Contact Us

Advertisment!

Your Advertisment!

Friday, September 30, 2011

درود و سلام کی فضیلت

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:

إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًاO  

(الاحزاب، 33:  56)



”بیشک اللہ اور ا س کے (سب) فرشتے نبیِ (مکرمّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجتے رہتے ہیں، اے ایمان والو! تم (بھی) اُن پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کروo“
 اسی طرح احادیثِ مُبارکہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درود و سلام کی فضیلت و اہمیت کثرت سے بیان فرمائی ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے، اس کے دس گناہ معاف کئے جاتے ہیں اور اس کےلئے دس درجات بلند کئے جاتے ہیں۔“
حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”قیامت کے روز لوگوں میں سے میرے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہوگا جو (اس دنیا میں) ان سب سے زیادہ درود بھیجتا ہوگا۔“
حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”(امت میں سے کوئی شخص) ایسا نہیں جو مجھ پر سلام بھیجے مگر اللہ تعالیٰ نے مجھ پر میری روح واپس لوٹا دی ہوئی ہے یہاں تک کہ میں ہر سلام کرنے والے کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔“
سی طرح حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”بے شک تمہارے ایّام میں سے افضل ترین جمعہ کا دن ہے پس اُس دن مجھ پر بکثرت درود بھیجا کرو کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے“۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہر دعا اس وقت تک پردہ حجاب میں رہتی ہے جب تک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور آپ کے اہلِ بیت پر درود نہ بھیجا جائے“
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”تم جہاں کہیں بھی ہو مجھ پر درود بھیجا کرو، بے شک تمہارا درود مجھے پہنچ جاتا ہے۔“
حضرت انس سے روایت ہے کہ تاجدار مدینہ نے ارشاد فرمایا۔ “جس نے مجھ پر دن بھر میں ہزار مرتبہ دورد پاک پڑھا، وہ مرے گا نہیں، جب تک کہ وہ جنت میں اپنی آرام گاہ نہ دیکھ لے گا۔“
فرمانِ الٰہی اور احادیثِ مبارکہ کے مطابق یہ حقیقت واضح ہے کہ درود و سلام ایک منفرد اور بے مِثل عبادت ہے، جو رضائے الٰہی اور قربتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مؤثر ذریعہ ہے۔ اس مقبول ترین عبادت کے ذریعے ہم بارگاہِ ایزدی سے فوری برکات کے حصول اور قبولیتِ دعا کی نعمت سے سرفراز ہو سکتے ہیں۔
صحابہء کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے بھی اسی عبادت کے ذریعے اپنے محبوب آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایسا قرب پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مُعَطَّر سانسوں سے اپنی روحوں کو مہکایا اور گرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رُخِ انور کی تجلیات سے ہی صحابہ اکرام نے اپنے مُشامِ جاں کو منور کیا اور اس طرح انہیں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خصوصی تعلق اور سنگت کی نعمت نصیب ہوئی۔ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ ذاتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعلق ہی وہ نعمتِ خاص ہے جو آج ہمیں مقام و مرتبہ اور عزت و شرف جیسی لازوال نعمتوں سے نواز سکتی ہے۔
اگر ہم اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ نظامِ عبادات پر نگاہ دوڑائیں تو ہمیں کوئی عبادت ایسی دکھائی نہیں دیتی جس کی قبولیت کا یقینِ کامل ہو جبکہ درود و سلام ایک ایسی عبادت اور ایسا نیک عمل ہے جو ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول ہے۔ اِسی طرح تمام عبادات کیلئے مخصوص حالت، وقت، جگہ اور طریقِ کار کا ہونا ضروری ہوتا ہے جبکہ درود و سلام کو جس حال اور جس جگہ بھی پڑھا جائے اللہ تعالیٰ اُسے قبول فرماتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عاشقانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی تمام تر عبادات کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کرتے وقت اوّل و آخر درود و سلام کا زینہ سجا دیتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام کے صدقے ہماری بندگی اور عبادت کو قبول کر لے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے اس عملِ خیر کی وجہ سے ہمیں اپنی بارگاہ کی برکاتِ کثیر عطا فرمائے اور ہمیں صحیح معنوں میں یہ عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہمارا قلبی و حُبِّی تعلق مضبوط سے مضبوط تر ہو جائے.آمین!


اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی سَيِّدِنَا وَ مَولَانَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِه وَ صَحْبِه وَ بَارِکْ وَ سَلِّمْ ” اے اللہ! ہمارے سردار اور ہمارے آقا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر، آپ کی آل پر اور آپ کے صحابہ پر برکتیں اور سلامتی نازل فرما۔“





No comments:

Post a Comment

 
Powered by Blogger | 6SENSE Technologies