Contact Us

Advertisment!

Your Advertisment!

Friday, September 30, 2011

سفھاء الاحلام

سفھاء الاحلام



قاضی
ثناءاللہ پانی پتی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سفہہ کے اصل معنی ہیں ” خّفت یعنی سبکی “ جو شخص نفع نقصان سوچے بغیر اپنی خواہشات کو پورا کیا کرتا ہے اسے خفیف اور سفیہ کہتے ہیں ( یادوسرے الفاظ میں اسے بےوقوف قاصر الفہم بھی کہتے ہیں) بعض نے کہا کہ جو شخص عمداً اور قصداً جھوٹ بولے اسے سفیہہ کہتے ہیں ۔ حدیث شریف میں ارشاد ہوتا ہے کہ” ھمتہ العلماءالرعایة و ھمتہ السفھاء الروایة ۔“( ابن عساکر) یعنی علمائے حق جب تک دین کی رعائت اور حفاظت کرینگے دین محفوظ ہے اور جسوقت سفہاء یعنی بےوقوف میری حدیثیں روایت کرنا شروع کردیں اسوقت دین خطرے میں ہے۔ اس تاویل کے اعتبار سے حدیث کے الفاظ کا ربط بالکل ظاہر ہے یعنی ایک تو وہ سفھاءالاحلام (کم عقل بے وقوف ) ہونگے دوسرے یقولون من قول خیر البریہ یعنی انکی ہمت یہ ہوگی کہ حدیث مصطفی ﷺ سے باتیں کرینگے بات بات پہ حدیث کا مطالبہ کرینگے۔ سرکار ﷺ کے جامع الکلمات کا معجزہ دیکھئے کہ اس غیبی خبر کی صداقت آج کے اس دور میں نظر آتی ہے ملاحظہ ہو مفتی وقار الدین رحمتہ اللہ علیہ کا ایک مناظرہ ہے جوکہ آپکے فتاویٰ پر مبنی کتاب وقار الفتاویٰ میں نقل ہے کہ:

’ ضلع بریلی میں ایک تحصیل ” میتھر“ کے نام سے ہے اس تحصیل میں ”ٹانڈہ“ نام سے ایک گاﺅں ہے وہاں کے سنی عوام نے آکر حضرت قبلہ مفتی اعظم ہند رحمة اللہ علیہ سے کہا کہ غیر مقلد ہمیں بہت پریشان کرتے ہیں ۔ لہٰذا آپ کسی عالم کو بھیج دیجئے جو انکو علمی اعتبار سے جواب دے سکے۔ چنانچہ مفتی اعظم نے وقار الملت والدین حضرت قبلہ مفتی محمد وقار الدین رحمة اللہ تعالیٰ علیہ کو حکم دیا کہ جائیں اور غیر مقلدین سے گفتگو کریں۔ حضر ت خود فرماتے ہیں کہ ” میں گیا اور دو ، تین دن اس گاﺅں میں رکا لوگوں کو مسائل وغیرہ بتائے اور واپس بریلی شریف آگیا۔ جب دوسری مرتبہ گیا تو سنی عوام نے کہا کہ آپ ان سے مناظرہ بھی کریں۔ چنانچہ دونوں طرف سے مناظرہ کےلئے شرائط وغیرہ طے ہوگئیں ، مناظرہ سے پہلے لوگوں نے کہا کہ ہم آپ کو اسکی (یعنی میرے مخالف مناظر کی) تین باتیں بتاتے ہیں جو یہ خود بیان کرتا ہے۔ یہ کہتا ہے کہ:

(۱) کھڑے ہوکر پیشاب کرنا سنت ہے۔

(۲) مسجد میں بیٹھ کر حجامت بنواتاہے۔

(۳) ایک دن یہ مسجد میں سویا ہوا تھا اور اس نے قرآن کو تکیہ بنایا ہو ا تھا۔

چنانچہ مقررہ وقت پر اسکی کہی ہوئی ان تین باتوں پر گفتگو شروع ہوئی۔ میں نے اس سے سوال کیا کہ آپ کے گاﺅں والے آپ کیطرف جو تین باتیں منسوب کرتے ہیں کیا یہ درست ہیں؟ اس نے جوابدیا کہ ہاں۔



پہلی بات:۔

میں نے پوچھا کہ کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کی آپ کے پاس کیا دلیل ہے؟ کہنے لگا بخاری شریف میں حدیث ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے کھڑے ہوکر پیشاب کیا ہے۔ میں نے اس سے کہا صحاح ستہ میں ہی ایک دوسری جگہ حدیث ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جو تم سے یہ کہے کہ ” حضور ﷺ“نے کھڑے ہوکر پیشاب کیا ہے وہ جھوٹا ہے۔“

میں نے کہا بقول ام المومنین (رضی اللہ عنہا) آپ جھوٹے ہیں۔ اس نے کہا میں نے آپکے سامنے بخاری کی حدیث پیش کی ہے ۔ پھر میں نے موصوف سے کہا کہ اگر تمہیں عقل ہوتی تو دونوں حدیثوں کو جمع کرتے اور ان میں تطبیق دیتے ۔ میں نے کہا تم لوگ اپنے آپکو اہل حدیث کہتے ہو۔ اسکا مطلب یہ نہیں کہ تم حدیث پہ عمل کرتے ہو بلکہ تمہارے اہل حدیث ہونے کا مطلب کچھ اور ہے۔ وہ صاحب بولے وہ کیا ہے؟ میں نے کہا کہ آپ اہل حدیث اسلئے ہیں کہ آپکا تذکرہ حدیث میں آیا ہے بولے وہ کیسے؟ میں نے کہا کہ حضور ﷺ نے فرمایا : ایک قوم پیدا ہوگی جو ” سفیہ“ یعنی بیوقوف ہوگی اور بچوں کی سی باتیں کرےگی۔ میں نے کہا کہ تم نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ حدیث جسمیں کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کا حکم آیا ہے اسمیں کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کی وجہ بھی بیان کی گئی ہے اور وہ الفاظ ہیں :اتیٰ رسول اللہ ﷺ سباطة قوم فبال قائماً (بخاری جلد اول کتاب الوضحئہ باب البول عند سباطة قوم )

یعنی رسول اللہ ﷺ نے ایک قوم کے کوڑا پھینکنے کی جگہ پر کھڑے ہوکر پیشاب کیا۔ وہاں بیٹھنے کی جگہ ہی نہیں تھی اگر بیٹھتے تو کپڑے گندے ہونے کا خطرہ تھا اور یہ واقعہ ایک ہی دفعہ کا ہے وہ بھی عذر سے۔ تم نے اسکو سنت قرار دیا اور جو عمر بھر کا فعل عادی تھا اور جسے کبھی ترک نہیں فرمایا اسکو تم نے چھوڑ دیا۔ لہٰذا یہ تمہارے بےوقوف ہونے کی مضبوط دلیل ہے ۔ یہ جواب سنکر وہ خاموش ہوگیا۔

دوسری بات :۔

دوسرا یہ کہ تم مسجد میں حجامت بنواتے ہو؟ اس نے کہا ہاں حجامت بنواتا ہوں، اسمیں کیا حرج ہے؟ میں نے کہا اسمیں حرج یہ ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مسجد میں دنیا کی باتیں کرنا نیکیوں کو اسطرح برباد کردیتی ہے جیسے آگ لکڑیوں کو جلا دیتی ہے، اور یہ تو گندگی ہے کہ تم مسجد میں بال پھیلاتے ہو۔ فوراً جواب دیا کہ حدیث میں بات کرنے کی ممانعت ہے حجامت بنوانے کی کہاں ہے؟ میں نے کہا پھر وہی بےوقوفی کرتے ہو قرآن میں ارشاد ہوا کہ ” والدین کو اف نہ کہو“ کوئی شخص والدین کو مارنا شروع کردے تو اسے کوئی والدین کے آداب و احترام سے آگاہ کرے اور بتائے کہ قرآن میں والدین کے سامنے ” اف“ تک کہنے سے منع کیا گیا ہے تو وہ جواب دے کہ اف سے منع کیا گیا ہے مارنے سے تو منع نہیں کیا گیا ۔ اسکے بعد اسکے پاس کوئی جواب نہ تھا۔

تیسری بات:۔

پھر اس سے پوچھا گیا کہ کیا تم قرآن کو تکیہ بناتے ہو؟ اس نے کہا میں قرآن کو تکیہ نہیں بناتا ، اس طرح آپ نے اسکو لاجواب کردیا۔ (وقار الفتاویٰ ص ۷،۶ ناشر بزم وقار الدین )

اسی لئے مسند دارمی کی حدیث میں حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ فتویٰ دینے والے اور حکم کرنےوالے لوگ تین( ۳) طرح کے ہیں (۱) وہ شخص کہ جو قرآن کی ناسخ و منسوخ آیتوں کی پہچان رکھتا ہو اور ہمارے زمانے میں وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں (۲) وہ شخص کہ جسے قاضی بنادیا گیا ہو اور چاروناچار اسے یہ کام کرنا پڑے (۳) وہ سفیہہ احمق شخص ہے جو اپنے گمان فاسد میں عالم مفتی اور مجتہد بنتا ہو محض حدیثیں پڑھ کے اپنے آپکو بہت بڑا عالم و فاضل سمجھتا ہو۔ ( آجکل کے نام نہاد اہل حدیث یعنی غیر مّقلد اسی تیسرے نمبر کی فہرست میں آتے ہیں) ۔ بعض نے کہا کہ سفھاءکا معنی جہالت اور رائے کا کمزور ہونا ہے تو یہ صفت بھی اس قرن الشیطان فرقے میں خوب غالب ہے ملاحظہ ہو اسکا واقعہ جو کہ خود دیوبندی شیخ کی تحریر کتاب ” ارواح ثلٰثہ “ میں نقل ہے یعنی گھر کا بھیدی خود امام کی لنکا ڈھا رہا ہے کہ ” وہابیوں کے عجیب شہید میاں اسماعیل دہلوی جب رفع یدین کرنے لگے تو کسی نے انھیں ٹوکا تو مولانا موصوف فرمانے لگے کہ یہ سنت مردہ ہوچکی تھی میں اسکو زندہ کررہا ہوں اور حدیث میں مردہ سنت کو زندہ کرنے پر سو ( ۰۰۱) شہیدوں کے ثواب کی بشارت ہے ۔ ٹوکنے والے تو چپ رہے مگر جب یہ بات شاہ عبدالقادر نے سنی تو کہا کہ ” میں تو سمجھتا تھا کہ پڑھنے لکھنے کے بعد اسماعیل کو کچھ آتا ہوگا مگر اسے کچھ نہیں آیا حدیث میں یہ بشارت اسوقت ہے جب سنت کے مقابلے میں بدعت ہو سنت نہ ہو مگر یہاں تو دونوں سنت ہیں۔“ غور فرمایا قارئین آپ نے ! یہ ہے امام کی جہالت اور رائے زنی کا حال ، اس سے اندازہ کرلیجئے کہ ایسے امام کی اتباع کرنےوالوں کے علم کا حال کیا ہوگا۔ صحیح فرمایا ہے میرے آقا ﷺ نے کہ قرب قیامت کے زمانے میں ایسے لوگ آئینگے جو بغیر علم کے فتوے دینگے خود بھی گمراہ ہونگے دوسروں کو بھی گمراہ کرینگے او کما قال علیہ السلام ۔ واللہ اعلم بالصواب۔

No comments:

Post a Comment

 
Powered by Blogger | 6SENSE Technologies