایک ہجری سے ۷۰۰ھ تک کے تمام ایسے اشخاص کا احاطہ کر لیا گیا ہے ۔
٭تذکرۃ الحفاظ :۔ یہ بھی آپ کی تصنیف ہے ۔ اور اس میں ۷۰۰ ھ سے کچھ آگے کے حالات بھی مرقوم ہیں ۔
علامہ ابن حجر کے لسان المیزان نویں صدی تک کا احاطہ کرتی ہے اور امام سیوطی کی ’’ذیل‘‘ میں ۱۰۱۰ ھ تک کے مشاہیر کا تذکرہ ہے ۔
جرح و تعدیل کا زیادہ تر سلسلہ متون حدیث کی تالیف کے آخری عہد یعنی امام بیہقی
م ۴۵۸ھ کے عہد تک رہا ہے ، پھر چونکہ احادیث کے اصل و معتمد تمام مجموعے تصنیف کئے جا چکے تھے اس لئے اس کے بعد رواۃ کے حالات جمع کرنے کا نہ اہتمام کیا گیا اور نہ ہی اس کی ضرورت رہ گئی تھی ۔ لہذا اب کتابوں کی طرف ہی رجوع ہوتا ہے

جرح و تعدیل

تعدیل راوی کی عدالت و ضبط کے تحقیق کو کہتے ہیں اور جرح سے مراد وہ امور ہیں جو ان دونوں پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ جن کی تفصیلی تعداد تیرہ بیان کی جاتی ہے ۔

عدالت پر اثر انداز: ۔
٭کذب٭اتہام کذب٭فسق ٭بدعت ٭ جہالت

ضبط پر اثر انداز : ۔
٭زیادۃ غلط ٭سوء حفظ ٭ فرط غفلت ٭ زیادت وہم ٭مخالفت ثقات ٭ شہرت تساہل ٭ شہرت قبول تلقین ٭نسیان

جرح و تعدیل وہی معتبر ہے جو ائمہ فن سے بغیر کسی تعصب یا بے جا حمایت کے ساتھ منقول ہو ، البتہ تعدیل مبہم کا اعتبار ہو گا کہ وجوہ عدالت بیان کئے بغیر ثقہ وغیرہ کہنا ، کیونکہ وجوہ عدالت کثیر ہیں جن کا احاطہ ایک وقت میں ممکن نہیں ۔
البتہ جرح مبہم غیر مفسر معتبر نہیں ، کہ اسباب جرح اتنے زائد نہیں کہ ان کے شمار میں دشواری ہو ۔ نیز اسباب جرح میں اختلاف ہے ، ہو سکتا ہے ایک سبب کسی کے نزدیک معتبر ہو اور دوسروں کے یہاں نہ ہو ۔
لہذا ابن صلاح نے تصریح کی کہ فقہ و اصول میں یہ ہی طے ہے ، اور خطیب نے ائمہ نقاد کا یہ ہی مذہب بتایا اور اسی پر عمل ہے ۔ ( تدریب الراوی للسیوطی ۱/۳۰۸)
خیال رہے کہ جن علماء و فقہاء کو امت نے مقتدا بنالیا ان پر کسی کی تنقید و جرح منقول نہیں ۔ (جامع بیان العلم لا بن عبد البر۲۱۵ )
الفاظ جرح اور ان کے مراتب
ادنی سے اعلیٰ کی طرف
۱۔جو نرمی ، تساہل اور لا پرواہی پر دلالت کریں ۔ جیسے :۔
٭ لین الحدیث ٭فیہ مقال٭وغیرہا
۲۔ جو عدم احتجاج یا اس کے مثل مفہوم پر دال ہوں ۔ جیسے :۔
٭ فلاں لا یحتج ٭ ضعیف ٭ لہ مناکیر ٭و غیرہا۔
۳۔ عدم کتابت یا اس کے مثل کی تصریح ۔ جیسے :۔
٭فلان لا یکتب حدیثہ ٭ لا تحل الروایۃ عنہ ٭ ضعیف جدا٭ واہ بمرۃ ٭ رد حدیثہ ٭ طرحو احدیثہ ٭وغیرہا ۔
۴۔ وہ الفاظ جواتہام کذب پر دال ہوں ۔ جیسے :۔
٭ فلان متہم الکذب ٭ متہم بالوضع ٭ یسرق الحدیث ٭ساقط ٭ متروک ٭ لیس ثقۃ ٭ ذاہب الحدیث وغیرہا۔
۵۔ وہ الفاظ جو صاف صاف جھوٹ پر دال ہوں ۔ جیسے :۔
٭کذاب ٭ دجال ٭ وضاع ٭یکذب ٭ یضع وغیرہا۔
۶۔ وہ الفاظ جو جھوٹ میں مبالغہ پر دلالت کریں ۔ جیسے :۔
٭ اکذب الناس ٭الیہ المنتہی فی الکذب٭ رکن الکذب وغیرہا۔
پہلے دو مراتب کی حدیث متابع اور شاہد میں کام آتی ہے ۔ باقی قطعا مردود وغیر مقبول ہیں ۔
الفاظ تعدیل اور ان کے مراتب
اعلی سے ادنی کی طرف
۱۔ وہ الفاظ جو ثقاہت اور اعتماد میں مبالغہ پر دال ہوں ۔ جیسے :۔
٭ فلان الیہ المنتہی فی التثبت ٭ فلان اثبت الناس ٭ لا احد اثبت عنہ وغیرہا۔
۲۔ وہ الفاظ جو ثقاہت کے بیان میں مکر ر آئیں ۔ جیسے :۔
٭ثقہ ثقۃ ٭ثقۃ ثبت وغیرہا۔
۳۔ وہ الفاظ جو بلا تاکید ثقاہت پر دال ہوں ۔ جیسے :۔
٭ ثقہ ٭حجۃ ٭ متقن ٭ عدل وغیرہا۔
۴۔وہ الفاظ جو صرف عدالت کا ثبوت دیں ، ضبط سے تعلق نہ ہو۔ جیسے :۔
٭صدوق٭ محلہ الصدق٭ مامون٭ خیار وغیرہا ۔
۵۔ وہ الفاظ جو جرح و تعدیل کچھ نہ بتائیں ۔ جیسے :۔
٭فلان شیخ وغیرہا۔
۶۔ وہ الفاظ جو جرح سے قرب کو ظاہر کریں ، جیسے :۔
٭فلان صالح الحدیث ٭ یکتب حدیثہ وغیرہا۔
پہلے تین مراتب کی حدیث حجت ہے ، چہارم پنجم کو پہلے کے موافق پائیں تو قبول کریں گے ورنہ نہیں ۔ششم کو متابع اور شاہدکے لئے لایا جائے گا۔

خبر مردود

تعریف:۔ جس حدیث کا ثبوت بعض یا کل شرائط قبولیت کے معدوم ہونے کی وجہ سے راجح نہ ہو، ا سکا دوسرا معروف عنوان’ ضعیف ‘ہے ۔
اسباب رد دو ہیں ۔
xسقوط از سند x طعن بر راوی
اول کی مندرجہ ذیل چھ قسمیں ہیں ۔
xمعلق x مرسلx معضلx منقطعx مرسل خفیx مدلس
سقوط راوی اگر واضح ہو تو اس سے پہلی چار قسمیں متعلق ہیں ، اور سقوط خفی ہو تو آخری دو۔

معلق

تعریف:۔جس حدیث کی شروع سند سے ایک ، یا زائد راوی پے در پے حذف ہو ں ۔ 

 

حکم

یہ حدیث قابل رد ہے کہ راوی غیر مذکور کا حال معلوم نہیں ، ہاں راوی کا حال معلوم ہو
جائے اور وہ شرائط عدالت اور اوصاف قبولیت سے متصف ہو تو مقبول ہو گی ، یہ حکم تمام منقطع احادیث کا ہونا چاہیے ۔
مثال۔ قال ابو ہریرۃ عن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: اللہ اعلم بمن یجاہد فی سبیلہ۔(الجامع الصحیح للبخاری ۱/۴۰۶

تعلیقات بخاری

واضح رہے کہ امام بخاری کی ذکر کردہ تعلیقات کو یک قلم مردود قرار نہیں دیا جا سکتا، کہ اس کتاب میں صحیح احادیث کے جمع کر نے کا التزام ہے ، البتہ اس میں تفصیل یہ ہے کہ بعض تعلیقات کو یقین و قطیعت کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ۔ جیسے ۔
قال ۔ ذکر۔ حکی۔ وغیرہا۔
اور بعض کو شک و تردد کے ساتھ بیان کیا ہے ، جیسے ۔
قیل ، ذکر، روی ، وغیرہا۔
اول کو صحیح اور ثابت کہا جاتا ہے ، اور ثانی پر تحقیق کے بعد ہی حکم ہو گا، اس سے پہلے توقف بہتر ہے ، ایسی احادیث بخاری میں صرف ایک سو ساٹھ ہیں ۔( تدریب الراوی للسیوطی، ۱ /۱۱۷

مرسل

تعریف :۔ جس حدیث میں آخر سند سے تابعی کے بعد راوی غیر مذکور ہو ۔
مثال۔ عن سعید بن المسیب ان رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال: من اکل من ہذہ الشجرۃ فلا یقرب مسجدنا۔( المؤطا لمالک۶)
حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے اس درخت ( کچی پیاز ا اور لہسن) سے کچھ کھایا وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے ۔

مرسل نزد فقہاء و اص

جس حدیث کی سند متصل نہ ہو ، خواہ ایک راوی غیر مذکور ہو یا سب، پے د رپے یا الگ الگ۔ گویا سقوط سند کی تمام صورتیں انکے نزدیک مر سل ہیں ۔
حکم:۔ مر سل در حقیقت ضعیف مردود اور غیر مقبول ہے ، کہ قبولیت کی ایک شرط اتصال سند
سے خالی ہے ، جمہور محدثین اور ایک جماعت اصولے ین و فقہا کا یہ ہی مسلک ہے ۔
امام اعظم ، امام مالک، اور امام احمد کا قول مشہورمیں نیز ایک جماعت علماء کے نزدیک مقبو ل اور لائق احتجاج ہے بشرطیکہ ارسال کرنے والا ثقہ اور کسی معتمد ہی سے ارسال کرے ، اس لئے کہ ثقہ تابعی جب تک کسی اپنے جیسے ثقہ سے کو ئی بات نہ سنے تو براہ راست حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف نسبت نہیں کرتا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ حضرات تابعین مرسل پر نکیر نہیں کر تے تھے ۔
امام شافعی اور بعض علماء کے نزدیک چند شرطوں سے مقبول ہے ۔
٭ ارسال کرنے والا اکابر تابعین سے ہو ۔
٭غیر مذکور راوی کی تعے ین میں ثقہ ہی کا نام لیا جائے ۔
٭معتمد حفاظ حدیث کسی دوسری سند سے روایت کریں تو ا سکے مخالف نہ ہو۔
٭ کسی دوسری سند سے متصل ہو۔
٭کسی صحابی کے قول کے موافق ہو۔
٭اکثر اہل علم کے نزدیک ا سکے مضمون پر فتوی ہو۔
اگر صحیح حدیث ایک طریق سے مروی ہو لیکن مرسل کے مخالف، اور مرسل او ر ا سکی مؤید علیحدہ سند سے تویہ مرسل ہی راجح ہو گی، اگر جمع و تطبیق کی کوئی صورت ممکن نہ ہو۔
خیال رہے کہ مرسل صحابی جمہور کے نزدیک مقبول اور لائق احتجاج ہے ،۔ مرسل صحابی کی صورت یہ ہوتی ہے کہ صحابی کم سنی یا تاخیرا سلام کی وجہ سے خود حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے نہیں سن پاتا لیکن براہ راست نسبت حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف ہی کر تا ہے ۔
جیسے عبد اللہ بن زبیر اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی اکثر روایات اسی طرح کی ہیں ۔(تدریب الراوی للسیوطی ۱/ ۲۰۷)
مرسل اور ائمہ احناف:۔ احناف کے نزدیک تابعی اور تبع تابعین کی مرسلات مطلقاً
مقبول ہیں ، انکے بعد ثقہ کی ہو تو مقبول او ر باقی کا فیصلہ تحقیق کے بعد ہو تا ہے ۔( فواتح الرحموت لبحر العلوم ۲/۱۷۴)
مشہور مصنفات
٭المراسیل لا بی داؤد، م ۲۷۵
٭ المراسیل لا بن ابی حاتم، م ۳۲۷
٭ جامع التحصیل لا حکام المراسیل للعلائی ، م ۷۶۱
معضل
تعریف:۔ جسکی سند سے دو یا زائد راوی پے در پے ساقط ہوں
مثال۔ مالک انہ بلغہ ان عائشۃ زوج النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قالت فی المرأۃ الحامل تری الدم انہا تدع الصلوۃ۔ (المؤطا لمالک۲۱)
حضرت امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ روایت پہونچی کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا:۔ حاملہ عورت اگر خون دیکھے تو نماز نہ پرھے ۔
یہ حدیث امام مالک کے بلاغات سے ہے اور درمیان میں دو راوی ساقط ہیں کہ بالعموم امام مالک اور حضرت صدیقہ کے درمیان موطا میں دو واسطے مذکور ہیں ۔
لہذا فنی طور پر یہ حدیث منقطع معضل شمار ہو گی۔
حکم:۔ ضعیف شمار ہو تی ہے اور مرسل کے بعد ا سکا نمبر آتا ہے ۔
معضل اور معلق کے درمیان عموم خصوص من وجہ کی نسبت ہے ۔
مادۂ اجتماع:۔ یہ ہے کہ اآغاز سند سے پے در پے دو راوی ساقط ہوں ۔
مادۂ افتراق:۔ درمیان سند سے پے در پے دو یا زائد راوی ساقط ہوں تو معضل کہیں گے معلق نہیں ۔
آغاز سند سے صر ف ایک راوی ساقط ہو تو معلق کہا جائے گا معضل نہیں ۔

منقطع

تعریف :۔ درمیان سند سے ایک راوی ساقط ہو ، اور دو یا زائد ہوں تو پے در پے نہ ہوں ۔
مثال۔ حدثنی محمد بن صالح، ثنا احمد بن سلمۃ، ثنا اسحاق بن ابراہیم، ثنا عبد الرزاق، انا النعمان بن شیبۃ، عن سفیان الثوری، عن ابی اسحاق، عن زید بن یتبع، عن حذیفہ، رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ان و لیتموہا ابا بکر فزاہد فی الدنیا راغب فی الآخرۃ و فی جسمہ ضعف، و ان ولیتموہا عمر فقوی امین لا یخاف فی اللہ لو مۃ لا ئم، و ان ولیتموہا علیا فہاد مہتد یقیمکم علی صراط مستقیم ۔( المستدرک للحاکم ۳ /۱۵۳)
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم خلافت صدیق اکبر کے سپرد کرو گے تو انکو دنیا سے بے رغبت اور آخرت کی طرف راغب پاؤگے ، اور وہ اپنے جسم میں ضعیف ثابت ہوں گے ۔ اور عمر فاروق اعظم کے سپرد کرو گے تو وہ قوی اور امین ثابت ہوں گے ، احکام الہہ میں کسی کی پرواہ نہیں کریں گے ۔ اور اگرعلی کو خلیفہ بناو گے تو وہ سیدھی راہ پر خود بھی چلیں گے اور دوسروں کو بھی صراط مستقیم پر گامزن رکھیں گے ۔
اس حدیث کی سند میں ایک راوی سفیان ثوری اور ابو اسحق کے درمیان سے ساقط ہیں اور وہ شریک ہیں ، کیونکہ سفیان ثوری نے ابو اسحق سے براہ راست سماعت نہیں کی بلکہ بواسطہ شریک ، لہذا یہ منقطع ہے ، اسی لئے امام ذہبی نے تلخیص میں ا سکو ضعیف کہا ۔
چونکہ اس حدیث کی سند میں سقوط راوی شروع سند سے نہیں لہذا یہ معلق نہیں ، اور آخر سند سے نہیں ، لہذا مرسل نہیں ، اور سند سے دو راوی پے در پے بھی ساقط نہیں لہذا معضل بھی نہیں ، اسی لئے ا سکو علیحدہ قسم شمار کیا گیا ہے ۔
حکم:۔ راوی غیر مذکور کا حال معلوم نہ ہونے کے سبب ضعیف شمار ہو تی ہے ۔

 

مدلّس

تعریف:۔ جس حدیث کی سند کا عیب پوشیدہ رکھا جائے اور ظاہر کو سنوار کر پیس کیا جائے ۔
دوقسمیں ہیں ۔
xمدلس الاسناد x مدلس الشیوخ
مدلس الاسناد:۔ وہ حدیث جسکو استاذ سے بغیر سنے ایسے الفاظ سے استاذ کی طرف نسبت
کرے جس سے سننے کا گمان ہو۔ ا سکی صورت یہ ہوتی ہے کہ راوی اپنے شیخ کا ذکر نہ کرے جس سے سماع حاصل تھا بلکہ اپنے شیخ سے بالا شیخ کو ذکر کر دے جس سے سماع حاصل نہیں مگر ایسے لفظ سے جو سماع کا ایہام کر تا ہے ۔
جیسے :۔ قال، عن ، ان ، وغیرہا کے ذریعہ بیان کرے ۔ کہ یہ الفاظ موہم سماع ہیں ۔
یعنی ایسے الفاظ نہ استعمال کرے جو صراحت کے ساتھ براہ راست سننے کو بتائیں ورنہ جھوٹا کہلائے گا۔ اس صورت میں چھوٹے ہوئے راوی ایک سے زاید بھی ہو سکتے ہیں ۔
تدلیس کا سبب کبھی یہ ہوتا ہے کہ شیخ کے صغیر السن ہونے کی وجہ سے راوی ازراہ خفت ا سکا تذکرہ نہیں کرنا چاہتا، یا راوی کا شیخ کوئی معروف شخص نہیں ، یا عوام و خواص میں ا سکو مقبولیت حاصل نہیں ، یا پھر مجروح ضعیف ہے ۔لہذا شیخ کے نام کو ذ کرنے سے پہلو تہی کر تا ہے ۔
واضح رہے کہ بعض اکابر جیسے سفیان بن عے ینہ سے تدلیس مندرجہ بالا وجوہ کے پیش نظر واقع نہیں ہوئی بلکہ اس وجہ سے کہ صحت حدیث پر انکو وثوق تھا اور بوجہ شہرت اپنے شیوخ کے ذکر کی ضرورت نہ سمجھی ، لہذا انکی حدیث پر بایں معنی جرح نہیں کی جاتی۔
حکم :۔ ایسی احادیث ضعیف کی اہم اقسام سے ہیں ، علماء نے اس عمل کو نہایت مکروہ بتایا ہے
اور بہت مذمت کی ہے ، امام شعبہ نے تدلیس کو کذب بیانی کا دوسرا عنوان بتایا ہے ۔
مدلس الشیوخ:۔ وہ حدیث جسے راوی اپنے استاذ سے نقل کر تے ہوئے اس کے لئے
کوئی غیر معروف نام، لقب، کنیت ، یا نسب ذکر کرے تا کہ اسے پہچانا نہ جا سکے ۔( تدریب الراوی للسیوطی ۱/۲۲۳)
ا سکی ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ شیخ سے بکثرت روایتیں کرنے کی وجہ سے بار بار معروف نام لینا نہیں چاہتا۔
حکم:۔ اس میں پہلی قسم کی بہ نسبت نقص کم ہو تا ہے ، کیونکہ راوی ساقط نہیں ہوتا، ہاں راوی کا غیر معروف نام ذکر کر کے سامعین کو الجھن میں مبتلا کر نا ہے ۔
ایسی احادیث میں اگر سماع کی تصریح کر دی جائے تو حدیث مقبول ورنہ غیر مقبول ہو گی، نیز وہ حضرات جو ثقہ سے تدلیس کر تے ہیں انکی مقبول ورنہ غیر مقبول ۔(تدریب الراوی للسیوطی ۱/۲۲۹)
تصانیف فن
اس فن میں محدثین نے مستقل کتابیں لکھیں چند یہ ہیں :۔
٭ کتاب التدلیس للخطیب، م ۴۶۳
٭ التبین لأسما ء المدلسین للخطیب، م۴۶۳
٭ التبین لأسماء المدلسین للحلبی، م ۸۴۱
٭ تعریف اہل التقدیس بمراتب الموصوفین بالتدلیس لا بن حجر، ۸۵۲
مرسل خفی
تعریف : جس حدیث کو راوی کسی ایسے شخص سے نقل کرے جس سے ا سکی معاصرت کے
باوجود ملاقات یاسماع ثابت نہ ہو۔
مرسل خفی اورمدلس کے درمیان فرق یوں ہے کہ راوی کی مروی عنہ سے معاصرت ہوتی ہے اور ملاقات بھی ممکن لیکن سماع ثابت نہیں ہوتا ۔ برخلاف مدلس کہ اس میں تینوں چیزیں ہوتی ہیں ۔
مثال:۔ حدثنا محمد بن الصباح، انبأنا عبد العزیز بن محمد عن صالح بن محمد بن زائدۃ، عن عمر بن عبد العزیز عن عقبۃ بن عامر الجھنی قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم: رحم اللہ حارس الحرس۔ (السنن لا بن ماجہ ۲ / ۱۹۹)
حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ مجاہدین کے محافظین پر رحم فرمائے ۔
عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حضرت عقبہ سے معاصرت تو ثابت ہے لیکن ملاقات نہیں جیسا کہ مزی نے اطراف الحدیث میں ذکر کیا ۔
حکم:۔ ضعیف ہے اس لئے کہ اس میں انقطاع ہو تا ہے ۔
تصنیف فن
٭ کتاب التفصیل لمبہم المراسیل للخطیب۔
یہ اس فن میں نہایت مشہور کتاب ہے ۔
معنعن و مؤنن
تعریف:۔ لفظ ’عن‘ کے ذریعہ روایت معنعن ہے ، اور’ ان‘ کے ذریعہ روایت مؤنن ہے ۔
حکم:۔ چند شرائط کے ساتھ متصل شمار ی جاتی ہے ۔
٭راوی مدلس نہ ہو۔
٭جن راویوں کے درمیان ’ عن ‘ یا ’ان‘ آئے وہ ہم عصر ہو ں ۔
مردود بسبب طعن در راوی
راوی میں طعن کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ا سکی عدالت یعنی مذہب و کردار، اور ضبط و حفظ کے بارے میں جرح کی جائے ۔
اسباب طعن دس ہیں :۔
٭پانچ عدالت سے متعلق ٭پانچ ضبط سے متعلق
عدا لت میں طعن کے وجوہ یہ ہیں ۔
xکذبxاتہام کذب x فسق xبدعتx جہالت
ضبط میں طعن کے وجوہ یہ ہیں ۔
xفرط غفلت xکثرت غلط x سوء حفظ xکثرت وہم x مخالفت ثقات
اب بدتر سے کم تر کی طرف ترتیب ملاحظہ ہو۔

 

موضوع

تعریف:۔ وہ مضمون جسکو بصورت حدیث حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف
کذب بیانی سے منسوب کیا جائے ۔
ا سکی تین صورتیں ہوتی ہیں ۔
٭ کبھی محض اپنی طرف سے گڑ ھ کر کوئی بات حضور کی طرف منسوب کی جاتی ہے ۔
٭کبھی کسی کی کوئی بات حضور کی طرف منسوب کی جاتی ہے ۔
٭ کبھی ضعیف حدیث کے ساتھ قوی سند لگا کر۔
اس آخری صورت میں اصل نسبت تو جھوٹی نہیں ہوتی لیکن حتمی و یقینی شکل بنا کر پیش کرنا واقعی جھوٹ ہے ۔
حکم و مرتبہ :۔ ا سکو حدیث مجازاکہتے ہیں ورنہ در حقیقت یہ حدیث ہی نہیں ، اور جس حدیث
کی وضع کا علم ہو اس میں وضع کی صراحت کے بغیر ا سکی روایت کرنا جائز نہیں ۔
بعض صوفیہ اور فرقہ کرامیہ ترغیب و ترہیب میں ایسی روایت کے جواز کے قائل ہیں مگر جمہور ا سکے خلاف ہیں ، امام الحرمین نے تو واضع حدیث کو کا فرتک کہا ہے ۔
یہ جرم اتنا قبیح ہے کہ کسی سے متعلق ایک مرتبہ بھی یہ حرکت ثابت ہو جائے تو پھر کبھی ا سکی روایت مقبول نہیں ہوتی خواہ توبہ کر لے ۔
ذرائع معرفت وضع:۔
٭وضع کے سلسلہ میں واضع کا اقرار۔ یا بمنزلۂ اقرار۔یا راوی کے اندر کسی قرینے سے ۔ یا مروی کے اندر کسی طریقے سے وضع کا علم ہوتا ہے ۔
٭نیز عقل و مشاہدہ ، صراحت قرآن ، سنت متواترہ، اجماع قطعی ، اور مشہور تاریخی واقعات کی واضح مخالفت سے بھی وضع کا حکم لگایا جاتا ہے ۔ یہ جب ہے کہ تاویل و تطبیق کا احتمال نہ رہے ۔
٭ امر منقول ایسا ہو کہ حالات و قرائن بتاتے ہیں کہ ایک جماعت ا سکی ناقل ہونی چاہئیے تھی، یا یہ کہ دین کی اصل ہے اور ان دونوں صورتوں میں راوی و ناقل صرف ایک ہے ، یا زیادہ ہیں لیکن تواتر کو نہیں پہونچے ۔
٭ کسی معمولی چیز پر سخت و عید ، یا اجر عطیم کی بشارت، نیز وعید و تہدید میں ایسے لمبے چوڑ ے مبالغے ہوں جنہیں کلام معجز نظام نبوت سے مشابہت نہ رہے ۔
٭معنی شنیع و قبیح ہوں جنکا صدور حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے نا ممکن، جیسے معاذ اللہ کسی فساد یا ظلم، یا عبث ، یاسفہ ، یا مدح باطل یا ذم حق پر مشتمل ہو ۔
٭ ایک جماعت جسکا عدد حد تواتر کو پہونچے اور ان میں احتمال کذب یا ایک دوسرے کی تقلید کا نہ رہے ا سکے کذب و بطلان ہر گواہی مستنداً الی الحس دے ۔
٭ لفظ رکیک و سنحیف ہوں جنہیں سمع دفع اور طبع منع کرے اور ناقل مدعی ہو کہ یہ بعینہا الفاظ کریمہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں ، یا وہ محل ہی نقل بالمعنی کانہ ہو ۔
٭ یا ناقل رافضی حضرات اہل بیت کرام علی سید ہم و علیہم الصلوۃ والسلام کے فضائل میں وہ باتیں روایت کرے جو ا سکے غیر سے ثابت نہ ہوں ۔
٭ یونہی وہ مناقب امیر معاویہ و عمر بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہ صرف نواصب کی روایت سے آئیں کہ جس طرح روافض نے فضائل امیر المومنین و اہل بیت طاہرین رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں قریب تین لاکھ حدیثوں کے وضع کیں ، کما نص علیہ الحافظ ابو یعلی و الحافظ الخلیلی فی الارشاد، یونہی نواصب نے مناقب امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں حدیثیں گڑ ھیں ، کما ارشد الیہ الامام احمد بن حنبل رحمۃ ا اللہ تعالی علیہ ۔
٭ تمام کتب و تصانیف اسلامیہ میں استقرائے تام کیا جائے اور اس کا کہیں پتہ نہ چلے یہ صرف اجلۂ حفاظ ائمہ شان کا کام تھا جسکی لیاقت صدہا سال سے معدوم ۔(فتاوی رضویہ جدید ۵/۴۶۰)
دواعی وضع:۔
کسی نے تقرب الی اللہ کی غرض سے غلبہ جہل کے باعث۔کسی نے اپنے مذہب کی فوقیت میں تعصب و عناد کی خاطر۔ کسی نے بددینی پھیلانے کے لئے ۔ کسی نے دنیا طلبی اور خواہش نفسانی کے پیش نظر۔ اور کسی نے حب جاہ اور طلب شہرت کے لئے یہ مذموم فعل اپنا وطیرہ بنایا تھا۔(تدریب الراوی للسیوطی ۱/۲۸۸)
بعض مفسرین نے بلا صراحت وضع ایسی روایات لی ہیں ۔ وضع کا زیادہ تر تعلق اقوام و افراد کی منقبت و مذمت، انبیاء سابقین کے قصوں ، بنی اسرائیل کے احوال ، کھانے پینے کی چیزوں ، جانوروں ، جھاڑ پھونک ، دعا اور نوافل کے ثواب سے رہا ہے ۔( العجالۃ النافعہ۷۱)
تصانیف فن

٭تذکرۃ الموضوعات للمقدسی ، م۵۰۷
٭کتاب الموضوعات لا بن الجوزی، م ۵۹۷
٭اللآ لی المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ للسیوطی، م ۹۱۱
٭تنز یہ الشریعۃ المرفوعۃ عن الاحادیث الشنیعۃ الموضوعۃ للکتانی ، م۹۶۳ متروک
تعریف :۔ سند و حدیث میں کوئی راوی متہم با لکذب ہو۔
اسباب اتہام میں ایک اہم سبب یہ ہوتا ہے کہ وہ تنہا ایسی روایت کرتا ہے جو قرآن و حدیث سے مستنبط قواعد کے خلاف ہو ۔
دوسرا سبب ا سکی عام گفتگو میں جھوٹ بولنے کی عادت مشہور ہو جبکہ حدیث کے بیان میں ا سکی یہ عادت ثابت و منقول نہ ہو۔
حکم و مرتبہ :۔ موضوع کے بعد ا سکا مرتبہ ہے ، ا سکی یہ روایت مقبول نہیں ہاں جب توبہ
کر لے اور امارات صدق ظاہر ہو جائیں تو ا سکی حدیث مقبول ہو گی ، اور جس شخص سے نادراً اپنے کلام میں کذب صادر ہو اور حدیث میں کبھی نہ ہو تو ا سکی حدیث کو موضوع یا متروک نہیں کہتے ۔
پھر بھی پہلی صورت میں مردود رہے گی۔
مثال:۔ عن عمرو بن شمر ، عن جابر، عن ابی الطفیل ، عن علی و عمار قالا : کان النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یقنت فی الفجر ویکبر یوم عرفۃ من صلوۃ الغداۃ ، و یقطع صلوۃ العصر آخر ایام التشریق۔ (میز ان الاعتدال للذہبی، ۱ /۲۲۳)
حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فجر میں قنوت پڑ ھتے ، اور تکبیر تشریق نویں ذی الحجہ کی فجر سے تیرہوی کی عصر تک کہتے تھے ۔
اس حدیث کی سند میں عمر وبن شمر جعفی شیعی کوفی ہے ، ابن حبان نے کہا: یہ رافضی تبرائی تھا۔
؁ یحیی بن معین نے فرمایا: ا سکی حدیث نہ لکھی جائے ۔
امام بخاری نے فرمایا: منکر الحدیث ہے ۔
امام نسائی اور دار قطنی نے متروک الحدیث کہا۔( میز ان الاعتدال للذہبی، ۱/۲۲۹)
منکر
تعریف:۔ جسکی سند میں کوئی راوی فسق یاکثرت غلط یا فرط غفلت سے متصف ہو ۔
حکم و مرتبہ :۔ یہ حدیث ضعیف کہلا تی ہے ، اور تعریف میں جن تین اوصاف کا تذکرہ ہوا
ضعف میں بھی اسی ترتیب کا لحاظ ہو تا ہے ، یعنی بدتر سے کمتر کی طرف۔ لہذا زیادہ قابل رد بر بنائے فسق ہو گی ، و علی ہذا۔
مثال :۔ حدثنا ابو البشر بکر بن خلف، ثنا یحے ی بن محمد قیس المدنی ، ثنا ہشام بن عروۃ عن ابیہ عن عائشۃ قالت: قا ل رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم :کلوا البلح بالتمر ، کلوا الخلق بالجدید فان الشیطان یغضب۔ ( السنن لا بن ماجہ ۲/۲۳۹)
ام المو منین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کچی کھجوروں کو خشک کھجوروں کو ساتھ ملا کر کھایا کرو، اور پرانی کھجور جدید کے ساتھ ، کہ شیطان کو اس سے غصہ آتا ہے ۔
اس حدیث کی سند میں یحے ی بن محمد ہیں جو کثرت غلط سے متصف تھے ۔ حافظ ابن حجر نے انکے بارے میں کہا یہ بہت زیادہ خطا کر تے تھے ، اگر چہ یہ رجال مسلم سے ہیں لیکن امام مسلم نے فقط متالبعات میں ان سے روایات لی ہیں ، لہذا انکی یہ حدیث منکر ضعیف ہے ۔
معلل
تعریف ۔ وہ حدیث جو بظاہر بے عیب ہو مگر ا سکے اندر کسی ایسے عیب کا علم ہو جائے جو ا سکی صحت کو مجروح کر دے ، اس عیب کو علت کہا جاتا ہے ۔
یہ علت نہایت پوشیدہ ہوتی ہے اور صحت پر اثر انداز۔ کبھی علت سند میں ہوتی ہے اور ا سکا اثر متن پر بھی پڑ تا ہے ، جیسے متصل روایت مرسل ثابت ہوئی تو سند و متن دونوں غیر مقبول۔
کبھی صرف سند میں ہوتی ہے اور یہ وہاں جہاں سند میں ایک ثقہ کی جگہ دوسر ا ثقہ راوی لایا جائے ۔ لہذا سند اگر چہ اس غلطی کی وجہ سے مجروح ہو گی لیکن متن مقبول ہے ۔ اور کبھی صرف متن میں ہوتی ہے ۔
لہذا معلل کی دو قسمیں ہیں ۔
xمعلل در سند xمعلل در متن
یہ علت راوی کے وہم کی پیدا وار ہوتی ہے ، جیسے راوی کبھی حدیث مرسل کو متصل ، یا متصل کو مرسل روایت کر دے ، یا مرفوع کو موقوف یا ایک حدیث کو دوسری حدیث میں داخل کر دے یا اور کسی قرینۂ خفیہ سے جس پر ہر ایک کو اطلاع نہیں ہوتی بلکہ یہ فن نہایت عظیم بلکہ دقیق ہے کہ ا سکی بنیاد ان اسباب علل پر بھی ہوتی ہے جو ظاہر و واضح نہیں ہوتے بلکہ مخفی و پوشیدہ انکو اعلیٰ درجہ کے محدثین و محققین ہی سمجھ پاتے ہیں ۔ جیسے
ابن مدینی ، امام احمد ابن حنبل ، امام بخاری ، ابوحاتم ، دار قطنی ۔
تصانیف فن
٭ کتاب العلل لا بن المدینی، م ۲۲۴
٭ علل الحدیث لا بن ابی حاتم، م ۳۲۷
٭ العلل و معرفۃ الرجال لا حمد بن حنبل ، م ۲۴۱
٭ العلل الکبیر و العلل الصغیر للترمذی ، م ۲۷۰
٭علل الواردۃ فی الاحادیث النبویہ للدار قطنی ، م۳۸۵
٭ کتاب العلل للخلال ، (تدریب الراوی للسیوطی ۱/۲۵۱) م۳۱۱

 

 مخالفت ثقات

راوی پر طعن کا سبب ثقات کی مخالفت بھی ہے جسکی سات صورتیں ہیں ۔ لہذا سات عنوان ا سکے لئے وضع کئے گئے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں : ۔
مدرج ، مقلوب ، المزید فی متصل المسانید ، مضطرب، مصحف ، شاذ ، منکر ، ۔
اجمالا یوں سمجھئے کہ مخالفت ثقات اسناد یا متن میں تبدیلی یا اضافہ کی صورت میں ہو تو مدرج ہے ۔ تقدیم و تاخیر میں ہو تو مقلوب ہے ۔ معتبر سند میں راوی کا اضافہ ہو تو المزید فی متصل الاسانید ہے ۔ اگر راوی میں تبدیلی یا متن میں ایسا اختلاف جو تعارض کا سبب ہو اور کوئی وجہ ترجیح نہ ہو تو مضطرب ہے ۔ اگر حروف میں تبدیلی ہو تو مصحف ہے ۔ ثقہ اگر اوثق کی مخالفت کرے تو شاذ اور ا سکے مقابل محفوظ ہے ۔ ضعیف اگر ثقہ کی مخالفت کرے تو منکر اور ا سکے مقابل معروف ہے ۔
مدرج
تعریف۔ جس حدیث میں غیر کو داخل کر دیا جائے ۔
دو قسمیں ہیں :۔
xمدرج الاسناد x مدرج المتن
تعریف مدرج الاسناد ۔ وہ حدیث جسکی سند کا وسط یا سیاق بدل دیاجائے ۔
ا سکی متعدد صورتیں ہیں لیکن اجمالی کلام یہ ہے
٭ راوی کو ایک حدیث چند شیوخ سے پہونچی جنہوں نے اس حدیث کو مختلف سندوں سے بیان کیا تھا ، پھر اس راوی نے حدیث مذکور کو ان سب سے ایک سند کے ساتھ روایت کر دیا ، اور انکی سندوں کا اختلاف بیان نہ کیا ۔ جیسے ۔
عن بندار عن عبد الرحمن بن مہدی عن سفیان الثوری عن واصل و منصور والاعمش عن ابی وائل عن عمر وبن شرجبیل عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قلت: یا رسول اللہ ! ای الذنب اعظم ؟ قال : ان تجعل للہ ندا وہوخلقک ، قال : قلت : ثم ماذا ؟ قال: ان تقتل ولدک خشیۃ ان یطعم معک ، قال : قلت : ثم ماذا؟ قال :ان تزنی حلیلۃ جارک ۔(الجامع للترمذی، تفسیرسورۃ الفرقان ۲/۱۴۹)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! سب سے بڑ ا گناہ کونسا ہے ؟ فرمایا : یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو ا سکا شریک بنائے حالانکہ اس نے تجھے پیدا فرمایا : میں نے عرض کیا: پھر کونسا؟ فرمایا : اپنی اولاد کو اس خوف سے قتل کر دینا کہ وہ تیرے ساتھ مل کر کھائے گا ۔ میں نے عرض کیا : پھر کونسا؟ فرمایا : اپنے پڑ وسی کی بیوی سے زنا میں مبتلا ہو جانا ۔
اس حدیث کی روایت میں واصل ، منصور اور اعمش کی سندیں مختلف تھیں ، کہ واصل کی سند میں عمر و بن شرحبیل نہ تھے ، بلکہ ابو وائل ہیں ، اور منصور و اعمش کی سند میں تھے ۔ حضرت سفیان ثوری کے راوی عبد الرحمن بن مہدی نے حدیث مذکور کو سب سے بیک سند روایت کر دیا ۔
٭ کسی شیخ کے نزدیک متن کا ایک حصہ ایک سند سے مروی تھا اور دوسرا حصہ دوسری سند سے ۔ انکے شاگرد نے دونوں حصوں کو ان سے ایک سند کے ساتھ روایت کر دیا ۔ جیسے ۔
حدثنا عثمان نبن ابی شیبۃ ، اخبرنا شریک عن عاصم بن کلیب عن ابیہ عن وائل بن حجر قال: رأیت النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حین افتتح الصلوۃ رفع یدیہ حیال اذنیہ ، قال : ثم أتیتہم فرأیتہم یرفعون ایدیہم الی صدورہم فی افتتاح الصلوۃ وعلیہم برانس واکیسہ ۔ (السنن لا بی داؤد باب رفع الیدین فی الصلوۃ )
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے نماز شروع کرتے وقت کانوں تک ہاتھ اٹھائے ۔ کہتے ہیں : پھر میں ایک دوسرے موقع پر ( سردی کے موسم میں ) حاضر ہوا تو دیکھا کہ سب حضرات تکبیر تحریمہ میں صرف سینہ تک ہاتھ اٹھا تے ہیں اور اس وقت وہ ٹوپے اوڑ ھے تھے اور جبوں میں ملبوس ۔
اس حدیث میں یہ جملہ ’ثم أتیتہم فرأیتہم الخ‘ عاصم کے نزدیک اس سند سے نہیں بلکہ دوسری سند سے ثابت تھا مگر انکے شاگرد ’شریک ‘ نے اسے اول متن کے ساتھ ملا کر مجموعہ کو اس سند کے ساتھ عاصم سے روایت کر دیا۔
دوسری سند یوں ہے ۔
حدثنا محمد بن سلیمان الانباری ، اخبر نا وکیع عن شریک عن عاصم بن کلیب عن علقمۃ بن وائل عن وائل بن حجر قال :اتیت النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فی الشتاء فرأیت اصحابہ یرفعون ایدیہم فی ثیا بہم فی الصلوۃ ۔
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں موسم سرما میں حاضر ہوا تو میں نے آپکے صحابہ کو دیکھا کہ نماز میں اپنے ہاتھوں کو کپڑ وں کے اندر ہی اٹھاتے ہیں ۔
پہلی سند میں عاصم نے اپنے والد کلیب سے روایت کی ہے اور انہوں نے وائل بن حجر سے ،۔ جبکہ اس دوسری سند میں عاصم کی روایت علقمہ بن وائل سے ہے ۔
٭ ایک شیخ کے نزدیک دو متن دو مختلف سندوں سے مروی تھے مگر انکے شاگرد نے دونوں کو ایک سند سے روایت کر دیا ۔ جیسے یہ دو حدیثیں امام مالک نے روایت کیں ۔
مالک عن ابن شہاب عن انس بن مالک ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال: لا تبا غضوا و لا تحاسدوا و لا تدا بروا، و کونوا عباد اللہ اخوانا، ولا یحل لمسلم ان یہجر اخاہ فوق ثلث لیال ۔(المؤطا لمالک۳۶۵)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آپس میں بغض نہ رکھو ، حسد نہ کرو ، قطع تعلق نہ کرو ، اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندے بنکر آپس میں بھائی چارگی کے ساتھ رہو ، کسی مسلمان کو جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑ ے رہے ۔
مالک عن ابی الزناد عن الاعرج عن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال : ایاکم و الظن، فان الظن اکذب الحدیث، ولا تجسسوا ولا تحسسوا ولا تنافسوا ولا تحاسدوا ولا تبا غضوا ولا تدا بروا، وکونوا عباد اللہ اخوانا۔(المؤطا لمالک۳۶۵)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بدگمانی سے بچو کہ یہ بڑ ا جھوٹ ہے ، کسی کی پوشیدہ باتیں نہ سنو اور کسی کی اندورن خانہ چیزوں میں نہ پڑ و، آپس میں ایک دوسرے کو نیچا نہ دکھاؤ اور باہم حسد نہ رکھو ، اپنے درمیان بعض و عناد نہ رکھواور قطع تعلق نہ کرو ، اللہ تعالی کے بندے بھائی بھائی بنکر رہو۔
پہلی حدیث حضرت انس سے مروی ہے اور دوسری حضرت ابو ہریرہ سے ، امام مالک نے دونوں کو علیحدہ علیحدہ سندوں سے ذکر کیا ۔
پہلی حدیث حضرت انس سے مروی ہے اس میں لفظ ’ولا تنا فسوا‘ نہیں اور دوسری حضرت ابوہریرہ سے اور اس میں یہ لفظ ہے ۔ امام مالک نے دونوں حدیثوں کو علیحدہ علیحدہ سند سے ذکر کیا تھا ۔ مگر امام مالک کے شاگرد سعید بن حکم المعروف بابن ابی مریم ، نے دونوں روایتوں کو پہلی سند سے روایت کر دیا۔(حاشیہ نذہۃ النظر۶۱)
٭ شیخ نے ایک سند بیان کی اور اس کا متن بیان کرنے سے پہلے کسی ضرورت سے کچھ کلام کیا ، شاگرد نے اس کلام کو سند مذکور کا متن خیال کر کے اس سند کے ساتھ شیخ سے روایت کر دیا ۔
یہ چاروں صورتیں مدرج الاسناد کی ہیں ۔
تعریف مدرج المتن ۔ جس متن حدیث میں غیر حدیث کو داخل کر دیا جائے خواہ صحابی کا قول ہو یا بعد کے کسی راوی کا ۔ نیز ادراج درمیان میں ہو یا اول و آخر میں ۔ پھر ا سکو حدیث رسول کے ساتھ اس طرح مخلوط کر دیا جائے کہ دونوں میں امتیاز نہ رہے ۔
٭اول حدیث میں ادراج ، جیسے :۔
خطیب بغدادی نے ’ابو قطن ‘ اور ’ شبابہ‘ سے ایک روایت یوں نقل کی ہے ۔
عن شعبۃ عن محمدبن زیاد عن ابی ہریرۃ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:اسبغو ا الوضوء ، ویل للأ عقاب من النار ۔ (حاشیہ نذہۃ النظر۶۲)
حضرت ابو ہر رہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وضو میں خوب مبالغہ کرو، ایڑ یوں کے لئے دوزخ کی تباہی ہے ۔
اس حدیث میں ’ اسبغوا الوضوئ‘ حضرت ابو ہریرہ کا فرمان ہے جس کو ابو قطن و غیرہ نے حدیث مرفوع میں مخلوط کر کے پیش کر دیا ہے ۔
امام شعبہ سے روایت کرنے والے آدم اور محمد بن جعفر ہیں لیکن کسی میں یہ لفظ نہیں ۔
آدم سے بطریق شعبہ امام بخاریٔ نے روایت لی ہے انکے الفاظ یہ ہیں :۔
عن آدم بن ابی ایاس ، ثنا شعبۃ ، ثنا محمد بن زیاد قال سمعت اباہریرۃ و کان یمر بنا و الناس یتو ضؤن من المطہرۃ فیقول : اسبغوا الوضوء ، فان ابا القاسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال: ویل للأعقاب من النار۔ (الجامع الصحیح للبخاری باب غسل الاعقاب ۱/۲۸)
اس روایت سے یہ معلوم ہوا کہ ’اسبغوا الوضوء ‘ حضرت ابوہریرہ کا قول ہے ۔
اور محمد بن جعفر اور امام وکیع سے بطریق شعبہ امام مسلم نے روایت فرما کر ارشاد فرمایا :۔
وَلیس فیِ حَدِیث شعبۃ أسبغوا الوضُوء ۔( الصحیح لمسلم، باب وجوب غسل الرجلین بکمالہما۱/۱۲۵)
امام شیبۃ کی حدیث میں اسبغوا الوضوء کے الفاظ نہیں ۔
خیال رہے کہ یہ تفصیل حضرت ابو ہریرہ کی روایت کی بنا پر ہے ورنہ صحیح مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عمر و بن عاص سے جو روایت آئی اس میں یہ جملہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف سے یوں منسوب ہے ۔
کہ آپ نے ارشاد فرمایا:۔
ویل للأ عقاب من النار اسبغوا الوضوء ۔( الصحیح لمسلم، باب وجوب غسل الرجلین بکمالہما۱/۱۲۵)

خشک ایڑ یوں کیلئے جہنم کی ہلاکت ہے ، وضو میں مبالغہ کرو۔
اور امام بہقی نے ابو عبد اللہ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بایں الفاظ مرفوعا روایت لی ۔
انما مثل الذی یصلی ولا یرکع ، وینقر فی سجودہ کا لجائع لایأکل الا تمرۃ او تمر تین فماذا تغنیان عنہ ، فاسبغوا الوضوء ، ویل للأعقاب من النار۔ (السنن الکبری للیہقی، ۲/۱۲۷)
جوشخص نماز پڑ ھے اور رکوع و سجود اطمینا ن سے نہ کرے ا سکی مثال ایسی ہے کہ بھوکے آدمی کو ایک دو کھجور کھانے کو ملیں ، تو کیا یہ ا سکو کفایت کریں گی ، لہذا وضو میں مبالغہ کرو، سوکھی ایڑ یوں کے لئے دوزخ کی ہلاکت ہے ۔
ان دونوں روایتوں میں وہ لفظ موجود اور خود حضور کی طرف منسوب ہے ، لہذا ان سندوں کی رو سے حدیث کو مدرج المتن نہیں کہا جا سکتا ۔
بلکہ دوسری روایت میں توانتساب کو قوی بنانے کے لئے یہ الفاظ بھی ہے ہیں کہ راوی حدیث ابو صالح اشعری نے ابو عبد اللہ اشعری سے پوچھا ۔
من حدثت بہم الحدیث ، قال : امراء الاجناد ، خالد بن الولید ، و عمر و بن العاص و شرحبیل بن حسنۃ و یزید بن ابی سفیان کل ھٰؤلاء سمعہ من رسول اللہ اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔ (السنن الکبری للیہقی، ۲/۱۲۷)
یہ حدیث آپ سے کس نے بیان کی ؟ بولے : لشکروں کے امیروں نے یعنی ، خالد بن ولید ، عمر و بن عاص، شر حبیل بن حسنہ اور یزید بن ابی سفیان نے ۔ ان سب حضرات نے خود حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی تھی ۔
یہ حضرات خلافت فاروقی میں ملک شام میں فلسطین ، اردن، حمص ، قنسرین اور دمشق کے امیر تھے ۔
درمیان حدیث میں ادراج ، جیسے :۔
عن ام المومنین عائشۃ الصدیقۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قالت : اول ما بدی بہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم من الوحی الرویا الصالحۃ فی النوم فکان لا یری رویا الا جاء ت مثل فلق الصبح ثم حبب الیہ الخلاء و کان یخلو بغار حراء فیتحنث فیہ و ہو التعبد اللیالی ذوات العدد قبل ان ینزع الی اہلہ و یتزود لذلک ۔ (الجامع الصحیح للبخاری باب کیف کان بد ء الوحی ۱/۲)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے کا آغاز اچھے خوابوں سے ہوا ، جو خواب بھی آپ دیکھتے اس کی تعبیر صبح روشن کی طرح ظاہر ہوتی ، پھر آ پ کے دل میں خلوت گزینی کی محبت ڈال دی گئی اور آپ نے غار حراء میں خلوت اختیار فرمائی ، چنانچہ آپ وہاں تحنث ( یعنی عبادت ) میں چند ایام مشغول رہتے جب تک قلب اپنے اہل و عیال کی طرف مائل نہ ہوتا ، اتنے ایام کا توشہ ساتھ لے جاتے تھے ،
اس حدیث میں ’’وہو التعبد‘‘ درمیان حدیث میں ادراج ہے اور یہ امام ازہری کا قول ہے ، کما فی الطیبی۔
٭ اخر حدیث میں ادراج ، جیسے :۔
عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم للعبد المملوک الصالح اجران ، و الذی نفسی بیدی لو لا الجہاد فی سبیل اللہ و الحج و برامی لا احببت ان اموت و انا مملوک ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : نیک غلام کو دو اجر ملتے ہیں ۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ! اگر جہاد حج اور والدہ کی خدمت کا معاملہ نہ ہوتا تو مجھے یہ ہی پسند تھا کہ میں غلامی کی حالت میں ہی دنیا سے جاؤں ۔
اس حدیث میں ’’ نفسی بیدی الخ‘‘ سے پورا جملہ حضرت ابو ہریرہ کا قول ہے جو اخر حدیث میں مدرج ہے ، اس لئے کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس طرح کی تمنا نہیں کر سکتے تھے اور آپ کی والدہ ماجدہ بھی باحیات نہ تھیں جن کی خدمت غلامی سے مانع ہوتی ۔
نیز یہ روایت:۔
عن ابی خیثمۃ زہیر بن معاویۃ عن الحسن بن الحر عن القاسم بن مخیمرۃ عن علقمۃ عن عبد اللہ بن مسعود ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم علمہ التشہد فی الصلوۃ فقال : قل التحیات للہ الی آخرہ فاذا قلت ہذا فقد قضیت صلوتک ، ان شئت ان تقوم فقم ، وان شئت ان تقعد فاقعد ۔ (مقدمہ ابن صلاح۴۵)
حضرت علقمہ روایت کرتے ہیں حضرت عبد اللہ بن مسعود سے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے آپہ کو نماز میں پڑ ھاجانے والا تشہد تعلیم فرمایا، تو ارشاد فرمایا: پڑ ھو التحیات للہ الی آخرہ جب تم نے یہ پڑ ھ لیا تو نماز مکمل کر لی ، چا ہو تو کھڑ ے ہو جاؤ اور چا ہو تو بیٹھے رہو ۔
اس حدیث میں ’’ فاذا قلت ‘‘ سے آخر تک حضرت ابن مسعود کا قول ہے جو اپنے شاگرد حضرت علقمہ سے آپ نے بیان کیا تھا ، حضور کا فرمان نہیں ، لہذا ادراج آخر میں ہے ۔
حکم ۔ محدثین و فقہاء متفق ہیں کہ صحابہ کے بعد ادراج ناجائز ہے لیکن تشریح لفظ کیلئے جائز ۔

اسی لئے محتاط و محققین علماء سے بھی ایسا ادراج منقول ہے ، بخاری شریف میں اس کی کثیر مثالیں موجود ہیں ۔
تصانیف فن
٭ الفصل للوصل المدرج فی النقل للخطیب م ۴۶۳ ھ
٭ تقریب المنہج بترتیب المدرج لابن حجر م ۸۵۲ ھ
مقلوب
تعریف : ۔ وہ حدیث جس میں تقدیم و تاخیر کے ذریعہ تبدیلی کر دی جائے ۔
وہ قسمیں ہیں :۔
xمقلوب السند xمقلوب المتن
مقلوب السند : ۔ راوی اور اس کی ولدیت میں تقدیم و تاخیر سے ہوتا ہے ۔ یا راوی مشہو ر کی
جگہ دوسرے کانام لے دیا جاتا ہے جیسے ۔ کعب بن مرۃ کو مرۃ بن کعب ، روایت کر دینا ، یا سالم بن عبد اللہ کی جگہ نافع کا ذکر کر دینا ۔
مقلوب المتن: ۔ الفاظ حدیث کی تقدیم و تاخیر کے ذریعہ تبدیلی کر دینا۔ مثال جیسے :۔
عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سبعۃ یظلہم اللہ فی ظلہ یوم لا ظل الا ظلہ الی ان قال ، و رجل تصدق بصدقۃ فاخفاہا حتی لا تعلم یمینہ ما تنفق شمالہ الحدیث ۔ (ا لصحیح لمسلم باب فضل اخفاء الصدقہ ۱ /۳۳۱)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سات لوگ برو ز قیامت اللہ تعالیٰ کے سایہ رحمت میں رہیں گے ، انہیں میں وہ شخص بھی ہے جو پوشیدہ طور پر صدقہ دیا کرتا ہے اس طرح کی بائیں ہاتھ سے دیتا ہے تو داہنے کو خبر نہیں ہوتی ۔
اس حدیث کے جملہ ’’ حتی لا تعلم الخ ‘‘ میں قلب واقع ہوا کیونکہ معروف و معتاد یہ ہی ہے کہ خرچ داہنے ہاتھ سے ہوتا ہے ۔ اور صحیح معروف وہ ہے جس کو امام مالک اور امام بخاری نے روایت کیا ۔
و رجل تصدق بصدقۃ فاخفا ہا حتی لا تعلم شمالہ ما تنفق یمینہ ۔( الجامع الصحیح للبخاری باب الصدقۃ با لیمین ۱/۱۹۱)
وہ شخص جو صدقہ اس طرح چھپا کر دیتا ہے کہ داہنا ہاتھ خرچ کرتا ہے تو بائیں کو خبر نہیں ہوتی ۔
امام قاضی عیاض نے فرمایا ، یہ قلب ناقلین سے واقع ہوا امام مسلم سے نہیں ، اس پر دلیل یہ ہے کہ امام مالک سے فورا بعد جو حدیث ذکر کی اس کو اسی حدیث کے مثل قرار دیا ہے ، اور امام مالک کی روایت میں وہی ترتیب ہے جو بخاری سے گزری حتی کہ الفاظ بھی بعینہ وہی ہیں ۔
کبھی مقلوب المتن کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ایک سند دوسری حدیث کے ساتھ اور دوسری سند پہلی حدیث کے ساتھ ضم کر دی جاتی ہے ، جیسے بغداد میں امام بخاری کا امتحان لینے کیلئے بعض لوگوں نے سو سے زائد احادیث میں ایسا ہی کیا تھا ۔
قلب متعدد وجودہ سے ہوتا ہے : ۔
٭ اپنا علمی تفوق ظاہر کرنا ۔
٭ کسی دوسرے کا امتحان لینا۔
٭ خطا و سہو کی بنا پر ۔
ٍحکم :۔پہلی صورت میں ناجائز ہے ۔ دوسری صورت میں اسی وقت جائز جبکہ اسی مجلس میں
حقیقت واضح کر دی جائے ۔ البتہ تیسری صورت والا معذور ہے ۔ ہاں بکثرت ہو تو ضبط مجروح ہو گا اور روایت ضعیف قرار پائے گی ۔
تصنیف فن
٭ رافع الارتیاب فی المقلوب من الاسماء و الا لقاب للخطیب ۔م ۴۶۳ھ
قلب سند میں یہ کتاب خصوصیت کی حامل ہے ۔

المزید فی متصل الاسانید
تعریف:۔ جس حدیث کی سند بظاہر متصل ہو لیکن سند میں کسی راوی کا اضافہ کر دیا جائے ۔
مثال : ۔ عن عبد اللہ بن المبارک قال : حدثنا سفیان عن عبد الرحمن بن یزید ، حدثنی بسر بن عبید اللہ قال: قال سمعت ابا ادریس قال : سمعت واثلۃ بن الاسقع یقول : سمعت ابا مرثد الغنوی یقول سمعت النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یقول :لا تجلسوا عن القبو ر ولا تصلوا الیہا ۔ (الجامع للترمذی باب فی کراہیۃ الوطی علی القبور۱/۱۲۵)
ابو مرثد غنوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑ ھو ۔
اس حدیث کی سند میں دو راویوں کی زیادتی ہے ۔
xسفیان xابو ادریس
یہ زیادتی محض وہم کی بنیاد پر ہے ۔
٭ سفیان کی زیادتی امام عبد اللہ بن مبارک سے نقل کرنے والے رواۃ کے وہم کی بنا پر ہے ۔ کیونکہ ثقہ حضرات نے ابن مبارک کے بعد براہ راست عبد الرحمن بن یزید کی روایت نقل کی ۔(الصحیح لملسم باب فی النہی عن الجلوس علی القبر۱ /۳۱۲)
اور بعض راویوں نے تو ’’عن ‘‘ کے بجائے صریح ’’ اخبر‘‘ استعمال کیا ہے ۔
٭ ابوادریس کا اضافہ خود ابن مبارک کا ہے ، اس لئے کہ ان کے استاذ عبد الرحمن سے روایت کرنے والے ثقات کی ایک جماعت نے ابو ادریس کا ذکر نہیں کیا اور بعض نے تو تصریح کر دی ہے کہ ’’ بسر ‘‘ نے براہ راست ’ واثلہ ‘‘سے سنا ہے ۔(السنن لا بی داؤد باب کراہیۃ القعود علی القبر ۲/۴۶۰)
حکم:۔ وہم کی بنا پر مردود ہوتی ہے ، ہاں زیادتی کرنے والا اپنے مقابل سے فائق ہو تو پھر
راجح و مقبول ہے ۔ اور دوسری منقطع ، لیکن یہ انقطاع خفی ہوتا جس سے حدیث مرسل خفی ہوجاتی ہے ۔

تصنیف فن
٭ تمیز المزید فی متصل الاسانید للخطیب ، م۴۶۳
یہ اس فن کی اہم کتاب ہے ۔
مضطرب
تعریف:۔ وہ حدیث جس کے تمام راوی ثقہ اور ہم پلہ ہوں لیکن مختلف صورتوں کے ساتھ مروی ہو۔ کبھی ایک راوی سے ہی اختلاف منقول ہوتا ہے کہ انہوں نے روایت متعدد مواقع پر کی ، اور کبھی راوی چند ہونے کی وجہ سے اختلاف ہوتا ہے ۔
واضح رہے کہ اختلاف ایسا شدید ہو کہ ان کے درمیان تطبیق و توفیق ممکن نہ ہو۔ پھر یہ بھی ضروری کہ تمام روایات قوت و مرتبہ میں مساوی و برابر ہوں کہ ترجیح بھی نا ممکن ہو ، اگر ترجیح یا توفیق ممکن ہوئی تو اضطراب متحقق نہیں ہو گا ۔
اضطراب کی دو قسمیں ہیں :۔
اضطراب فی السند اضطراب فی المتن
مثال قسم اول :۔ یہ قسم ہی زیادہ وقوع پذیر ہے ۔ جیسے :۔
حدثنا مسدد ، حدثنا بشر بن المفضل ، حدثنا اسماعیل ابن امیہ حدثنی ابو عمر و بن محمد بن حریث انہ سمع جدہ حریثا یحدث عن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال : اذا صلی احدکم فلیجعل تلقاء وجہہ شیئا ، فان لم یجد فلینصب عصا ، فان لم یکن معہ عصا فلیخطط خطا ثم لا یضرہ ما مرا مامہ ۔ ( السنن لا بی داؤدبا ب الخط اذا لم یجد عصا)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں کوئی نما ز پڑ ھنے کھڑ ا ہو تو اپنے سامنے سترہ قائم کر ے ، اگر کوئی چیز نہ ملے تو اپنا عصا ہی نصب کرے ، اور عصا بھی نہ ہو تو ایک خط کھینچ لے کہ اس کے سامنے سے گزرنے میں پھر کوئی حرج نہ ہو گا ۔
اس حدیث کو اسماعیل بن امیہ سے بشر بن مفصل اور روح بن قاسم نے بسند مذکور روایت کیا ، ان دونوں حضرات کی روایت میں ابو عمرو کے بعد راوی ان کے جد ’’ حریث‘‘ ہیں اور ان کے والد کا نام محمد ہے ۔
اور حضرت امام سفیان ثوری کی روایت ’’ اسماعیل بن امیہ ‘‘ سے اس طرح ہے ۔
عن ابی عمر و بن حریث عن ابیہ عن ابی ہریرۃ۔
اس سند میں ابو عمرو ، کے بعد راوی اگرچہ حریث ہیں مگر ان کو ابو عمرو کا والد قرار دیا ہے ۔
اور حمید بن اسود کی روایت اسماعیل بن امیہ سے طرح ہے :۔
عن ابی عمروبن محمد بن حریث بن سلیم عن ابیہ عن ابی ہریرۃ ۔
اس میں ابو عمرو کے بعد راوی ان کے والد ’’ محمد ‘‘ ہیں اور ’’ حریث‘‘ کے والد کا نام’ سلیم‘‘ ذکر کیا ہے ۔
اور وہیب و عبد الوارث کی روایت اسماعیل بن امیہ سے یوں ہے ۔
عن ابی عمرو بن حریث عن جدہ۔
اس میں ابو عمر کے بعد راوی ان کے جد حریث ہیں مگر والد کا نام بھی حریث بتایا ہے ۔
اور ابن جریج کی روایت اسمعیل بن امیہ سے اس طرح ہے :۔
عن ابی عمرو عن حریث بن عمار عن ابی ہریرۃ۔
اس میں ابو عمرو کے بعد اگرچہ حریث ہیں مگر ان کے والد کا نام عمار بیان کیا گیا ہے ۔
اس سند میں اس طرح کے اور بھی اضطراب ہیں ۔(مقدمہ ابن صلاح ۴۵)
مثال قسم ثانی ، جیسے :۔
حدثنا عبد اللہ بن عبد الرحمن نا محمد بن الطفیل عن شریک عن ابی حمزۃ عن عامر عن فاطمۃ بنت قیس عن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال : ان فی المال حقا سوی الزکوۃ ۔ (الجامع للترمذی باب فی ان فی المال حقا سوی الزکوۃ ۱/۸۴)
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیشک مال میں زکوۃ کے علاوہ بھی ایک حق ہے ۔
دوسری روایت اس طرح ہے :۔
حدثنا علی بن محمد، ثنا یحے ی بن آدم عن شریک عن ابی حمزۃ عن الشعبی عن فاطمۃ بن قیس انہا سمعتہ تعنی النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یقول: لیس فی المال حق سوی الزکوۃ۔ ( السنن لا بن ماجہ باب ما ادی زکوتہ لیس بکنز ۱/۱۲۸)
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک مال میں زکوۃ کے علاوہ اور کوئی حق نہیں ۔
پہلی حدیث میں زکوۃ کے علاوہ مال میں کچھ اور حقوق بھی فرمائے تھے اور اس میں نفی ہے ۔ لہذا یہ متن میں اضطراب ہوا ۔
حکم:۔ اضطراب چونکہ راوی کے ضبط کی کمزوری کو بتاتا ہے ۔ لہذا ایسی احادیث ضعیف قرار پاتی ہیں ۔ اور اس کا مرتبہ مقلوب کے بعد ہے ۔

تصنیف فن
٭ المقترب فی بیان المضطرب لا بن حجر ،
اس فن کی نادر کتاب ہے ۔
مصحف
تعریف : ۔ وہ حدیث جس کے کسی کلمہ کو ثقہ روایت کی روایت کے خلاف نقل کیا جائے ۔ یہ اختلاف خواہ لفظی ہو یا معنوی ۔ اس میں تین قسمیں جاری ہوتی ہیں ۔
٭ باعتبار منشاء و باعث
٭ باعتبار محل
٭ باعتبار لفظ و معنی
اول کی دو قسمیں ہیں :۔
xمصحف البصر xمصحف السمع
مصحف البصر : ۔ وہ حدیث جس میں رسم الخط کے نقص یا نقطوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے
اشتباہ ہو جائے ۔ جیسے :۔
عن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما قال ۔ قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : من صام رمضان و اتبعہ ستا من شوال خرج من ذنوبہ کیوم ولدتہ امہ ۔ ( المعجم الاوسط للطبرانی ، ۸/۳۷۵)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے رمضان کے روزے رکھے اور پھر اس کے بعد شوال کے چھہ روزے بھی تو وہ گنا ہوں سے ایسا پاک ہو گیا جیسے اپنی پیدائش کے دن گنا ہوں سے پاک تھا ۔
اس حدیث کو بعض نے ’’ستا ‘‘کی جگہ ’’شے ئا‘‘ سمجھا ۔
مصحف السمع : ۔ وہ حدیث جس کو راوی اپنی سماعت کی کمزوری یا متکلم سے دوسری کے سبب
کچھ کا کچھ سمجھ لیتا ہے ۔
جیسے عاصم الاحوال کو بعض نے عاصم الاحدب سمجھ کر روایت کر دیا ۔
مصحف باعتبار محل کی بھی دو قسمیں ہیں :۔
xمصحف السند xمصحف المتن
مصحف السند :۔ جس حدیث کی سند مین تصحیف ہو ۔ جیسے :۔
عن شیبۃ عن العوام بن مراجم عن ابی عثمان النہدی عن عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم لتودن الحقوق الی اہلہا ۔ (مقدمہ ابن صلاح ۱۴۰)
امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہیں حق والوں کے حقوق ضرور ادا کرنا ہوں گے ۔
اس حدیث کی سند میں عوام بن مراجم کو یحیی بن معین نے مزاحم پڑ ھا جو اسی زمانہ میں رد کر دیا گیا تھا ۔ (مقدمہ ابن صلاح ۱۴۰)
ٍ مصحف المتن : ۔ وہ حدیث جس کے متن میں تصحیف واقع ہو ، جیسے ،
عن زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم احتجر فی المسجد ۔ (مقدمہ ابن صلاح۱۴۱)
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مسجد مین چٹائی سے آڑ کی ۔
اس حدیث کو ابن لہیعہ نے کتاب موسیٰ بن عقبہ سے نقل کر کے ، احتجم فی المسجد ، کر دیا ، یعنی آپ نے مسجد میں فصد کھلوائی ۔
یہ متن میں تصحیف ہوئی ، وجہ یہ تھی کہ ابن لہیعہ نے شیخ سے سنے بغیر محض کتاب سے یہ حدیث نقل کی جس کی وجہ سے یہ غلطی واقع ہوئی ۔(مقدمہ ابن صلاح۱۴۱)
اور جیسے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ حدیث:۔
رمی ابی یوم الاحزاب علی اکحلہ فکواہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔
اس حدیث میں ’غندر‘ سے یہ تحریف واقع ہوئی کہ انہوں نے لفظ ’اُبی‘ کو مضاف مضاف الیہ کر کے روایت کر دیا حالانکہ یہ لفظ ’اُبی‘ ہے اور اس سے مراد’ اُبی بن کعب ‘ہیں انہیں کا یہ واقعہ ہے جو حدیث میں ذکر ہوا ۔ اور تحریف کی صورت میں تو یہ واقعہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد کا قرار پائیے گا اور یہ درست نہیں ، کیونکہ وہ تو جنگ احزاب سے بیشتر جنگ احد میں شہید ہو چکے تھے ۔(دیباچہ بشیر القاری۔ مصنفہ صدر العلماء میرٹھی علیہ الرحمہ۳۸)
٭ لفظ و معنی کے اعتبار سے بھی دو قسمیں ہیں :۔
x مصحف اللفظ xمصحف المعنی
مصحف اللفظ : ۔ وہ حدیث جس کے لفط میں تصحیف ہو ، اکثر یہ ہی صورت پیش آتی ہے ۔
اس کی دو قسمیں ہیں :۔
xمصحف الشکل xمصحف النقط
مصحف الشکل :۔ وہ ھدیث جس کے خط کی صورت تو باقی رہے لیکن حروف کی حرکت بدل
جائے ۔ جیسے :۔
حضرت عرفجہ کی حدیث میں ’یوم کلُاب‘ کو ’یوم کلاُِب‘ بتانا ۔
بعض نے اس کو محرف کا نام دیا ہے ۔ (دیباچہ بشیر القاری۔ مصنفہ صدر العلماء میرٹھی علیہ الرحمہ۳۸)
مصحف النقط : ۔ جس کے خط کی صورت تو باقی رہے لیکن نقطوں میں تبدیلی ہوجائے۔ جیسے
گزشتہ مثال ۔
مراجم کو مزاحم پڑ ھنا۔
مصحف المعنی :۔ وہ حدیث جس کے معنی کو اصلی معنی مراد سے پھیر دینا جیسے :۔
ابو موسی عنزی کا بیان ہے کہ ہماری قوم کو بڑ ا شرف حاصل ہے کہ حضور نے ہمارے قبیلہ عنزہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑ ھی ۔ حالانکہ حدیث میں عنزہ سے مراد نیزہ تھا ، اور یہ اپنے قبیلہ کو سمجھے ۔ تفصیل تدوین حدیث کے عنوان میں گزری ۔
حکم : ۔ اگر کسی راوی سے اتفاقاً یہ عمل سرزد ہو جائے تو ضبط متاثر نہیں ہو تا کہ تھوڑ ی بہت غلطی
سے تو شاذ و نادر ہی کوئی بچتا ہے ۔ اگر بکثرت ہو تو عیب ہے اور ضبط مجروح ۔ اکثر و بیشتر تصحیف کا سبب یہ ہوتا تھا کہ راوی استاذ و شیخ کے بجائے کتب و صحائف سے حدیث حاصل کرتا تھا جس کے متعلق ایک زمانہ تک یہ نظر یہ رہا کہ اس طرح تحصیل حدیث منع ہے ، لیکن جب مدون ہو گیا اور محض زبانی یاد داشت پر تکیہ نہ رہا تو وہ ممانعت بھی نہ رہی ۔
مشہور تصانیف فن

٭ التصحیف للدار قطنی م ۳۸۵ھ
٭ اصلاح خطاء المحدثین للخطابیم ۳۲۸ھ
٭ تصحیفات المحدثین للعسکری م ۳۸۲ھ
شاذ و محفوظ
تعریف :۔ وہ حدیث جسے کوئی مقبول عادل راوی ایسے راوی کے خلاف روایت کرے جومرتبہ میں اس سے فائق ہے ۔
اس کے مقابل کو محفوظ کہتے ہیں : ۔
شاذ کی دو قسمیں ہیں :۔
x شاذ السند xشاذ المتن
شاذ السند : ۔ وہ حدیث جس کی سند میں شذوذ ہو ۔ جیسے :۔
عن سفیان بن عینیۃ عن عمر و بن دینار عن عوسجۃ عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ان رجلا توفی علی عہد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم و لم یدع و ارثا الا مولی ہو ا عتقہ ۔(شرح نخبۃ الفکر۳۹)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے عہد پاک میں ایک شخص کا انتقال ہوا اور اس نے اپنے آقا کے سوا جس نے اسے آزاد کیا تھا کسی دوسرے کو وارث نہ چھوڑ ا ۔
یہ حدیث متصل ہے ، سفیان کی طرح ابن جریج نے بھی اسے موصولا روایت کیا ہے ۔ لیکن حماد بن زید نے مرسلا روایت کیا ۔ یعنی حضرت ابن عباس کو واسطہ نہیں بنایا ۔
چونکہ دونوں طرح کی روایتوں یعنی موصول و مرسل کے راوی ثقہ ہیں ، لیکن حماد بن زید ، کے مقابلہ میں سفیان کی روایت کو متعدد ثقہ حضرات نے ذکر کیا ہے ، لہذا موصول راجح اور مرسل مرجوح قرار دی گئی اور مذکورہ سند محفوظ اور اس کے مقابل شاذ ہوئی ۔
شاذ المتن :۔ وہ حدیث جس کے متن میں شذوذ ہو ۔ جیسے :۔
عن عبد الواحد بن زیاد عن الاعمش عن ابی صالح عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : اذا صلی احدکم الفجر فلیضطجع عن یمینہ۔ (السنن لا بی داؤد)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم نماز فجر پڑ ھ لو تو داہنی کروٹ پر لیٹ جاؤ ۔
یہ حدیث قولی ہے ۔ لیکن دوسرے ثقہ حضرات نے اس حدیث کو حضور کے فعل کے طور پر ذکر کیا ہے ۔ امام بیہقی کہتے ہیں ، عبد الواحد نے حدیث قولی روایت کر کے متعدد ثقہ روات کی مخالفت کی ہے ۔ اور یہ اپنی اس روایت میں تنہا ہیں ۔ لہذا ان کی روایت’’ شاذ ‘‘اور دوسرے حضرات کی ’’محفوظ‘ ‘ ہے ۔
منکرو معروف
تعریف منکر :۔ وہ حدیث جس کا راوی ضعیف ہو اور معتمد رواۃ کی حدیث کے خلاف روایت کرے ۔
اس کے مقابل کو معروف کہتے ہیں : ۔
مثال : ۔
ابن ابی حاتم کی روایت بطریق حبیّب بن حبیب :۔
عن ابی اسحاق عن العیزار بن حریث عن ابن عباس عن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال : من اقام الصلوۃ و آتی الزکوۃ و حج البیت و صام و قری الضیف دخل الجنۃ ۔ (شرح نخبۃ الفکر۴۰)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے نماز پڑ ھی ، زکوۃ دی ، حج بیت اللہ کیا ، رمضان کے روزے رکھے اور مہمان نوازی کی وہ جنت میں داخل ہوا ۔
ابو حاتم کا کہنا ہے کہ یہ روایت منکر ہے ، کیونکہ ثقہ روات نے اس حدیث کو موقوفا روایت کیا یعنی حضرت ابن عباس کا قول بتایا ہے ، لہذا س مخالفت کی بنیاد پر ابو اسحاق کی یہ روایت منکر قرار پائی۔ اورباقی دوسرے ثقہ راویوں کی معروف ۔(شرح نخبۃ الفکر۴۰)
انتباہ:۔بعض حضرات نے ’’شاذ و منکر‘ میں مخالفت کا اعتبار نہیں کیا اور شاذ کی تعریف یہ کی ۔
اس حدیث کو کہتے ہیں جس کو ثقہ نے روایت کیا اور اس روایت مین منفرد ہو، اور اس کے لئے کوئی اصل موید پائی جائے ۔ یہ تعریف ثقہ کے فرد صحیح پر صادق آتی ہے ۔ اور اول تعریف صادق نہیں ۔ اور بعض نے ’’شاذ ‘‘ میں نہ راوی کے ثقہ ہونے کا اعتبار کیا اور نہ مخالفت کا ۔
ایسے ہی منکر کو صورت مذکورہ کے ساتھ خاص نہیں کیا یہ لوگ فسق اور فرط غفلت اور کثرت غلط کے ساتھ مطعون کی حدیث کو منکر کہتے ہیں ۔ یہ اپنی اپنی اصطلاح ہے ۔
و للناس فیما یعشوقون مذاہب ۔ (دیباچہ بشیر القاری ۳۵)
منکر کی بایں معنی تعریف اور قدرے تفصیل متروک کے بعد اس سے قبل ذکر کی جا چکی ہے ۔
ابن صلاح نے منکر مقابل معروف کو مقسم قرار دیکر شاذاور منکر کو اس کی قسمیں بتایا
ہے ۔
حکم : ۔ شاذ کے راوی ثقہ نہیں تو یہ مردود ہے ورنہ مرجوح ہو گی اور منکر مردود ہے ۔
البتہ محفوظ و معروف راجح اور مقبول ہوتی ہے ۔

 

زیاتی ثقات

تعریف : ۔ زیادتی ثقات سے مراد راویوں کی جانب سے احادیث میں منقول وہ زائد کلمات ہیں جو دوسروں سے منقول نہ ہوں ۔
زیادتی ثقات در اصل مخالفت ثقات کا ایک پہلو ہے اور گزشتہ اوراق میں ذکر کردہ اقسام در اصل اسی اصل کے جزئیات ہیں جیسا کہ مذکورہ تفصیلات سے ظاہر ہے ۔ لیکن ان کے عناوین مستقل تھے لہذا ان کو علیٰحدہ ذکر کر دیا گیا ۔
اب زیادتی ثقات کو علیٰحدہ ایک مستقل علم و فن اور باب قرار دیکر اس سے بحث مقصود ہے ۔ زیادتی متن میں بھی ہوتی اور سند میں بھی ۔
متن میں زیادتی کی تین قسمیں ہیں :۔
xزیادتی منافی xزیادتی غیر منافی xزیادتی منافی از بعض وجوہ
زیادتی منافی:۔ ایسی زیادتی جو دوسرے ثقات یا اوثق کی روایت کے منافی و معارض ہو ۔
مثال جیسے :۔
عن عقبۃبن عامر قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : یوم عرفۃ و یوم النحر و ایام التشریق عیدنا اہل الاسلام و ہی ایام اکل و شرب ۔ (الجامع للترمذی باب فی کراہیۃ یوم التشریق ۱/۹۶)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یوم عرفہ و ذوالحجہ اور یوم نحر ۱۰ ذوالحجہ اور ایام تشریق۱۱،۱۲،۱۳ذوالحجہ ہم مسلمانوں کی عید کے ایام ہیں اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں ۔
اس حدیث میں ’’یوم عرفۃ ‘‘ کی زیادتی ہے اور یہ زیادتی صرف موسی بن علی سے منقول ہے باقی طرق میں منقول نہیں ۔ اور یہ دیگر روایات کے منافی بھی ہے کہ دوسری روایتوں میں تو ۹ ذوالحجہ کے روزہ کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور اس میں ممانعت ۔
حکم : ۔ یہ مثل شاذ ہے :۔
زیادتی غیر منافی :۔ ایسی زیادتی جو معارض و منافی نہ ہو ۔
مثال : ۔ عن الاعمش عن ابی رزین و ابی صالح عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : اذا ولغ الکلب فی اناء احدکم لیغسلہ سبع مرار۔ (الصحیح لمسلم باب حکم ولوغ الکلب ۱/۱۳۷)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کتا تمہارے برتن میں منہ ڈالے تو ا سکو سات مرتبہ دھولو۔
اما م اعمش تک تمام راوی اس متن پر متفق ہیں لیکن آپ کے بعد آپ کے تلامذہ میں علی بن مسہر نے ’’ فَلْیُرِقْہ ‘‘کا اضافہ کر دیا ۔
یعنی برتن دھونے سے پہلے پانی کو بہادے ۔
امام مسلم فرماتے ہیں :۔
حدثنی محمد بن الصباح قال : نا اسماعیل بن زکریا عن الاعمش بہذا الاسناد مثلہ و لم یذکر ، فلیرقہ ۔(الصحیح لمسلم باب حکم ولوغ الکلب ۱/۱۳۷)
حکم : ۔ یہ زیادتی ثقہ کی ہے اور اصل روایت کے منافی نہیں ، لہذاثقہ کی مستقل روایت کے
حکم میں مقبول ہو گی ۔
زیادتی منافی از بعض وجوہ : ۔ وہ زیادتی جو بعض وجوہ سے منافی ہو اور بعض اعتبار سے نہیں ۔
مثال : جیسے :۔
عن حذیفۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : فضلنا علی الناس بثلث ( الی ان قال ) و جعلت لنا الارض کلہا مسجدا و جعلت تربتہا لنا طہورا ۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہمیں لوگوں پر تین چیزوں میں فضیلت دی گئی ، (آخر میں فرمایا) اور ہمارے لئے تمام زمین مسجد بنادی گئی ، اور اس کی مٹی پاکی حاصل کرنے یعنی تیمم کا ذریعہ بنادی گئی ۔
اس حدیث میں ’’ و تربتہا ‘‘ کا لفظ صرف ابو مالک اشجعی سے مروی ہے اور کسی نے نہیں ، دوسری روایتوں کے الفاظ یہ ہیں ۔
و جعلت لنا الارض مسجد او طہورا ۔
اس زیادتی کے ذریعہ کبھی عام کی تخصیص اور کبھی مطلق کی تقیید ہوتی ہے ۔ امام نو وی فرماتے ہیں : ۔
اما م شافعی اور امام احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اس زیادتی کو معتبر قرار دیتے ہوئے لفظ مٹی سے تیمم جائز قرار دیا اور جن احادیث میں مطلق ارض کا ذکر ہے ان کو اسی پر محمول فرمایا ۔ بر خلاف امام اعظم و امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہ آپ نے جمیع اجزائے زمین سے تیمم کو جائز فرمایا ہے ۔ لہذ مطلق اپنے اطلاق پر رہے گا اور مقید اپنی تقیید پر ۔
سند میں زیادتی : ۔ سند میں زیادتی کی متعدد صورتیں ہیں جن کی تفصیل مستقل عناوین کے ساتھ گزرچکی ۔
جیسے ۔ المزید فی متصل الاسانید۔
زیادتی ثقہ کے تحت خاص طور پر حدیث کے وصل و ارسال ، اور وقف ورفع کا تعارض زیر بحث آتا ہے ۔
جہالت راوی
عدالت میں طعن کے وجوہ پانچ شمار کئے گئے تھے ، ان میں سے کذب اور اتہام کذب کا بیان موضوع اور متروک کے عنوان سے کیا جا چکا ۔ اور فسق راوی کا ذکر منکر کے ضمن میں گزرا اب جہالت راوی کا بیان ہے ۔
جہالت راوی سے مراد یہ ہے کہ راوی کی عدالت ظاہر ی اور باطنی معلوم نہ ہو ایسے راوی کو ’’ مجہول الحال ‘‘ کہتے ہیں اور اس کی حدیث کو’’ مبہم ‘‘۔
جیسے کہتے ہیں :۔
حدثنی رجل ۔ یا حدثنی شیخ۔
ایسے راوی کی حدیث مقبول نہیں ۔ ہاں اگر حدیث مبہم بلفظ تعدیل وارد ہو ، جیسے حدثنی ثقہ ، یا ’اخبرنی عدل‘ تو اس میں اختلاف ہے ۔اصح یہ ہے کہ مقبول نہیں ۔ کیونکہ جائز ہے کہ کہنے والے کے اعتقاد میں عدل ہو اور نفس الامر میں نہ ہو ۔ اور اگر کوئی امام حاذق یہ الفاظ فرمائے تو مقبول ہے ۔ اور اگر راوی کی عدالت ظاہری معلوم ہے اور باطنی کی تحقیق نہیں اس کو مستور کہتے ہیں اور اگر راوی سے صرف ایک ہی شخص نے روایت کی ہے تو ا سکو مجہول العین کہتے ہیں ، ان دونوں کی روایت محققین کے نزدیک قابل احتجاج ہے ۔
امام نو وی قدس سرہ القوی منہاج میں فرماتے ہیں :۔
المجہول اقسام ، مجہول العدالۃ ظاہرا و باطنا ، و مجہولہا باطنا مع وجود ہا ظاہر ا و ہو المستور ، ومجہول العین۔ فاما الاول فالجمہور علی انہ لا یحتج بہ ، اما الآخران فاحتج بہما کثیرون من المحققین ۔ (دیباچہ بشیر القاری ۳۶)
اس کی بعض تفصیلات حسب ذیل ہیں :۔
راوی کبھی کثرت صفات و القاب کی وجہ سے ، کبھی قلت روایت کی وجہ سے اور کبھی نام کی عدم صراحت کی وجہ سے مجہول ہوتا ہے ۔
کثرت صفات : ۔ جن الفاظ و کلمات سے راوی کو ذکر کیا جاتا ہے ان کی کثرت خواہ وہ حقیقی نام و کنیت ہو ، یا لقب و وصف ، یا نسب و پیشہ۔ راوی ان میں سے کسی ایک سے معروف ہوتا ہے اور ذکر کرنے والا کسی خاص مقصد کے تحت غیر مشہور نام و وصف استعمال کرتا ہے ۔ لہذا یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ پوری ایک جماعت کے نام ہیں حالانکہ ان سب کا مصداق ایک ہی آدمی ہوتا ہے ۔
مثال : ۔ محمد بن سائب بن بشر کلبی ۔ بعض نے دادا کی طرف منسوب کر کے محمد بن بشر ، ذکر کیا۔ بعض نے ا ن کا نام ’’حماد‘‘ لکھا۔ کنیتوں میں کسی نے ابو نصر بیان کی۔ کسی نے ’’ ابو سعید ‘‘ اور کسی نے ابو ہشام۔ اس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ متعدد اشخاص کے نام ہیں حالانکہ صرف ایک شخص ہیں ۔
قلت روایت : ۔ راوی سے نقل روایت کا سلسلہ نہایت محدود ہوتا ہے کہ بعض اوقات ایک ہی شخص ان سے روایت کرتا ہے ۔ اس وجہ سے راوی مجہول سمجھا جاتا ہے ۔
مثال : ۔ ابو العشراء دارمی ۔ یہ تابعین میں سے ہیں ، ان سے صرف ’’ حماد بن ابی سلمہ ‘‘ نے روایت کی ہے ۔
نام کی عدم صراحت : ۔ حدیث کے راوی کا نام نہ لینا ، خواہ اختصار کے پیش نظر ہو خواہ کوئی دوسرا سبب ۔
مثال :۔راوی یوں کہے :۔
اخبرنی فلان ، اخبرنی شیخ ، اخبرنی رجل۔

امام اعظم کے نزدیک مجہول کے احکام

مجہول العین : ۔ یہ کوئی جرح نہیں ، اس کی حدیث جب غیر مقبول ہو گی جبکہ سلف نے اسے مردود قرار دیا ہو، یا یہ کہ اس کا ظہور عہد تابعین کے بعد ہو۔ اگر قرون ثلثہ میں ہو تو مطلقا مقبول ہے ۔ مجہو ل الاسم کا بھی یہ ہی حکم ہے ۔ اور مجہول الحال راوی مقبول ہے ۔
بدعت
راوی کی عدالت میں طعن کا سبب بدعت بھی ہے۔
بدعت سے مراد اہل سنت و جماعت کے خلاف کسی چیز کا اعتقاد رکھنا بشرطیکہ یہ اعتقاد کسی تاویل پر مبنی ہو ۔
ایسے بدعتی کی حدیث جمہور کے نزدیک مقبول نہیں ۔ اور بعض کے نزدیک مقبول ہے بشرطیکہ موصوف بالصدق ہو ۔ اور بعض نے فرمایا کہ اگر وہ بدعتی وضروریات دین میں سے کسی ضروری چیز کامنکر ہے تو اس کی حدیث مردود ہے ورنہ مقبول بشرطیکہ ضبط ، ورع ، تقوی ، احتیاط اور صیانت کے ساتھ متصف ہو۔
لیکن مختار مذہب یہ ہے کہ ا گر وہ اپنی بدعت کی جانب دعوت دیتا اور اس کی ترویج کرتا ہے تو اس کی حدیث مقبول نہیں ورنہ مقبول کی جائے گی ۔ بالجملہ اہل بدعت سے اخذ حدیث میں ائمہ مختلف ہیں اور احتیاط اسی میں ہے کہ ان سے حدیث اخذ نہ کی جائے کہ یہ لوگ اپنے مذہب کی ترویج کے واسطے احادیث گڑ ھتے اور بعد توبہ اعتراف کرتے تھے ۔ (دیباچہ بشیر القاری ۳۶)
سوء حفط
راوی کے ضبط میں طعن کے وجوہ بھی پانچ شمار کئے گئے تھے ، ان میں سے فرط غفلت اور کثرت غلط کو منکر کے تحت ذکر کیا گیا تھا ، اور کثرت وہم حدیث معلل کے ضمن میں بیان ہوا ، اور مخالفت ثقات کو مدرج وغیرہا سات اقسام میں شمار کیا ، اب فقط سوء حفظ کا ذکر باقی ہے ، اس کے سلسلہ میں اجمالی کلام یہ ہے ۔
x لازم xطاری
لازم : ۔ وہ ہے جو تمام احوال میں پایا جائے ، ایسے راوی کی حدیث معتبر نہیں۔
طاری : ۔ وہ ہے جو پہلے نہ تھا کسی سبب سے حادث ہو گیا، جیسے پیرانہ سالی ، یا ذہاب بصارت ، یا فقدان کتب ، ایسے راوی کو مختلط کہتے ہیں ۔ اس کی اختلاط سے پہلے کی احادیث قبول کی جائیں گی بشرطیکہ اختلاط سے بعد کی روایتوں سے ممتاز ہوں ۔ اور اگر ممتاز نہیں تو توقف کیا جائیگا ۔ اور اگر مشتبہ ہیں تب بھی ان کا حکم توقف ہے ۔ اگر ان کے واسطے متابعات و شواہد دستیاب ہو گئے تو مقبول ہو جائیں گی ۔ (دیباچہ بشیر القاری ۳۸)
ضروری وضاحت
تعدد طرق سے حدیث کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔ اس اصول کے تحت حسن لذاتہ کو صحیح لغیرہ کا درجہ ملتا ہے ۔ راوی کا ضعف سوء حفظ ، یا جہالت کی وجہ سے ہو تو حدیث حسن لغیرہ ہو جاتی ہے ۔ متروک و منکر احادیث اسی جیسے رواۃ کے تعدد طرق سے مروی ہوں تو مستور اور سوء حفظ کے حامل کی روایت کے درجہ میں شمار ہوتی ہے ۔ اب اگر مزید تائید میں کوئی ایسی ضعیف حدیث مل جاے جس کے ضعف کو گوارہ کیا جا سکتا ہے تو پورا مجموعہ حسن لغیرہ کی منزل میں آجائے گا ۔
اعتبار
تعریف:۔ کسی حدیث کی حیثیت جاننے کے لئے دوسری احادیث پر غور کرنا یعنی یہ جاننا کہ کسی دوسرے نے اس حدیث کو روایت کیا ہے یا نہیں اگر روایت کیا ہے تو اس کی نوعیت کیا ہے ، دونوں میں موافقت ہے یا مخالفت ، اگر موافقت ہے تو لفظی ہے یا معنوی ، نیز دونوں کی روایت ایک صحابی سے ہے یا دو سے ۔ اگر مخالفت ہے تو دونوں کے راویوں میں باہم کیا نسبت ہے کہ کسی ایک کو ترجیح ہو ۔ اگر تحقیقی سے معلوم ہو جائے کہ اس حدیث کو کسی دوسرے نے روایت نہیں کیا تو وہ فرد و غریب ہے ۔
ہاں کسی دوسرے نے موافقت کے ساتھ روایت کیا ہے تو حسب تفصیل دوسری حدیث کو متابع اور شاہد کہتے ہیں ۔ اور مخالفت کیساتھ روایت کیا تو وہ تمام تفصیلات آپ شاذو منکر وغیرہا کے بیان میں پڑ ھ چکے ہیں ۔
اس تفصیل سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ متابعت سے تائید و تقویت حاصل ہوتی ہے یہ ضروری نہیں کہ متابعت کرنے والا راوی اصل راوی کے مرتبہ میں مساوی ہو بلکہ کم مرتبہ کی متابعت بھی معتبر ہے ۔
متابع و شاہد
تعریف متابع:۔ اکثر کے نزدیک وہ حد یث جس کو ایک ہی صحابی سے لفظ و معنی یا صرف معنی کی موافقت سے ذکر کیا جائے ۔
تعریف شاہد : ۔ اکثر کے نزدیک وہ حدیث جس کو چند صحابہ سے لفظ و معنی یا صرف معنی کی موافقت سے ذکر کیا جائے ۔
بعض حضرات موافقت فی اللفظ کو متابع اور موافق فی المعنی کو شاہد کہتے ہیں ۔ خواہ ایک صحابی سے مروی ہو یا دو سے ۔ اور کبھی متابع و شاہد ایک معنی میں بولے جاتے ہیں ۔

 

 


 

 

 
Powered by Blogger | 6SENSE Technologies